آیندہ سطور میں ہم ان روایات کا مطالعہ کریں گے جن میں مرنے والے کی طرف سے روزے رکھنے کا معاملہ زیر بحث آیا ہے۔مسلم میں ہے:۱۷؂

عن ابن عباس رضی اﷲ عنہما ان امرأۃ أتت رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم. فقالت: ان امی ماتت وعلیہا صوم شہر. فقال: أرأیت لو کان علیہا دین أکنت تقضینہ؟ قالت: نعم.قال: فدین اﷲ احق بالقضاء.(رقم ۱۱۴۸) 
’’حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ ایک عورت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی اور اس نے پوچھا: میری والدہ فوت ہو گئی ہیں اور ان کے ذمہ ایک ماہ کے روزے تھے۔ آپ نے کہا: تمھارا کیا خیال ہے کہ اگر اس پر قرض ہوتا تو کیا تو اسے ادا کرتی؟ اس نے کہا: ہاں، آپ نے کہا: اللہ کا قرض زیادہ حق رکھتا ہے کہ اسے ادا کیا جائے۔‘‘

اس روایت میں یہ تصریح نہیں ہے کہ یہ روزے کس نوعیت کے تھے۔ اس روایت کے ایک متن سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ نذر کے روزے تھے اور دوسرے متن سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ رمضان کے روزے تھے۔ اس طرح اس روایت میں سائل ایک عورت ہے ۔ اس روایت کے دوسرے متون سے معلوم ہوتاہے کہ سائل مرد تھا۔ اس روایت میں ایک مہینے کے روزے بتائے گئے ہیں ۔ بعض متون کے مطابق روزے پندرہ تھے۔
اس موضوع سے متعلق دوسری روایت میں اس روایت سے نکلنے والے اصول کو اصولی انداز میں بیان کیا گیا ہے۔ مسلم ہی میں ہے: ۱۸؂

عن عائشۃ رضی اﷲ عنہا أن رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم قال: من مات وعلیہ صیام، صام عنہ ولیہ.(رقم۱۱۴۷)
’’حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو اس طرح مرے کہ اس پر روزے ہوں تو اس کا ولی اس کی طرف سے روزے رکھے۔‘‘ 

اس سلسلے میں صحابہ کے فتاویٰ سے معلوم ہوتا ہے کہ صحابہ نذر کے روزوں میں روزے پورے کرنے کا اور قضا کے روزوں میں فدیہ دینے کا مشورہ دیتے تھے۔۱۹؂
مسلم میں ایک اور روایت بھی ہے جس میں آپ نے ایک عورت کو اپنی ماں پر عائد روزوں کی تکمیل کی ہدایت فرمائی:۲۰؂

عن بریدۃ رضی اﷲ عنہ قال: بینا أنا جالس عند رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم إذأتتہ امرأۃ. فقالت: إنی تصدقت علی أمی جاریۃ، وإنہا ماتت. قال:فقال: وجب علیک أجرک وردہا علیک المیراث. قالت: یا رسول اﷲ، إنہ کان علیہا صوم شہر أفأ صوم عنہا؟ قال: صومی عنہا. قالت: إنہا لم تحج قط. أفأحج عنہا؟ قال: حجی عنہا.(مسلم، رقم۱۱۴۹)
’’حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھا ہوا تھا کہ ایک عورت آپ کے پاس آئی۔ اس نے بتایا: میں نے ایک لونڈی ماں کو دی ہوئی تھی۔ میری ماں فوت ہو گئی ہیں۔ بریدہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ نے کہا: تمھیں تمھارا اجر مل گیا، اسے میراث میں لے لو۔ کہنے لگی: یا رسول اللہ، میری ماں پر ایک ماہ کے روزے بھی تھے۔ کیا ان کی طرف سے روزے رکھ لوں؟ آپ نے فرمایا: اس کی طرف سے روزے رکھ لو۔ اس نے کہا: میری ماں نے کبھی حج نہیں کیا۔ کیا میں اس کی طرف سے حج کر لوں۔ آپ نے فرمایا: اس کی طرف سے حج کرلو۔‘‘

اس روایت میں حج کا ذکر بھی ہے۔ اسے ہم الگ سے موضوع بنائیں گے۔ روزوں کے ضمن میں، اس میں بھی وہی بات بیان ہوئی ہے جو اوپر والی روایات میں بیان ہوئی ہے اور وہ یہ کہ اگر مرنے والے پر کوئی روزے تھے تو اس کے ولی کو وہ روزے مکمل کر دینے چاہییں۔
اسی مضمون کی حامل ایک اور روایت بھی کتب حدیث میں نقل ہوئی ہے۔ ابوداؤد میں ہے:۲۱؂

