روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے امت کی طرف سے قربانی کی تھی۔ مسلم میں ہے:۲۸؂

عن عائشۃ رضی اﷲ عنہا أن رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم أمر بکبش أقرن، یطأ فی سواد، ویبرک فی سواد، وینظر فی سواد. فأتی بہ لیضحی بہ. فقال لہا: یا عائشۃ، ہلمی المدیۃ. ثم قال: اشحذیہا بحجر. ففعلت. ثم أخذہا. وأخذ الکبش. فأضجعہ. ثم ذبحہ. ثم قال: باسم اﷲ، اللہم تقبل من محمد وآل محمد ومن أمۃ محمد. ثم ضحی بہ.(رقم۱۹۶۷) 
’’حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سینگوں والا مینڈھا لانے کو کہا جو سیاہی میں چلتا ہو، سیاہی میں بیٹھتا ہو، سیاہی میں دیکھتا ہو۔۲۹؂ چنانچہ یہ مینڈھا لایا گیا تاکہ آپ اسے ذبح کریں۔ اس پر آپ نے ان سے فرمایا: عائشہ، چھری لاؤ۔ پھر فرمایا: اسے پتھر پر تیز کرو۔ چنانچہ انھوں نے (ایسا ہی )کیا۔ پھر آپ نے چھری پکڑی اور مینڈھے کو پکڑا۔ پھر اسے لٹایا اور ذبح کر نے لگے۔ آپ نے تکبیر پڑھی اور دعا کی: اے اللہ، اسے محمد کی طرف سے اور آل محمد کی طرف سے اور امت محمد کی طرف سے قبول فرما۔پھر آپ نے اسے قربان کر دیا۔ ‘‘

بعض روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ ایک موقع پر آپ نے امت کے لیے الگ قربانی کی۔ ابوداؤد میں ہے:۳۰؂

عن جابر بن عبد اﷲ قال: ذبح النبی صلی اﷲ علیہ وسلم یوم الذبح کبشین أقرنین أملحین موجئین. فلما وجہہما قال: انی وجہت وجہی للذی فطر السموات والارض علی ملۃ ابراہیم حنیفا وما أنا من المشرکین.ان صلاتی ونسکی ومحیای ومماتی ﷲ رب العالمین. لا شریک لہ. وبذلک أمرت. وأنا من المسلمین. اللہم منک ولک عن محمد وأمتہ باسم اﷲ و اﷲ اکبر. ثم ذبح. (رقم۲۷۹۵) 
’’حضرت جابر بن عبداللہ( رضی اللہ عنہ) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عید کے روز سینگوں والے دو خصی مینڈھے جن کی اون زیادہ تر سفیدتھی، ذبح کیے۔ جب آپ نے قبلہ رو لٹایا تو کہا: میں اپنا رخ اس کی طرف کرتا ہوں جس نے زمین و آسمان بنائے، یک سو ابراہیم کے طریقے پر اور میں مشرکوں میں سے نہیں ہوں۔ میری نماز، اور میری قربانی، اورمیری زندگی اور میری موت کائنات کے مالک اللہ کے لیے ہیں۔ اس کا کوئی شریک نہیں۔ اور مجھے اسی کا حکم دیا گیا ہے۔ اور میں مسلمانوں میں سے ہوں۔ اے اللہ، تیری عطا سے اور تیرے لیے محمد کی طرف سے اور اس کی امت کی طرف سے۔ بسم اللہ، اللہ اکبر۔ پھر آپ نے ذبح کر دیے۔ ‘‘

ایک روایت میں ’’امت کی طرف سے‘‘ کی بات،’’ امت کے ان لوگوں کی طرف سے جنھوں نے قربانی نہیں کی‘‘ کے الفاظ میں بیان ہوئی ہے۔ ابوداؤد ہی میں ہے:۳۱؂

عن جابر بن عبد اﷲ رضی اﷲ عنہ قال: شہدت مع رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم الأضحی بالمصلی. فلما قضی خطبتہ نزل من منبرہ. وأتی بکبش. فذبحہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم بیدہ. وقال: بسم اﷲ و اﷲ اکبر، ھذا عنی وعمن لم یضح من أمتی.(رقم ۲۸۱۰) 
’’حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں عید قربان کی نماز کے لیے عید گاہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھا۔ جب آپ نے خطبہ مکمل کیا تو آپ منبر سے اترے ۔ آپ کے پاس ایک مینڈھا لایا گیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اپنے ہاتھ سے ذبح کیا۔ آپ نے تکبیر پڑھی اورفرمایا: یہ میری طرف سے اور میری امت کے ان لوگوں کی طرف سے جنھوں نے قربانی نہیں کی۔ ‘‘

