۱۔عام طور پر دیکھنے میں آیا ہے کہ لوگ اپنے گناہوں اور اپنی غلطیوں کے معاملے میں حد درجہ حساس ہونے کے بجاے دوسروں کی غلطیوں کونمایاں کرنے اوربظاہر ان کی اصلاح کرنے کااپنے اندر زیادہ شوق اور داعیہ رکھتے ہیں۔ اس طرح کا رویہ آدمی کے اندر اپنے گناہوں کے بارے میں نفسیاتی طور پر ایک اطمینان کی سی کیفیت پیدا کردیتا ہے۔ اس کے بعد آدمی اپنے دل کو یہ کہہ کر مطمئن کر لیتا ہے کہ مجھ میں اگر فلاں فلاں برائیاں ہیں تو دوسروں میں مجھ سے کہیں بڑھ کر برائیاں موجود ہیں۔ یہ نفسیاتی اطمینان آدمی کو توبہ و استغفار سے دور کرتا ہے۔ حضرت مسیح نے انسان کے اسی رویے کی نشان دہی کرتے ہوئے فرمایا:

 

’’عیب جوئی نہ کروکہ تمھاری بھی عیب جوئی نہ کی جائے،کیونکہ جس طرح تم عیب جوئی کرتے ہو، اسی طرح تمھاری بھی عیب جوئی کی جائے گی اور جس پیمانہ سے تم ناپتے ہو اسی سے تمھارے واسطے ناپا جائے گا۔ تو کیوں اپنے بھائی کی آنکھ کے تنکے کو دیکھتا ہے اور اپنی آنکھ کے شہتیر پر غور نہیں کرتا؟ اور جب تیری ہی آنکھ میں شہتیر ہے تو تو اپنے بھائی سے کیونکر کہہ سکتا ہے کہ لا تیری آنکھ میں سے تنکا نکال دوں۔ اے ریا کار پہلے اپنی آنکھ میں سے تو شہتیر نکال، پھر اپنے بھائی کی آنکھ میں سے تنکے کو اچھی طرح دیکھ کر نکال سکے گا۔‘‘ (متی ۷: ۱۔۵)

 

انسان اگر فی الواقع اپنے آپ کو اللہ کے حضور کامیاب کرنا چاہتا ہے تو اس کے لیے اسے اپنی تمام تر توجہ دوسروں کے بجاے اپنے گناہوں اور اپنی غلطیوں پر مرکوز رکھنی چاہیے۔ اسے یہ بات ہر وقت یاد رکھنی چاہیے کہ اس کے ساتھ ساتھ اگر بہت سے دوسرے لوگ بھی جہنم کا ایندھن بن جائیں تو اس کے لیے یہ بات کسی اطمینان یا تکلیف میں کسی کمی کا باعث نہ ہو گی،اس وجہ سے اس کا اصل کام اگر کوئی ہونا چاہیے تو اپنے عمل کی اصلاح اور اپنے گناہوں سے توبہ و استغفار ہے۔ 

۲۔ دوسری بات جو خاص طور پر ذہن میں رہنی چاہیے ،وہ یہ ہے کہ اللہ کے نیک بندے نہ تو خدا کی رحمت پر بھروسا کر کے عمل سے غافل ہوتے اور نہ خدا کی مغفرت سے مایوس ہوکر خدا ہی کو چھوڑ کر باطل سہاروں کی تلاش میں نکلتے ہیں۔ شیطان کے دو بڑے ہتھیار ہیں۔ اس کی کوشش یہ ہوتی ہے کہ اللہ کے بندے اللہ ہی کی رحمت سے ایسی امید باندھ لیں کہ اس کے بعد توبہ و عمل سے غافل ہو جائیں ۔ اس معاملے میں دین کا کام کرنے والے لوگوں کو خاص طور پر محتاط رہنا چاہیے۔ اس قسم کے کام کی وجہ سے وہ ہر وقت اس خطرے سے دوچار رہتے ہیں کہ شیطان انھیں اپنے جال میں پھنسا لے۔ وہ دین کا کچھ کام کر دینے ہی کو اپنی نجات کا ضامن سمجھتے اور اس طرح اپنے گناہوں اور غلطیوں کی توبہ و استغفار میں حد مطلوب سے بہت پیچھے رہ جاتے ہیں۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی خطرے سے آگاہ کرتے ہوئے ایک موقع پر فرمایا:’’لوگو، اپنی غلطیوں کو یاد کر کے بہت توبہ و استغفار کیا کرو، میں دن میں ستر ستر مرتبہ توبہ و استغفار کرتا ہوں۔‘‘ایک اور موقع پر اسی بات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے آپ نے فرمایا:

 

