چھبیس واں باب 

پاکستان کے اکثر لوگوں کے خیال کے مطابق ہر جگہ امتِ مسلمہ اور پاکستان کے خلاف سازشیں ہورہی ہیں۔ عام لوگوں کا یہ بھی خیال ہے کہ ہمارے ہاں یہاں آنے والی ہر تبدیلی اور ہر واقعہ کسی نہ کسی بین الاقوامی سازش کا نتیجہ ہے۔ ویسے تو سازش تھیوری (Conspiracy theory)کی یہ سوچ ساری دنیا میں کسی نہ کسی درجے میں موجود ہے۔ تاہم پاکستان میں یہ سب سے زیادہ ہے۔ امتِ مسلمہ کے دوسرے ممالک میں بھی یہ سوچ موجود ہے۔ جب کہ باقی دنیا میں یہ سوچ نسبتاً بہت کم ہے۔ گفتگو اور بحث کے دوران میں یہ سازش تھیوری عجیب وغریب رُخ اختیار کرتی ہے۔ مثلاً بہت سے لوگوں کے نزدیک پچھلے تیس چالیس برس سے پاکستان کے اندر جتنی بھی تبدیلیاں اور انقلابات آئے ہیں، ان سب کے پیچھے امریکہ کا ہاتھ ہے۔ مثلاً امریکہ ہی عوامی لیگ اور پیپلز پارٹی کو برسراقتدار لایا تھا تاکہ اس ملک میں اسلامی قوتوں کو توڑا جاسکے۔ بھٹو کو امریکہ نے ہی ہٹایا تھا اور ضیاء الحق کو بھی امریکہ ہی لایا تھا۔ اس کے بعد ضیاء الحق کو امریکہ ہی نے مارا، اور پھر نوازشریف اور بے نظیر بھٹو کو امریکہ ہی وقتاً فوقتاً اقتدار میں لایا۔ پرویز مشرف کو بھی امریکہ ہی اقتدار میں لایا۔ حتیٰ کہ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ آزاد کشمیر میں آنے والا زلزلہ بھی دراصل امریکہ کے ایک زیرزمین ایٹمی دھماکہ کی وجہ سے تھا۔ 
سازش تھیوری کی اس گفتگو میں مزید دلچسپی اور گرما گرمی اُس وقت پیدا ہوجاتی ہے جب دومختلف پارٹیوں کے لوگ مل بیٹھ کر ایک دوسرے سے بحث کرتے ہیں۔ اس بحث میں ہر فرد مخالف پارٹی کے لیڈر کو امریکہ اور آئی ایس آئی کا ایجنٹ قرار دینے پر تلا بیٹھا ہوتا ہے۔ مثلاً ایسی ہی کسی بحث کے دوران میں نواز لیگ کے کارکن کا استدلال یہ ہوگا کہ امریکہ نوازشریف کو ایٹم بم کی سزا دینا چاہتا تھا، اس لیے اُس نے قاضی حسین احمد کے ذریعے نوازشریف کے خلاف تحریک چلائی تاکہ پرویز مشرف کو اقتدار میں لایا جاسکے۔ اس کے بالکل برعکس دوسرے فرد کا موقف یہ ہوگا کہ نوازشریف کو دونوں مرتبہ امریکہ ہی اقتدار میں لایا تھا۔ غرض یہ کہ اسی طرح یہ بحث چلتی رہتی ہے۔ پاکستان کے بہت سے لوگوں کے خیال میں نائن الیون کی کاروائی بھی امریکی حکومت نے خود کی ہے، تاکہ بن لادن پر اُس کا الزام لگاکر افغانستان میں فوجی مداخلت کرسکے۔ 
یہ تھیوریاں دراصل جذباتی ذہن کی پیدوار ہوتی ہیں۔ جب کسی انسان یا گروہ کے پاس حالات کو بدلنے کی طاقت نہ ہو، لیکن اس کے ساتھ ساتھ وہ جلد ازجلد کوئی نتیجہ دیکھنے کے لیے بے تاب ہو تو اپنے ذہن کو مطمئن کرنے کے لیے وہ سازش تھیوری کا سہارا لیتا ہے۔ اس طرح وہ اپنے ذہن کو سمجھا لیتا ہے کہ چونکہ ہمارا مقابلہ کچھ انتہائی خفیہ طاقتوں کے ساتھ ہے، اس لیے ہم کامیاب نہیں ہورہے۔ چونکہ یہ جذباتیت ہمارے ہاں بہت زیادہ ہے، اس لیے یہاں ہر فرد سازش تھیوری ہی کی زبان میں بات کرتا نظر آتا ہے۔ 
سازشوں کی تھیوریاں اُس ذہن میں پروان چڑھتی ہیں جو سطحی ہو اور جس کا یہ خیال ہو کہ اُس کے اپنے اندر کوئی بڑی خامیاں موجود نہیں ہے۔ یہ تھیوریاں انسان کو اس کی اپنی خامیاں کی طرف متوجہ ہونے سے غافل کردیتی ہیں۔ پھر اُس کا دھیان اپنی کمزوریوں کا تجزیہ کرنے اور اُس کے مداوا کرنے کی طرف نہیں جاتا، بلکہ وہ ہر وقت سازشوں کا تانا بانا بُننے اور اُس پر سوچ بچار میں اپنے آپ کو مصروف رکھتا ہے۔ 
