اب تک ہم نے ان روایات کا مطالعہ کیا ہے جن میں بعض افراد نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنے مرنے والے کی کسی نذر، ارادے یا خواہش کی تکمیل کا پوچھا ہے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی اجازت دی ہے اور ایک آدھ روایت اس مضمون کی بھی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے خود بھی ایسا ہی کیا ہے۔ 
آیندہ سطور میں ہم جس روایت کوزیر بحث لا رہے ہیں ،وہ اگر چہ براہ راست اس موضوع سے متعلق نہیں ہے، لیکن بعض لوگ اس سے بھی استشہاد کرتے ہیں، لہٰذا موزوں یہی ہے کہ اس پر بھی ایک نظر ڈال لی جائے۔ بخاری میں ہے: ۳۲؂

عن ابن عباس قال: مر النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم بحائط من حیطان المدینۃ أو مکۃ. فسمع صوت إنسانین یعذبان فی قبورہما. فقال النبی صلی اﷲ علیہ وسلم: یعذبان وما یعذبان فی کبیر. ثم قال: بلی، کان أحدہما لا یستتر من بولہ وکان الآخر یمشی بالنمیمۃ. ثم دعا بجریدۃ. فکسرہا کسرتین. فوضع علی کل قبر منہما کسرۃ. فقیل لہ: یارسول اﷲ، لم فعلت ہذا؟ قال: لعلہ یخفف عنہما ما لم تیبسا أو إلی أن ییبسا.(رقم۲۱۳) 
’’حضرت ابن عباس( رضی اللہ عنہما) بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم مکہ یا مدینے کے باغوں میں سے کسی باغ کے پاس سے گزرے۔ آپ نے دو انسانوں کی آواز سنی جنھیں قبر میں عذاب دیا جا رہا تھا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: انھیں عذاب دیا جا رہا ہے اور کسی بڑے جرم میں عذاب نہیں دیا جا رہا۔ پھر فرمایا : کیوں نہیں، ان میں سے ایک اپنے پیشاب سے نہیں بچتا تھا اور دوسرا چغلی کھاتا پھرتا تھا۔ پھر آپ نے ایک ٹہنی منگوائی ۔ اسے دو حصوں میں توڑا۔ پھر ہر قبر پر ایک ایک ٹکڑا رکھ دیا۔ آپ سے پوچھا گیا: یارسول اللہ، آپ نے یہ کیوں کیا؟ آپ نے کہا: ہو سکتا ہے، وہ (پروردگار) ان دونوں کے عذاب میں اس وقت تک کے لیے کمی کر دے، جب تک یہ ٹہنیاں خشک ہوں۔ ‘‘

اس سے ملتا جلتا ایک واقعہ ایک دوسری روایت میں بیان ہوا ہے۔ مسند احمد میں ہے:۳۳؂

عن أبی ہریرۃ قال: مر رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم علی قبر. فقال: ائتونی بجریدتین. فجعل إحداہما عند رأسہ والأخری عند رجلیہ. فقیل: یانبی اﷲ، أینفعہ ذلک. قال: لن یزال اﷲ أن یخفف عنہ بعض عذاب القبر ما کان فیہما ندو.(رقم۹۶۸۱) 
’’حضرت ابو ہریرہ (رضی اللہ عنہ) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک قبر کے پاس سے گزرے۔ اس موقع پر آپ نے فرمایا: مجھے دوٹہنیاں لا کردو۔ (جب ٹہنیاں پیش کی گئیں تو) آپ نے ایک ٹہنی قبر کے سرہانے اور ایک پاؤں کی طرف رکھ دی۔ آپ سے سوال ہوا: اللہ کے نبی، اس سے، اس کو کیا فائدہ ہو گا؟ آپ نے جواب دیا: اللہ تعالیٰ اس وقت تک اس سے قبر کا کچھ عذاب کم کر دیں گے، جب تک ان ٹہنیوں میں تری ہے۔‘‘

روایت پڑھتے ہی یہ بات سامنے آتی ہے کہ واقعہ خصوصی نوعیت رکھتا ہے۔ یہ بات کہ صاحب قبر عذاب میں مبتلا ہے، اللہ کے پیغمبر ہی کو معلوم ہو سکتی ہے۔ یہ بات کہ کچھ وقت کے لیے عذاب میں تخفیف کر دی گئی ہے، یہ علم بھی وحی کے بغیر نہیں ہو سکتا۔ شارحین کو یہ بات متعین کرنے میں مشکل پیش آئی ہے کہ سبز ٹہنی اور عذاب کی تخفیف میں کیا تعلق ہے، دراں حالیکہ روایات کے الفاظ ہی سے واضح ہے کہ یہ عمل وقت کے تعین کے لیے کیا گیا ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو جب یہ معلوم ہوا کہ صاحب قبر عذاب میں مبتلا ہے تو آپ نے اس کے لیے دعا کی۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کی یہ دعا قبول کی اور یہ بھی واضح تھا کہ یہ دعا محدود وقت کے لیے قبول کی گئی ہے۔ ظاہرہے اس زمانے میں گھڑیاں نہیں تھیں۔ چنانچہ وقت کے تعین کے لیے سبز ٹہنی استعمال کی گئی تھی ۔ ہم یہ بات اندازے سے نہیں کہہ رہے ہیں۔ اس واقعہ کی یہ نوعیت مسلم کی ایک روایت سے واضح ہوتی ہے،جو انھوں نے اپنی صحیح میں ’’کتاب الزہد والرقائق‘‘ میں حدیث جابر کی حیثیت سے نقل کی ہے۔ ہم یہاں اس کا متعلقہ حصہ نقل کر رہے ہیں:

