اکیس واں باب 

انسان مادے اور روح دونوں کا مجموعہ ہے۔ مادی ضروریات کو ہر انسان جانتا اور پہچانتا ہے۔ لیکن روح کی ضرورت کیا ہے، روحانیت کیسے پروان چڑھتی ہے اور روحانی تسکین کیسے ملتی ہے، اس معاملے میں لوگ اکثر بے اعتدالی کا شکار ہوجاتے ہیں۔ لوگ روحانیت کو ترکِ دنیا کی صورت میں تلاش کرتے ہیں۔ کچھ لوگ سمجھتے ہیں کہ دنیوی لذتوں اور گوشہ تنہائی میں بیٹھ کر اللہ کو یاد کرنے سے روحانی تسکین ملتی ہے۔ اس مقصد کے لیے بعض لوگ چِلّے کاٹتے ہیں، بستر اٹھاتے ہیں اور گھر سے نکل پڑتے ہیں۔ کچھ لوگ مراقبے میں روحانیت کو تلاش کرتے ہیں اور بہت سے لوگ یوگا کی ورزشوں میں تسکین پانے کی کوشش کرتے ہیں۔ 
درحقیقت روحانی تسکین پانے کے لیے درج ذیل چیزوں میں سے کسی چیز کی ضرورت نہیں۔ روحانیت دو چیزوں کے مجموعے کا نام ہے، اللہ پر پختہ یقین واعتماد اور اللہ کو حاضر وناظر جان کر اعلیٰ اخلاقی اصولوں کے تحت مخلوقِ خدا سے معاملہ کرنا۔ جب ایک انسان اللہ پر پختہ یقین رکھتا ہے تو وہ خود بخود حقوق اللہ کی طرف متوجہ ہوتا ہے۔ تاہم پروردگار نے انسان کی ساخت ایسی رکھی ہے کہ اس ضمن میں اُس سے کوتاہی ہوہی جاتی ہے۔ اللہ کی صفتِ رحمت پر اعتماد اور اُس سے بے پروائی کا خوف انسان کو مسلسل سیدھے راستے پر رکھتا ہے۔ اس کا نام اللہ پر یقین واعتماد ہے۔ 
روحانیت کا دوسرا حصہ یہ ہے کہ انسان اسی دنیا کی زندگی میں مصروف رہے اور اللہ کو حاضرو ناظر جان کر ہر کسی کے حقوق کا خیال رکھے۔ ایک انسان پر سب سے بڑا حق اُس کی اپنی ذات کا ہے۔ اُسے اپنی تعلیم، اپنی صحت، اپنے رزقِ حلال اور اپنی تفریح کا خیال رکھنا ہے۔ اس کے بعد ہر انسان پر دوسرا بڑا حق اُس کی بیوی یا شوہر، اُس کے والدین اور اُس کے بچوں اور اُس کے بہن بھائیوں کا ہے۔ ان سب کے معاملے میں جب کوئی انسان اُن کے حقوق سے بھی بڑھ کر اُن کا خیال رکھے تو اسے دین نے ’’احسان‘‘کا نام دیا ہے۔ اس کے بعد ہر انسان پر اپنے باقی رشتہ داروں اور ہمسایوں کا حق ہے۔ اگر کوئی انسان مالدار ہے تو اُس پر اپنے گردوپیش کے غریبوں کا حق ہے۔ جب کوئی انسان ان سب حقوق کے معاملے میں چوکنا اور بیدار رہتا ہے اور وہ ان کو پورا کرنے کی ہر ممکن کوشش کرتا ہے تو یہ چیز اُس کے لیے روحانی تسکین بن جاتی ہے۔ اسی طرح جب انسان اپنے روزمرہ معاملات میں اللہ کو حاضروناظر مان کر دیانت داری اور اچھے رویے سے کام لیتا ہے تو اُسے روحانی اطمینان ملتا ہے۔ مثلاً جب ایک تاجر اپنی تجارت میں دیانت داری اور انصاف سے کام لیتا ہے، جب ایک ملازم اپنی ملازمت میں خوفِ خدا کے باعث دیانت دار رہتا ہے، جب ایک افسر اپنے ماتحتوں کے ساتھ خوش اخلاقی کا رویہ رکھتا ہے، جب ایک سیاسی لیڈر اپنی سیاست میں نفع اور نقصان سے قطعِ نظر انصاف کی بات کرتا ہے، جب ایک صاحبِ علم اور سائنس دان اپنی قوم اور انسانیت کے لیے علم وتحقیق کاکام کرتا ہے، جب ایک طالبِ علم اپنی ذات اور قوم وانسانیت کے لیے اپنی پڑھائی میں محنت کرتا ہے، جب ایک اُستاد اپنے طالب علموں کے ساتھ محنت کرتا ہے، جب ایک کاشت کار اپنے خاندان اور اپنی قوم کے لیے اپنی زمینوں میں محنت کرتا ہے، جب ایک حاکم اپنے معاملات میں دیانت دار رہتا ہے اور اپنی رعایا کو ہر ممکن سہولت بہم پہنچاتا ہے، غرض یہ کہ ہر وہ انسان جو کسی طریقے سے مخلوقِ خدا کو آرام اور آسانیاں بہم پہنچاتا ہے، وہ اللہ کی مخلوق کی خدمت کرتا ہے اور یہی خدمت انسان کو روحانی تسکین پہنچاتی ہے۔ 
غرض یہ کہ روحانی تسکین کا سب سے اچھا طریقہ یہ ہے کہ انسان پانچ وقت کی نماز پڑھے، اللہ کے بڑے بڑے احکام کو بجا لائے، کبیرہ گناہوں سے بچنے کی حتی الوسع کوشش کرے، اپنی صحت کا خیال رکھے، روزانہ خدمتِ خلق کا براہ راست کوئی کام کرے، اپنے سب رشتہ داروں اور ہمسایوں کا خیال رکھے، غریبوں کی مدد کرے، قانون کی پابندی کرے، خوش اخلاقی کا رویہ اپنائے اور اپنی معاش میں دیانت دار رہے۔ یہی روحانیت ہے اور ایسی زندگی گزارنے سے روحانی تسکین ملتی ہے۔
ظاہر ہے کہ ہر انسان میں درج بالا سب چیزیں ہر وقت اپنے معیارِ مطلوب پر نہیں رہتیں۔ ان کو معیارِ مطلوب پر رکھنے کے لیے ہمارے دین نے ہمیں تین چیزیں سکھائی ہیں۔ ایک قرآن مجید پر مسلسل غوروفکر، دوسرا اچھے لوگوں سے مسلسل رابطہ اور تیسرا اعتکاف۔ یہی دین کا طریقہ ہے۔ قرآن وسنت نے روحانی سکون حاصل کرنے کے لیے یہی طریقہ ہمیں سکھایا ہے۔