باب اول


بائبل میں درج ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم علیہ السلام سے اپنا ’اکلوتا بیٹا‘ سوختنی قربانی کے طور پر پیش کرنے کے لیے کہا۔ یہ بات بالکل واضح ہے کہ ’اکلوتا بیٹا‘ صرف حضرت اسماعیل علیہ السلام ہی کو کہا جا سکتا ہے، کیونکہ یہ صرف اسماعیل علیہ السلام ہی تھے جو چودہ سال تک حضرت ابراہیم علیہ السلام کے اکلوتے فرزند رہے۔ جب حضرت اسحاق علیہ السلام پیدا ہوئے تو حضرت ابراہیم علیہ السلام کے کسی بھی فرزند کے متعلق ’اکلوتا بیٹا‘ کے الفاظ استعمال نہیں کیے جا سکتے تھے، کیونکہ اب ان کے صرف ایک نہیں، بلکہ دو بیٹے تھے۔ یہودی عُلَما نے خیال کیا کہ اللہ کے حضور قربانی کے لیے پیش کیا جانا ایک بہت بڑا اعزاز ہے، اس لیے ان کو یہ بات پسند نہ آئی کہ قربانی کا یہ واقعہ اصلی اکلوتے بیٹے حضرت اسماعیل علیہ السلام سے منسوب ہو، کیونکہ حضرت اسماعیل علیہ السلام ان کے حقیقی مُورِثِ اعلیٰ نہ تھے۔ ان کے مُورِثِ اعلیٰ تو حضرت اسحاق علیہ السلام تھے، اس لیے انھوں نے قربانی کے اس واقعہ کو حضرت اسحاق علیہ السلام کی طرف منسوب کرنے کی کوشش کی۔
بائبل کے بیان کے مطابق قربانی کا مقصد یہ تھا کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی آزمایش کی جائے، جس کی پہلی ہی آیت میں وضاحت کر دی گئی ہے۔ قرآنِ کریم میں بھی حضرت ابراہیمؑ کی آزمایش کا ذکر موجود ہے:

وَاِذِ ابْتَلآی اِبْرٰہٖمَ رَبُّہٗ بِکَلِمٰتٍ فَاَتَمَّہُنَّ قَالَ اِنِّیْ جَاعِلُکَ لِلنَّاسِ اِمَامًا قَالَ وَمِنْ ذُرِّیَّتِیْ قَالَ لاَ یَنَالُ عَہْدِی الظّٰلِمِیْنَ.(البقرہ۲: ۱۲۴)
یادکروکہ جب ابراہیم ؑ کو اُس کے رب نے چند باتوں میں آزمایا اور وہ اُن سب میں پورا اتر گیا، تواُس نے کہا: ’میں تجھے سب لوگوں کا پیشوا بنانے والا ہوں۔‘ ابراہیم ؑ نے عرض کیا: ’ اور کیا میری اولاد سے بھی یہی وعدہ ہے؟‘ اُس نے جواب دیا: ’میرا وعدہ ظالموں سے متعلق نہیں ہے۔‘

اہم اور قابل غور بات یہ ہے کہ قربانی کا خواب میں دِکھایا جانایہ ظاہر کرتاہے کہ مقصود محض ایک آزمایش ہی تھی اور ان الفاظ پر بعینہٖ عمل کیا جانا مطلوب نہ تھا۔ بیانِ واقعہ سے یہ بات پوری طرح عیاں ہے۔

 

 

بائبل میں واقعۂ قربانی کا بیان

بائبل میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کا اپنے ’اکلوتے بیٹے‘کو قربانی کے لیے پیش کرنے کا واقعہ ان الفاظ میں بیان ہوا ہے:

And it came to pass after these things, the God did tempt Abraham, and said unto him, Abraham: and he said, Behold, here I am. (2) And he said, Take now thy son, thine only son Isaac, whom thou lovest, and get thee into the land of Moriah; and offer him there for a burnt offering upon one of the mountains which I will tell thee of. (3) And Abraham rose up early in the morning, and saddled his ass, and took two of his young men with him, and Isaac his son, and clave the wood for the burnt offering, and rose up, and went unto the place of which God had told him. (4) Then on the third day Abraham lifted up his eyes, and saw the place afar off. (5) And Abraham said unto his young men, Abide ye here with the ass and I and the lad will go yonder and worship, and come again to you (6) And Abraham took the wood of the burnt offering, and laid it upon Isaac his son; and he took the fire in his hand, and a knife; and they went both of them together. (7) And Isaac spake unto Abraham his father, and said, My father: and he said, Here am I, my son. And he said, Behold the fire and the wood: but where is the lamb for a burnt offering? (8) And Abraham said, My son, God will provide himself a lamb for a burnt offering: so they went both of them together. (9) And they came to the place which God had told him of; and Abraham built an altar there, and laid the wood in order, and bound Isaac his son, and laid him on the altar upon the wood. (10) And Abraham stretched forth his hand, and took the knife to slay his son. (11) And the angel of the Lord called unto him out of heaven, and said, Abraham, Abraham: and he said, Here am I. (12) And he said, Lay not thine hand upon the lad, neither do thou any thing upon him: for now I know that thou fearest God, seeing thou hast not withheld thy son, thine only son from me. (13) And Abraham lifted up his eyes, and looked, and behold behind him a ram caught in a thicket by his horns: and Abraham went and took the ram, and offered him up for a burnt offering in the stead of his son. (14) And Abraham called the name of that place Jehovah-jireh: as it is said to this day, In the mount of the Lord it shall be seen.(15) And the angel of the Lord called unto Abraham out of heaven the second time, (16) And said, By myself have I sworn, saith the Lord, for because thou hast done this thing, and hast not withheld thy son, thine only son:(17) That in blessing I will bless thee, and in multiplying I will multiply thy seed as the stars of the heaven, and as the sand which is upon the sea shore; and thy seed shall possess the gate of his enemies; (18) And in thy seed shall all the nations of the earth be blessed; because thou hast obeyed my voice.۱؂

کتابِ مقدس سے اس کا اردو ترجمہ درجِ ذیل ہے:

