نبی اور رسول کا جو فرق ہم نے بیان کیا ہے، وہ بالعموم اس لیے لوگوں پر واضح نہیں کہ لفظ ’نبی‘ کے برخلاف جو قرآن میں صرف اپنے اصطلاحی معنوں میں استعمال ہوا ہے ،’ رسول‘ کا لفظ ، اپنے مذکورہ بالا اصطلاحی معنوں کے علاوہ،بہ کثرت اپنے لغوی معنوں، یعنی بھیجے ہوئے اورپیغام پہنچانے والے کے مفہوم میں بھی استعمال ہوا ہے۔ چنانچہ ہم قرآن میں لفظ ’رسول‘ کے لغوی اور اصطلاحی معنوں میں استعمالات کی کچھ مثالیں دے کر اس فرق کو واضح کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
قرآن نے لفظ ’رسول ‘کو پیغام پہنچانے والے کے مفہوم میں ایک عام آدمی کے لیے بھی استعمال کیا ہے*۔ اسی طرح یہ لفظ اپنے لغوی معنوں میں فرشتوں کے لیے بھی قرآن میں کثرت سے استعمال ہوا ہے۔ مثلاً حضرت جبریل علیہ السلام کے لیے التکویر ۸۲: ۱۹، الحاقہ۶۹: ۴۰ اور مریم ۱۹: ۱۹ میں اور دیگر فرشتوں کے لیے الانعام ۶: ۶۱، یونس۱۰: ۲۱، ھود۱۱: ۶۹، فاطر ۳۵: ۱ میں اور دیگر کئی مقامات پر یہ لفظ لغوی معنوں میں استعمال ہوا ہے۔
ٹھیک اسی طرح یہ لفظ اپنے لغوی مفہوم میں ان نبیوں کے لیے بھی قرآن نے استعمال کیا ہے جو اصطلاحی معنوں میں رسول نہیں ہوتے، کیونکہ بہرحال تمام انبیا علیہم السلام خدا کے بھیجے ہوئے اور اسی کا پیغام پہنچانے والے ہوتے ہیں۔ مثلاًسورۂ بقرہ میں ارشاد ہوا:

وَلَقَدْ اٰتَیْنَا مُوْسَی الْکِتٰبَ وَقَفَّیْنَا مِنْ م بَعْدِہٖ بِالرُّسُلِ وَاٰتَیْنَا عِیْسَی ابْنَ مَرْیَمَ الْبَیِّنٰتِ وَاَیَّدْنٰہُ بِرُوْحِ الْقُدُسِ اَفَکُلَّمَا جَآءَ کُمْ رَسُوْلٌم بِمَا لَا تَھْوٰٓی اَنْفُسُکُمُ اسْتَکْبَرْتُمْ فَفَرِیْقًا کَذَّبْتُمْ وَ فَرِیْقًا تَقْتُلُوْنَ. ( البقرہ ۲: ۸۷)
’’ اور ہم نے موسیٰ کو کتاب دی اور اس کے بعد پے در پے رسول بھیجے اور عیسیٰ ابن مریم کو کھلی کھلی نشانیاں دیں اور روح القدس سے اس کی تائید کی۔ تو کیا جب تمھارے پاس کوئی رسول وہ باتیں لے کر آئے گاجو تمھاری خواہشوں کے خلاف ہوں گی تو تم تکبر کرو گے؟ سو ایک گروہ کو جھٹلایا اور ایک گروہ کو قتل کرتے رہے۔‘‘

یہ بات معلوم ہے کہ بنی اسرائیل میں پے در پے رسول نہیں نبی آئے تھے۔ چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ اسی سلسلۂ کلام میں چار آیتوں کے بعد ہی** اور قرآن کے دیگر مقامات ،مثلاً آل عمران ۳: ۱۱۲ اور النساء۴: ۱۵۵پر بھی اللہ تعالیٰ یہ بات واضح کردیتے ہیں کہ بنی اسرائیل کے ہاتھوں جن لوگوں کا قتل ہوا ،وہ نبی تھے ۔ نیزاس آیت میں بیان کیا گیا ہے کہ بنی اسرائیل رسولوں کو قتل کرتے رہے جو قرآن کے اس صریحی بیان کے خلاف ہے جس کے مطابق اللہ اور اس کے رسولوں کے لیے غلبہ لازمی ہے ۔ ارشاد ہوا:

کَتَبَ اللّٰہُ لَاَغْلِبَنَّ اَنَا وَ رُسُلِیْ اِنَّ اللّٰہَ قَوِیٌّ عَزِیْزٌ.(المجادلہ ۵۸: ۲۱)
’’اللہ نے لکھ رکھا ہے کہ بے شک، میں غالب رہوں گا اور میرے رسول بھی۔ بے شک، اللہ بڑا ہی زورآور اور غالب ہے۔‘‘

اس لیے یہ بات بالکل واضح ہے کہ سورۂ بقرہ کی اس آیت میں’رسول‘ کا لفظ اپنے لفظی مفہوم میں انبیا کے لیے استعمال ہوا ہے۔قرآن دیگر مقامات پر بھی ’رسول‘ کا لفظ نبی کے لیے استعمال کرتا ہے، تاہم سیاق و سباق اس بات کا تعین کردیتے ہیں کہ یہاں یہ لفظ کن معنوں میں ہے۔
لفظ ’رسول‘ کے متعلق یہ جاننے کے بعد کہ وہ اپنے اصطلاحی معنوں کے علاوہ لغوی معنوں میں عام افراد، انبیا اور فرشتوں کے لیے بھی استعمال ہوا ہے ، ہم واضح کرنا چاہیں گے کہ رسول نبی سے خاص ایک گروہ ہیں۔سورۂ حج میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں:

وَمَآ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِکَ مِنْ رَّسُوْلٍ وَّلاَنَبِیٍّ اِلَّآ اِذَا تَمَنّآی اَلْقَی الشَّیْطٰنُ فِیْٓ اُمْنِیَّتِہٖ فَیَنْسَخُ اللّٰہُ مَا یُلْقِی الشَّیْطٰنُ ثُمَّ یُحْکِمُ اللّٰہُ اٰیٰتِہٖ وَاللّٰہُ عَلِیْمٌ حَکِیْمٌ.(الحج ۲۲ : ۵۲)
’’ اور ہم نے تم سے پہلے جو رسول اور نبی بھی بھیجا تو جب بھی اس نے کوئی ارمان کیا، شیطان نے اس کی راہ میں اڑنگے ڈالے۔ پس اللہ، شیطان کے ڈالے ہوئے وسوسوں کو مٹا دیتا ہے، پھر اللہ اپنی باتوں کو قرار بخشتا ہے، اور اللہ خوب جاننے والا اور حکمت والا ہے۔‘‘

زبان کا یہ مسلمہ اصول ہے کہ دو مترادف الفاظ کبھی ایک ساتھ اس طرح استعمال نہیں ہوتے۔ مثلاً اردو میں آدمی اور انسان ہم معنی ہیں۔ اب اگر یہ کہا جائے کہ اس دنیا میں جو آدمی اور انسان آتا ہے، وہ آدم کی اولاد ہے تو یہ جملہ درست نہ ہوگا۔یہ جملہ صرف اس وقت صحیح ہوگا، جب یہ مانا جائے کہ قائل اس جملے میں آدمی اور انسان کو مترادف نہیں ، بلکہ الگ الگ اصطلاح سمجھتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ٹھیک یہی اسلوب یہاں اختیار کرکے یہ بتادیا ہے کہ منصب رسالت اور منصب نبوت، دونوں یکساں نہیں ہیں ۔
ابن حبان کی ایک روایت سے بھی یہ بات نکلتی ہے کہ نبی اور رسول یکساں نہیں ہیں ۔ اس روایت کے مطابق نبیوں کی تعداد ایک لاکھ چوبیس ہزار ہے جن میں سے تین سو تیرہ کو اللہ تعالیٰ نے رسول بناکر بھیجا***۔

_______

* یوسف ۱۲: ۵۰۔
** البقرہ۲: ۹۱۔
*** ابن حبان، رقم ۳۶۱۔

____________