ان المومن یری ذنوبہ کانہ قاعد تحت جبل یخاف ان یقع علیہ و ان الفاجر یری ذنوبہ کذباب مر علی انفہ.(بخاری، رقم ۵۸۳۳)

’’بندۂ مومن اپنے گناہوں کو یوں دیکھتا ہے، جیسے وہ ایک پہاڑ کے نیچے کھڑا ہو اور اسے اندیشہ ہو کہ کسی وقت بھی یہ پہاڑ اس کے اوپر آ گرے گا۔ اس کے برعکس، نافرمان لوگ اپنے گناہوں کو اتنی ہی اہمیت دیتے ہیں، جتنی اس مکھی کو جو ان کی ناک سے گزرکر غائب ہو جاتی ہے۔‘‘

 

شیطان اگراپنی اس چال میں کامیاب نہ ہو تو پھر وہ یہ کوشش کرتا ہے کہ وہ بندے کو خدا کی رحمت سے مایوس کر دے۔ وہ انسان کے دل میں یہ وسوسہ ڈالتا ہے کہ جتنے گناہ وہ کر چکا ہے، انھیں خدا کسی طرح بھی معاف نہ کرے گا۔ اس کے بعد وہ انسان کو باطل سہاروں کے در پر لا کھڑا کرتا اور اس طرح اس کے پورے دین کی عمارت کو نیست و نابود کر ڈالتا ہے۔ اس کی زد توحید ، آخرت ، اخلاص، توکل، رضاہر چیز پر پڑتی اور انسان مسلمان کہلاتے ہوئے بھی شرک اور بت پرستی کی وادیوں میں گم ہو جاتا ہے۔ انسان کو اسی مایوسی سے بچاتے ہوئے قرآن کہتا ہے:

 

قُلْ یٰعِبَادِیَ الَّذِیْنَ اَسْرَفُوْا عَلآی اَنْفُسِھِمْ لَا تَقْنَطُوْا مِنْ رَّحْمَۃِ اللّٰہِ اِنَّ اللّٰہَ یَغْفِرُ الذُّنُوْبَ جَمِیْعًا اِنَّہٗھُوَالْغَفُوْرُ الرَّحِیْمُ وَاَنِیْبُوْٓا اِلٰی رَبِّکُمْ وَاَسْلِمُوْا لَہٗمِنْ قَبْلِ اَنْ یَّاْتِیَکُمُ الْعَذَابُ ثُمَّ لَا تُنْصَرُوْنَ.(الزمر ۳۹: ۵۳۔ ۵۴) 

’’(اے پیغمبر)،ان سے کہہ دو: اے میرے بندو، جنھوں نے اپنی جانوں پر زیادتی کی ہے، اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہوں۔ اللہ تمام گناہوں کو بخش دے گا، وہ بڑا ہی غفور و رحیم ہے۔ اور رجوع کرو اپنے رب کی طرف اور اس کے فرماں بردار بن جاؤ، اس سے پہلے کہ تم پر عذاب آ دھمکے، پھر تمھاری کوئی مدد نہیں کی جائے گی ۔‘‘

 

مولانا امین احسن اصلاحی رحمہ اللہ ان آیتوں کی وضاحت میں لکھتے ہیں:

 

’’شرک و شفاعت کے عوامل میں سے ایک بڑا عامل خدا سے مایوسی یا بدگمانی بھی ہے۔ اس مایوسی و بدگمانی کے متعدد پہلو ہیں...ازآنجملہ یہ بھی ہے کہ مشرک کو خدا کی رحمت و مغفرت پر بھروسا نہیں ہوتا، اس وجہ سے وہ اپنے تصور کے مطابق خدا کے کچھ فرضی مقربین تراشتا ہے اور ان کی عبادت کر کے یہ امید رکھتا ہے کہ وہ خدا کے ہاں اس کے سفارشی بن کر اس کی مغفرت کرا دیں گے۔ اس وہم میں جو لوگ مبتلا ہیں، ان کو اللہ تعالیٰ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعے سے یہ پیغام دلوایا کہ ان سے کہو کہ اے میرے بندو، جنھوں نے اپنی جانوں پر گناہ یا شرک کر کے زیادتی کی ہے، خدا کی رحمت سے مایوس ہو کر تم دوسروں کا سہارا نہ پکڑو اور اسی سے مغفرت کے طالب بنو، اللہ بڑا ہی غفور و رحیم ہے۔ اس کے جو بندے اس کی طرف اخلاص کے ساتھ متوجہ ہوتے ہیں، وہ ان کے ہر قسم کے گناہ معاف کر دیتا ہے۔ 

اس آیت کا لب و لہجہ دلیل ہے کہ مخاطب وہ لوگ ہیں جو فی الواقع اس غلط فہمی میں مبتلا ہوتے ہیں کہ نہ ہر شخص خدا تک رسائی کا اہل ہوتا اور نہ ہر شخص کی بات کو خدا لائق التفات سمجھتا ۔ اس غلط فہمی کے سبب سے وہ دوسرے وسائل و وسائط کا سہارا لیتے ہیں، حالاں کہ خدا کے متعلق اس قسم کا خیال اس سے مایوسی اور بدگمانی کے ہم معنی ہے جو کسی حال میں بھی جائز نہیں ہے۔...

