قرآن مجید کے تصور تماثیل سے تعارض 

قرآن مجید ہمارے دین میں میزان اور فرقان کی حیثیت رکھتا ہے۔ اس کی سورۂ سبا میں اللہ کے نبی سلیمان علیہ السلام کے دربار میں تماثیل (مجسموں اور تصاویر )کے بنائے جانے کا ذکر موجود ہے۔قرآن مجید میں تماثیل کا یہ ذکر بہت مثبت انداز میں کیا گیا ہے ۔ وہ ہمیں بتاتا ہے کہ یہ تماثیل اللہ کے نبی سلیمان علیہ السلام کے حکم سے بنائی جاتی تھیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ تماثیل خدا کے اس نبی کے نزدیک ممنوع نہ تھیں۔ قرآن مجید جب ان کا ذکر مثبت انداز میں کرتا ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ اس کے نزدیک آج بھی وہ ممنوع نہیں، بلکہ پسندیدہ ہیں۔ اگر ان آیات سے ہمارا یہ نتیجہ نکالنا صحیح ہے تو زیربحث رائے کے مطابق احادیث کا جو مفہوم بیان کیا جا رہا ہے ، اس میں اور قرآن میں صاف تضاد محسوس ہوتا ہے۔

سلیمان علیہ السلام کے حوالے سے کوئی شخص یہ بات کہہ سکتا ہے کہ وہ شریعت موسوی کے پیرو تھے، لہٰذا ہو سکتا ہے کہ ان کے ہاں وہ تصاویر جائز اور حلال ہوں جو ہمارے ہاں ناجائز اور حرام ہیں اور جنھیں بنانے والے کو قیامت کے دن شدید ترین عذاب ہونا ہے، لیکن یہ بات ممکن نہیں کیونکہ یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ خدا اپنی تخلیق جیسی تخلیق کرنے کو ایک شریعت میں خیرقرار دے اور دوسری میں شرقرار دے دے ۔ کوئی چیز اگر فی نفسہٖ خیر ہے تو وہ خیر ہے اور اگر فی نفسہٖ شر ہے تو وہ شر ہے۔ تماثیل کی مناہی کی جو علت بیان کی گئی ہے، وہ خدا کی تخلیق سے اس کی مشابہت ہے۔ یہ مشابہت ایسی چیز ہے کہ یہ کسی صورت میں بھی کسی تمثال سے مفقود نہیں ہو سکتی، کیونکہ اس کے مفقود ہوتے ہی تمثال ،تمثال نہیں رہتی۔ لہٰذا تماثیل اگر شر ہیں تو ہمیشہ کے لیے شر ہیں اور اگر خیر ہیں تو ہمیشہ کے لیے خیر ہیں۔ ایسا نہیں ہو سکتا کہ یہ ایک شریعت میں جائز ہو ں اور ایک میں ناجائز۔ شرائع کے مابین اختلاف اس نوعیت کا نہیں رہا کہ ایک میں کسی حقیقی شر کو خیر قرار دے دیا گیا ہو اور دوسری میں کسی حقیقی خیر کو شر قرار دے دیا گیا ہو۔

شریعتوں کے ما بین قانون کا کسی قدر اختلاف ضرور رہا ہے، لیکن اس کی بنا کسی شر کے خیر یا کسی خیر کے شر قرار دیے جانے پر نہیں تھی، بلکہ اس کی بنا یہ تھی کہ مختلف قوموں کے معاشرتی اور تمدنی حالات مختلف ہوا کرتے تھے۔ چنانچہ ان کے قانون میں ان کے حالات کی رعایت رکھی جاتی تھی۔ بہرحال یہ بات یقینی ہے کہ ہر شریعت میں خیر ہی کو خیر اور شر ہی کو شر قرار دیا گیا ہے۔

شرائع کے اختلاف کی ایک نوعیت یہ بھی رہی ہے کہ سزا کے طور پر کسی قوم کو کچھ وقت کے لیے کسی خیر سے فائدہ اٹھانے سے روک دیا گیایا سدذریعہ کے طور پر کسی مباح شے کو ممنوع قرار دے دیا گیا، لیکن ان صورتوں میں بھی ایسا نہیں ہوتا کہ خدا اپنی شریعت میں سے کسی خیر کو شر اور کسی شر کو خیر قرار دے دے۔

