اکتیس واں باب 

لال مسجد کا سانحہ پاکستانی تاریخ کے بہت بڑے سانحوں میں سے ایک ہے۔ آخر کیوں نہ ہو، جب کہ دارالحکومت کے عین قلب میں چھ مہینے تک جاری آویزش کا ایسا بھیانک انجام ہو جس میں ایک طرف اسلام سے محبت رکھنے والے سینکڑوں مخلص ترین لوگوں نے اپنی جان، جان آفرین کے سپرد کی اور دوسری طرف پاکستانی فوج کے وہ جوان اپنی زندگیوں سے ہاتھ دھو بیٹھے جو اسلامی جمہوریہ پاکستان کے سپاہی تھے۔ 
لال مسجد کے سانحے کی ذمہ داری اصلاً پاکستان کی ملٹری اسٹیبلشمنٹ پر عائد ہوتی ہے۔ ضمناً اس کی ذمہ داری اُس خاص تعبیرِ مذہب پر عائد ہوتی ہے جس کی رو سے کسی اچھے مقصد کے لیے قانون کو ہاتھ میں لینا جائز بلکہ ضروری ہے۔ اس سانحے کا اصل بیج 1980ء کی دہائی میں اُس وقت بویا گیا جب جنرل ضیاء الحق کے فیصلے اور امریکہ کی ’مہربانی‘ کی بدولت پاکستان اور باقی دنیا سے مجاہدین کو افغانستان میں لڑنے کے لیے جمع کیا گیا اور ان کو تربیت دی گئی۔ اس مقصد کے لیے بے شمار مسلح تنظیمیں بنیں اور کئی لوگ بغیر کسی تنظیم کے، دین سے محبت کی خاطر، ایجنسیوں کے ذریعے اس کام میں شریک رہے۔ پاکستان کے ہر کونے میں یہ سب کچھ ہوتا رہا، اسلحہ، ہیروئن، ڈالر، تنظیموں کی بنیاد پر ریاستی اختیارات، ملکی انٹیلی جنس ایجنسیاں، غیر ملکی انٹیلی جنس ایجنسیاں اور مذہبی جوش وخروش سب کچھ آپس میں گڈ مڈ ہوکر رہ گیا۔ ان میں پٹرو ڈالرز پر نظریں جمائے رکھنے والے بھی شامل تھے اور اس کے برعکس مخلص ترین انقلابی مذہبی افراد بھی شامل تھے۔ انہی مخلص ترین افراد میں ایک اہم نام مولانا عبداللہ کا تھا، جو دارالحکومت کی ایک اہم مسجد کے خطیب تھے، جن کے اخلاص کی ایک دنیا گواہی دیتی تھی اور ان کو بجا طور پر بہت احترام کی نظر سے دیکھا جاتا تھا۔ 
افغانستان کی جنگ اپنے دوسرے تحفوں کے ساتھ ہمیں ہزاروں ایسے انقلابی مجاہدین کی ایک کھیپ بھی دے گئی جو عسکری طریقے سے تبدیلی لانے کے علمبردار تھے۔ عسکریت پسندوں کے آپس کے اختلافات بھی ہمیشہ عسکریت ہی کے ذریعے سے حل ہوتے ہیں، چنانچہ نوے کی دہائی میں ایک دن مولانا عبداللہ کو شہید کردیا گیا۔ کہا جاتا ہے کہ ریاستی ادارے قاتلوں کو اچھی طرح جانتے پہچانتے تھے، تاہم اُس کے دبانے ہی میں عافیت سمجھی گئی اور مولانا کے دونوں بیٹوں نے بھی یہی مناسب سمجھا کہ اس سانحے پر زیادہ زور نہ دیا جائے۔ 
اس کے بعد اُن کے بڑے بیٹے مولانا عبدالعزیز لال مسجد کے خطیب بن گئے اور اُن کے چھوٹے بھائی مولانا غازی عبدالرشید نائب خطیب بن گئے۔ یہ دونوں اُسی انقلابی جذبے سے سرشار تھے۔ اور اسی جذبے کی آبیاری میں دونوں انتہائی خلوص اور جاں فشانی کے ساتھ مصروف رہے۔ 
