مذکورہ احادیث کے وہ الفاظ جو اس نقطۂ نظر سے متعارض ہیں، درج ذیل ہیں: 

وقال یا عائشۃ اشد الناس عذابا عند اللّٰہ یوم القیامۃ الذین یضاھون بخلق اللّٰہ.(مسلم ، رقم ۲۱۰۷) 

’’آپ (صلی اللہ علیہ و سلم) نے فرمایا : اے عائشہ، قیامت کے دن اللہ کے ہاں شدید ترین عذاب ان لوگوں کو ہو گاجو خدا کی تخلیق کے مشابہ تخلیق کرتے ہیں۔‘‘ 

قال اللّٰہ عزوجل ومن اظلم ممن ذھب یخلق خلقا کخلقی فلیخلقوا ذرۃ او لیخلقوا حبۃ او لیخلقوا شعیرۃ.(مسلم ، رقم ۲۱۱۱) 

’’(نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا) کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: اس شخص سے بڑا ظالم کون ہو گا جو میرے مخلوقات بنانے کی طرح مخلوقات بنانے نکل کھڑا ہوا۔ (ایسی جسارت کرنے والوں کو چاہیے کہ) وہ (میری کوئی چھوٹی سی مخلوق مثلاً) ایک ذرہ تو تخلیق کر کے دکھائیںیا ایک دانہ یا ایک جَو ہی تخلیق کر کے دکھا دیں۔‘‘ 

ان دو احادیث میں سے پہلی میں یہ بتایا گیا ہے کہ خدا کی تخلیق جیسی تخلیق کرنے والوں کو شدید عذاب دیا جائے گا۔ دوسری میں یہ بتایا گیا ہے کہ تم خدا کی تخلیق جیسی تخلیق بالکل نہیں کر سکتے، اگر تمھیں اپنے بارے میں کچھ وہم ہے تو پھر تم اس کے بنائے ہوئے ذرے جیسا ایک ذرہ یااس کے بنائے ہوئے دانے جیسا ایک دانہ یا اس کے بنائے ہوئے جو جیسا ایک جو ہی بنا کر دکھا دو۔

زیر بحث رائے میں یہ بیان کیا گیا ہے کہ ذی روح کی تصویر بنانا خدا کی تخلیق جیسی تخلیق کرنا ہے، لہٰذا ذی روح کی تصویر بنانے والے لوگ ہی وہ مجرم ہیں ،جن کو قیامت کے دن شدید عذاب دیا جائے گا۔

حقیقت یہ ہے کہ تصویر بنانا اور تخلیق کرنا یکساں عمل نہیں ہیں۔ ان دونوں میں بے پناہ فرق ہے۔ تخلیق کے نتیجے میں حقیقی بیج اور درخت وجود میں آتے ہیں اور حقیقی حیوان اور انسان وجود میں آتے ہیں جبکہ تصویر کے عمل سے کاغذ یا کینوس پر کسی شے کا محض ایک نقش وجود میں آتا ہے، جیسے پانی یا آئینے میں ہمیں اسی چیز کا عکس دکھائی دیتا ہے۔ 

کسی شے کے عکس اور نقش کو کبھی بھی اس شے کی تخلیق کی مثل تخلیق قرار نہیں دیا جاتا۔ لہٰذا کسی شے کی تصویر کو کسی صورت میں بھی، اس کی تخلیق کی مثل تخلیق قرار نہیں دیاجا سکتا۔

جیسے ٹھہرے ہوئے پانی میں کسی شے یعنی خدا کی کسی تخلیق کا عکس دیکھ کر کوئی بھی یہ نہیں کہہ سکتا کہ اس ٹھہرے ہوئے پانی کے اندر خدا کی فلاں تخلیق جیسی تخلیق وجود پذیر ہو گئی ہے۔ اسی طرح کسی شے کا نقش یعنی اس کی تصویر دیکھ کر کبھی بھی یہ نہیں کہا جا سکتا کہ یہ اس شے کے مثل شے تخلیق ہو گئی ہے۔

