یہ بات کہ رسولوں کی مخاطب اقوام پر اتمام حجت کے بعد دنیا ہی میں عذاب آجاتا ہے ، قرآن میں جگہ جگہ مختلف اسالیب میں بیان ہوئی ہے۔ اس ضمن میں چند قرآنی آیات درج ذیل ہیں:

وَمَا کَانَ رَبُّکَ مُھْلِکَ الْقُرٰی حَتّٰی یَبْعَثَ فِیْٓ اُمِّھَا رَسُوْلاً یَّتْلُوْا عَلَیْھِمْ اٰیٰتِنَا وَمَا کُنَّا مُھْلِکِی الْقُرآی اِلَّا وَ اَھْلُھَا ظٰلِمُوْنَ.(القصص ۲۸: ۵۹)
’’اور تیرا رب بستیوں کو ہلاک کرنے والا نہیں بنتا، جب تک ان کی مرکزی بستی میں کوئی رسول نہ بھیج لے، جو ان کو ہماری آیتیں پڑھ کر سنائے، اور ہم بستیوں کو ہلاک کرنے والے نہیں بنتے، مگر اسی وقت جب ان کے باشندے (اپنے اوپر) ظلم ڈھانے والے بن جاتے ہیں۔‘‘

وَقَالَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا لِرُسُلِھِمْ لَنُخْرِجَنَّکُمْ مِّنْ اَرْضِنَآ اَوْ لَتَعُوْدُنَّ فِیْ مِلَّتِنَا فَاَوْحٰٓی اِلَیْہِمْ رَبُّھُمْ لَنُھْلِکَنَّ الظّٰلِمِیْنَ. وَلَنُسْکِنَنَّکُمُ الْاَرْضَ مِنْ م بَعْدِھِمْ ذٰلِکَ لِمَنْ خَافَ مَقَامِیْ وَخَافَ وَعِیْدِ. (ابراہیم ۱۴: ۱۳ ۔۱۴)
’’ اور کافروں نے اپنے رسولوں سے کہا کہ یاتو ہم تمھیں اپنی سرزمین سے نکال کر رہیں گے یا تمھیں ہماری ملت میں پھر واپس آنا پڑے گا۔ تو ان کے رب نے ان پر وحی بھیجی کہ ہم ان ظالموں ہی کو ہلاک کردیں گے اور ان کے بعد تم کو زمین میں بسائیں گے، یہ ان کے لیے ہے جو میرے حضور پیشی سے ڈرے اور میری وعید سے ڈرے۔‘‘

وَمَا کُنَّا مُعَذِّبِیْنَ حَتّٰی نَبْعَثَ رَسُوْلاً. (بنی اسرائیل۱۷: ۱۵)
’’ اور ہم عذاب دینے والے نہیں تھے، جب تک کسی رسول کو بھیج نہ دیں۔‘‘

وَلَقَدْ اَرْسَلْنَا اِلآی اُمَمٍ مِّنْ قَبْلِکَ فَاَخَذْنٰھُمْ بِالْبَاْسَآءِ وَالضَّرَّآءِ لَعَلَّھُمْ یَتَضَرَّعُوْنَ. فَلَوْلَآ اِذْجَآءَ ھُمْ بَاْسُنَا تَضَرَّعُوْاوَلٰکِنْ قَسَتْ قُلُوْبُھُمْ وَ زَیَّنَ لَھُمُ الشَّیْطٰنُ مَا کَانُوْا یَعْمَلُوْنَ. فَلَمَّا نَسُوْا مَا ذُکِّرُوْا بِہٖ فَتَحْنَا عَلَیْہِمْ اَبْوَابَ کُلِّ شَیْءٍ حَتّٰٓی اِذَا فَرِحُوْا بِمَآ اُوْتُوْٓا اَخَذْنٰہُمْ بَغْتَۃً فَاِذَا ھُمْ مُّبْلِسُوْنَ. فَقُطِعَ دَابِرُ الْقَوْمِ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ. (الانعام ۶: ۴۲ ۔۴۵)
’’ اور ہم نے تم سے پہلے بھی بہت سی امتوں کے پاس (اپنے) رسول بھیجے ۔پس ان کو مالی اور جسمانی تکالیف میں مبتلا کیا تاکہ وہ خدا کے آگے جھکیں توجب ہماری پکڑ آئی، وہ خدا کی طرف کیوں نہ جھکے ، بلکہ ان کے دل سخت ہوگئے اور شیطان نے ان کی نگاہوں میں اسی عمل کو کھبادیا جو وہ کرتے رہے تھے تو جب انھوں نے فراموش کردیا، اس چیز کو جس سے ان کو یاددہانی کی گئی تو ہم نے ان پر ہر چیز کے دروازے کھول دیے ، یہاں تک کہ جب وہ اس چیز پر اترانے لگے جو انھیں دی گئی تو ہم نے ان کو دفعتاً پکڑ لیا، پس وہ بالکل ہک دک رہ گئے۔ پس ان لوگوں کی جڑ کاٹ دی گئی جنھوں نے ظلم کا ارتکاب کیا اور شکر کا سزاوار حقیقی صرف اللہ ہے، تمام عالم کا رب۔‘‘