ان روایات کے مطالعے سے ایک بات یہ معلوم ہوتی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے امت کی طرف سے قربانی کی تھی، یعنی یہ عمل نیابت کا ہے، ایصال ثواب کا نہیں ہے۔ دوسری یہ معلوم ہوتی ہے کہ آپ نے یہ قربانی ان لوگوں کی جانب سے کی تھی جو قربانی نہیں کر سکے تھے۔ اگرچہ یہ بات تمام روایات میں بیان نہیں ہوئی، لیکن قرین قیاس محسوس ہوتا ہے کہ باقی روایات بھی اسی کے تحت ہیں۔ تیسری یہ بات سامنے آتی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ قربانی زندوں کی طرف سے کی ہے۔ چنانچہ ایصال ثواب کا ان روایات سے کوئی تعلق نہیں۔ چوتھی بات یہ معلوم ہوتی ہے کہ یہ عمل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ خاص رہا۔ اسے بعد میں خلفاے راشدین نے جاری نہیں رکھا، اس سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ امت کے لیے یہ عمل بناے استدلال نہیں بن سکتا۔
قربانی ہی کے ضمن میں ایک روایت حضرت علی رضی اللہ عنہ سے متعلق ہے، اس روایت کے مطابق حضرت علی رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے قربانی کیا کرتے تھے۔ابوداؤد میں ہے:

عن حنش قال: رأیت علیا یضحی بکبشین. فقلت: ما ہذا؟ فقال: إن رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم اوصانی أن أضحی عنہ. فأنا أضحی عنہ.(رقم۲۷۹۰) 
’’حضرت حنش بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ وہ دو مینڈھے قربان کر رہے ہیں۔ میں نے پوچھا: یہ کیا ہے۔ حضرت علی نے بتایا: مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وصیت کی تھی کہ میں ان کی طرف سے قربانی کروں۔ چنانچہ میں ان کی طرف سے قربانی کرتا ہوں۔‘‘

یہ روایت ایک ضعیف روایت ہے ۔اس کا مقصود حضرت علی کی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ خصوصی نسبت کو واضح کرنا ہے۔ اس وصیت کے وجود کی کسی دوسرے ذریعے سے تائید نہیں ہوتی، اور نہ ہی حضرت علی کے قربانی کرنے کے کوئی اور شواہد موجود ہیں، لیکن اسے اگر بطور ایک واقعہ مان لیا جائے تب بھی اس سے ایصال ثواب کا مقدمہ ثابت نہیں ہوتا، اس لیے کہ حضرت علی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر کے ایک فرد کی طرح تھے اور ان کا یہ عمل آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وصیت پر عمل تھا۔ ان کی جانب سے ایصال ثواب کے نقطۂ نظر سے کیا گیا عمل نہیں تھا۔

 



۲۸؂ اس روایت کے دوسرے متون کے لیے دیکھیے: ابوداؤد، رقم۲۷۹۲؛ احمد، رقم۲۴۵۳۵؛ ابن حبان، رقم۵۹۱۵؛ بیہقی، رقم۱۸۸۲۵،۱۸۹۶۴۔ 
۲۹؂ مراد یہ ہے کہ اس کے پیٹ پر اور کھر اور آنکھوں کے گرد اگے بال سیاہ تھے،یعنی یہ ایک خوب صورت مینڈھا تھا۔
۳۰؂ اس روایت کے دوسرے متون کے لیے دیکھیے:ابن ماجہ، رقم ۳۱۲۲؛ احمد، رقم ۲۵۸۸۵، ۲۵۹۲۸، ۲۷۲۳۴؛ بیہقی، رقم۱۸۷۸۸، ۱۸۸۲۶۔۱۸۸۲۸، ۱۸۸۶۸، ۱۸۹۶۶، ۱۸۹۶۷؛ ابویعلیٰ، رقم۱۴۱۷، ۱۴۱۸، ۳۱۱۸۔ 
۳۱؂ اس روایت کے دوسرے متون کے لیے دیکھیے: ترمذی، رقم۱۵۲۱؛ احمد، رقم۱۱۰۶۶، ۱۴۸۸۰، ۱۴۹۳۶، ۱۴۹۳۸؛ بیہقی، رقم۱۸۸۱۲، ۱۸۹۶۵۔