ایصال ثواب کے جواز کے حق میں جو روایت سب سے زیادہ پیش کی جاتی ہے، وہ سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ سے متعلق ہے۔ یہ روایت متعدد کتب حدیث میں نقل ہوئی ہے۔ بخاری میں اس کے تین طرق مروی ہیں۔ ایک کے الفاظ ہیں:

أنبأنا ابن عباس أن سعد بن عبادۃ رضی اﷲ عنہم، أخا بنی ساعدۃ، توفیت أمہ وہو غائب عنہا. فأتی النبی صلی اﷲ علیہ وسلم. فقال: یارسول اﷲ، إن أمی توفیت وأنا غائب عنہا. فہل ینفعہا شیء إن تصدقت بہ عنہا. قال: نعم. قال: فإنی أشہدک أن حائطی المخراف صدقۃ علیہا.( رقم ۲۶۱۱) 
’’حضرت عبداللہ بن عباس بیان کرتے ہیں کہ سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہم جو بنی ساعدہ میں سے تھے، ان کی والدہ فوت ہو گئیں۔ اس موقع پر وہ ان کے پاس نہیں تھے۔ (جب واپس پہنچے)تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور پوچھا : یا رسول اللہ، میری والدہ فوت ہو گئی ہیں اور میں ان کے پاس نہیں تھا۔ کیا کوئی چیز جو میں ان کی طرف سے صدقہ کروں، انھیں فائدہ دے گی؟ آپ نے فرمایا: ہاں، اس پر انھوں نے کہا: آپ گواہ رہیے، یہ میرا مخراف (نامی باغ) ان (کے نام) پر صدقہ ہے۱۰؂۔‘‘

اس روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت سعد کو اپنی والدہ کی طرف سے کسی وصیت کی توقع تھی۔ انھیں یہ توقع کیوں تھی، اس کا جواب بخاری ہی کی ایک دوسری روایت۱۱؂ سے معلوم ہو جاتا ہے:

عن ابن عباس رضی اﷲ عنہما أن سعد بن عبادۃ رضی اﷲ عنہ استفتی رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم ، فقال: ان أمی ماتت وعلیہا نذر. فقال: اقضہ عنہا.( رقم ۲۶۱۰) 
’’ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: میری والدہ فوت ہو گئی ہیں اور ان پر ایک نذر کا ادا کرنا واجب تھا۔ آپ نے جواب میں کہا: ان کی طرف سے نذر۱۲؂ پوری کردو۔‘‘

اس روایت سے حضرت سعد رضی اللہ عنہ کے اضطراب اور سوال کی وجہ سامنے آتی ہے۔ ان کو معلوم تھا کہ ان کی والدہ نے نذر مانی ہوئی تھی۔ ممکن ہے، انھیں یہ معلوم نہ ہو کہ ان کی والدہ نے کیا نذر مانی ہوئی تھی، لیکن انھیں یہ اندازہ تھا کہ وہ یہ نذر پوری نہیں کر سکیں۔ انھیں یہ خیال آیا کہ اگر وہ والدہ کے پاس ہوتے تو وہ فوت ہونے سے پہلے اپنی نذر کے بارے میں ضرور بات کرتیں۔ میرے نہ ہونے کی وجہ سے وہ بات نہ کرسکیں، پھر لوگوں نے انھیں بتایا کہ وہ کوئی وصیت اس لیے نہیں کر سکیں کہ ان کے اپنے پاس کچھ نہیں تھاتواس چیز نے انھیں اورمضطرب کر دیا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس مشورے کے لیے چلے آئے۔چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں اپنی والدہ کی تمنا کی تکمیل کی اجازت دے دی۔
اس روایت۱۳؂ سے ملتی جلتی ایک اور روایت بھی کتب حدیث میں منقول ہے۔ اس میں حضرت سعد رضی اللہ عنہ کا نام تو نہیں ہے، لیکن واقعے کی نوعیت بالکل یہی ہے۔ ممکن ہے، یہ حضرت سعد والی روایت ہی کا ایک دوسرا بیان ہو۔مسلم میں ہے:

عن عائشۃ أن رجلا أتی النبی صلی اﷲ علیہ وسلم فقال: یا رسول اﷲ، إن أمی افتلتت نفسہا ولم توص. وأظنہا لو تکلمت تصدقت. أفلہا أجر إن تصدقت عنہا. قال: نعم.( رقم ۱۰۰۴)
’’حضرت عائشہ (رضی اللہ عنہا) بیان کرتی ہیں کہ ایک آدمی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور اس نے پوچھا: یا رسول اللہ، میری والدہ اچانک فوت ہو گئیں اور وہ کوئی وصیت نہ کر سکیں۔ میرا گمان ہے کہ وہ اگر بات کر پاتیں تو صدقہ کرتیں۔ کیا انھیں اجر ملے گا، اگر میں ان کی طرف سے صدقہ کروں؟ آپ نے فرمایا: ہاں۔‘‘

اس روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ سائل کو یقین تھا کہ اس کی والدہ نے، اگر انھیں بات کرنے کا موقع ملتا تو صدقہ کرنے کے لیے کہنا تھا۔ چنانچہ اس کے دل میں خواہش پیدا ہوئی کہ وہ اپنی والدہ کی اس خواہش کی تکمیل کرے۔ اس کے ذہن میں سوال پیدا ہوا کہ کیا اس کا فائدہ اس کی والدہ کو بھی پہنچے گا۔ چنانچہ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور اس نے یہ بات پوچھی اور آپ نے اس کے تکمیل کے جذبے کی تصویب کی۔
مسلم میں ایک روایت کے مطابق نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک صحابی کو اپنے باپ کی طرف سے صدقہ کرنے کی اجازت دی، دراں حالیکہ اس نے ایسا کرنے کی کوئی وصیت نہیں کی تھی۔ روایت۱۴؂کے الفاظ ہیں:

عن ابی ہریرۃ رضی اﷲ تعالٰی عنہ أن رجلا قال للنبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم: إن أبی مات وترک مالا ولم یوص، فہل یکفر عنہ أن أتصدق عنہ. قال: نعم.(رقم ۱۶۳۰) 
’’حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: میرے والد وفات پاگئے۔ انھوں نے مال چھوڑا ہے، لیکن وصیت نہیں کی۔ کیا (میرا)یہ (عمل) ان کا (گناہ)مٹائے گا کہ میں ان کی طرف سے صدقہ کروں؟آپ نے فرمایا:ہاں۔‘‘

اس روایت میں’یکفر‘( کفارے) کا لفظ بنیادی حیثیت رکھتا ہے۔ کچھ شارحین نے اسے مال چھوڑنے کے باوجود وصیت نہ کرنے کے گناہ سے متعلق کیا ہے۔ بعض شارحین کے نزدیک اس سے عام گناہ مراد ہیں۔پہلی صورت میں ممکن ہے، یہ روایت اس دور سے متعلق ہو جب وراثت کا قانون نازل نہیں ہوا تھا اور وصیت کرنے کی ہدایت کی گئی تھی۔ بہرحال، صورت معاملہ کچھ بھی ہو، اس روایت سے بظاہر، یہی اصول نکلتا ہے کہ مرنے والے کے لیے خیرات کرنا، اس کے گناہ یا گناہوں کی تلافی کا ذریعہ بنتا ہے۔ 
اس ضمن میں ہم نے جو روایات اس سے پہلے نقل کی ہیں،ان میں اگر نذر کے پہلو کو پیش نظر رکھیں تو روایات بہت سادہ ہیں۔ ہماری مراد یہ ہے کہ مرنے والے پر اللہ تعالیٰ کا اسی طرح ایک قرض تھا، جس طرح اس پر انسانوں کا قرض ہوتا ہے اور جس طرح اولاد انسانوں کا قرض ادا کرتی ہے، اسی طرح اللہ کا یہ قرض بھی ادا کر ے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہی بات بیان بھی کی ہے: 