سازش تھیوریوں کو بیان کرنے اور اُن پر سوچ بچار کرنے میں ایک بڑی لذت بھی ہے۔ کیونکہ یہ تھیوریاں ایک سنسنی خیز ڈرامے سے بہت مشابہت رکھتی ہیں۔ ان کے ذریعے انسان کی قوتِ پرواز فوراً وائٹ ہاؤس، ڈاؤننگ سڑیٹ اور خاد، موساد اور را کے مراکز تک چلی جاتی ہے۔ انسان سمجھتا ہے کہ اُس کے عالمِ خیال کی رسائی بُش کے ذاتی کمرے تک رہے۔ ایسی سوچ بڑی رنگین، لذیز اور نشہ آور ہوتی ہے۔ اس سوچ کی لذت ہیروئن کی نشے جیسی ہوتی ہے۔ جب انسان اس میں مبتلا ہوجاتا ہے تو پھر وہ انہی تصورات میں اپنے آپ کو گم کردیتا ہے۔ 
سازش تھیوری دراصل حقائق سے فرار اور شکوک وشبہات کے خیالات (Paranoid thinking)کی دنیا میں زندہ رہنے کا نام ہے۔ جب انسان اس سوچ کا رسیا بن جائے تو پھر وہ اپنے آپ کے علاوہ ہر دوسرے فرد کو شک وشبہے کی نظر سے دیکھتا ہے۔ اُس کے خیال میں دوسرا فرد کسی بین الاقوامی سازش کا آلہ کار ہوتا ہے۔ وہ ہر کسی کو کسی خفیہ طاقت کا کارندہ اور ایجنٹ سمجھنے لگتا ہے۔ اس کا نتیجہ ذہنی انتشار اور غلط تجزئے کی صورت میں نکلتا ہے۔ 
اصل حقیقت یہ ہے کہ اس دنیا میں طاقتور ملک نوے فیصد کام علی الاعلان کرتے ہیں۔ یقیناًوہ سازشیں بھی کرتے ہیں۔ لیکن اُن سازشوں کے پیچھے بھی اصل اہمیت اُن کی طاقت ہوتی ہے۔ ان سازشوں کا حصہ پانچ دس فیصد سے زیادہ زیادہ نہیں ہوتا، اور ان کی کامیابی کا اصل وجہ سازش کی قوت نہیں ہوتی بلکہ سازش کرنے والے کی اپنی قوت ہوتی ہے۔ اگرامریکہ، مغرب اور اسرائیل کے پاس علم، سائنس اور ٹیکنالوجی کی قوت نہ ہوتو ان کی سازش کامیاب نہیں ہوسکتی۔ چنانچہ اصل اہمیت اس بات کی نہیں کہ ہم ان کی سازشوں پر سوچ بچار کریں اور مُعمّوں کی طرح اُن کو حل کرنے بیٹھ جائیں۔ اس کا اصل حل یہ ہے کہ ہم جمہوریت، انصاف اور ٹیکنالوجی کی منزل تک پہنچنے میں اپنا خون پسینہ ایک کردیں۔ جب ایک دفعہ ہم ان تینوں میدانوں میں کسی نہ کسی درجے میں معیارِ مطلوب کو حاصل کرلیں گے، اور جب ہم مقابل طاقتوں کے مقابلے میں کچھ نہ کچھ قوت حاصل کرلیں گے تو ان کی تمام سازشیں دھری کی دھری رہ جائیں گی۔ 
غیر ترقی یافتہ دنیا، بشمول اُمتِ مسلمہ وپاکستان کے اندر تبدیلیاں اکثر اوقات اپنی اندرونی حرکیات(Dyanamics)اور تضادات کی وجہ سے آتی ہیں۔ کوئی خفیہ سازش ان تبدلیوں کی وجہ نہیں بنتی۔ البتہ جب یہ تبدیلیاں وقوع پذیر ہوچکتی ہیں، تب مغرب انہیں اپنے فائدے کے لیے استعمال کرنے والا پلان مرتب کرلیتا ہے۔ اور اُن کا پلان ہماری کمزوریوں کی وجہ سے کامیاب ہوجاتا ہے۔ 
جمہوریت، انصاف اور ٹیکنالوجی کی سمت میں پیش قدمی کا راستہ دشوار گزار بھی ہے اور صبرآزما بھی ہے۔ چونکہ ہم لوگ ہمیشہ شارٹ کٹ کی تلاش میں ہوتے ہیں، اس لیے اس صبرآزما راستے پر چلنے کے بجائے سازش تھیوریوں کی آبیاری کرکے اپنے آپ کو مطمئن کرتے ہیں اور اپنے قوتِ عمل کو یہ کہہ کر سُلا دیتے ہیں کہ ہمارے اندر تو کوئی خامی نہیں ہے، اگر اغیار ہمارے خلاف سازشیں نہ کرتے تو آج ہم دنیا کی سپر پاور ہوتے۔ چنانچہ سوچ کی ہیروئن کی یہ ڈوز(Dose)پی کر ہم ایک دفعہ پھر اصل تجزیہ بھول جاتے ہیں اور اس لذت آفریں نشے کے تحت جذباتی سیاسی نعرے لگانے لگتے ہیں۔