نہ صرف یہ کہ تصویر بنانا اپنی حقیقت میں تخلیق کرنا نہیں ہے، بلکہ فوٹو گرافری یا مصوری کے بارے میں کبھی یہ ادعا بھی نہیں کیا گیا کہ یہ تخلیق کی مثل تخلیق ہوتی ہے۔ کوئی فوٹو گرافر یا مصور اپنی کسی تصویر کے بارے میں یہ دعویٰ نہیں کرتا ہے کہ میری بنائی ہوئی یہ تصویراللہ کی فلاں تخلیق کی طرح ایک تخلیق ہے۔وہ اپنے تصویر بنانے کے عمل کو ہرگز تخلیق کا وہ عمل قرار نہیں دیتا، جو خدا کے ساتھ خاص ہے۔

کسی مصور کے بارے میں یہ خیال کرنا بھی درست نہیں کہ وہ اپنے ذہن اور اپنی نیت کے اعتبار سے تو خدا کی تخلیق جیسی تخلیق کرنے کا دعویٰ نہیں کر رہا، لیکن زندہ وجود کی تصویر بنا دینے کے بعد عملاً وہ اسی دعوے کا اظہار کر رہا ہے۔ کیونکہ ذہن اور نیت کے بغیر عملاً کسی دعوے کا اظہار تبھی ہو سکتا ہے جبکہ وہ شے باقاعدہ وجود پذیر کر دی جائے۔ مثلاً، خدا کی ایک تخلیق ’ شیر‘ کی مثل شیرتخلیق کرنے کا عملاً دعویٰ بس اسی صورت میں ہو سکتا ہے، جب کوئی شخص حقیقی ’شیر‘ کو تخلیق کر کے ہمارے سامنے لا کھڑا کرے۔ ظاہر ہے کہ اس صورت میں اس نے خدا کی ایک تخلیق کی مثل تخلیق کرنے کوعملاً کر دکھایا ہے۔ چنانچہ اس تخلیق کرنے کو ’’تخلیق کرنے کا عملاً دعویٰ کرنا ‘‘ کہا جا ئے گا، لیکن تخلیق کا یہ کام عملاً کر دینے کے بارے میں کوئی انسان سوچ بھی نہیں سکتا۔ لہٰذا یہ ایک حقیقت ہے کہ تصویر خواہ جان دار کی ہو یا بے جان کی، اسے کسی معنی میں بھی اور کسی حوالے سے بھی، خدا کی تخلیق کی مثل تخلیق قرار نہیں دیا جا سکتا۔

چنانچہ یہ کہنا درست ہو گا کہ خدا کے مقابل میں اس کی تخلیق کی مثل تخلیق کرنے کا مفہوم وہ نہیں جو ہم فوٹو گرافر کی بنائی ہوئی تصویر کو تخلیق قرار دے کر سمجھ رہے ہیں، بلکہ اس سے مختلف ہے۔