عن ابن عباس رضی اﷲ عنہما أن امرأۃ من جہینۃ جاء ت إلی النبی صلی اﷲ علیہ وسلم. فقالت: إن أمی نذرت أن تحج، فلم تحج، حتی ماتت. أفأحج عنہا. قال: نعم، حجی عنہا، أرأیت لو کان علی أمک دین أکنت قاضیتہ، اقضوا اﷲ فاﷲ أحق بالوفاء.(بخاری، رقم ۱۷۵۴)
’’ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ جہینہ قبیلے کی ایک عورت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی اور اس نے پوچھا: میری ماں نے نذر مانی تھی کہ وہ حج کریں گی۔ وہ حج نہیں کر سکیں اور وفات پا گئی ہیں۔کیا میں ان کی طرف سے حج کر لوں؟ آپ نے فرمایا: ہاں، ان کی طرف سے حج کر لو۔ تمھارا کیا خیال ہے، اگر تمھاری والدہ پر قرض ہوتا تو کیا تم اسے ادا نہ کرتی۔ اللہ کا حق بھی پورا کرو، کیونکہ اللہ سب سے بڑھ کر ایفا کا حق رکھتا ہے ۔‘‘

اس صورت میں ان روایات کا کوئی تعلق ایصال ثواب سے نہیں ہے، بلکہ یہ اپنی حقیقت میں اسی اصولی بات کے اطلاق کی ایک صورت ہے جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ’انقطع عنہ عملہ الا من ثلاثۃ‘۱۵؂کے الفاظ میں بیان کیا ہے۔صالح اولاد جب اپنے والدین کے اعمال خیر کی تکمیل کرتی ہے یا انھیں جاری رکھتی ہے تو یہ چیز، چونکہ انھی کے عمل کا تسلسل ہے۔ چنانچہ اس کا اجر انھیں ملے گا۔
ان روایات سے ایک دوسرا رخ بھی سامنے آتا ہے۔ وہ یہ کہ اگر منت نہ بھی مانی ہو، محض کسی نیکی کا ارادہ یا خواہش بھی معلوم ہوتو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی تکمیل کی ہدایت فرمائی ہے۔ یہ بھی درحقیقت مرنے والے کے اپنے عمل ہی کی توسیع اور تسلسل ہے۔یہ اگرچہ ایک لطیف تعلق ہے، لیکن بندگی کی نفسیات میں اس کی بڑی اہمیت ہے۔ اولاد والدین سے جو تعلق رکھتی ہے، اس کا ایک نتیجہ یہ ہے کہ اولاد اپنے والدین کی خواہشات اور ارادوں کی تکمیل اور ان کے جاری کیے ہوئے کام کے تسلسل کو اپنا کام سمجھتی ہے۔ جب یہ رویہ اللہ کی بندگی کے حوالے سے سامنے آیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے درست قرار دیا۔
یہاں یہ بات بھی پیش نظر رہنی چاہیے کہ ان روایات میں’ عن‘ کا حرف استعمال ہوا ہے۔ یہ حرف متکلم کے اس ذہن پر دلالت کرتا ہے کہ وہ یہ عمل مرنے والے کی جانب سے اس کی نیابت میں اس کے اپنے عمل کی حیثیت سے کرنا چاہتا ہے۔ چنانچہ اس عمل کا اس عمل سے کوئی تعلق نہیں ہو سکتا جو خود کیا جائے اور مرنے والے کا خواہش کی حد تک بھی اس سے کوئی تعلق نہ ہو۔
جہاں تک دوسری روایت کا تعلق ہے، اس میں یہ’ عن‘ تو موجود ہے،لیکن اس میں کسی نذر، خواہش یا ارادے کا کوئی ذکر نہیں ہے۔قرآن مجید میں بیان کیے گئے اصول اجر، روایات میں بیان کیے گئے انقطاع عمل کے اصول اور صحابہ رضوان اللہ علیہم کی انھی اصولوں پر استوارسوانح کی روشنی میں ہم بہ آسانی اس روایت۱۶؂ کو ایک نامکمل روایت قرار دے سکتے ہیں۔ حقیقت میں مرنے والے کے کسی عمل ، ارادے یا خواہش کی تکمیل کا جذبہ ہی اس روایت کے سائل کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے کر آیا ہے اور آپ نے اسے بھی وہی جواب دیا ہے جودوسرے سائلوں کو دیا ہے۔
مرنے والے کی جانب سے صدقے کی ان روایات سے بھی اسی بات کی تصدیق ہوتی ہے کہ ایصال ثواب کا تصور ایک بعد میں وجود میں آنے والا تصور ہے، اسے قرآن مجید، نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ سے کوئی نسبت حاصل نہیں ہے۔


