تصویر کے بارے میں مسلمانوں میں عام نقطۂ نظر یہ پایا جاتا ہے کہ کسی بھی ذی روح ،یعنی جان د ار کی تصویر یا اس کا مجسمہ بنانا شرعاً حرام ہے ۔ البتہ بے جان کی تصویر یا مجسمہ بنانا جائز ہے ۔ یہ نقطۂ نظر دراصل تصویر کے بارے میں فقہا کی آرا سے اخذ کیا گیا ہے۔ ہمارے نزدیک یہ بات تصویر کے بارے میں خود قرآن و حدیث کے اپنے مدعا ہی کے خلاف ہے ۔ آیندہ صفحات میں ہم اس نقطۂ نظر کا تنقیدی جائزہ لیں گے اور اس باب میں صحیح رائے واضح کرنے کی کوشش کریں گے۔ وما توفیقنا الا باللّٰہ۔

تصویر کے بارے میں فقہاے احناف اور دوسرے فقہا کی رائے ’’صحیح بخاری‘‘ کی شرح ’’عمدۃ القاری ‘‘ میں علامہ بدر الدین عینی نے درج ذیل الفاظ میں نقل کی ہے:

قال اصحابنا و غیرہم تصویر صورۃ الحیوان حرام اشد التحریم و ہو من الکبائر و سواء صنعہ لما یمتہن او لغیرہ فحرام بکل حال لأن فیہ مضاہاۃ لخلق اﷲ و سواء کان فی ثوب أو بساط أو دینار أو درہم أو فلس أو إناء أو حائط و اما ما لیس فیہ صورۃ حیوان کالشجر و نحوہ، فلیس بحرام و سواء کان فی ہذا کلہ ما لہ ظل و ما لا ظل لہ و بمعناہ قال جماعۃ العلماء مالک و الثوری و أبوحنیفۃ و غیرہم و قال القاضی إلا ما ورد فی لعب البنات وکان مالک یکرہ شراء ذلک. ( ۲۲/ ۷۰) 

’’ہمارے اصحاب (فقہا ے احناف) اور ان کے علاوہ دوسرے فقہا فرماتے ہیں کہ جان دار کی تصویر بالکل حرام ہے ۔ اسے بنانا کبیرہ گناہوں میں سے ہے۔ یہ حرمت ہر صورت میں ہے ، خواہ تصویر توہین کے مقام پر رکھنے کے لیے بنائی گئی ہو یا شرف کے مقام پر رکھنے کے لیے ، کیونکہ اس میں خدا کی تخلیق کی مشابہت پائی جاتی ہے۔ یہ تصویر خواہ کسی کپڑے ، بچھونے، دینار، درہم، پیسے، برتن یا دیوار پر بنی ہو،حرمت میں سب برابر ہیں۔ ہاں اگر اس تصویر میں کسی جان دار کی شکل نہ ہو تو پھر یہ حرام نہیں ہے۔ (جو تصاویر حرام ہیں ان میں ) حرمت کا معاملہ یکساں ہو گا، خواہ وہ مجسمہ ہوں جس کا سایہ ہو سکتا ہے یا ایسی تصاویر ہوں جن کا سایہ ہو ہی نہیں سکتا۔تصویر کے معاملے میں یہی رائے علما کی اُس جماعت کی بھی ہے جس میں امام مالک، سفیان ثوری، امام ابو حنیفہ اور دوسرے علما شامل ہیں۔ البتہ قاضی عیاض رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ لڑکیوں کی گڑیاں اس سے مستثنیٰ ہیں ۔ جبکہ امام مالک رحمہ اللہ ان کی خرید و فروخت کو بھی مکروہ سمجھتے تھے۔‘‘

اسی ضمن میں شافعی مسلک کے فقہا کا نقطۂ نظرشیخ الاسلام امام نووی رحمہ اللہ نے ’’شرح مسلم‘‘ میں درج ذیل الفاظ میں بیان کیا اور حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے’’ فتح الباری‘‘ میں اس کی توثیق کی ہے:

قال اصحابنا و غیرہم من العلماء تصویر صورۃ الحیوان حرام شدید التحریم و ہو من الکبائر لأنہ متوعد علیہ بہذا الوعید الشدید المذکور فی الأحادیث وسواء صنعہ بما یمتہن أو بغیرہ فصنعتہ حرام بکل حال لأن فیہ مضاہاۃ لخلق اﷲ تعالٰی وسواء ما کان فی ثوب أو بساط أو درہم أو دینار أو فلس أو إناء أو حائط أو غیرہا و أما تصویر صورۃ الشجر و رحال الإبل وغیرذلک مما لیس فیہ صورۃ حیوان فلیس بحرام ، ہذا حکم نفس التصویر و أما إتخاز المصور فیہ صورۃ حیوان فإن کان معلقاً علی حائط أو ثوباً ملبوساً أو عمامۃ و نحو ذلک مما لا یعد ممتہناً فہو حرام ، وان کان فی بساطٍ یداس و مخدۃ و وسادۃٍ و نحوہا مما یمتہن فلیس بحرام ... ولا فرق فی ہذا کلہ بین ما لہ ظل و ما لا ظل لہ ہذا تلخیص مذہبنا فی المسئلۃ و بمعناہ قال جماہیر العلماء من الصحابۃ و التابعین و من بعدہم و ہو مذہب الثوری و مالک و أبی حنیفۃ وغیرہم. ( صحیح مسلم بشرح النووی ۱۴/ ۸۱)

’’ہمارے (مسلک شافعی کے) فقہا اور ان کے علاوہ دوسرے علما فرماتے ہیں کہ جان دار کی تصویر بالکل حرام ہے اور یہ کبیرہ گناہوں میں سے ہے، کیونکہ اس پر وہ وعید شدید وارد ہوئی ہے جو احادیث میں آئی ہے۔ یہ حرمت ہر صورت میں ہے ، خواہ تصویر توہین کے مقام پر رکھنے کے لیے بنائی گئی ہو یا شرف کے مقام پر رکھنے کے لیے، کیونکہ اس میں خدا کی تخلیق کی مشابہت پائی جاتی ہے۔ یہ تصویر خواہ کسی کپڑے، بچھونے، درہم، دینار، پیسے ، برتن ، دیوار یا کسی اور چیز پر بنی ہو،حرمت میں سب برابر ہیں اور جہاں تک درخت کی یا پالان کی یا ایسی ہی دوسری اشیا کی تصاویر کا تعلق ہے ، جن میں روح نہیں ہوتی تو وہ تصاویر حرام نہیں ہیں۔ یہ حکم تو تصویر بنانے کے بارے میں ہے۔جہاں تک اس چیز کے استعمال کا تعلق ہے ،جس پر کسی جان دار کی تصویر بنی ہو، وہ شے اگر دیوار پر معلق ہے یا وہ پہنا ہوا لباس ہے یا عمامہ ہے یا اس کی مثل کوئی اور ایسی چیز ہے ، جو عموماً ذلیل و حقیر نہیں سمجھی جاتی تو اس چیز کا استعمال حرام ہے۔ اور اگر جان دار کی یہ تصویر کسی بچھونے پر ہے جسے روندا جاتاہے یا گدے اور تکیے پر یا اس کی مثل کسی ایسی چیز پر ہے جو عموماً پامال ہوتی  ہے ، تو اس چیز کا استعمال حرام نہیں... اور اِن سب تصاویر میں اس پہلو سے کوئی فرق نہیں کہ وہ مجسم ہوں جن کا سایہ پڑتا ہے یا وہ محض رنگ و نقش ہوں، جن کا سایہ نہیں ہوتا۔ تصویر کے معاملے میںیہ ہمارے مذہب کا خلاصہ ہے۔ اسی کی مثل صحابہ رضی اللہ عنہم، تابعین رحمہم اللہ اور ما بعد کے اکثر علما کی رائے ہے۔ امام ثوری، امام مالک ، امام ابوحنیفہ اور ان کے علاوہ دوسرے علما کا مذہب بھی یہی ہے۔‘‘

تصویر کے بارے میں عام نقطۂ نظر فقہاے کرام کی انھی درج بالا آرا پر مبنی ہے۔ 

 

