بیش تر اسلامی ممالک میں مسلمان خواتین شادی کے بعد اپنے نام میں تبدیلی کر دیتی ہیں۔ وہ اپنے والد کے نام کی جگہ اپنے شوہر کا نام اختیار کر لیتی ہیں۔ یہ بات واضح رہنی چاہیے کہ شادی کے بعد خواتین کے لیے نام تبدیل کرنا شریعت کا سرے سے کوئی تقاضا نہیں ہے۔ اس کا تعلق زیادہ تر معاشرتی رسوم اور روایات سے ہے۔
چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی کسی بھی زوجہ محترمہ نے جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے شادی کی تو اپنا نام نہیں بدلا، کیونکہ یہ عرب کی روایت نہیں تھی۔ یہ معلوم ہے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا اور حضرت حفصہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کبھی عائشہ محمد اور حفصہ محمد رضی اللہ تعالیٰ عنہما نہیں کہلائیں، بلکہ ہمیشہ عائشہ بنت ابی بکر اور حفصہ بنت عمر کہلائیں۔ امہات المومنین نے اپنی سماجی روایات کی پیروی کی اور ہم لوگوں کو اپنے معاشرے کی روایات کی پیروی کرنی چاہیے، اس لیے کہ شادی کے بعد خواتین کے نام کی تبدیلی اسلام کا کوئی تقاضا نہیں ہے۔

____________