ان باتوں کے بعد یوں ہوا کہ خدا نے ابرؔ ہام کو آزمایااور اسے کہااے ابرہام! اس نے کہا میں حاضر ہوں (۱)۔ تب اُس نے کہا کہ تواپنے بیٹے اِضحاؔ ق کو جو تیرا اکلوتا ہے اور جسے تو پیار کرتا ہے ساتھ لے کر مورؔ یاہ کے ملک میں جا اور وہاں اُسے پہاڑوں میں سے ایک پہاڑ پر جو میں تجھے بتاؤں گاسوختنی قُربانی کے طَور پر چڑھا(۲)۔ تب ابرہاؔ م نے صبح سویرے اٹھ کر اپنے گدھے پر چارجامہ کسا اور اپنے ساتھ دو جوانوں اور اپنے بیٹے اضحاؔ ق کو لیا اور سوختنی قُربانی کے لیے لکڑیاں چیریں اور اٹھ کر اُس جگہ کو جو خُدا نے اُسے بتائی تھی روانہ ہُوا(۳)۔ تِیسرے دِن ابرہاؔ م نے نگاہ کی اور اُس جگہ کو دُور سے دیکھا(۴)۔ تب ابرہاؔ م نے اپنے جوانوں سے کہا تم یہیں گدھے کے پاس ٹھہرو۔ مَیں اور یہ لڑکا دونوں ذرا وہاں تک جاتے ہیں اور سجدہ کر کے پھر تمھارے پاس لَوٹ آئیں گے۲؂ (۵)۔ اور ابرہاؔ م نے سوختنی قُربانی کی لکڑیاں لے کر اپنے بیٹے اِضحاؔ ق پر رکھّیں اور آگ اور چھُری ۳؂ اپنے ہاتھ میں لی اور دونوں اِکٹھّے روانہ ہُوئے(۶)۔ تب اِضحاؔ ق نے اپنے باپ ابرہاؔ م سے کہا اے باپ! اُس نے جواب دیا کہ اَے میرے بیٹے میں حاضِر ہُوں۔ اُس نے کہا دیکھ آگ اور لکڑیاں تو ہیں پر سوختنی قُربانی کے لیے بّرہ کہاں ہے؟ (۷)۔ ابرہاؔ م نے کہا اے میرے بیٹے خُدا آپ ہی اپنے واسطے سوختنی قُربانی کے لیے بّرہ مُہیّا کر لے گا۔ ۴؂ سو وہ دونوں آگے چلتے گئے(۸) ۔ اور اُس جگہ پہنچے جو خدا نے بتائی تھی۔ وہاں ابرہاؔ م نے قُربان گاہ بنائی اور اُس پر لکڑیاں چُنیں اور اپنے بیٹے اضحاؔ ق کو باندھا اور اُسے قُربان گاہ پر لکڑیوں کے اوپر رکھا(۹)۔ اور ابرہاؔ م نے ہاتھ بڑھا کر چُھری لی کہ اپنے بیٹے کو ذبح کرے(۱۰)۔ تب خداوند کے فرشتہ نے اُسے آسمان سے پُکارا کہ اَے ابرہاؔ م اَے ابرہاؔ م! اُس نے کہا میں حاضر ہوں(۱۱)۔ پھر اس نے کہا کہ تو اپنا ہاتھ لڑکے پر نہ چلا اور نہ اس سے کچھ کر کیونکہ میں اب جان گیا کہ تو خدا سے ڈرتا ہے اس لیے کہ تو نے اپنے بیٹے کو بھی جو تیرا اکلوتا ہے مُجھ سے دریغ نہ کیا(۱۲)۔ اور ابرہاؔ م نے نگاہ کی اور اپنے پیچھے ایک مینڈھا دیکھا جس کے سِینگ جھاڑی میں اٹکے تھے۔ تب ابرہاؔ م نے جا کر اُس مینڈھے کو پکڑا اور اپنے بیٹے کے بدلے سوختنی قربانی کے طَور پر چڑھایا(۱۳)۔ اور ابرہاؔ م نے اُس مقام کا نام یہوؔ واہ یری رکھّا۔چنانچہ آج تک یہ کہاوت ہے ۵؂کہ خُداوند کے پہاڑ پر مُہیّاکیا جائے گا(۱۴)۔ اور خُداوند کے فرشتہ نے آسمان سے دوبارہ ابرہاؔ م کو پُکارا اور کہا کہ(۱۵)۔ خُداوند فرماتا ہے چُونکہ تُو نے یہ کام کیا کہ اپنے بیٹے کو بھی جو تیرا اِکلوتا ہے دریغ نہ رکھّا اِس لیے میں نے بھی اپنی ذات کی قسم کھائی ہے کہ (۱۶)۔ میں تجھے برکت پر برکت دُوں گا اور تیری نسل ۶؂کو بڑھاتے بڑھاتے آسمان کے تاروں اور سمندر کے کنارے کی ریت کی مانِند کر دُوں گا اور تیری اَولاد اپنے دُشمنوں کے پھاٹک کی مالک ہوگی۷؂(۱۷)۔ اور تیری نسل کے وسیلہ سے زمین کی سب قومیں برکت پائیں گی۸؂ کیونکہ تونے میری بات مانی ۹؂(۱۸) ۔

یہاں یہ بات ذہن میں رہے کہ مندرجہ بالا عبارت میں قصہ نگار نے صرف محدود الفاظ ہی خدا وند کی طرف منسوب کیے ہیں، باقی تمام عبارت قصہ نگار کے اضافی توضیحی الفاظ پر مشتمل ہے۔ جو الفاظ خدا وند کی طرف منسوب ہیں، ان میں بھی ہزار سالہ زبانی روایت کے مراحل میں فطری طور پر اور راویوں کے رجحانات ونظریات کے زیرِ اثر حذف واضافہ ہوتا رہا ہے۔ اس سے عبارت کی استنادی حیثیت کا بخوبی اندازہ کیا جا سکتا ہے۔

 

 