اس کے بعد آپ ایک اور تعارض کو دیکھیے۔ حدیث میں ’یخلق خلقاً کخلقی‘ کے بعد ’فلیخلقوا ذرۃ او لیخلقوا حبۃ او لیخلقوا شعیرۃ‘ (پس وہ ایک ذرہ تو تخلیق کر کے دکھائیں یا ایک دانہ یا ایک جو ہی تخلیق کر کے دکھا دیں) کے الفاظ آئے ہیں۔ یعنی ان میں یہ کہا جا رہا ہے کہ تم ہمارے مخلوقات بنانے کی طرح مخلوقات بنانے چل پڑے ہو، تم اس سے پہلے ہمارے بنائے ہوئے ایک چھوٹے سے ذرے جیسا ذرہ تو تخلیق کر کے دکھاؤ یا ہمارے بنائے ہوئے دانوں جیسا دانہ تو تخلیق کر کے دکھاؤ یا ہمارے تخلیق کیے ہوئے جو جیسا ایک جو ہی تخلیق کر کے دکھا دو، ظاہر ہے کہ تم ایسا نہیں کر سکتے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ حدیث کو اس پر اصرار ہے کہ وہ مصور جو اس کے مخاطب ہیں، وہ خدا کے مخلوقات بنانے ہی کی طرح مخلوقات بنانے کا دعویٰ کر رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان سے یہ کہا جا رہا ہے کہ تم خدا کی تخلیق کی طرح تخلیق کیا کرو گے، اس کی بنائی ہوئی چھوٹی چھوٹی بے جان چیزوں جیسی کوئی چیز تو بنا کر دکھاؤ۔ یہاں یہ بات انتہائی غور طلب ہے کہ خدا نے ذرے کی تصویر بنانے کا مطالبہ نہیں کیا، بلکہ فی نفسہٖ ذرہ بنانے کا مطالبہ کیا ہے، اس لیے کہ تخلیق کرنا یہی ہے کہ ذرے جیسا ذرہ بنایا جائے۔ چنانچہ اگر تصویر بنانے سے ’خلقاً کخلقی‘ کی جسارت واقع ہو جاتی تو پھر ذرے جیسا ذرہ اور دانے جیسا دانہ بنانے کو نہ کہا جاتا، بلکہ ان اشیا کی بنی ہوئی تصاویر کو تخلیق مانتے ہوئے، یہ کہا جاتا کہ تم خدا کی طرح تخلیق کر تو سکتے ہو، مگر نہ کیا کرو، لیکن ظاہر ہے کہ تصویر بنانے سے چونکہ’خلقاً کخلقی‘ کی جسارت واقع نہیں ہوتی، اسی لیے یہ بات نہیں کہی گئی۔

ان احادیث سے یہ تصور بھی اخذ کیا گیا ہے کہ جان دار کی تصویر بنانا تو خدا کی تخلیق جیسی تخلیق کرنا ہے، لیکن بے جان کی تصویر بنانا، خدا کی تخلیق جیسی تخلیق کرنا نہیں ہے، کیونکہ جان دار کی تخلیق خدا کے ساتھ خاص ہے، جان صرف خدا ہی ڈالتا ہے، لہٰذا جان دار کی تصویر کا معاملہ بے جان کی تصویر سے مختلف ہے۔ 

یہ تصور بھی بالکل غلط ہے۔ کیونکہ بے جان کا وجود تخلیق کرنا بھی صرف اور صرف خدا ہی کے بس کی چیز ہے۔ یہ بھی خدا کے سوا کسی کے بس میں نہیں ہے، چنانچہ یہی وجہ ہے کہ خدا نے یہ کہا ہے کہ ’فلیخلقوا ذرۃ او لیخلقوا حبۃ او لیخلقوا شعیرۃ‘ (وہ ایک ذرہ تو تخلیق کر کے دکھائیں یا ایک دانہ یا ایک جو ہی تخلیق کر کے دکھا دیں)۔ یعنی انسان ایک ذرہ، ایک دانہ یا ایک جو بھی تخلیق نہیں کر سکتا۔ چنانچہ بے جان کی تخلیق بھی صرف اور صرف خدا ہی کے بس میں ہے۔ لہٰذا اگر بات یہ ہے کہ تصویر بنانا خدا کے تخلیق کرنے سے مشابہت اختیار کرنا ہے اور خدا کے تخلیق کرنے سے تشابہ اختیار کرنا حرام ہے تو پھر ہر وہ تخلیق جو تخلیق کے لفظ کا مصداق ہے، ضروری ہے کہ اس کی تصویر بنانے کو خدا کے تخلیق کرنے سے تشابہ اختیار کرنا قرار دیا جائے اور اسے حرام ٹھہرایا جائے، چنانچہ اس صورت میں لازم ہے کہ بے جان اشیا کی تصاویر بھی حرام ہوں، لیکن زیر بحث رائے میں ایسا نہیں مانا جاتا، حالانکہ اصولاً اسے ماننا ضروری ہے۔

