تیس واں باب 

سانحہ مشرقی پاکستان اور سانحہ لال مسجد دوایسے اجتماعی واقعات ہیں جن پر اس راقم کی آنکھوں سے بے ساختہ آنسوبہے۔ اگرچہ اجتماعی زندگی میں کئی سخت واقعات پیش آئے لیکن ان دونوں واقعات کے صدمے کا رنگ ہی کچھ اور تھا۔
ابوالکلام آزاد نے لکھا ہے کہ پاکستان پنڈت نہرو کے ضد کی وجہ سے بنا، ورنہ قائداعظم تو کیبنٹ مشن پلان کو ماننے پر آمادہ ہوگئے تھے۔ تاہم اس بات سے قطع نظر کہ 1947ء میں مسلمانانِ ہند کے حقوق کی تحفظ کے لیے کونسا فارمولا سب سے بہتر تھا، یہ ایک حقیقت ہے کہ پاکستان کے قائم ہونے کے ساتھ ہی مشرقی پاکستان کی علیحدگی کا بیج بودیا گیا۔ یہ اعلان کہ صرف کراچی ہی ملک کا دارالحکومت ہوگا اور اُردو اس ملک کی واحد قومی زبان ہوگی، مشرقی پاکستان کے عوام کی احساسِ محرومی کی طرف پہلا قدم تھا۔ مشرقی پاکستان کے اندر جاگیردارانہ نظام موجود نہیں تھا اس لیے وہاں ووٹ بہت حد تک آزاد تھا، اور جمہوریت اور صوبائی خودمختاری کے لیے مغربی پاکستان کی نسبت مشرق پاکستان میں کہیں زیادہ جدوجہد ہوئی۔ قیامِ پاکستان کے بعد سیاسی محلاتی سازشوں کا جو دور شروع ہوا، اُس میں بہت بڑی اکثریت مغربی پاکستان سے تعلق رکھنے والے سیاستدانوں کی تھی۔ مشرق پاکستان کے حصے میں چوہدری فضل حق، خواجہ ناظم الدین اور حسین شہید سہروردی جیسے بااصول سیاست دان آئے اور مغربی پاکستان کی حصے میں غلام محمد، سکندر حیات اور سکندر مرزا جیسے سیاست دان آئے۔ ایوب خان کے مارشل لاء سے مشرقی پاکستان کے باشندوں کا یہ یقین پختہ ہوگیا کہ وہ درحقیقت مغربی پاکستان کے غلام ہیں۔ اس لیے کہ نناوے فیصد فوج مغربی پاکستان پر مشتمل تھی اور سارے جرنیلوں کا تعلق مغربی پاکستان سے تھا۔ مشرقی پاکستانیوں کے اس الزام میں بھی بہت صداقت موجود تھی کہ وسائل کا رُخ مغربی پاکستان کی طرف ہے۔ ظاہر ہے کہ بجٹ کا ساٹھ فیصد تو ویسے ہی فوج کی صورت میں مغربی پاکستان کے اندر خرچ ہوجاتا تھا۔ یہی حال باقی بجٹ کا تھا۔ رہی سہی کسر1965ء کی جنگ نے پوری کردی، جب مشرقی پاکستان کے دفاع کے لیے سرے سے ہی کوئی فوج نہیں تھی۔ درحقیقت مشرقی پاکستانیوں کی بہت بڑی اکثریت ذہنی اعتبار سے 1965ء سے ہی مغربی پاکستان سے علیحدگی کا فیصلہ کرچکی تھی۔ 
یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ اس وقت مغربی پاکستانیوں کے نزدیک بنگالی دوسرے درجے کے شہری تھے۔اُن کے گلوں شکوؤں کا مداوا کرنے کی کوئی کوشش نہیں کی گئی۔ ایوب خان کے دور میں ملک میں وحدانی طرز حکومت قائم تھی، جس میں صوبائی خودمختاری کا کوئی حصہ نہیں تھا۔ اپوزیشن کی وہ پارٹیاں جن کی جڑیں مغربی پاکستان میں تھیں، انہوں نے بھی بنگالی عوام کے دکھ درد کو سمجھنے کی کوئی کوشش نہیں کی۔ ان میں مغربی پاکستان کی مذہبی سیاسی جماعتیں بھی شامل تھی۔ 