بائبل کے اس قصے کی حیثیت

حضرت ابراہیم علیہ السلام کے اپنے ’اکلوتے‘ بیٹے کو قربانی کے لیے پیش کرنے کے مندرجہ بالا قصے میں قابلِ لحاظ حد تک کئی مرتبہ متعدد تبدیلیاں کی گئی ہیں۔ ’انسائیکلوپیڈیا ببلیکا‘ میں اس کے متعلق وضاحت کی گئی ہے:

It has become certain that the story has been considerably altered since E [Elohist] wrote it. The editor or compiler of JE [Yahwist and Elohist] not only appended vv 14b-18 (an unoriginal passage, full of reminiscences), but also introduced several alterations into vv. 1-14a. (133). So far, however, as an opinion is possible, the form of the Elohist\'s story is, apart from the detail about the ram, all his own. It was suggested, indeed, by circumstances already related in the traditional narratives; but it was molded by himself, and it is bathed throughout in an ideal light. Evidently this pious writer felt that for the higher religious conceptions no traditional story would be an adequate vehicle. The course which he adopted shows the writer to have been a great teacher. He admits the religious feeling which prompted the sacrifice of a firstborn son; (133) . ۱۰؂

یہ بات یقینی طور پر ثابت ہو چکی ہے کہ جب سے الوہسٹ ( Elohist) نے یہ قصہ تحریر کیا اس وقت سے یہ قابل لحاظ حد تک تبدیل ہو چکا ہے۔ یہوسٹ (Yahwist) + الوہسٹ (Elohist) ،یعنی JE کے مدیر و مؤلف نے نہ صرف اس میں آیات ۱۴۔ ب تا ۱۸ (جو اصلی عبارت میں موجود نہیں، بلکہ زبانی یادداشتوں پر مشتمل ہیں) کا اضافہ کیا، بلکہ آیات ا تا ۱۴۔ الف میں بھی متعدد تبدیلیاں کیں۔ (...) ۔ تاہم جس حد تک کوئی راے قائم کرنا ممکن ہے، دنبے کے متعلق بیان کردہ تفصیلات کو چھوڑ کر، الوہسٹ کے بیان کردہ قصے کے خدوخال اس کی اپنی تصنیف ہیں۔ اس کی طرف اشارے تو فی الحقیقت ان حالات سے ماخوذ ہیں جو روایتی قصے میں پہلے سے موجود ہیں، لیکن ان کا ڈھانچا خود اسی کا تیار کردہ ہے اور یہ شروع سے آخر تک ایک مثالی انداز میں لکھا گیا ہے۔ صاف ظاہر ہے کہ اس نیک اور پارسا مصنف نے یہ محسوس کیا کہ بلند تر دینی تصورات کے لحاظ سے وہ قصہ جو روایتی طور پر بیان ہوتا آ رہا ہے، مناسب نہیں۔ اس نے جو راستہ اختیار کیا ہے اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ مصنف ایک بہت بڑا معلم رہا ہے۔ وہ اس دینی احساس کا اعتراف کرتا ہے جو پہلونٹے بیٹے کی قربانی کا محرک ہوا۔(...)۔

یہ اقتباس اس بات کا متقاضی ہے کہ اس کا گہری نظر سے مطالعہ کیا جائے۔الگ الگ نِکات کی صورت میں اسے یوں پیش کیا جا سکتا ہے:

(۱) اس قصے میں ’ تبدیلیاں‘ اور ’ اضافے‘ پوری آزادی سے روبہ عمل لائے گئے ہیں۔
(۲) ’تبدیلیوں‘ کا عمل محض ایک مفروضہ نہیں ہے، بلکہ یہ ’ ایک یقینی امر‘ ہے ۔
(۳) ’ تبدیلیاں‘ صرف ایک دو نہیں، بلکہ ’ قابل لحاظ ‘ مقدار میں کی گئی ہیں۔
(۴) اس قصے کا مرکزی موضوع الوہسٹ روایت سے تعلق رکھتا ہے۔
(۵) جس مؤلف نے الوہسٹ اور یہوسٹ بیانات کے امتزاج سے یہ قصہ ترتیب دیا ہے، اس نے نہ صرف آیات ۱۴۔ ب تا ۱۸ کا اضافہ کیا، بلکہ آیات ۱ تا ۱۴ ۔الف میں اپنی طرف سے متعدد تبدیلیاں بھی کیں۔
(۶) مؤلف ایک نیک و پارسا مصنف اور ایک بڑا معلم تھا۔ جب اس نے دیکھا کہ روایتی قصہ مفید مطلب نہیں تو اُس نے اِسے بڑی آزادی سے بذات خود ایسے انداز میں ڈھال لیا جو اس کے نزدیک بلند تر دینی تصورات کے لحاظ سے زیادہ موزوں تھا۔
(۷) ’پہلونٹے بیٹے کی قربانی ‘ ایک دینی ضرورت سمجھی جاتی تھی۔