یہ اس طریقہ کی طرف رہنمائی فرمائی ہے جو اللہ تعالیٰ کی رحمت و مغفرت کے طالبوں کو اختیار کرنا چاہیے۔ فرمایا کہ دوسرے مزعومہ وسائط و وسائل سے کٹ کر اپنے رب کی طرف رجوع کرو، گناہوں سے توبہ کر کے اس کی رحمت و مغفرت کے طالب بنو اور خدا کے عذاب کے ظہور سے پہلے بالکلیہ اپنے آپ کو اپنے رب کے حوالے کر دو، یعنی عبادت اور اطاعت، دونوں بلاشرکت غیرے اسی کی کرو۔‘‘ (تدبر قرآن ۶/ ۶۰۳)

 

نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی متعدد روایات میں بھی اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ انسان نے کتنے ہی گناہ کیے ہوں، اس کو ان کی معافی کے لیے کسی سہارے کی ضرورت نہیں ہے۔ اس کو اگر ضرورت ہے تو صرف سچے دل سے توبہ کرنے اور اپنی آیندہ زندگی کو گناہوں سے پاک رکھنے کا پختہ عزم کرنے کی ضرورت ہے۔ ایک موقع پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

 

لو اخطأتم حتی تبلغ خطایاکم السماء ثم تبتم لتاب علیکم.(ابن ماجہ، رقم ۴۲۳۸) 

’’اگر تم نے اتنے گناہ کیے ہوں کہ تمھارے گناہوں کا انبار آسمان تک پہنچ جائے اور اس کے بعد تم سچے دل سے توبہ کر لو تو اللہ تمھاری توبہ قبول فرما لے گا۔‘‘

 

حضرت مسیح علیہ السلام نے بھی یہی حقیقت اپنے مخصوص تمثیلی انداز میں اس طرح سمجھائی ہے:

 

’’...کسی شخص کے دو بیٹے تھے۔ ان میں سے چھوٹے نے باپ سے کہا: اے باپ !مال کا جو حصہ مجھ کو پہنچتا ہے مجھے دے دے۔اس نے اپنا مال متاع انھیں بانٹ دیا اور بہت دن نہ گزرے کہ چھوٹا بیٹا اپنا سب کچھ جمع کر کے دور دراز ملک کو روانہ ہوا اور وہاں اپنا مال بدچلنی میں اڑا دیا۔ اور جب سب خرچ کر چکا تو اس ملک میں سخت کال پڑا اور وہ محتاج ہونے لگا۔پھر اس ملک کے ایک باشندہ کے ہاں جا پڑا۔ اس نے اس کو اپنے کھیتوں میں سؤر چرانے بھیجا ۔ اور اسے آرزو تھی کہ جو پھلیاں سؤر کھاتے تھے انھی سے اپنا پیٹ بھرے، مگر کوئی اسے نہ دیتا تھا۔ پھر اس نے ہوش میں آ کر کہا میرے باپ کے بہت سے مزدوروں کو افراط سے روٹی ملتی ہے اور میں یہاں بھوکا مر رہا ہوں۔ میں اٹھ کر اپنے باپ کے پاس جاؤں گا اور اس سے کہوں گا اے باپ !میں آسمان کا (بھی گناہ گار ہوں) اور تیری نظر میں (بھی) گناہ گار ہوا۔ اب اس لائق نہیں رہا کہ پھر تیرا بیٹا کہلاؤں۔ مجھے اپنے مزدوروں جیسا کر لے۔ پس وہ اٹھ کر اپنے باپ کے پاس چلا۔ وہ ابھی دور ہی تھا کہ اسے دیکھ کر اس کے باپ کو ترس آیا اور دوڑ کر اس کو گلے لگا لیا اور چوما۔ بیٹے نے اس سے کہا اے باپ! میں آسمان کا اور تیری نظر میں گناہ گار ہوا۔ اب اس لائق نہیں رہا کہ پھر تیرا بیٹا کہلاؤں۔ باپ نے اپنے نوکروں سے کہا اچھے سے اچھا لباس جلد نکال کر اسے پہناؤ اور اس کے ہاتھ میں انگوٹھی اور پاؤں میں جوتی پہناؤ۔ اور پلے ہوئے بچھڑے کو لا کر ذبح کرو تاکہ ہم کھا کر خوشی منائیں،کیونکہ میرا یہ بیٹا مردہ تھا۔ اب زندہ ہوا۔کھو گیا تھا۔ اب ملا ہے۔‘‘ (لوقا ۱۵: ۱۱۔۲۴) 