اُس وقت مغربی پاکستان میں یہ پروپیگنڈہ عام تھا کہ یہ احساسِ محرومی حقیقت پر مبنی نہیں ہے، بلکہ دراصل مشرقی پاکستان کے اندر آباد ہندو، خصوصاً اساتذہ، اس ساری تحریک کے پیچھے ہیں۔ یہ پروپیگنڈہ صحیح نہیں تھا۔ ہندو اساتذہ نے اس احساسِ محرومی کو بڑھانے کے لیے ضرور اپنا کردار اداکیا ہوگا، لیکن احساسِ محرومی کی اصل بنیادیں تو موجود تھیں۔ عوامی لیگ کے لیڈر سب کے سب مسلمان تھے، اور یہ سب متوسط طبقے سے تعلق رکھتے تھے۔ انہی حالات میں عوامی لیگ کے صدر شیخ مجیب الرحمان نے اپنے چھ نکات پیش کیے۔ اگر ان چھ نکات کو مان لیا جاتا تو پاکستان برقرار رہتا، تاہم دونوں حصوں کی پوزیشن کنفیڈریشن(Confederation) کی ہوجاتی۔ ان چھ نکات کو مغربی پاکستان میں غداری کے مترادف قرار دیا گیا اور لوگوں کو یہ باور کرایا گیا کہ شیخ مجیب الرحمان غدار ہے۔ 
1970ء کے انتخاب میں عوامی لیگ نے مشرقی پاکستان میں چورانوے فیصد(94%)ووٹ حاصل کیے، سوائے ایک نشست کے باقی سب نشستوں پر عوامی لیگ کے نمائندے کامیاب ہوئے اور پاکستان کی پارلیمنٹ میں عوامی لیگ کو مطلق اکثریت حاصل ہوگئی۔ جمہوریت کا تقاضا یہ تھا کہ عوامی لیگ کے مینڈیٹ کو مان لیا جاتا، تاہم ایسا نہیں کیا گیا۔ اُس وقت شیخ مجیب الرحمان نے یہ پیش کش کی کہ اگر مغربی پاکستان سے تعلق رکھنے والے صوبے اپنے لیے ان چھ نکات کے علاوہ کسی دوسرے فارمولے پر متفق ہوجاتے ہیں تو انہیں کوئی اعتراض نہ ہوگا۔البتہ مشرقی پاکستان کے بارے میں انہی چھ نکات پر عمل درآمد ہوگا۔ اُن کی اس بات کو نہیں مانا گیا، 25مارچ1971ء کو مشرقی پاکستان میں فوجی کاروائی شروع کردی گئی، شیخ مجیب الرحمان کو گرفتار کردیا گیا اور مغربی پاکستان میں بھٹو نے کہا کہ خدا کا شکر ہے کہ پاکستان بچ گیا۔ 
یحیےٰ خان کی عمومی شہرت ایک بدکار اور شرابی شخص کی تھی۔ اُس کے قریبی جرنیلوں کی بھی یہی شہرت تھی۔ سوائے عبدالولی خان کی نیشنل عوامی پارٹی کے، مغربی پاکستان سے تعلق رکھنے والے سبھی سیاسی پارٹیوں نے اس فوجی ایکشن کا خیر مقدم کیا۔ ان میں پیپلز پارٹی، جماعت اسلامی اور مسلم لیگ شامل تھی۔ چند مہینے بعد مشرقی پاکستان میں نئے انتخابات کا ڈھونگ رچایا گیا۔ سب پارٹیوں کو اکٹھے بٹھایا گیا اور اُن کے درمیان نشستوں کی بندربانٹ کی گئی۔ چنانچہ سب کے سب بلا مقابلہ ’’منتخب‘‘ ہوگئے۔ ان نام نہاد نشستوں میں سب سے زیادہ حصہ جماعت اسلامی کو ملا، اور باقی سب پارٹیوں کو بھی حصہ دیا گیا۔ 