عن ابن عباس أن امرأۃ رکبت البحر فنذرت إن نجاھا اللّٰہ أن تصوم شہرا. فلم تصم حتی ماتت. فجاء ت ابنتہا أو أختہا الی رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم. فأمرہا أن تصوم عنہا.(رقم۳۳۰۸) 
’’حضرت ابن عباس (رضی اللہ عنہما) بیان کرتے ہیں کہ ایک عورت نے سمندر کا سفر کیا ۔ اس نے نذر مانی کہ اگر اللہ نے اسے نجات دی تو وہ ایک ماہ کے روزے رکھے گی۔اس نے روزے نہیں رکھے کہ وہ وفات پا گئی۔ اس کی بیٹی یا بہن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی۔ آپ نے اس سے کہا: اس کی طرف سے روزے رکھو۔‘‘ 

اس روایت کے بعض متون میں روزوں کی تعداد دوماہ بیان کی گئی ہے۔ اگر چہ اس واقعے کو الگ حیثیت سے نقل کیا گیا ہے، لیکن ممکن ہے، یہ روایت اور اس سے پہلے نقل کی گئی ابن عباس رضی اللہ عنہ کی روایت ایک ہی واقعہ کے مختلف بیانات ہوں۔ 
ان روایات سے، جیسا کہ ہم نے اوپر واضح کیا ہے، یہ حقیقت سامنے آتی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مرنے والے کی طرف سے روزے رکھنے کی اجازت دی ہے۔ یہ روزے نذر کے بھی ہو سکتے ہیں اور قضا کے بھی۔ اس اعتبار سے یہ روایات اسی اصول پر مبنی ہیں کہ مرنے والے کے لیے وہی عمل نافع ہے جس میں خود اس کی سعی وارادہ موجود ہو۔ یہ روایات بھی ایصال ثواب کے تصور کی تصویب نہیں کرتیں،اس لیے کہ ایصال ثواب کے لیے کیے جانے والے اعمال، کرنے والوں کے اپنے ارادے اور سعی کا مظہر ہوتے ہیں۔ ان کا مرنے والے کی سعی وخواہش سے متعلق ہونا ضروری نہیں ہوتا۔



 



۱۷؂ اس روایت کے دوسرے متون کے لیے دیکھیے: بخاری، رقم۱۸۵۲؛ ابوداؤد، رقم ۳۳۱۰؛ابن ماجہ، رقم۱۷۵۹؛مسند احمد، رقم۳۴۲۰؛ بیہقی، رقم ۸۰۱۲۔ ۸۰۱۶، ۸۰۱۹؛ السنن الکبریٰ، رقم ۲۹۱۲ ۔ ۲۹۱۷؛ ابن خزیمہ، رقم۲۰۵۳؛ابن حبان، رقم۴۳۹۶؛ ابن ابی شیبہ، رقم ۳۶۱۲۱۔ 
۱۸؂ اس روایت کے دوسرے متون کے لیے دیکھیے: بخاری، رقم۱۸۵۱؛ ابوداؤد، رقم۲۴۰۰، ۳۳۱۱؛ ابن ماجہ، رقم۲۱۳۳؛ مسند احمد، رقم ۲۴۴۴۷؛ ابن حبان، رقم۳۵۶۹؛ بیہقی، رقم۸۰۱۰، ۸۰۱۱، ۱۲۴۲۴؛ابویعلیٰ، رقم۴۴۱۷، ۴۷۶۱؛ السنن الکبریٰ، رقم۲۹۱۹؛ ابن خزیمہ، رقم ۲۰۵۲۔
۱۹؂ اس روایت کے دوسرے متون کے لیے دیکھیے: ترمذی، رقم۷۱۸؛ ابوداؤد، رقم ۲۴۰۱؛ ابن خزیمہ، رقم ۲۰۵۶، ۲۰۵۷؛ ابن ماجہ، رقم ۱۷۵۷۔
۲۰؂ اس روایت کے دوسرے متون کے لیے دیکھیے: ابوداؤد، رقم۱۶۵۶، ۲۸۷۷، ۳۳۰۹؛ ترمذی، رقم ۶۶۷؛ مسند احمد، رقم۲۳۰۰۶، ۲۳۰۸۲؛ بیہقی، رقم۷۴۲۴، ۸۰۲۰، ۸۴۵۳، ۸۴۵۴؛ ابن ماجہ، رقم۲۳۹۴؛ السنن الکبریٰ، رقم۶۳۱۴۔ ۶۳۱۶؛ عبد الرزاق،رقم۱۶۵۸۷؛ ابن ابی شیبہ، رقم۲۰۹۹۹۔
۲۱؂ اس روایت کے دوسرے متون کے لیے دیکھیے: بیہقی،رقم ۸۰۱۴، ۸۰۱۵، ۸۰۱۸، ۱۲۴۲۵؛ ابوداؤد،رقم ۳۳۰۸؛ ترمذی، رقم۷۱۶؛ نسائی، رقم۳۸۱۶؛ ابن ماجہ، رقم۱۷۵۸؛ ابن حبان، رقم۳۵۳۰، ۳۵۷۰؛ السنن الکبریٰ، رقم۲۹۱۴؛ دارمی، رقم ۱۷۶۸، ۲۳۳۲؛ ابن خزیمہ، رقم۱۹۵۳، ۲۰۵۴، ۲۰۵۵؛ ابن ابی شیبہ، رقم۳۶۱۲۱۔

 

_____________________