ایک لمبے عرصے تک مقتدر قوتوں اور انقلابیوں کے درمیان اپنے اہداف اور طریقہ کار کے معاملے میں مکمل ہم آہنگی رہی۔ اس ہم آہنگی میں اصل انقطاع نائن الیون کے بعد آیا جب ان لوگوں کو امریکہ نے اپنے لیے براہِ راست خطرہ جانا۔ جب امریکی مطالبے پر پاکستانی فوج نے قبائلی علاقے میں مسلح کاروائی شروع کردی تو دونوں اطراف ایک دوسرے کے مقابلے پر آگئے۔ اس مقابلے میں لال مسجد پوری طرح مجاہدین کا ہم نوا رہا، بلکہ وہ اُن کا مرکزی سیاسی مذہبی ترجمان بن گیا اور یہیں سے ایک مشہور فتویٰ جاری ہوا۔کہا جاتا ہے کہ اُس وقت پاکستانی ایجنسیاں بھی فکری اعتبار سے دوحصوں میں بٹ گئیں۔ ایک حصہ سابقہ تعلقات کی بنیاد پر انقلابیوں اور مسلح جدوجہد کرنے والوں کا ہمدرد رہا، جب کہ دوسرے گروہ نے عالمی پالیسی کے مطابق اپنے آپ کو ڈھالنے کو مناسب سمجھا۔ 
اس پورے عرصے کے دوران میں جامعہ حفصہ تعمیر ہوا۔ کئی دوسرے مدارس بھی تعمیر ہوئے جن کی سربراہی میں مولانا عبدالعزیز کرتے تھے۔ ان میں ہزاروں طلبہ وطالبات زیر تعلیم تھے۔ ظاہر ہے کہ جہاں انقلابی سوچ ہو، وہاں اسلحہ بھی ہوتا ہے اور مسلح کاروائیوں کی پلاننگ بھی ہوتی ہے۔ ایسے ہی ایک موقع پر مولانا عبدالرشید کو حراست میں لے لیا گیا اور پھر اعلیٰ ترین حکومتی سطح کی مداخلت کے بعد چھوڑ دیا گیا۔ پھر آہستہ آہستہ وہ وقت آیا جب یہ سوچا جانے لگا کہ اس تبدیلی کو طاقت کی زور پر روبہ عمل لایا جائے۔ چنانچہ فروری2007ء میں اس کے لیے عملی کام شروع کردیا گیا۔ باقی سب جگہوں کی طرح یہاں بھی حرکیات(Vigilantism)کی ابتدا فحاشی کے اُن اڈوں کے عملی تدارک سے کی گئی جن سے عام لوگ بھی تنگ تھے۔ ان کاروائیوں میں ایک سے زیادہ مرتبہ پولیس کے سپاہیوں کو بھی حراست میں لیا گیا اور پھر باقاعدہ گفت وشنید کے بعد تبادلے کے طریقے پر معاملہ حل کیا گیا۔ چونکہ یہ سب لوگ دیوبندی مکتب فکر سے تعلق رکھتے تھے، اس لیے دیوبندی مدارس کی تنظیم وفاق المدارس بھی درمیان میں آئی۔ وفاق المدارس کا نقطہ نظریہ بناکہ ریاست کے اندر ریاست بنانا اور ریاستی اختیارات کو براہ راست چیلنج کرنا غلط ہے، اور نفاذِ اسلام کے لیے جدوجہد ہمیشہ پُرامن ہونی چاہیے۔ بالآخر وفاق المدارس نے جامعہ حفصہ اور اس سے ملحقہ اداروں کو اپنی تنظیم سے خارج کردیا۔ 
بالآخر وہ وقت آگیا جس کا سب کو ڈر تھا۔ جولائی 2007ء میں دونوں طرف کے مسلح لوگ مقابلے پر آگئے۔ اور پھر وہ سانحہ رونما ہوا جسے وقوع پذیر نہیں ہونا چاہیے تھا۔ سلسلۂ جنبانی کے طور پر علمائے دیوبند بھی درمیان میں آئے، اور اُن سے ہمدردی رکھنے والے حکومتی لوگوں نے بھی بیج بچاؤ کی کوشش کی۔ لیکن ایسے مواقع پر صلح کی کوشش عموماً بارآور ثابت نہیں ہوتیں، اس لیے کہ دونوں طرف کے مفادات ایک دوسرے سے بالکل الٹ اطراف میں ہوتے ہیں۔ خاک وخون کا بازار گرم ہوا اور سینکڑوں لوگوں کا خون بہا۔ اس سانحے کے بعد ملک میں خودکش حملوں کا ایک نیا سلسلہ جاری ہوا، قبائلی علاقے کے عسکریت پسندوں کی جدوجہد کو ایک نیا حوصلہ ملا۔ اس راقم کی خیال میں اس سانحے کے اثرات ایک لمبے عرصے تک محسوس کیے جاتے رہیں گے۔ باقی تمام افسوس ناک واقعات کی طرح اس سانحے میں بھی دونوں طرف سے کام آنے والے افراد مسلمان تھے۔ ایسے سب سانحوں میں اصل نقصان مسلمانوں ہی کا ہوتا ہے۔ 