اِدھر یہ بندربانٹ جاری تھی اور دوسری طرف پاکستانی فوج بنگالیوں کو فتح کرکے تہہ تیغ کرہی تھی۔ محتاط اندازوں کے مطابق مارچ1971ء سے لے کر دسمبر1971ء میں بنگلہ دیش کے قیام تک بارہ لاکھ بنگالیوں کو موت کے گھاٹ اتار جاچکا تھا۔اسی دوسری طرف سے بہاریوں اور مغربی پاکستان سے تعلق رکھنے والے لوگوں کو ماردیا گیا۔ تیسری طرف یہ ہوا کہ عوامی لیگ سے تعلق رکھنے والے اکثر ارکان پارلیمنٹ بھارت میں پناہ گزین ہوگئے اور تقریباً پچیس لاکھ افراد سرحد پارکر بھارت میں مہاجر کیمپوں میں رہنے لگے۔ 
یہ وہ وقت تھا جب ساری دنیا بیک وقت زبان پوری طرح بنگالیوں کے حق میں تھی۔ وہاں کے قتلِ عام کی داستان روزانہ بھارتی اور مغربی میڈیا میں شائع ہورہی تھی اور ساری دنیا یہ کہہ رہی تھی کہ بنگالیوں کو ان کا حق دیا جائے۔ تاہم اس موقع پر جنرل یحیےٰ خان اور مغربی پاکستان میں جڑیں رکھنے والی سیاسی پارٹیوں کے کانوں پر جوں تک نہ رینگی۔ انہوں نے سب حقائق سے پوری طرح آنکھیں بند کیے رکھیں اور سمجھا کہ فوجی ڈنڈا ہی سب مسائل کا حل ہے۔ 
اس موقع پر بھارت نے ایک پلان بنایا، اور حقیقت یہ ہے کہ غضب کا پلان بنایا۔ سب سے پہلے کلکتہ میں مشرقی پاکستان سے تعلق رکھنے والے ارکانِ پارلیمنٹ پر مشتمل ایک عبوری جلاوطن حکومت قائم کی گئی اور تاج الدین احمد کو اُس کا صدر منتخب کیا گیا۔ اس جلاوطن حکومت کو اندراگاندھی کی انتظامیہ نے تسلیم کرلیا۔ اس کے بعد ان دونوں حکومتوں کا آپس میں دوستی اور بنگال کو غاصبوں کے قبضے سے چھڑانے کا معاہدہ ہوا۔ اس معاہدے کے تحت مہاجر بنگالیوں پر مشتمل ایک فوج ’مکتی باہنی‘ کی تشکیل کی گئی اور انڈیا نے اس فوج کو تربیت دینے کی ذمہ داری لے لی۔ اس فوج میں سابقہ مشرقی پاکستان رجمنٹ سے تعلق رکھنے والے فوجی بھی شامل تھے، جن کی اکثریت سرحد پار کرگئی تھی۔ اس کے ساتھ انڈیا نے روس سے ایک دفاعی معاہدہ کرلیا جس کی رو سے روس نے اعلان کیا کہ بھارت پر کسی بھی طرف سے ہونے والے حملے کی صورت میں وہ بھارت کے مدد کے لیے آئے گا۔ گویا پورا سٹیج سیٹ ہوگیا۔ جب ساری تیاری مکمل ہوگئی تو نومبر کے مہینے میں مشرقی پاکستان پر فوج کشی شروع کردی گئیں۔ چونکہ ساری آبادی عوامی لیگ کی حامی تھی اس لیے ہر جگہ مکتی باہنی اور بھارتی فوج کا بھر پور استقبال ہوا۔ پاکستانی فوج نے کہیں بھی کوئی قابل ذکر مزاحمت نہیں دکھائی۔ دراصل وہ کوئی مزاحمت کرہی نہیں سکتی تھی۔ یہ فوج سو فیصد مغربی پاکستانیوں پر مشتمل تھی اور مقامی آبادی اس کو دشمن، غاصب اور ظالم سمجھتی تھی۔ یہی وجہ ہے کہ اس ایک مہینے کی نام نہاد جنگ میں پاکستانی فوج کا جانی نقصان بہت کم ہوا اور تریانوے ہزار(93000)پر مشتمل فوج بھارت کی قیدی بن گئی۔ یوں 17دسمبر1971ء کو بنگلہ دیش کا قیام عمل میں آگیا۔
