۱۶-    پچھلی فصلوں میں علماء کے جو اقول ہم نے نقل کیے ہیں اس سے یہ بات معوم ہو چکی ہے کہ قسم کا یہ مفہوم بالکل نیا نہیں ہے۔ البتہ یہ ضروری ہے کہ اس کے بعض پہلو لوگوں سے مخفی رہ گئے ہیں اس لیے پورے جزم کے ساتھ لوگوں نے اس کو نہیں پکرا۔ یا تو بعض مواقع پر اس کو بالکل نظر انداز کردیا یہ ہوا کہ اس کے صحیح مفہوم کے ساتھ بعض دوسرے غلط مفاہیم بھی شامل کر لیے ۔ اس لیے ہم چاہتے ہیں کہ مختصراً قسم کے صحیح مفہوم کے مخفی رہنے کے اسباب یہاں بیان کردیں تاکہ ان حضرات کا عذر واضح ہو جائے۔

۱- پہلا سبب یہ ہے کہ بعض مواقع پر مقسم بہ فی نفسہٖ کوئی اعلیٰ چیز تھی مثلاً قرآن ،طور،مکہ،سورج،چاند،تارے،عصر ،شب،روز وغیرہ ایسے مواقع پر قدرتی طور پر اول اول لوگوں کے ذہن میں یہی بات آئی کہ اعلیٰ واشرف چیزوں کی قسم کھانے کا جو عام رواج ہے ،یہ قسمیں بھی اسی صنف میں داخل ہیں اور اس خیال کے جو پکڑ جانے کے بعد ان کو دلیل وشہادت کے مفہوم میں لینے کی کوئی ضرورت ہی نہیں محسوس ہوئی۔ اگر کہیں کوئی ایسا مقسم بہ سامنے آیا جس میں مختلف احتمالات نکلے تو ایسے مواقع  میں انہوں نے اس احتمال کو ترجیح دے دی جو اس کے شرف کے پہلو کو نمایاں کرتا تھا اس طرح صحیح سمت کی طرف بڑھنے کی راہ خودبخود بند ہو گئی۔پانی کا قاعدہ ہے کہ اگر کوئی مائع نہ ہوتو نشیب کی طرف بہتا ہے یہاں کوئی مائع نہ تھا اس لیے طبیعتیں خودبخود اسی عام خیال کے ساتھ بہ گئیں۔

۲- ہمارے اہل علم کا عام قاعدہ ہے کہ وہ ہمیشہ ایسی رائے کو ترجیح دیتے ہیں جو ایک قاعدہ کلیہ کی جگہ حاصل کر سکے ایسے اصول نہیں لیتے جن کا ہر جگہ چلنا مشتبہ ہو ۔ قرآن کی قسموں میں یہی صورت تھی۔ دلیل وشہادت کا پہلو کہیں کہیں توواضح نظر آتا تھا مگر بعض مقامات میں بالکل مخفی بھی تھا۔ اس لیے ان لوگوں کو خیال ہوا کہ یہ قاعدہ ہر جگہ نہیں چل سکتا اور جب ہر جگہ نہیں چل سکتا تو یہ صحیح نہیں ہے حالانکہ ایسی صورت میں ان لوگوں کو اپنے قصور فہم کا اعتراف کرکے معاملے کو اللہ تعالیٰ کے حوالے کرنا چاہیے تھا۔ لیکن اعتراف عجز بالعموم ان حضرات کا طریقہ نہیں نظم قرآن کے باب میں بھی ان حضرات سے یہی لغزش ہوئی ۔ قرآن میں نظم اکثر مقامات میں بالکل واضح ہے صرف تھوڑے سے مقامات ایسے ہوں گے یہاں واقعی اشکال ہے ایسے واقع میں ان لوگوں کے صحیح راہ یہ تھی کہ اپنے عجز کا اعتراف کرکے معاملہ کو علم الٰہی کے حوالے کرتے جیسا کہ بعضوں نے کیا لیکن ان لوگوں نے ایسا نہییں کیا بلکہ ان مواقع میں نظم قرآن کی نفی کردی ظاہر ہے کہ یہ نفی نظم کلی کی نفی تھی ۔ لیکن عوام نے اس کا مطلب یہ سمجھا کہ قرآن میں نظم کا سرے سے کوئی وجود ہی نہیں ہے۔ سارا قرآن یکسر پراگندہ اور منتشر ہے۔