 

 

حواشی باب اول

1. The Bible (KJV), Gen. 22:1-18.

۲؂ حضرت ابراہیم علیہ السلام اپنے بیٹے کو سوختنی قربانی کے طور پر پیش کرنے کے لیے لے جارہے تھے ۔ یہ بات کہ وہ وہاں عبادت کے لیے جا رہے تھے، درست نہیں ہے، تاہم اگر ’عبادت‘ سے یہاں ’قربانی‘ مراد لی جائے تو یہ کہنا صریحاً غلط ہو گا کہ ابراہیم علیہ السلام خود اور یہ لڑکا ان (دو جوانوں) کے پاس واپس آجائیں گے۔ وہ اپنے ’اکلوتے بیٹے‘ کو قربانی کے لیے پیش کرنے کی غرض سے لے جا رہے تھے، اس لیے واپسی پر وہ اور ان کا یہ لڑکا اکٹھے تو کسی صورت نہ آ سکتے تھے۔ جب بیٹا قربان ہو نا تھا تو ظاہر ہے واپس تو صرف حضرت ابراہیم علیہ السلام ہی آ سکتے تھے، لیکن اگر یہ کہا جائے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام جھوٹ نہیں بول رہے تھے اور انھیں اس بات کی پیشگی اطلاع تھی کہ اس لڑکے کی جگہ قربانی کے لیے ایک برّہ مہیا کر دیا جائے گا تو پھر نام نہاد قربانی کا یہ سارا ڈراما بے وقعت ہو کر رہ جاتا ہے اور ’آزمایش‘ والی یہ بات سراسر بے معنی اور فضول قرار پاتی ہے۔ اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ کہانی کا یہ حصہ جعلی ہے، کیونکہ یہ حضرت ابراہیم علیہ السلام جیسے عظیم الشان پیغمبر کو ایک جھوٹے اور دھوکے باز انسان کی حیثیت سے پیش کرتا ہے۔ یہ بات ایک نبی کے منصب کے کسی طرح بھی شایانِ شان نہیں ۔ جو شخص سچا، دیانت دار اور قابل اعتماد نہ ہو،اسے نبی کیسے قرار دیا جا سکتا ہے۔
۳؂ یہ بات بھی حضرت ابراہیم علیہ السلام جیسے جلیل القدر نبی کے کردار سے مطابقت نہیں رکھتی کہ لکڑیوں کا بھاری گٹھا تو اپنے فرزند کے ناتواں کندھوں پر لاد دیں، حالاں کہ اسے ابھی ابھی اللہ تعالیٰ کے حضور قربانی کے لیے پیش کیا جانا ہے۔ یہ صریحاًبے رحمی ہے۔ اس وجہ سے حضرت ابراہیم علیہ السلام کے متعلق یہ سوچا بھی نہیں جا سکتا کہ وہ ایسا کرتے۔ اس طرح کہانی کا یہ حصہ کسی طرح قابل اعتبار قرار نہیں دیا جا سکتا۔
۴؂ یہاں پھر حضرت ابراہیم علیہ السلام کی یہ بات درست نہیں ہو سکتی کہ ’خُدا آپ ہی اپنے واسطے سوختنی قُربانی کے لیے برّہ مُہیّا کر لے گا۔‘ حضرت ابراہیم علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے اپنے بیٹے کی قربانی کا حکم ہوا تھا اور وہ اسی مقصد کے لیے جا بھی رہے تھے۔ انھیں اس بات کا قبل از وقت علم نہ تھا کہ ان کے بیٹے کی جگہ قربانی کے لیے ایک برّہ مہیا کر دیا جائے گا، وگرنہ تو ’آزمایش‘ کا یہ سارا عمل ایک ڈراما قرار پاتا اور اس کی کوئی حیثیت نہ ہوتی۔ اس صورت میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کا یہ قول کہ ’خُدا آپ ہی اپنے واسطے سوختنی قُربانی کے لیے برّہ مُہیّا کر لے گا۔‘ درست نہیں، جو ناقابل یقین ہے۔معلوم ہوتا ہے کہ یہ جملہ بعد کے کسی مؤلف کا اضافہ ہے۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے شایانِ شان نہیں کہ وہ اس طرح کی جھوٹی طفل تسلیوں کے ذریعے سے اپنے بیٹے کو بہلانے کی کوشش کریں۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ کہانی کا یہ حصہ بھی کسی بعد کے مؤلف کا طبع زاد ہے۔
۵؂ یہ بات کہ ’چنانچہ آج تک یہ کہاوت ہے ‘ صریحاً ایک ایسا اضافہ ہے جو ممکن ہے کہ اس واقعہ کے رونما ہونے کے صدیوں بعد کسی مؤلف نے کیا ہو۔ بعض مفسرین اس اضافے کو حضرت موسیٰ علیہ السلام کی طرف منسوب کرتے ہیں، مثلاً :