بناے استدلال 

اس نقطۂ نظر کے حاملین اپنے حق میں درج ذیل احادیث نبوی صلی اللہ علیہ وسلم سے استدلال کرتے ہیں:

عن وھب بن عبد اللّٰہ قال: ان النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم لعن المصور.(بخاری ، رقم ۲۰۸۶) 

’’وہب ابن عبداللہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مصور (تصاویر بنانے والے )پر لعنت فرمائی۔ ‘‘

عن القاسم انہ سمع عائشۃ تقول دخل علی رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم وقد سترت سھوۃ لی بقرام فیہ تماثیل فلما راہ ھتکہ وتلون وجھہ وقال یا عائشۃ اشد الناس عذابا عند اللّٰہ یوم القیامۃ الذین یضاھون بخلق اللّٰہ قالت عائشۃ فقطعناہ فجعلنا منہ وسادۃ او وسادتین. (مسلم ، رقم ۲۱۰۷)

’’قاسم سے روایت ہے کہ انھوں نے حضرت عائشہ کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ میرے پاس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آئے، اس حال میں کہ میں نے (گھر کے ) طاق پر ایک ایسا کپڑا لٹکا رکھا تھا ، جس پر تصاویر بنی ہوئی تھیں۔ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے دیکھا تو آپ نے اسے پھاڑ دیا اور آپ کے چہرے کا رنگ بدل گیااور آپ نے فرمایا: اے عائشہ، قیامت کے دن اللہ کے ہاں شدید ترین عذاب ان لوگوں کو ہو گا جو خدا کی تخلیق کے مشابہ تخلیق کرتے ہیں۔ حضرت عائشہ نے کہا :پھر ہم نے اس کو پھاڑ دیا اور اس کے ایک یا دو تکیے بنا لیے۔‘‘

عن عائشۃ انھا اشترت نمرقۃ فیھا تصاویر فلما راھا رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم قام علی الباب فلم یدخل فعرفت او فعرفت فی وجہہ الکراھیۃ فقالت یا رسول اللّٰہ اتوب الی اللّٰہ والی رسولہ فما ذا اذنبت فقال رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم ما بال ھذہ النمرقۃ فقالت اشتریتھا لک تقعد علیھا و توسدھا فقال رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم ان اصحاب ہذہ الصور یعذبون ویقال لہم احیوا ما خلقتم ثم قال ان البیت الذی فیہا الصور لا تدخلہ الملائکۃ. (مسلم، رقم ۲۱۰۷) 

’’حضرت عائشہ سے روایت ہے کہ انھوں نے ایک غالیچہ (گدا) خریدا، جس میں تصویریں بنی ہوئی تھیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (گھر میں داخل ہوتے ہوئے) جب اسے دیکھا تو آپ دروازے ہی پر رک گئے اور گھر میں داخل نہیں ہوئے، چنانچہ میں نے آپ کے چہرے سے ناگواری جان لی یا یوں کہہ لیں کہ آپ کے چہرے سے ناگواری ٹپکی پڑتی تھی۔ (راوی کہتے ہیں) تو انھوں نے یعنی حضرت عائشہ نے کہا:میں اللہ اور اس کے رسول کی جناب میں توبہ کرتی ہوں، میں نے کیا غلطی کی ہے؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: یہ گدا کیسا ہے؟ انھوں نے کہا: میں نے یہ آپ کے لیے خریداہے تاکہ آپ اس پر بیٹھیں اور اس پر ٹیک لگائیں۔ تو رسول اللہ نے فرمایا: ان تصاویر والوں کو عذاب دیا جائے گا اور ان سے کہا جائے گا کہ جو کچھ تم نے تخلیق کیا ہے اِسے زندہ کرو۔ پھر آپ نے فرمایا: جس گھر میں تصاویر ہوں، اس میں فرشتے داخل نہیں ہوتے۔‘‘