عام طور پر یہ کہا جاتا ہے کہ اس سانحے کی ذمہ داری جنرل یحیےٰ، بھٹو اور شیخ مجیب پر عائد ہوتی ہے یہ بات صرف ایک حد تک ہی صحیح ہے۔ مثلاً اگر جنرل یحیےٰ پارلیمنٹ کا اجلاس بلاکر عوامی لیگ کے چھ نکات کے مطابق آئین بننے دیتا تو لاکھوں افراد کے قتل عام اور اتنی بدترین شکست سے بچا جاسکتا تھا۔ یا اگر بھٹو یہ اعلان کرتا کہ وہ مشرقی پاکستان کی حد تک چھ نکات ماننے کے لیے تیار ہے اور مغربی پاکستان کے صوبے اپنے لیے اتفاق رائے سے صوبائی خودمختاری کا فارمولا طے کرلیں گے، تو اس صورت میں بھی حالات قابو میں رہتے۔ باقی رہے شیخ مجیب الرحمان تو وہ سرے سے ہی اس سانحے کے ذمہ دار نہیں تھے، اس لیے کہ اُن کا تو ایک موقف تھا جس کے پیچھے عوام کی طاقت موجود تھی۔ اور وہ تو یہی چاہتے تھے کہ مشرقی پاکستان کو اُس کے سارے حقوق مل جائیں، اور نہ ملنے کی صورت میں وہ پاکستان سے علیحدہ ہوجائے۔ 
اس راقم کے نزدیک مشرقی پاکستان کی علیحدگی کی ذمہ داری مغربی پاکستان کی تقریباً سب سیاسی اور مذہبی جماعتوں،سب پاکستانی حکومتوں اور خصوصاً فوجی آمریتوں پر عائد ہوتی ہے۔ سوائے نیپ کے، مغربی پاکستان سے تعلق رکھنے والے سیاسی اور مذہبی پارٹیوں نے صوبائی خودمختاری کے مطالبے کو غداری قرار دیا۔ ان پچیس برسوں میں مشرقی پاکستان کے عوام کے دکھ درد کو کسی نے سمجھنے کی کوشش نہیں کی۔ یہ ایک دلخراش حقیقت ہے کہ جن پارٹیوں نے 1971ء میں مشرقی پاکستان میں البدر اور الشمس بنائی تھی اور یحیےٰ خان کے آئینی خاکے کو عین اسلامی قرار دیا تھا، وہ جماعتیں اب 2007ء میں اس بچے کھچے پاکستان کے اندر صوبائی خودمختاری کی بات کررہی ہیں اور ان کے کچھ لیڈر بالکل وہی زبان بول رہے ہیں جو 1968ء میں شیخ مجیب الرحمان بولا کرتے تھے۔ لیکن ان جماعتوں نے اپنے سابقہ طرزعمل کا بے لاگ تجزیہ کبھی نہیں کیا اور یہ اعتراف نہیں کیا کہ اُن کے ماضی کے بہت سے اقدامات غیر اصولی اور غیرحکیمانہ تھے۔ 
سانحہ مشرقی پاکستان سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ کثیرللسانی اور کثیر التہذیبی ملک کے اندر صوبائی خودمختاری کا سوال اُس کے لیے زندگی اور موت کی حیثیت رکھتا ہے۔ دوسرا سبق ہمیں یہ ملتا ہے کہ ملک کو صرف جمہوریت اور افہام وتفہیم پر مبنی مکالمے کے ذریعے قائم رکھا جاسکتا ہے۔ جب کہ فوجی آمریتیں علیحدگی کے جذبات کو پروان چڑھاتی ہیں۔