ہمارے نزدیک ٹھیک راہ یہ ہے کہ ہر معاملے میں ہم اس بات کو تلاش کریں جو اولیٰ اور احسن ہے جس کی دلائل سے تائید ہوتی ہو اور شواہد جس کو ترجیح دیتے ہو۔ قرآن نے یہی راہ ہمارے سامنے پیش کی ہے۔

اَلَّذِیْنَ یَسْتَمِعُوْنَ الْقَوْلَ فَیَتَّبِعُوْنَ اَحْسَنَہَ اُولئِکَ الَّذِیْن ھَدَامُمُ اللّٰہُ وَاُولئِکَ ھُمْ اُولُواالْاَلُبَابِ (الزمر:۱۸)

جو لوگ بات کو کام لگا کر سنتے ہیں اور اس میں سے بہتر کی پیروی کرتے ہیں تو وہی لوگ ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے ہدایت دی اور وہی لوگ عقل مند ہیں۔

اور اگر اس کا کوئی پہلو مشکل نظر آئے تو اس کو اپنے علم کی کوتاہی اور اپنی عقل کے قصور پر محمول کریں اور یہ توقع رکھیں کہ دشواریاں بالآخر آسان ہو جائیں گی اور بند دروازے کھل کے رہیں گے کیونکہ علم وتحقیق کا ہر قسم آگے کی طرف بڑھ رہا ہے اور اللہ تعالیٰ صحیح علم کے طالبوں پر حق کی راہیں کھولتا ہے پس محض اس وجہ سے کہ استدلال وشہادت کا پہلو بعض قسموں میں مخفی ہے ہمارے لیے یہ بات جائز نہیں ہو سکتی کہ ہم ایک بالکل مہمل اور غلط رائے قبول کر لیں قرآن مجید کے آیات وشواہد میں دلیل کا پہلو ہرجگہ ایسا کھلا ہوا نہیں ہے کہ فکر وتامل کی ضرورت نہ پڑے۔ چنانچہ خود قرآن نے اس کی تصریح کی ہے اور ان میں غوروفکر کی دعوت دی ہے اور کہا ہے کہ صرف وہی لوگ ان کو سمجھ سکیں گے جو ان پر فکر وتدبر کریں گے اور ساتھ ہی عاقل اور خدا سے ڈرنے والے ہوں گے لیکن باوجود اس کے ہمارا نہایت مضبوط ایمان ویقین ہے کہ قرآن کی یہ تمام دلیلیں نہایت محکم اور قطعی ہیں پس فکر وتامل کی راہ میں پہلا قدم اور اصل یہ تلاش حق کا داعیہ ہے اور اس کے بعد عقل کو کام میں لانا یہاں تک کہ تمام اشکالات کی گرہیں کھل جائیں اور قلب طمانیت اور شرح صدر کے نور سے جگمگا اٹھے۔اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتا ہوں کہ یہ رائے میں نے تمام قسموں پر غور کرنے کے بعد اس وقت قائم کی جب یہ بات اللہ تعالیٰ نے مجھ پر کھول دی کہ یہ سب دلائل وشواہد ہیں اور قرآن نے خود اس حقیقت کی طرف رہبری کی جیسا کہ اوپر تفصیل سے بیان کر چکا ہوں۔

۳- تیسرا سبب جو قسم کے اصلی پہلو کے مخفی رہنے کے باعث ہوا اور جس پر اگلوں نے سب سے زیادہ اعتماد کیا ہے کہ انہوں نے دیکھا قسمیں زیادہ تو اللہ تعالیٰ اور اس کے شعائر سے تعلق رکھتی ہیں ۔ اس سے ان کا گمان ہوا کہ قسم کی اصل حقیقت یہی ہے اس رائے کو قائم کر لینے کے بعد جب ان کے سامنے دوسری چیزوں کی قسمیں آئیں تو انہوں نے ان کو مجاز پر محمول کر دیااور پھر یہ خیال کیا کہ مجاز کی راہ اسی وقت اختیار کرنی چاہیے جب حقیقت کی راہ مسدود ہو۔حالانکہ یہ دونوں باتیں غلط تھیں ۔ نہ تو کسی چیز کی کثرت اس کے اصل وحقیقت ہونے کی دلیل ہے اور نہ مجاز کو اختیار کرنا  اس شرط کے ساتھ مشروط ہے کہ حقیقت کو اختیار نہ کیا جا سکتا ہو۔ بلکہ صحیح راہ یہ ہے کہ اس معنی کہ مقبول کیا جائے جو زیادہ خوبصورت اور سیاق وسباق سے زیادہ لگتا ہو ۔ نیز کلام عرب کے اندر اس کے شواہد ونظائر موجود ہوں۔