...فرأیت رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم وقف وقفۃ. فقال برأسہ ہکذا. وأشار أبو إسماعیل برأسہ یمینا و شمالا. ثم أقبل. فلما انتہی إلیَّ. قال: یاجابر، ہل رأیت مقامی. قلت: نعم، یا رسول اﷲ. قال: فانطلق إلی الشجرتین، فاقطع من کل واحدۃ منہما غصنا. فأقبل بہما حتی إذا قمت مقامی فأرسل غصنا عن یمینک وغصنا عن یسارک. قال جابر: فقمت، فأخذت حجرا، فکسرتہ وحسرتہ فانذلق لی. فأتیت الشجرتین. فقطعت من کل واحدۃ منہما غصنا. ثم أقبلت أجرہما، حتی قمت مقام رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم. أرسلت غصنا عن یمینی وغصنا عن یساری. ثم لحقتہ. فقلت: قد فعلت یا رسول اﷲ. فعم ذاک. قال: إنی مررت بقبرین یعذبان فأحببت بشفاعتی أن یرفہ عنہما مادام الغصنان رطبین.(رقم۳۰۱۲)
’’...پھر میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ تھوڑی دیر کے لیے رکے ہیں۔ پھر آپ نے سر کے اشارے سے بلایا، ابو اسماعیل (راوی) نے(حضور کا طریقہ سمجھانے کے لیے) دائیں اور بائیں سر ہلایا۔ پھر آپ آگے آئے۔ جب میرے پاس پہنچے توکہا: جابر، تم نے میرے کھڑے ہونے کی جگہ دیکھ لی ہے؟ میں نے کہا:ہاں، یارسول اللہ۔ آپ نے کہا: ان دو پودوں کی طرف جاؤاور ان دونوں سے ایک ایک ٹہنی کاٹ لو۔ پھر انھیں لے کر آؤ اور جب میرے اس کھڑے ہونے کی جگہ پہنچو تو ایک ٹہنی دائیں طرف اور ایک بائیں طرف پھینک دینا۔ جابر کہتے ہیں: میں کھڑا ہوا ۔ ایک پتھر لیا۔ اسے توڑا اور رگڑاکہ وہ میرے کاٹنے کے لیے تیز ہو گیا۔ اب میں ان پودوں کے پاس آیا۔ میں نے ان دونوں سے ایک ایک ٹہنی کاٹ لی۔ پھر میں انھیں گھسیٹتا ہوا لایا۔ جب میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی جگہ پہنچا تو میں نے ایک ٹہنی اپنی دائیں طرف اور ایک بائیں طرف ڈال دی۔ پھر میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور آپ سے کہا: میں نے یا رسول اللہ (حسب ارشاد ) کر دیا ہے، لیکن (میں سمجھا نہیں آپ نے ) ایسا کیوں (کہا)۔ آپ نے بتایا: میں دو ایسی قبروں سے گزراجنھیں عذاب دیا جا رہا تھا۔میں نے چاہا کہ میری سفارش سے اس وقت تک کے لیے ان کے عذاب میں تخفیف رہے جب تک یہ ٹہنیاں ہری رہیں۔‘‘

اگریہ دونوں روایتیں اصل میں ایک ہی روایت کے دو متن ہیں تو بات پوری طرح واضح ہے۔ نہ سبز ٹہنیوں کا عذاب کی تخفیف سے کوئی تعلق ہے اور نہ ایصال ثواب کے تصور سے یہ روایت کوئی مناسبت رکھتی ہے۔نبی صلی اللہ علیہ وسلم خدا کے پیغمبر ہیں۔ آپ نے اللہ تعالیٰ کے بتانے پر یہ بات جانی کہ صاحبان قبر عذاب میں مبتلا ہیں۔ پھرآپ نے ان کے لیے عذاب کی تخفیف کی دعا کی۔ یہ دعا محدود وقت کے لیے مستجاب ہوئی۔ اس وقت کا تعین ٹہنیوں کے سبز رہنے سے کیا گیا تھا۔ 
یہ بھی ممکن ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا دو یا زیادہ مواقع پر کیا ہو، لیکن ان واقعات کو حضرت جابر کی اس روایت ہی کی روشنی میں حل کیا جائے گا، اگر ایسا نہ کیا جائے تویہ روایات لاینحل ہیں اور قرآن مجید میں بیان کیے گئے، اصول اجر کے صریحاً منافی ہیں۔



۳۲؂ اس روایت کے دوسرے متون کے لیے دیکھیے: بخاری، رقم۲۱۵، ۱۲۹۵، ۱۳۱۲، ۵۷۰۵، ۵۷۰۸؛ مسلم، رقم۲۹۲؛ ابوداؤد، رقم۲۱؛ نسائی، رقم۳۱، ۲۰۶۸، ۲۰۶۹؛ مسند احمد، رقم۱۹۸۰۔۱۹۸۱، ۲۰۴۲۷، ۲۲۳۴۶؛ ابن حبان، رقم۳۱۲۸، ۳۱۲۹؛ بیہقی، رقم۵۱۰، ۳۹۴۲، ۳۹۴۳؛ ابویعلیٰ، رقم۲۰۵۰، ۲۰۵۵؛ السنن الکبریٰ، رقم۲۷، ۲۱۹۵، ۲۱۹۶، ۱۱۶۱۳؛ ابن خزیمہ، رقم ۵۵، ۵۶؛ دارمی، رقم۷۳۹؛ عبدالرزاق،رقم ۶۷۵۳، ۶۷۵۴؛ ابن ابی شیبہ، رقم۱۲۰۴۲۔ ۱۲۰۴۶۔ 
۳۳؂ اس روایت کے دوسرے متون کے لیے دیکھیے: احمد، رقم ۱۷۵۹۵، ۱۷۵۹۶؛ ابن ابی شیبہ، رقم۱۲۰۴۴۔