سورۂ اعراف میں حضر ت نوح، حضر ت ہود، حضر ت صالح، حضر ت لوط اور حضر ت شعیب کی قوم کے تذکرے کے بعد اللہ تعالیٰ ایک جامع تبصرہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں:

وَمَآ اَرْسَلْنَا فِیْ قَرْیَۃٍ مِّنْ نَّبِیٍ اِلَّآ اَخَذْنَآ اَھْلَھَا بِالْبَاْسَآءِ وَالضَّرَّآءِ لَعَلَّھُمْ یَضَّرَّعُوْنَ. ثُمَّ بَدَّلْنَا مَکَانَ السَّیِّءَۃِ الْحَسَنَۃَ حَتّٰی عَفَوْا وَّقَالُوْا قَدْمَسَّ اٰبَآءَ نَا الضَّرَّآءُ وَالسَّرَّآءُ فَاَخَذْنٰہُمْ بَغْتَۃً وَّھُمْ لَا یَشْعُرُوْنَ. وَلَوْ اَنَّ اَھْلَ الْقُرآی اٰمَنُوْا وَاتَّقَوْا لَفَتَحْنَا عَلَیْھِمْ بَرَکٰتٍ مِّنَ السَّمَآءِ وَالْاَرْضِ وَلٰکِنْ کَذَّبُوْا فَاَخَذْنٰہُمْ بِمَا کَانُوْا یَکْسِبُوْنَ. ( الاعراف ۷: ۹۴۔ ۹۶)
’’ اور ہم نے جس بستی میں کسی نبی کو رسول بنا کر بھیجا، اس کے باشندوں کو مالی اور جسمانی مصائب سے آزمایا تاکہ وہ رجوع کریں۔ پھر ہم نے دکھ کو سکھ سے بدل دیا، یہاں تک کہ وہ پھلے پھولے اور کہنے لگے کہ دکھ اور سکھ تو ہمارے باپ دادوں کو بھی پہنچے ہیں۔ پھر ہم نے ان کو اچانک پکڑ لیا اور وہ اس کا گمان نہیں رکھتے تھے۔ اور اگر بستیوں والے ایمان لاتے اور تقویٰ اختیار کرتے تو ہم ان پر آسمان و زمین کی برکتوں کے دروازے کھول دیتے، لیکن انھوں نے جھٹلایا تو ہم نے ان کے کرتوتوں کی پاداش میں انھیں پکڑلیا۔‘‘

ان آیات میں’نبی ‘کا لفظ استعمال ہوا ہے ، مگر اس کے ساتھ ’ اَرْسَلْنَا‘ کا فعل آیا ہے ، جس کا ایک مفہوم رسول بناکر بھیجنا ہے۔ اس کی مثال سورۂ نحل (۱۶) کی آیت ۴۳ میں دیکھی جاسکتی ہے ،جس میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں : ’’اور ہم نے تم سے پہلے بھی آدمیوں ہی کو رسول بناکر بھیجا‘‘ ۔ یہاں پر یہ اسی مفہوم میں آیا ہے۔ مزید براں قرآن کے دیگر مقامات اورآگے چل کر انھی آیات میں اللہ تعالیٰ نے وضاحت کی ہے کہ یہ انبیا منصب رسالت پر فائز تھے ۔فرمایا:

تِلْکَ الْقُرٰی نَقُصُّ عَلَیْکَ مِنْ اَنْبَآءِھَا وَلَقَدْ جَآءَ تْھُمْ رُسُلُھُمْ بِالْبَیِّنٰتِ فَمَا کَانُوْا لِیُؤْمِنُوْا بِمَا کَذَّبُوْا مِنْ قَبْلُ کَذٰلِکَ یَطْبَعُ اللّٰہُ عَلٰی قُلُوْبِ الْکٰفِرِیْنَ.( الاعراف ۷: ۱۰۱)
’’یہ بستیاں ہیں جن کی سرگذشتوں کا کچھ حصہ ہم تمھیں سنارہے ہیں۔ ان کے پاس ان کے رسول کھلی کھلی نشانیاں لے کر آئے تو وہ ایمان لانے والے نہ بنے، اس وجہ سے کہ وہ پہلے سے جھٹلاتے رہے تھے، اللہ اسی طرح کافروں کے دلوں پر مہر لگا دیتا ہے۔‘‘

سورۂ توبہ میں چھ رسولوں کی اقوام کے حوالے سے فرمایا :

اَلَمْ یَاْتِھِمْ نَبَاُ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِھِمْ قَوْمِ نُوْحٍ وَّ عَادٍ وَّ ثَمُوْدَ وَ قَوْمِ اِبْرٰھِیْمَ وَاَصْحٰبِ مَدْیَنَ وَالْمُؤْتَفِکٰتِ اَتَتْھُمْ رُسُلُھُمْ بِالْبَیِّنٰتِ فَمَا کَانَ اللّٰہُ لِیَظْلِمَھُمْ وَلٰکِنْ کَانُوْٓا اَنْفُسَھُمْ یَظْلِمُوْنَ. ( ۹: ۰ ۷)
’’کیا انھیں ان لوگوں کی سرگزشت نہیں پہنچی جو ان سے پہلے گزرے ۔ قوم نوح، عاد، ثمود، قوم ابراہیم، اصحاب مدین اور الٹی ہوئی بستیوں کی۔ ان کے پاس ان کے رسول کھلی کھلی نشانیاں لے کر آئے تو اللہ ان کے اوپر ظلم کرنے والا نہیں بنا ، بلکہ وہ خود اپنی جانوں پر ظلم ڈھانے والے بنے۔ ‘‘

سورۂ حج میں یہی بات سات اقوام کے حوالے سے بیان کی گئی:

وَاِنْ یُّکَذِّبُوْکَ فَقَدْ کَذَّبَتْ قَبْلَھُمْ قَوْمُ نُوْحٍ وَّ عَادٌ وَّ ثَمُوْدُ. وَقَوْمُ اِبْرٰھِیْمَ وَ قَوْمُ لُوْطٍ. وَّاَصْحٰبُ مَدْیَنَ وَ کُذِّبَ مُوْسٰی فَاَمْلَیْتُ لِلْکٰفِرِیْنَ ثُمَّ اَخَذْتُھُمْ فَکَیْفَ کاَنَ نَکِیْرِ.( ۲۲: ۴۲۔ ۴۴)
’’اور اگر یہ لوگ تمھاری تکذیب کررہے ہیں، تو (یہ کوئی عجیب بات نہیں ہے)ان سے پہلے قوم نوح، عاد، ثمود، قوم ابراہیم، قوم لوط اور مدین کے لوگ بھی تکذیب کرچکے ہیں، اور موسیٰ کی بھی تکذیب کی گئی تو میں نے ان کافروں کو کچھ ڈھیل دی، پھر میں نے ان کو دھرلیا تو دیکھو، کیسی ہوئی میری پھٹکار۔ ‘‘

