۲-اس بحث کا اصل مقصد بعض شبہات کا ازالہ ہے اس لیے میں چاہتا ہوں کہ یہ شبہات بیان کردوں تاکہ کتاب کے پڑھنے والے اس اصل مقصد سے بے خبر نہ رہیں جو اس کتاب کے تمام مباحث کا محور ومرکز ہے۔

قرآن مجید کی قسموں پر تین طرح کے شبہے وارد کئے گئے ہیں:

ا-        قسم فی نفسہ اللہ تعالیٰ کی شان وعظمت کے بالکل خلاف ہے۔ اپنی بات پر قسم وہ شخص کھاتا ہے جو اپنی ذات کو حقیر سمجھتا ہے اور جس کو بھروسہ نہیں ہوتا کہ لوگ اس کی بات باور کریں گے۔ قرآن مجید میں خود ہے۔

          وَلَا تُطِعْ کُلَّ حَلِّافٍ مَّھِیْنٍ (القلم:۱۰(

          ہر ذلیل قسم کھانے والے کی بات نہ سنو۔

          جس سے صاف واضح ہوتا ہے کہ قسم کھانا ایک ذلیل عادت ہے۔ حضرت مسیح علیہ السلام نے قسم کھانے کی مطلقاً ممانعت فرمائی ہے۔ ان کا ارشاد ہے کہ ’’تمہاری بات ہاں ہاں یا نہیں ہو قسم مت کھانا‘‘۔

ب)      قرآن مجید میں قسمیں نہایت اہم امور پر کھائی گئی ہیں مثلاً قیامت، توحید، رسالت اور ہر شخص یہ بات سمجھ سکتا ہے کہ ان امور میں قسم بالکل بے فائدہ چیز ہے۔ نہ اس سے مخالف کو کوئی فائدہ پہنچ سکتا ہے نہ موافق کو۔ مخالف دلیل وحجت کا طالب ہوتا ہے اور قسم کو دلیل وحجت سے کوئی تعلق نہیں اور موافق کسی چیز کا بھی طالب نہیں ہوتا وہ پہلے ہی سے ان حقائق پر ایمان لا چکا ہے جن پر یہ قسمیں کھائی گئی ہیں۔

ج)      قسم ایسی چیز کی کھائی جاتی ہے جو عظیم الشان اور بلند مرتبہ ہو ۔آنحضرت  ﷺ نے فرمایا ہے’’ جو قسم کھائے اللہ کی قسم کھائے یا خاموش رہے‘‘(بخاری ۔ باب  لا تحلفوا بآ بائکم) یعنی غیر اللہ کی قسم کی آپ نے ممانعت فرمائی ہے ۔ پھر اللہ تعالیٰ کے لیے یہ بات کیسے زیبا ہے کہ وہ اپنی مخلوقات کی قسم کھائے اور وہ بھی انجیر اور زیتون جیسی حقیر چیزوں کی!

یہ تین شبہے ہیں جو عام طور پر پیش کیے جاتے ہیں امام رازیؒ اور دوسرے متقدمین نے ان شبہات کے جو جواب دیئے ہیں ہم پہلے ان کو بیان کرتے ہیں اور ساتھ ہی ان کمزوریوں کی طرف بھی اشارہ کریں گے جو ان جوابوں کے اندر موجود ہیں ۔کیونکہ کوئی کمزور بات قبول کرلینا دین میں ایک نہایت سخت فتنہ ہے۔ یہی رخنے معترضین کو اعتراض اور زبان درازی کی راہ دیتے ہیں لیکن اس تنقید سے ان علماء کی تنقیص مقصود نہیں ہے بلکہ محض حق کو واضح کرنا مقصود ہے ان علماء نے حمایت حق کی راہ میں جو کوشش کی ہے ہم دعا کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ان کو اس کا صلہ دے اورہم کو بھی حق کے حامیوں میں بنائے۔