الغرض جب ان لوگوں نے فرع کو اصل کی جگہ دے دی تو اشیاء کی قسم کا اصلی مفہوم (یعنی شہادت اور استدلال) ان کے سامنے سے اوجھل ہو گیا۔ باقی کہیں کہیں جو یہ حضرات یہ کہہ دیتے ہیں کہ فلاں قسم دلیل ہے تو اس کی وجہ محض یہ ہے کہ ان مواقع پر دلیل وشہادت کا پہلو اس قدر واضح ہے کہ اس کا انکار ناممکن ہے گویا ان مواقع میں قرآن نے ہاتھ پکڑ کر صحیح مفہوم کی طرف ان کی رہنمائی کردی ہے تاہم سابق خیال ان کے دل کے اندر اس قدر راسخ ہے کہ اتنی قومی شہادتوں کے بعد بھی طبیعت کا اصلی رجحان اسی طرف رہتا ہے اس سے معلوم ہوا کہ مخفی رہنے کا اصلی سبب درحقیقت قرآن نہیں ہے بلکہ اس کا سبب خود ان کے بعض ذاتی خیالات ہیں جن سے قرآن کو کوئی تعلق نہیں اللہ تعالیٰ ان لوگوں کی لغزش کو معاف فرمائے۔

۴- چوتھا سبب یہ ہے کہ بعض بعض واقعات جو اپنے اندر مختلف پہلو رکھتے تھے۔ وہ کبھی ایک ہی پہلو سے زیادہ مشہور ہو گئے اور اس شہرت نے ان کے دوسرے پہلو آہستہ آہستہ سامنے سے اوجھل کر دیئے ۔مثلاً فرعون اور اس کی قسم کی تباہی کے متعلق مشہور روایت یہی ہے کہ وہ سمندر کے پانی کے ذریعے سے ظہور میں آئی،ہوا کے تصرفات کو اس میں کوئی دخل نہ تھا حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ اس میں اصل دخل ہوا کو تھا ۔ بعینہٖ یہی نوعیت قوم نوح کے عذاب کی ہے۔ اس کے متعلق بھی عام زبانوں پر چڑھی ہوئی بات یہی ہے کہ ان کو پانی کے طوفان نے تباہ کیا حالانکہ ان کی تباہی بھی ہوا کے عجائب تصرفات کا کرشمہ ہے ان حقائق کے اوجھل ہو جانے کی وجہ سے قسم اور مقسم بہ کی باہمی مناسبت کے اصلی پہلو پردہ اخفا میں رہ گئے اور استدلال وشہادت کی تمام بلاغت غارت ہو گئی۔اورچونکہ عقائد واحکام سے کوئی تعلق نہیں تھا اس لیے ہمارے علمائے ان کی تحقیق دکاوش میں پڑنا کچھ ضروری نہیں خیال کیا۔

۵-  پانچواں سبب چوتھے سبب سے ملتا جلتا ہوا ہے ۔ اس کی تفصیل یہ ہے کہ ہمارے علماء کی توجہ وقت کے مقبول عام اور مرج وعقل ونقلی علوم نے اپنی طرف جذب کر لی جس کی وجہ سے ان لوگوں کو بعض ایسے علوم کی طرف توجہ کرنے کی فرصت نہیں ملی جو تفسیر میں ان مروجہ علوم سے زیادہ کارآمد تھے۔ مثلاً ان زبانوں کا علم جن میں قرآن اور وسری مذہبی کتابیں نازل ہوئیں یا سامی قوموں اور ان کے ادب اور لٹریچر کی تاریخ لیکن چونکہ یہ چیز تنہا قسم ہی کے مسئلے سے تعلق نہیں رکھتی اس لیے ہم یہاں اس کی تفصیل میں زیادہ نہیں پڑنا چاہتے اور اسباب خفا پر بھی اس سے زیادہ بحث کی ضرورت نہیں اس لیے اس فصل کو ہم تمام کرتے ہیں۔