اب یہ بات بالکل صاف نظر آرہی تھی کہ دہلی میں بھی مسلم حکومت کے اقتدار اور برصغیر میں مسلم قوم کا خاتمہ قریب آلگا ہے،مگر قدرت کو شاید ابھی اس خطے سے مسلمانوں کا خاتمہ منظور نہ تھا کہ اس دور میں ایک بہت بڑا قائد پیدا ہوگیا۔ ہماری مراد شاہ ولی اللہ سے ہے جو اورنگ زیب کے انتقال سے چار سال قبل ۱۷۰۳ء میں پیدا ہوئے ۔ انھوں نے نہ صرف اس قوم کی شناخت کو ہندو مرہٹوں کے فوری خطرے سے بچانے کے لیے افغانستان سے احمد شاہ ابدالی کو بلایا ، بلکہ اس قوم کے اجتماعی مزاج میں بہت سے تعمیری عناصر داخل کیے ۔ انھوں نے نہ صرف اپنی ذات میں ، بلکہ اپنے خانوادے اور پیرو کاروں کے ذریعے سے اس خطے میں مسلمانوں کے قومی مزاج کو بہت متاثر کیا۔ ان کا سب سے بڑا کارنامہ اس علمی روایت کا احیا ہے جو صدیوں سے مردہ تھی۔دین پر غورو فکر کی جو روایت انھوں نے ڈالی ، اسی کا نتیجہ ہے کہ اس خطے کے مسلمان فکری اعتبار سے پورے عالم اسلام کے لیے امام کی حیثیت رکھتے ہیں۔وہ ایک بہت بڑے عالم تھے۔ تصوف اور فقہ کی قدیم روایت کے ساتھ ساتھ انھوں نے قرآن اور حدیث کو بھی قوم کے دینی مزاج میں شامل کیا۔ ا ن کے کاموں کے نتیجے میں مسلمانوں کے قومی مزاج میں مذہب کے اثرات مزید گہرے ہوگئے۔نیز ان کے اثر سے پہلی دفعہ مذہبی قیادت نے سیاسی میدان کی طرف سنجیدگی سے توجہ دی۔
تاہم اس دور کے مسلم معاشرے پر زوال کا وہ عمل شروع ہوچکا تھا جو ایک دفعہ جاری ہوجائے تو بڑے سے بڑا آدمی اسے اپنے منطقی انجام تک پہنچنے سے نہیں روک سکتا۔چنانچہ اسی دور زوال میں سید احمد شہید ، شاہ اسماعیل شہیداوران کے جاں نثار رفقا جیسے لوگ بھی جن کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ صحابۂ کرام کے بعد ان کی نظیر نہیں ملتی ، اس زوال کوروک نہ سکے۔دوسری طرف انگریز اپنی تمام ترعلمی و حربی ترقی اور حوصلہ مندی کے ساتھ ہند میں قدم جماچکے تھے۔مسلمانوں کی خارجی قوت کا یہ زوال ۱۸۵۷ء کی جنگ آزادی کے موقع پرنقطۂ عروج پر پہنچ گیا۔ قدرت کا قانون اٹل ہوتا ہے۔ یہ قانون حرکت میں آیا اورگناہ گار و بے گناہ، سب اس قانون کی زد میں آگئے۔ مسلمانوں کے ہاتھ سے اقتدار ہی نہیں گیا ، بلکہ کے ان کے بہترین لوگ اس ہنگامہ کی نظر ہوگئے۔ہندوستان کا مسلم معاشرہ خاک کا ڈھیر بن گیا۔

____________