اس سانحے سے ہمیں کئی سبق ملتے ہیں۔ پہلا سبق یہ ہے کہ ریاست کی طرف سے ریاستی مسلح افواج کو ایک طرف رکھ کر کئی کئی پرائیویٹ عسکری تنظیمیں کھڑی کرنا ایک بھیانک غلطی ہے اور ملک وقوم کی تقدیر اور امن سے کھیلنے کے مترادف ہے۔ ا س سے دشمن سے زیادہ نقصان اپنے آپ ہی کو پہنچتا ہے۔ دوسرا سبق یہ ہے کہ دین سے محبت رکھنے والے لوگوں کو کسی بھی حالت میں اسٹیبلشمنٹ کا الۂ کار نہیں بننا چاہیے۔ طاقت کی منطق یہ ہے کہ ہمیشہ اسی گروہ کا مفاد پورا ہوتا ہے جس کے ہاتھ میں زیادہ طاقت ہو۔ اگر کسی جگہ عسکری میدان میں امریکہ اور پاکستان اکٹھے ہوں گے تو امریکہ ہی کا مفاد پورا ہوگا۔ اسی طرح اگر کسی معرکہ کارزار میں پاکستانی اسٹیبلشمنٹ اور مخلص لوگ شانہ بشانہ کھڑے ہوں گے تو پاکستانی اسٹیبلشمنٹ ہی کا مفاد پورا ہوگا۔ 
اس سے ہمیں یہ سبق بھی ملتا ہے کہ نفاذِ اسلام کے لیے جدوجہد کو اصلاً اور عملاً ہر اعتبار سے پرامن اور عدم تشدد پر مبنی ہونا چاہیے۔ پُر تشدد کاروائیاں ہمیشہ اسی مقصد کو پہنچاتی ہیں جسے حاصل کرنے کے لیے یہ کاروائیاں کی جاتی ہیں۔ 
اس سانحہ کا سب سے بڑا سبق یہ ہے کہ ملک کو اس کے چوکیدار یعنی مسلح افواج کے رحم وکرم پر کبھی نہیں چھوڑنا چاہیے۔ ملک کی باگ ڈور ہمیشہ شفاف جمہوری طریقے سے منتخب ہونے والے حکمرانوں کے ہاتھ میں ہونی چاہیے۔ سیاست دان عوام کو جواب دہ ہوتے ہیں، اس لیے اپنی تمام خامیوں کے باوجود وہ بیرونی طاقتوں کے آلۂ کار بننے یا من مانے فیصلے کرنے میں ایک حد سے آگے نہیں جاسکتے۔ جب کہ اس کے برعکس اسٹیبلشمنٹ کے اندر مقتدر لوگ بالآخر کسی کے سامنے جواب دہ نہیں ہوتے۔ چنانچہ یا تو وہ اپنے ذاتی اور گروہی مفادات کی خاطر دوسروں کے آلۂ کار بن جاتے ہیں اور یا پھر اپنے مزعومہ نیک مقاصد کے حصول کی خاطر من مانے فیصلے کرنے لگتے ہیں۔ 
اس سانحے سے ہمیں یہ سبق بھی ملتا ہے کہ جب ریاست خود ہی لاقانونیت پر اتر آئے تو پھر اسے یہ توقع نہیں کرنی چاہیے کہ اس کے یوٹرن(u-turn) لیتے ہی سب لوگ بے چون وچرا اس کی پیروی کرنے لگیں گے۔ ریاستی لاقانونیت ہمیشہ معاشرتی لاقانونیت کو جنم دیتی ہے۔ چنانچہ ایسے تمام سانحات میں اصل ذمہ داری ان ریاستی اداروں پر عائد ہوتی ہے جنہوں نے لاقانونیت کو جنم دیا ہوتا ہے۔ البتہ ضمناً دوسرے ادارے بھی لاقانونیت کے الزام سے اپنے آپ کو بری الذمہ قرار نہیں دے سکتے، کیونکہ اصول یہ ہے کہ خواہ ایک طرف سے کتنی بھی لاقانونیت کیوں نہ ہورہی ہو، دوسری طرف کو ردعمل میںآکرقانون کو اپنے ہاتھ میں نہیں لینا چاہیے۔ یہ چیز انارکی، خانہ جنگی اور انتشار کو جنم دیتی ہے جس کا نتیجہ خود اس معاشرے کی تباہی کی صورت میں نکلتا ہے جس کی اصلاح کے لیے یہ سرگرمیاں کی جارہی تھیں۔