دوسری بحث
 

خدا کا نظام ہدایت

اللہ تعالیٰ نے ہر دور میں انسانوں کو اپنی ہدایت سے نوازا ہے۔ جس کے ذریعے سے انسانیت کو اس بنیادی حقیقت کی یاددہانی کرائی گئی ہے کہ انسان اس دنیا میں ایک محدود مدت کے لیے آزمایش کی غرض سے بھیجے گئے ہیں ۔اس دنیا کے بعد ایک اور دنیا ہے جس میں انھیں ہمیشہ قیام کرنا ہے۔روز قیامت اس دنیا کا نقطۂ آغاز ہے۔ قیامت کے دن سب لوگ اللہ کے حضور پیش کیے جائیں گے اور ان کے اعمال کی بنیاد پر ان کے ابدی مستقبل کا فیصلہ ہوگا۔ نیکو کار لوگ جنت میں جائیں گے اور بد کار جہنم کا ایندھن بنیں گے۔ قرآن میں اس بات کو یوں بیان کیا گیا ہے:

تَبٰرَکَ الَّذِیْ بِیَدِہِ الْمُلْکُ وَھُوَ عَلٰی کُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرُ. الَّذِیْ خَلَقَ الْمَوْتَ وَالْحَیٰوۃَ لِیَبْلُوَکُمْ اَیُّکُمْ اَحْسَنُ عَمَلًا وَھُوَ الْعَزِیْزُ الْغَفُوْرُ. (الملک ۶۷: ۱۔۲)
’’بڑی ہی عظیم اور بافیض ہے وہ ذات جس کے قبضۂ قدرت میں (اس کائنات کی) بادشاہی ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ جس نے موت اور زندگی کو پیدا کیا تاکہ تمھارا امتحان کرے کہ تم میں سے کون سب سے اچھے عمل والا بنتا ہے، اور وہ غالب بھی ہے (کہ سزا دے)اور مغفرت فرمانے والا بھی (کہ جنت میں داخل کردے)۔‘‘


قُلْنَا اھْبِطُوْا مِنْہَا جَمِیْعًا فَاِمَّا یَاْتِیَنَّکُمْ مِّنِّیْ ھُدًی فَمَنْ تَبِعَ ھُدَایَ فَلَا خَوْفٌ عَلَیْہِمْ وَلَاھُمْ یَحْزَنُوْنَ. وَالَّذِیْنَ کَفَرُوْا وَکَذَّبُوْا بِاٰےٰتِنَا اُولٰٓءِکَ اَصْحٰبُ النَّارِ ھُمْ فِیْھَا خٰلِدُوْنَ. (البقرہ ۲: ۳۸ ۔۳۹)
’’ہم نے کہا:اترو یہاں سے سب! تو اگر تمھارے پاس میری طرف سے کوئی ہدایت آئے توجو میری ہدایت کی پیروی کریں گے، ان کے لیے نہ کوئی خوف ہوگا اور نہ وہ غمگین ہوں گے اور جو کفرکریں گے اورمیری آیتوں کو جھٹلائیں گے، وہی لوگ دوزخ والے ہیں، وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے۔ ‘‘


اللہ تعالیٰ نے اس دنیا میں کئی طریقوں سے انسانوں کی ہدایت و رہنمائی کا بندوبست کیا ہے۔فطرت ہر انسان کی رہنما ہے۔ عقل و خرد سے ہر انسان نوازا گیا ہے۔انفس و آفاق کی نشانیاں قدم قدم پر انسان کی رہنمائی کے لیے موجود ہیں،تاہم اس ہدایت کا سب سے بڑا نشان انبیا علیہم السلام تھے جو انسانوں کی زبان میں براہِ راست انسانوں کی رہنمائی کرتے تھے۔ پہلے انسان حضرت آدم علیہ السلام ایک نبی تھے۔جس کے بعد ہر دور اور قوم میں نبی آتے رہے*۔ ان انبیا کی بعثت کا مقصد قرآن میں یوں بیان کیا گیاہے:

کَانَ النَّاسُ اُمَّۃً وَّاحِدَۃً فَبَعَثَ اللّٰہُ النَّبِیّٖنَ مُبَشِّرِیْنَ وَ مُنْذِرِیْنَ وَاَنْزَلَ مَعَھُمُ الْکِتٰبَ بِالْحَقِّ لِیَحْکُمَ بَیْنَ النَّاسِ فِیْمَا اخْتَلَفُوْا فِیْہِ وَمَا اخْتَلَفَ فِیْہِ اِلَّا الَّذِیْنَ اُوْتُوْہُ مِنْ م بَعْدِ مَاجَآءَ تْہُمُ الْبَیِّنٰتُ بَغْیًا م بَیْنَہُمْ فَھَدَی اللّٰہُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لِمَا اخْتَلَفُوْافِیْہِ مِنَ الْحَقِّ بِاِذْنِہٖ وَاللّٰہُ یَھْدِیْ مَنْ یَّشَآءُ اِلٰی صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ. (البقرہ ۲: ۲۱۳)
’’لوگ ایک ہی امت بنائے گئے ۔ (انھوں نے اختلاف پیدا کیا) تو اللہ تعالیٰ نے (اپنے) انبیابھیجے جو خوش خبری سناتے اور خبردار کرتے آئے ۔ اور ان کے ساتھ کتاب بھیجی قول فیصل کے ساتھ تاکہ جن باتوں میں لوگ اختلاف کررہے ہیں، ان کا فیصلہ کر دے، اور اس میں اختلاف نہیں کیا، مگر انھی لوگوں نے جن کو یہ دی گئی تھی، اس کے بعد کہ ان کے پاس کھلی کھلی ہدایت آ چکی تھیں، محض ضدم ضدا کے سبب سے۔ پس اللہ نے اپنی توفیق بخشی سے، اہل ایمان کی اس حق کے معاملے میں رہنمائی فرمائی جس میں لوگوں نے اختلاف کیا۔ اللہ جس کو چاہتا ہے ، صراط مستقیم کی ہدایت دیتا ہے۔‘‘

قرآن کی ان آیات کے مطابق اللہ کے نبی جب اپنی قوم کی طرف بھیجے جاتے ہیں تو لوگوں کے لیے منذر اور مبشر بن کر آتے ہیں،یعنی وہ نیکوکاروں کو جنت کی خوش خبری سناتے اور بد کاروں کو جہنم کے انجام سے ڈراتے ہیں۔ نیز وہ لوگوں کو ان کے اختلافات میں درست راستہ دکھاتے ہیں۔حق کی طرف اس واضح اور قطعی رہنمائی اور مذہبی اختلافات میں فیصلہ کن رہبری کے بعد لوگوں کے پاس کوئی عذر نہیں رہ جاتا جسے وہ روز قیامت اپنے رب کے حضور پیش کرسکیں۔نبیوں کی اسی رہنمائی، انذار اور تبشیر کو سورۂ نساء (۴)کی آیت ۱۶۵ میں اتمام حجت کہا گیا ہے۔

_______

* الرعد۱۳: ۷۔

____________