 

۳۔ تیسری بات جو ہر حال میں ذہن میں رہنی چاہیے، وہ یہ ہے کہ اگر ہم اپنے رب سے یہ توقع رکھتے ہیں کہ وہ ہمارے گناہ بخش دے ، اگر ہم اس سے یہ امید رکھتے ہیں کہ وہ بار بار ہمارے گناہوں میں پڑنے کے باوجود ہم سے درگذر فرمائے تو ہمیں کوشش کرنی چاہیے کہ ہم اپنے بھائیوں کے ساتھ یہی رویہ اپنائیں۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی بات کو واضح کرتے ہوئے فرمایا:

 

من لا یرحم لا یرحم و من لا یغفر لا یغفرلہ.(مسند احمد،رقم ۱۸۴۴۷)

’’جو دوسروں پر رحم نہیں کرتا، اس پر رحم نہ کیا جائے گا۔ اور جو دوسروں کی غلطیوں سے درگذر نہیں کرتا، اس کی غلطیوں سے درگذر نہ کیا جائے گا۔‘‘

 

ایک موقع پر کسی نے آپ سے عرض کیا: یا رسول اللہ، آدمی اپنے غلاموں کو آخر کتنی مرتبہ معاف کرے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم یہ بات سن کر خاموش رہے۔ ایک مرتبہ پھر یہی سوال پوچھا گیا تو آپ پھر بھی خاموش رہے۔ سائل نے تیسری مرتبہ یہی سوال کیا تو آپ نے فرمایا : اگر ضرورت پڑے تو انھیں ستر ستر مرتبہ معاف کرو اور ان کی غلطیوں سے درگذر کرو۔ انجیلوں میں حضرت مسیح علیہ السلام سے بھی اسی طرح کی بات منقول ہے۔ لوقا کی انجیل میں ہے:

 

’’... اگر تیرا بھائی گناہ کرے تو اسے ملامت کر۔ اگر توبہ کرے تو اسے معاف کر۔ اور اگر وہ ایک دن میں سات دفعہ تیرا گناہ کرے اور ساتوں دفعہ تیرے پاس پھر آ کر کہے کہ توبہ کرتا ہوں تو اسے معاف کر۔‘‘ ( ۱۷: ۳۔ ۴)

 

۴۔ چوتھی بات جو ایک بندۂ مومن کو ہر حال میں یاد رکھنی چاہیے، وہ یہ ہے کہ جونہی اسے اپنے گناہوں اور اپنی غلطیوں کا شعور ہو جائے، وہ بغیر کسی تاخیر کے اپنے رب کی طرف رجوع کرے اور اس سے معافی مانگے۔ 

انسان بالعموم اپنی موت کو بہت دور دیکھتا ہے۔ اس کا ایک نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ وہ برائیوں کو ترک کرنے اور اپنے کیے پر توبہ و استغفار کرنے کے معاملے میں اس امید میں گرفتار رہتا ہے کہ ابھی کچھ عرصہ زندگی کے مزے لوٹ لیے جائیں، اس کے بعد سچے دل سے توبہ کر لیں گے۔ یہ ایک نہایت خطرناک رویہ ہے۔ ہم جانتے ہیں کہ موت بغیر کسی اعلان کے اچانک آسکتی ہے۔وہ نوجوانوں اور بچوں کو بھی اسی بے رحمی سے اپنا نشانہ بنا لیتی ہے، جیسے وہ بوڑھوں اور بیماروں کو اچک لے جاتی ہے، اس وجہ سے ہمیں یہ بات ہر حال میں یاد رکھنی چاہیے کہ توبہ و استغفار کا جو موقع آج ہمیں میسر ہے، ہو سکتا ہے کہ کل یہ موقع ہمارے پاس نہ ہو۔ آج اللہ نے جو مہلت ہمیں دے رکھی ہے، کیا خبر کہ کل یہ ہم سے چھین لی جائے۔ توبہ و استغفار کو مؤخر کرنا اپنے آپ کو شدید خطرے میں ڈالنا ہے۔اس میں جہاں ایک طرف یہ خطرہ ہے کہ بعد میں توبہ کی مہلت ہی نہ ملے، وہیں دوسری طرف یہ خطرہ بھی ہے کہ انسان کے دل پر بد عملیوں کا ایسا گہرا زنگ چڑھ جائے کہ جس کے بعد وہ توبہ و اصلاح کی توفیق ہی سے محروم کر دیا جائے۔