This name, Moses adds, gave birth to the proverb, \'In the Mount of Jehovah it shall be seen.\' [7th Day Adventist Bible Com., ed. Francis D. Nichol et al. (Hagerstown: Review & Herald Publishing Association, 1978), 1:353].

یہاں حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اس بات کا اضافہ کر دیا کہ اس نام کی وجہ سے یہ کہاوت مشہور ہو گئی ہے’ کہ خُداوند کے پہاڑ پر مُہیّاکیا جائے گا‘۔

لیکن اب کوئی ثقہ عالم تورات کو حضرت موسیٰ علیہ السلام کی تصنیف قرار نہیں دیتا ،کیونکہ یہ تو ان کے قریباًپانچ سو سال بعد ضبط تحریر میں لائی گئی تھی۔
۶؂ سیاق و سباق کا تقاضا ہے کہ بائبل کی یہ عبارت :

’ چونکہ تُو نے یہ کام کیا کہ اپنے بیٹے کو بھی جو تیرا اِکلوتا ہے، دریغ نہ رکھّا، اِس لیے میں نے بھی اپنی ذات کی قسم کھائی ہے کہ میں تجھے برکت پر برکت دُوں گا اور تیری نسل کو بڑھاتے بڑھاتے آسمان کے تاروں اور سمندر کے کنارے کی ریت کی مانِند کر دُوں گا۔ ‘

اس بیٹے سے متعلق قرار دی جائے جس کا یہاں ذکر ہو ا ہے اور جسے ابھی ابھی حضرت ابراہیم ؑ نے قربانی کے لیے پیش کیا تھا۔ تاہم جب ’ تیری نسل‘ کے الفاظ کا اس طرح مطلقاً استعمال کیا جائے تو ان کا اطلاق ان کی نسل کے دوسرے لوگوں پر بھی کیا جا سکتا ہے، لیکن اس میں حضرت اسماعیل ؑ اور ان کی اولاد ترجیحی طور پر شامل ہو گی۔ اس طرح نسلِ اسماعیل علیہ السلام ’برکت ‘ اور ’ اضافہ‘ کے وعدے میں لازماً شامل قرار پائے گی۔
۷؂ اس کا حضرت اسحاق علیہ السلام کی نسل پر اطلاق ممکن نہیں۔ یہ تو دور کی بات ہے کہ ان کے متعلق یہ کہاجائے کہ ’تیری اَولاد اپنے دُشمنوں کے پھاٹک کی مالک ہوگی‘ ، حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ وہ تو اپنے صد سالہ عہدِ متحدہ مملکت کی مختصر سی مدت کے سوا اپنی تاریخ کے کسی دور میں اپنے پھاٹکوں کی حتیٰ کہ ہیکل سلیمانی کی عمارت کی بھی حفاظت نہ کر سکی۔
۸؂ جہاں تک یہودیوں کا تعلق ہے ،وہ صرف اپنے آپ ہی کو ’اللہ تعالیٰ کی لاڈلی اور منتخب قوم‘ قرار دیتے ہیں۔ اس سلسلے میں بائبل کے چند اقتباسات درج ذیل ہیں:

۱۔ دنیا کے سب گھرانوں میں سے میں نے صرف تم کو برگزیدہ کیا ہے۔ (عاموس ۳: ۲)
۲۔ کیونکہ تو خداوند اپنے خدا کی مقدس قوم ہے اور خداوند نے تجھ کو رُوئے زمین کی اور سب قوموں میں سے چن لیا ہے تاکہ تو اس کی خاص قوم ٹھہرے۔(استثنا ۱۴: ۲)
۳۔ اور جب خداوند تیرا خدا ان کو تیرے آگے شکست دلائے اور تو ان کو مار لے تو تُو ان کو بالکل نابود کر ڈالنا۔ تُو ان سے کوئی عہد نہ باندھنا اور نہ ان پر رحم کرنا۔ تو ان سے بیاہ شادی بھی نہ کرنا۔ نہ ان کے بیٹوں کو اپنی بیٹیاں دینا اور نہ اپنے بیٹوں کے لیے ان کی بیٹیاں لینا کیونکہ وہ تیرے بیٹوں کو میری پیروی سے برگشتہ کر دیں گے تاکہ وہ اور معبودوں کی عبادت کریں۔ ( ... )۔ کیونکہ تو خداوند اپنے خدا کے لیے ایک مقدس قوم ہے۔ خداوند تیرے خدا نے تجھ کو روئے زمین کی اور سب قوموں میں سے چن لیا ہے تاکہ اس کی خالص امت ٹھہرے خداوند نے جو تم سے محبت کی اور تم کوچن لیا تو اس کا سبب یہ نہ تھا کہ تم شمار میں اور قوموں سے زیادہ تھے کیونکہ تم سب قوموں سے شمار میں کم تھے۔ بلکہ چونکہ خداوند کو تم سے محبت ہے اور وہ اس قسم کو جو اس نے تمھارے باپ دادا سے کھائی پورا کرنا چاہتا تھا اس لیے خداوند تم کو اپنے زور آور ہاتھ سے نکال لایا اور غلامی کے گھر یعنی مصر کے بادشاہ فرعون کے ہاتھ سے تم کو مَخلصی بخشی۔ سو جان لے کہ خداوند تیرا خدا وہی خدا ہے ۔ وہ وفا دار خدا ہے اور جو اس سے محبت رکھتے ہیں اور اس کے حکموں کو مانتے ہیں ان کے ساتھ ہزارپشت تک وہ اپنے عہد کو قائم رکھتا اور ان پر رحم کرتا ہے۔ (...) ۔ اور [وہ] تجھ سے محبت رکھے گااور تجھ کو برکت دے گا اور بڑھائے گا اور اس ملک میں جسے تجھ کو دینے کی قسم اس نے تیرے باپ دادا سے کھائی، وہ تیری اولاد پر اور تیری زمین کی پیداوار یعنی تیرے غلہ اور مَے اور تیل پر اور تیرے گائے ، بیل کے اور بھیڑ بکریوں کے بچوں پر برکت نازل کرے گا۔تجھ کو سب قوموں سے زیادہ برکت دی جائے گی اور تم میں یا تمھارے چوپایوں میں نہ تو کوئی عقیم ہو گا نہ بانجھ [ یہ وعدہ صریحاً خلاف حقیقت ہے، کیونکہ یہودیوں میں سے ایسے ہزاروں لوگ ہوئے ہوں گے جو بانجھ تھے یا ان کے مویشی بانجھ تھے]۔ اور خداوند ہر قسم کی بیماری تجھ سے دور کرے گااور مصر کے ان برے روگوں کو جن سے تو واقف ہے تجھ کو لگنے نہ دے گا۔ بلکہ ان کو ان پر جو تجھ سے عداوت رکھتے ہیں نازل کرے گا [یہ بھی خوش اعتمادی پر مبنی ایک خواہش سے زیادہ حیثیت نہیں رکھتی اور زمینی حقائق کے بھی خلاف ہے۔ نیز اس سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ ان نام نہاد ’خداوند کے لوگوں ‘ کی ذہنیت کیا تھی]۔ اور تو ان سب قوموں کو جن کو خداوند تیرا خدا تیرے قابو میں کر دے گا نابود کر ڈالنا۔تو ان پر ترس نہ کھانا [کیسے بد نصیب ہوں گے وہ بے چارے لوگ جو شامت اعمال سے خدا کی اس ’ چنی ہوئی قوم‘کے ہتھے چڑھ جائیں]: (...) اور خداوند تیرا خدا ان قوموں کو تیرے آگے سے تھوڑا تھوڑا کرکے دفع کرے گا۔ تو ایک ہی دم ان کو ہلاک نہ کرنا۔ ایسا نہ ہو کہ جنگلی درندے بڑھ کر تجھ پر حملہ کرنے لگیں۔ بلکہ خداوند تیرا خدا ان کو تیرے حوالے کرے گا اور ان کو ایسی شکست فاش دے گاکہ وہ نابود ہو جائیں گے (استثنا ۷: ۲۔۴ الف، ۶ ۔ ۱۰، ۱۳ ۔ ۱۶، ۲۲ ۔ ۲۴)۔