اس رائے کے حاملین یہ بات بھی کہتے ہیں کہ بے جان کی تخلیق آسان اور چھوٹا کام ہے اور جان دار کی تخلیق بڑا اور مشکل کام ہے،لہٰذا یہ خدا ہی کے ساتھ خاص ہے۔ 

لیکن یہ بات بھی درست نہیں ہے، کیونکہ خدا نے بعض بے جان چیزوں کی تخلیق کو جان داروں کی تخلیق سے بڑا کام قرار دیا ہے۔ مثلاً ’أ انتم اشد خلقاً ام السماء بنٰہا‘ یعنی (تمھارے خیال میں خدا کے لیے) تخلیق کے حوالے سے زیادہ دشوار تم ہو یا آسمان، اس نے تو اسے بنا ڈالا ہے۔ اور سورۂ مومن میں فرمایا ہے: ’لخلق السمٰوٰت و الأرض أکبر من خلق الناس ولکن أکثر الناس لایعلمون‘ (آسمانوں اور زمین کی تخلیق انسانوں کی تخلیق سے بڑا کام ہے، لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے)۔ اس حوالے سے آسمان و زمین کی تخلیق انسان کی تخلیق کی بہ نسبت زیادہ بڑا کام اور خدا کا زیادہ خاص کام ہے۔ چنانچہ اگر خدا کی زیادہ خاص تخلیق کی نقل کرنا جرم ہے تو پھرآسمان کی تصویر بنانا اور زمین کی تصویر بنانا تو انسان کی تصویر بنانے سے بھی زیادہ بڑا جرم ہونا چاہیے، لیکن زیربحث رائے کے مطابق آسمان کی تصویر بھی جائز ہے اور زمین کی تصویر بھی جائز ہے۔ البتہ انسان کی تصویر اس رائے کے مطابق حرام ہے ۔

اس رائے کے مویدین یہ نکتہ بھی پیش کرتے ہیں کہ ’ المصور‘ خدا کی خاص صفت ہے، اس میں کوئی دوسرا شریک نہیں ہو سکتا۔ لہٰذا (جان دار کی) تصویر حرام ہے۔

ان کی یہ بات بھی درست نہیں، کیونکہ اگر (جان دار کی) تصویر بنانے سے خدا کی صفت ’المصور‘ میں شرکت واقع ہو جاتی ہے تو بے جان کی تصویر بنانے سے یہ شرکت کیسے واقع نہیں ہوتی، حالانکہ اس کائنات میں موجود ساری بے جان چیزیں بھی اسی ’المصور‘ ہی کی تخلیق ہیں۔ ان کی اس بات میں دوسری غلطی یہ ہے کہ اگر تصویر بنانے سے خدا کی صفت ’المصور‘ میں شرکت کا اظہار ہوتا ہے تو پھر کسی مقدمے کا منصفانہ فیصلہ کرنے سے خدا کی صفت ’المقسط‘ میں شرکت کا اظہار ہوتا ہے ؛ صاحب اقتدار بن جانے یا بنا دیے جانے سے خدا کی صفت ’مالک الملک‘میں شرکت کا اظہار ہوتا ہے؛ بدلہ لینے سے خدا کی صفت ’عزیز ذوانتقام ‘میں شرکت کا اظہار ہوتا ہے؛ معاف کر دینے سے اس کی صفت ’عفوغفور‘ میں شرکت کا اظہار ہوتا ہے ، اور رحم کرنے سے اس کی صفت ’الرحیم‘ میں شرکت کا اظہار ہوتا ہے، لیکن حقیقت میں ایسا نہیں ہے اور نہ یہ کبھی سمجھا گیا ہے، چنانچہ ظاہر ہے کہ ان کا یہ خیال کہ تصویر بنانے سے خدا کی صفت ’المصور‘ میں شرکت کا اظہار ہوتا ہے، یہ درست نہیں ہے۔