رسولوں کے اتمام حجت کا یہی وہ قانون ہے جس کے مطابق محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مخاطبین پر عذاب آیا۔ ہم نے پچھلی جن سورتوں کے حوالے دیے ہیں ، ان میں ان اقوام سابقہ کا ذکر کفار قریش کو سمجھانے کے لیے ہی کیا گیا تھا کہ اگر تم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تکذیب کی تو تمھارا انجام بھی یہی ہوگا۔ چنانچہ ہوابھی یہی ۔ البتہ ان پر عذاب حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب کی تلواروں کے ذریعے سے آیا۔ قرآن کی سورۂ انفال (۸) اور سورۂ توبہ (۹)اسی عذاب الٰہی کی تفصیل کرتی ہیں۔ قریش کی پوری قیادت جس نے تیرہ سال حضورصلی اللہ علیہ وسلم کی مخالفت کی تھی ، جنگ بدر میں ہلاک ہوئی، حتیٰ کہ ابولہب جو اس جنگ میں شریک نہیں ہوا تھا ، اس پر عدسہ (طاعون) کی بیماری کا عذاب مسلط کرکے اسی موقع پر اسے بھی ہلاک کردیا گیا۔ حضورصلی اللہ علیہ وسلم کے آخری دور میں پورے عرب کو قبول اسلام کی دعوت دی گئی، جس کی نافرمانی پر صحابہ کی تلواروں سے ان کو ہلاک کرنے کا حکم دیا گیا۔ارشاد ہوا:

قَاتِلُوْھُمْ یُعَذِّبْھُمُ اللّٰہُ بِاَیْدِیْکُمْ وَ یُخْزِھِمْ وَ یَنْصُرْکُمْ عَلَیْھِمْ وَیَشْفِ صُدُوْرَ قَوْمٍ مُّؤْمِنِیْنَ. وَیُذْھِبْ غَیْظَ قُلُوْبِھِمْ وَ یَتُوْبُ اللّٰہُ عَلٰی مَنْ یَّشَآءُ وَاللّٰہُ عَلِیْمٌ حَکِیْمٌ. (التوبہ ۹: ۱۴ ۔ ۱۵)
’’تم ان سے لڑو!اللہ تمھارے ہاتھوں ان کو سزا دے گا ، ان کو رسوا کرے گا، تم کو ان پر غلبہ دے گا، اہل ایمان کے ایک گروہ کے کلیجے ٹھنڈے کرے گااور ان کے دلوں کا غم و غصہ دور فرمائے گا اور جن کو چاہے گا توبہ کی توفیق دے گا۔ اور اللہ علم و حکمت والا ہے۔‘‘

تاہم اس کی نوبت نہیں آئی اور پورا عرب حلقہ بگوش اسلام ہوگیا۔ اس کے بعد صحابہ کو جوعروج خلافت راشدہ میں ملا ، اس کی مثال تاریخ انسانی میں نہیں ملتی۔ ان کو انعام کے طور پر دنیا کی بادشاہت دے دی گئی۔ جس کی خبر انھیں پہلے ہی اس طرح دے دی گئی تھی:

وَعَدَ اللّٰہُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مِنْکُمْ وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَیَسْتَخْلِفَنَّہُمْ فِی الْاَرْضِ کَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِھِمْ وَلَیُمَکِّنَنَّ لَھُمْ دِیْنَھُمُ الَّذِی ارْتَضٰی لَہُمْ وَ لَیُبَدِّلَنَّھُمْ مِّنْم بَعْدِ خَوْفِھِمْ اَمْنًا یَعْبُدُوْنَنِیْ لَا یُشْرِکُوْنَ بِیْ شَیْءًا وَمَنْ کَفَرَ بَعْدَ ذٰلِکَ فَاُولٰٓءِکَ ھُمُ الْفٰسِقُوْنَ.(النور۲۴: ۵۵)
’’تم میں سے جو لوگ ایمان لائے اور جنھوں نے عمل صالح کیے، ان سے اللہ کا وعدہ ہے کہ ملک میں ان کو اقتدار بخشے گا، جیسا کہ ان لوگوں کو اقتدار بخشا جو ان سے پہلے گزرے، اور ان کے لیے ان کے اس دین کو متمکن کرے گا جس کو ان کے لیے پسندیدہ ٹھہرایا ، اور ان کی اس خوف کی حالت کے بعد اس کو امن سے بدل دے گا، وہ میری ہی عبادت کریں گے اور کسی چیز کو میرا شریک نہیں ٹھہرائیں گے، اور جو اس کے بعد کفر کریں گے، تو (درحقیقت) وہی لوگ نافرمان ہیں۔‘‘

بہرحال، رسولوں کی قوموں کے بارے میں خدا کا قانون یہ ہے کہ ان کے عروج و زوال کا تمام تر انحصار اس بات پر ہوتا ہے کہ وہ اللہ کے رسول کی بات مانتے ہیں یا نہیں۔ وہ اگر ایمان لے آتے ہیں تو خدا ان کے دشمنوں کو ہلاک کرکے انھیں دنیا کا اقتدار سونپ دیتا ہے ۔صحابۂ کرام کے سلسلے میں یہی ہوا۔ اگر وہ تکذیب کرتے ہیں تو انھیں ان کی تمام تر طاقت اور اقتدار کے ساتھ ہلاک کردیا جاتا ۔ جیسا کہ دیگر تمام رسولوں کی اقوام کے ساتھ معاملہ ہوا۔ البتہ حضرت موسیٰ کی قوم کامعاملہ بین بین رہا۔ بنی اسرائیل آپ پر ایمان لے آئے تو ان کے دشمن فرعون کو اس کے کفر کی پاداش میں ہلاک کردیا گیا اور فرعون کی غلامی سے انھیں نجات دے دی گئی، تاہم جب انھوں نے حضرت موسیٰ کی نافرمانی کی تو انھیں عروج سے محروم کرکے ان پر خواری مسلط کردی گئی۔سو رۂ مائدہ (۵) کی آیات ۲۱۔ ۲۶ میں اس کاتفصیلی واقعہ بیان ہوا ہے۔
اس قانون کے حوالے سے آخری اور سب سے اہم بات یہ ہے کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہی اب یہ قانون قیامت تک کے لیے ختم ہوگیا۔ اب کسی رسول نے آنا ہے نہ کسی نبی نے،اس لیے دنیا میں کسی قوم کے عروج و زوال کے لیے اب اس قانون کے کسی پہلو کا کوئی اطلاق نہیں ہوسکتا۔

____________