جیوئش انسائیکلوپیڈیا، ۴: ۴۵ پربائبل کی کتاب استثنا ۱۴ :۲ (R.V.) سے نقل کیا گیا ہے:

Thou art an holy people unto the Lord thy God, and the Lord hath chosen thee to be a peculiar people unto himself, above all peoples that are upon the face of the earth.

تو خداوند اپنے خدا کے نزدیک ایک مقدس قوم ہے اور خداوند نے تجھے روے زمین کی تمام قوموں کے مقابلے میں اپنے لیے ایک مخصوص قوم کے طور پر چن لیا ہے۔

  جیوئش انسائیکلوپیڈیا ۴: ۴۵ پر'Mek. Yitro, Pes. R. K. 103b, 186a, 200a' کے حوالے سے مزید بیان کیا گیا ہے:

The Lord offerd the Law to all nations; but all refused to accept it except Israel.

خداوند نے قانون تمام قوموں کو پیش کیا، لیکن اسرائیل کے سوا سب نے اسے قبول کرنے سے انکار کر دیا۔

یہودی عملی طور پر اسے اپنے لیے امتیاز ی وجہِ افتخار سمجھتے ہیں۔ یہ بات ان کے درمیان ایک مسلسل روایت کی حیثیت رکھتی ہے۔ اس طرح یہ بات کہ ’اور تیری نسل کے وسیلے سے زمین کی سب قومیں برکت پائیں گی ‘ یہود پر کسی طرح صادق نہیں آتی۔اور حضرت اسحاق علیہ السلام کی پوری نسل، جو بنی اسرائیل یا یہود کے نام سے معروف ہے ، کی تاریخ اس بات کی نفی کرتی ہے۔ مندرجہ بالا اقتباسات کے حوالے سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ روے زمین کی تمام قومیں حضرت اسحاق علیہ السلام کی نسل، یعنی یہود کے وسیلے سے کسی طرح بھی برکت حاصل نہیں کر سکتیں۔بلکہ حقیقت تو یہ ہے کہ یہود کا وجود روے زمین کی تمام قوموں کے لیے مُوجبِ تکلیف و لعنت ہے۔اس کے برعکس حضرت اسماعیل علیہ السلام، جنھیں قربانی کے لیے پیش کیا گیا تھا، ہی وہ ذات ہیں جن کی نسل کے ذریعے سے روے زمین کی تمام قومیں فیض یاب ہوئی ہیں۔
۹؂ کتاب مقدس ، پیدایش ، ۲۲: ۱۔ ۱۸، بائبل سوسائٹی، انار کلی، لاہور، ۲۰۰۲ء۔

10- Enc. Biblica, Ed. T.K. Cheyne, ( London: Watts and co.), 2:2175,7.

____________