سورۂ قمر (۵۴) میں بالتفصیل یہی بات حضر ت نوح، حضر ت ہود، حضر ت صالح، حضر ت لوط اور حضرت موسیٰ کی اقوام کے حوالے سے بیان کی گئی ہے۔ رسول اپنی قوم پر کس طرح اتمام حجت کرتے ہیں ، اس کی داستان قرآن میں جگہ جگہ بیان کی گئی ہے،تاہم ایک رسول کی زندگی میں آنے والے تمام مراحل کی داستان کو اگر بہت اختصار سے پڑھنا ہے تو قرآن کی ایک بہت چھوٹی سورت، یعنی سورۂ نو ح (۷۱)پڑھ لیں جس میں اللہ تعالیٰ نے سیدنا نوح کی ہزار سالہ دعوت کے تمام مراحل اور اس کے نتائج کا نچوڑ بہت اختصار کے ساتھ پیش کردیا ہے۔ خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تیرہ سال تک مکے کی زندگی میں ہر طرح کی مخالفت جھیل کر کفار مکہ پر اتمام حجت کیا۔قرآن کا وہ حصہ جو مکہ میں نازل ہوا اور بہ اعتبار حجم دو تہائی ہے ، اسی اتمام حجت کی داستان ہے۔جب کسی قوم پر یہ اتمام حجت ہوجاتا ہے تو اللہ تعالیٰ اپنا فیصلہ سناتے ہیں۔ وقت کے رسول اور اس کے پیروکاروں کو ہجرت کا حکم ہوجاتا ہے اور پھر خدا کے عذاب کا کوڑا برس جاتا ہے۔
ایک رسول کے اتمام حجت کی یہی وہ اہمیت ہے جس کی بنا پر حضرت یونس کی قوم پر آیا ہوا عذاب ٹل گیا، اس کی وجہ یہ تھی کہ سیدنا یونس نے اپنی قوم کے کفر کے بعد ، رسولوں کی اس تاریخ کی بنا پر، جس میں کفر کے بعد قوم کی تباہی یقینی ہوتی ہے، انھیں عذاب کی دھمکی دی اور اجتہادی فیصلہ کرکے ہجرت کر گئے، حالاں کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ابھی قوم کو چھوڑنے کا حکم نہیں آیاتھا۔ اس بات کا مطلب تھاکہ ابھی قوم پر اتمام حجت نہیں ہوا۔بہرحال ان کی قوم پر جب عذاب کے آثار آئے تو پوری قوم نے اجتماعی طور پر توبہ کرلی۔قرآن سورۂ یونس (۱۰)کی آیت ۹۸ اور سورۂ صافات (۳۷) کی آیات۱۳۹۔ ۱۴۸ میں ان کا قصہ بیان کرتا ہے ۔ نیز سورۂ انبیاء (۲۱) کی آیات ۸۷ ۔ ۸۸ اور سورۂ قلم (۶۸) کی آیات ۴۸ ۔ ۵۰ میں بھی ان کا تذکرہ ہے۔
قرآن میں مذکور رسولوں کی پوری تاریخ میں صرف سیدنا عیسیٰ کے مخاطب بنی اسرائیل ایک استثنا ہیں، جن کی قوم کو کفر کے باوجود فنا نہیں کیا گیا،شاید اس کی وجہ توحید سے ان کی کسی نہ کسی درجہ میں وابستگی تھی، تاہم ان پر خدا کا عذاب آیا جس کی نوعیت کو سورۂ اعراف (۷) کی آیت۱۶۷ اور سورۂ آل عمران (۳) کی آیات ۵۵ ۔ ۵۶ میں بیان کیا گیا ہے۔ جس کے مطابق قیامت تک ان پر عذاب کا سلسلہ جاری کیا گیا۔نیز سورۂ بقرہ (۲)کی آیت ۶۱ اور سورۂ آل عمران (۳) کی آیت ۱۱۲ کے مطابق ذلت، مسکنت اور خدا کا غضب اب ان کا مقدر ہے۔ اس کے علاوہ نبوت کا سلسلہ ان سے ختم کردیااور اقوام عالم پر فضیلت اور اپنی نمائندگی کا اعزاز ان سے چھین لیا۔ سب سے بڑھ کر قیامت کے دن کا عذاب اپنی جگہ ہے۔

____________