عن سعید بن ابی الحسن قال کنت عند ابن عباس رضی اللّٰہ عنھما اذ اتاہ رجل فقال یا ابا عباس انی انسان انما معیشتی من صنعۃ یدی وانی اصنع ھذہ التصاویر فقال ابن عباس لا احدثک الا ما سمعت رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم یقول سمعتہ یقول من صور صورۃ فان اللّٰہ معذبہ حتی ینفخ فیھا الروح ولیس بنافخ فیھا ابدا فربا الرجل ربوۃ شدیدۃ واصفر وجہہ فقال ویحک ان ابیت الا ان تصنع فعلیک بھذا الشجر کل شیء لیس فیہ روح. (بخاری ، رقم ۲۲۲۵) 

’’سعید بن ابی الحسن سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں ابن عباس رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھا ہوا تھا، اتنے میں ایک شخص آیا اور اس نے کہا: اے ابو عباس ،میں ایک ایسا شخص ہوں جو اپنے ہاتھ سے روزی کماتا ہے اور میرا روزگار یہ تصویریں بنانا ہے۔ حضرت ابن عباس نے جواب دیا کہ میں تم سے وہی بات کہوں گا جو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے۔ میں نے آپ(رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلم )کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو شخص تصویر بنائے گا، اللہ اسے عذاب دے گا اور اسے اس وقت تک نہ چھوڑے گا ، جب تک وہ اس میں روح نہ پھونکے اور وہ اس میں کبھی بھی نہ پھونک سکے گا۔ یہ بات سن کر وہ شخص بہت گھبرا گیا  اور اس کے چہرے کا رنگ زرد پڑ گیا۔اس پر ابن عباس نے کہا :بندۂ خدا اگر تجھے تصویر بنانی ہی ہے تو اس درخت کی بنا یا کسی ایسی چیز کی بنا جس میں روح نہ ہو۔ ‘‘

عن ابی زرعۃ قال دخلت مع ابی ھریرۃ فی دار مروان فرای فیھا تصاویر فقال سمعت رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم یقول قال اللّٰہ عزوجل ومن اظلم ممن ذھب یخلق خلقا کخلقی فلیخلقوا ذرۃ او لیخلقوا حبۃ او لیخلقوا شعیرۃ. (مسلم ، رقم ۲۱۱۱) 

’’ابو زرعہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں حضرت ابو ہریرہ کے ساتھ مروان کے گھر میں داخل ہوا تو انھوں نے اس میں تصاویر دیکھیں تو کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ کہتے ہوئے سنا ہے کہ اللہعزوجل فرماتے ہیں: اس شخص سے بڑا ظالم کون ہو گا، جو میرے مخلوقات بنانے کی طرح مخلوقات بنانے نکل کھڑا ہوا۔ (ایسی جسارت کرنے والوں کو چاہیے کہ) وہ (میری کوئی چھوٹی سی مخلوق مثلاً) ایک ذرہ تو تخلیق کر کے دکھائیںیا ایک دانہ یا ایک جو ہی تخلیق کر کے دکھا دیں۔‘‘

 

عن مسلم بن صبیح قال کنت مع مسروق فی بیت فیہ تماثیل مریم فقال مسروق ھذا تماثیل کسری فقلت لا ھذا تماثیل مریم فقال مسروق اما انی سمعت عبد اللّٰہ بن مسعود یقول قال رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم اشد الناس عذابا یوم القیامۃ المصورون. (مسلم، رقم ۲۱۰۹) 

’’مسلم بن صبیح سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں مسروق کے ساتھ ایک ایسے گھر میں تھا، جس میں مریم (علیہا السلام) کی تماثیل (مجسمے یا تصاویر) تھیں۔ مسروق کہنے لگے: یہ کسریٰ کی تماثیل ہیں۔ میں نے کہا: نہیں، یہ مریم کی تماثیل ہیں۔ مسروق نے کہا: آگاہ رہو، میں نے عبد اللہ بن مسعود سے سنا ہے، وہ کہتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: قیامت کے دن مصوروں (تماثیل بنانے والوں پر) سب سے زیادہ عذاب ہو گا۔‘‘

تصویر کے بارے میں احادیث تو ان کے علاوہ اور بھی وارد ہوئی ہیں ، لیکن بنیادی طور پر یہی وہ احادیث ہیں جن پر اس نقطۂ نظر کا دار و مدار ہے۔