۱۰؂ یہ روایت اپنے اندر کچھ خلا رکھتی ہے، مثلاً یہ کہ اس میں یہ بیان نہیں ہوا کہ حضرت سعد کہاں گئے ہوئے تھے۔نسائی(المجتبیٰ)، رقم ۳۶۵۰ سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کسی غزوے میں شریک تھے۔دوسرے یہ کہ یہ واضح نہیں ہوتا کہ ان کے ذہن میں یہ سوال کیوں پیدا ہوا۔ مذکورہ روایت سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ ان کی والدہ سے وصیت کرنے کو کہا گیا تھا۔ انھوں نے کہاکہ میں کیا وصیت کروں، مال تو سعد کا ہے۔
یہ روایت متعدد کتب میں نقل ہوئی ہے۔ دیکھیے: بخاری، رقم ۲۶۰۵، ۲۶۱۸؛ ابوداؤد، رقم۲۸۸۲؛ ترمذی، رقم۶۶۹؛نسائی، رقم ۳۶۵۰، ۳۶۵۴، ۳۶۵۵؛ مسند احمد، رقم۳۵۰۴، ۳۵۰۸؛ ابن حبان، رقم ۳۳۵۴؛ بیہقی،رقم۱۲۴۱۱، ۱۲۴۱۲؛ ابویعلیٰ، رقم۲۵۱۵؛ السنن الکبریٰ، رقم۶۴۷۷، ۶۴۸۱، ۶۴۸۲؛ موطا، رقم۱۴۵۰؛ ابن خزیمہ، رقم۲۵۰۰، ۲۵۰۱، ۲۵۰۲؛ عبدالرزاق،رقم۱۶۳۳۷۔
۱۱؂ اس روایت کے مختلف متون کے لیے دیکھیے:مسلم، رقم۱۶۳۸؛ بخاری، رقم۲۶۱۰، ۶۳۲۰، ۶۵۵۸؛ ابوداؤد، رقم۳۳۰۷؛ ترمذی، رقم۱۵۴۶؛ نسائی، رقم۳۶۵۷۔۳۶۶۳،۳۸۱۷۔۳۸۱۹؛ ابن ماجہ، رقم ۲۱۳۲؛ مسنداحمد، رقم۳۵۰۶؛ ابن حبان، رقم۳۴۹۳۔۳۴۹۵؛ بیہقی، رقم۸۰۲۱، ۱۲۴۱۳، ۱۹۹۳۴؛ ابویعلیٰ، رقم۲۳۸۳، ۲۶۸۳؛ السنن الکبریٰ، رقم۴۷۵۹۔۴۷۶۱، ۶۴۸۴۔۶۴۹۰؛ موطا، رقم ۱۰۰۷؛ عبدالرزاق، رقم ۱۶۳۳۳، ۱۶۳۳۴؛ ابن ابی شیبہ، رقم۱۲۰۸۰، ۳۶۱۲۰۔
۱۲؂ حضرت سعد نے اپنی والدہ کی طرف سے کیا خیرات کی۔ روایات سے تین باتیں معلوم ہوتی ہیں: ایک یہ کہ انھوں نے ایک باغ صدقے میں دے دیا۔ دوسری یہ کہ انھوں نے پینے کے پانی کا اہتمام کیا۔ تیسری یہ کہ انھوں نے ایک غلام آزاد کیا۔ غلام آزاد کرنے والی روایت میں اگرچہ نذر کا تذکرہ بھی ہے،لیکن اس روایت کے کسی متن میں یہ جملہ نہیں ہے کہ انھوں نے غلام آزاد کرنے کی نذر مانی ہوئی تھی۔ چنانچہ یہ بات یقین کے ساتھ کہنا ممکن نہیں ہے کہ انھوں نے کیا نذر مانی ہوئی تھی۔متن کے اس اضطراب سے بہرحال، یہ ضرور سامنے آتا ہے کہ روایت کی اصل صورت کے بارے میں کوئی یقینی بات کہنا ممکن نہیں، لہٰذا اس پر کسی اصولی موقف کی بنیاد نہیں رکھی جا سکتی۔تفصیل کے لیے دیکھیے: (باغ والی روایات) بخاری، رقم ۲۶۰۵، ۲۶۱۱، ۲۶۱۸؛ ابوداؤد، رقم۲۸۸۲؛ ترمذی، رقم۶۶۹؛ نسائی، رقم۳۶۵۴، ۳۶۵۵؛ مسند احمد، رقم۳۵۰۴، ۳۵۰۸؛ ابن حبان، رقم۳۳۵۴؛ بیہقی،رقم ۱۲۴۱۱، ۱۲۴۱۲؛ ابویعلیٰ، رقم۵۲۱۵؛ السنن الکبریٰ، رقم۶۴۷۷، ۶۴۸۱، ۶۴۸۲؛ موطا، رقم۱۴۵۰؛ ابن خزیمہ، رقم۲۵۰۰۔ ۲۵۰۲؛ عبدالرزاق، رقم۱۶۳۳۷۔ (سقایہ والی روایات) نسائی، رقم۳۶۶۴، ۳۶۶۶؛ مسند احمد، رقم۲۲۵۱۲، ۲۳۸۹۶؛ السنن الکبریٰ، رقم۶۴۹۱، ۶۴۹۳؛ ابن خزیمہ، رقم۲۴۹۶۔ (غلام والی روایات) نسائی، رقم۳۶۵۶؛ مسند احمد، رقم ۲۳۸۹۷؛ بیہقی، رقم۱۲۴۱۸، ۱۲۴۱۹؛ السنن الکبریٰ، رقم۶۴۸۳؛ موطا، رقم۱۴۷۳۔
۱۳؂ اس روایت کے دوسرے متون کے لیے دیکھیے: مسلم، رقم ۱۶۳۸؛ بخاری، رقم ۱۳۲۲، ۲۶۰۹؛ ابوداؤد، رقم۲۸۸۱؛ ابن ماجہ،رقم۲۷۱۷؛ بیہقی، رقم۶۸۹۵، ۱۲۴۰۹، ۱۲۴۱۰؛ ابویعلیٰ، رقم۴۴۳۴؛ موطا، رقم ۱۴۵۱؛ عبدالرزاق، رقم۱۶۳۴۳؛ ابن حبان، رقم۳۳۵۳؛ السنن الکبریٰ، رقم۶۴۷۶؛ ابن ابی شیبہ، رقم۱۲۰۷۷؛ مسند احمد، رقم۲۴۲۹۶۔
۱۴؂ اس روایت کے دوسرے متون کے لیے دیکھیے: نسائی، رقم۳۶۵۲؛ ابن ماجہ، رقم۲۷۱۶؛ مسند احمد، رقم۸۸۲۸؛ بیہقی، رقم ۱۲۴۱۴؛ ابویعلیٰ، رقم۶۴۹۴؛ السنن الکبریٰ، رقم۶۴۷۹؛ ابن خزیمہ، رقم۲۴۹۸۔
۱۵؂ مکمل متن اور حوالے کے لیے دیکھیے: صفحہ۱۸۔
۱۶؂ اس روایت کے بارے میں اگر یہ اصرار کیا جائے کہ یہ روایت عدم وصیت کے گناہ یاعام گناہوں کے کفارے ہی سے متعلق ہے تو پھر اسے قبول نہیں کیا جا سکتا۔ اس صورت میں یہ قرآن وحدیث میں اجر کے بارے میں بیان کیے گئے مسلمات کے خلاف ہے۔

 

_______________________