 

استدلال 

اس نقطۂ نظر کے بنیادی نکات درج ذیل ہیں : 

۱۔تصاویر اصلاً دو قسم کی ہیں: 

اولاً ، ذی روح ( جان دار وجود )کی تصویر ۔

ثانیاً ، غیر ذی روح (بے جان شے )کی تصویر۔

۲۔ ذی روح ( جان دار وجود )کی تصویر بنانا، ہر صورت میں اور ہر حوالے سے بالکل حرام ہے۔ یہ کبیرہ گناہ ہے، کیونکہ اسے بنانے میں خدا کی صفت تخلیق سے تشابہ اختیار کرنے کا جرم پایا جاتا ہے۔ اس تشابہ کی وضاحت اس نقطۂ نظر کے علما یوں کرتے ہیں کہ جان دار کی تصویر بنانے میں تخلیق کی نقالی اور ایک حیثیت سے اللہ تعالیٰ کی مخصوص صفات ’’الخالق‘‘ اور’’ المصور‘‘ میں عملاً شریک ہونے کا دعویٰ پایا جاتا ہے، کیونکہ کسی وجود میں روح پھونکنا یا جان ڈالنا صرف اللہ ہی کا کام ہے، یہ کوئی دوسرا نہیں کر سکتا، یہ صرف خدا ہی کے ساتھ خاص ہے۔ پس روح والی شے کی تصویر خدا کی خاص تخلیق کی نقالی یعنی خدا کی تخلیق کی طرح تخلیق کرنا ہے۔ اسی لیے اس تصویر کے بنانے کو خدا نے اپنے مخلوق بنانے کی طر ح مخلوق بنانا قرار دے دیا ہے، جیسا کہ درج بالا حدیث سے ثابت ہے۔ پس یہ کہنا صحیح ہے کہ جان دار کی تصویر بنانے والا اپنے آپ کو خدا کی طرح خالق کی جگہ پرلاکھڑا کرتا ہے۔ چنانچہ جان دار کی تصویر بنانا بالکل حرام ہے۔

۳۔ غیرذی روح (بے جان شے) جیسے درخت وغیرہ کی تصویر بنانا جائز ہے۔ اس میں خدا کی صفت تخلیق سے مشابہت اختیار کرنے کا جرم نہیں پایا جاتا۔ لہٰذا بے جان اشیا کی تصویر بنانے والا خدا جیساخالق اور مصور بننے کا مدعی شمار نہیں ہوتا، چنانچہ یہ جائز ہے۔

۴۔ تصویر اور مجسمہ، دونوں حرمت میں یکساں ہیں۔

۵۔ وہ شے جس پر جان دار کی تصویر بنی ہو، اس کو کسی استعمال میں لانا اصلاً جائز نہیں ہے، لیکن اگر وہ شے اہانت والی جگہ پر پڑی ہوتواس صورت میں اس کے استعمال کی اجازت ہے۔

 

تجزیہ

اس نقطۂ نظر میں جان دار کی تصویر کو حرام قرار دیا گیا ہے اور اس کی حرمت کی یہ وجہ بیان کی گئی ہے کہ جان دار کی تصویر بنانے میں اللہ کی تخلیق سے تشابہ پایا جاتا ہے اور بے جان کی تصویر،جسے بنانے میں،خدا کی تخلیق سے تشابہ نہیں پایا جاتا ہے، وہ جائز ہے۔

یہ رائے کسی صورت میں بھی درست قرار نہیں دی جا سکتی ،کیونکہ اس میں دو بنیادی غلطیاں ہیں۔

۱۔ جن ا حادیث پر اس نقطۂ نظر کی بنیاد رکھی گئی ہے ،ان کے اپنے الفاظ سے نہ صرف یہ کہ یہ نقطۂ نظر ثابت نہیں ہوتا، بلکہ یہ انھی احادیث سے متعارض بھی ہے۔ 

۲۔ یہ نقطۂ نظر تماثیل کے بارے میں قرآن کے تصور کے خلاف ہے۔