چنانچہ تصویر سازی، جس کی شناعت ’خدا کی تخلیق کی نقل ‘کے الفاظ سے بیان کی گئی ہے، وہ اگر ہماری شریعت میں ناجائز ہے تو ایسا نہیں ہو سکتا کہ یہ کسی دوسری شریعت میں جائز ہو، کیونکہ جو چیز بھی اپنے اندر شناعت کا کوئی مستقل پہلو رکھتی ہے، وہ خدا کی کسی بھی شریعت میں جائز نہیں ہو سکتی، تصویر سازی ہر جگہ’ خدا کی تخلیق ہی کی نقل ‘شمار ہو گی اور اندر شناعت کا وہی پہلو رکھے گی ،جس کی بنا پر آج اسے حرام قرار دیا جا رہا ہے، لہٰذا ضروری ہے کہ یہ ہر شریعت میں حرام ہی قرار دی گئی ہو۔

لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ تصویر سازی سلیمان علیہ السلام کے ہاں بالکل جائز تھی اور قرآن مجید میں اس کا ذکر بہت مثبت انداز میں کیا گیا ہے۔ 

مزید براں آپ یہ دیکھیں کہ حدیث میں فرشتوں کے بارے میں ہمیں یہ خبر دی گئی ہے کہ وہ تصویر والے گھر میں داخل نہیں ہوتے۔ فرشتوں کا یہ اپنا طریقہ ہے، انھوں نے یہ شریعت محمدصلی اللہ علیہ وسلم کے نزول کے بعد اختیار نہیں کیا تھا۔ سوال یہ ہے کہ کیا فرشتے سلیمان علیہ السلام کے اس دربار میں نہ جایا کرتے تھے، جس میں تماثیل تھیں؟

تصویر سے متعلق احادیث کی وہ تاویل جس پر رائج نقطۂ نظر مبنی ہے۔ ۱؂   اسے اگر صحیح مان لیا جائے، تو پھر ان احادیث کا جو مدعا ہمارے سامنے آتا ہے ،اس سے یہ صاف پتا چلتا ہے کہ یہ احادیث کسی صورت میں بھی قرآن کی ان آیات سے ہم آہنگ نہیں ہو سکتیں، جن میں سلیمان علیہ السلام کے تماثیل بنوانے کا ذکر موجود ہے، کیونکہ ان میں قرآن کی بات سے ہٹ کر کوئی دوسری بات بیان ہوئی ہے۔

لیکن اگر یہ احادیث صحیح ہیں اور ہمارے نزدیک یہ بالکل صحیح ہیں تو پھر ظاہر ہے، انھیں سمجھنے میں کوئی سنگین غلطی ہوئی ہے، ورنہ یہ کیسے ہو سکتا تھا کہ ان کا مدعا اور ان کا مفہوم قرآن مجید سے ملنے والے تصور سے صریحاً متصادم ہو۔ مزیدیہ کہ خود متعلقہ احادیث کا مطالعہ بھی ہمیں یہ بتاتا ہے کہ جن احادیث پر ہمارے علما نے اپنے موقف کی بنیاد رکھی ہے، وہ احادیث بھی اپنے مفہوم کے لحاظ سے ان کے موقف سے متعارض ہیں۔ 

چنانچہ درج بالا تجزیے کی روشنی میں ہمارا یہ خیال ہے کہ تصویر کے بارے میں یہ رائے ’ما قال اللّٰہ وما قال الرسول‘ کے مطابق نہیں ہے، لہٰذا یہ غلط ہے۔ 

تصویر کے معاملے میں صحیح رائے کیا ہے؟ اس ضمن میں قرآن مجید اور احادیث صحیحہ سے ہمیں کیا رہنمائی ملتی ہے؟ اب ہم اسے سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ وما توفیقنا الا باللّٰہ۔

 


۱؂ تصویر کی حلت و حرمت کے بارے میں اس موقف کی بنیاد غالباً حضرت ابن عباس کا وہ مشورہ ہے جو انھوں نے سائل کو یہ کہتے ہوئے دیا کہ ’’بندۂ خدا اگر تجھے تصویر بنانی ہی ہے تو اس درخت کی بنا یا کسی ایسی چیز کی بنا جس میں روح نہ ہو‘‘۔ جس حدیث میں یہ بیان ہوا ہے، وہ پچھلے صفحات میں ہم دیکھ چکے ہیں، اس حدیث پر ہم ان شاء اللہ ’’تصویر کے بارے میں فہم صحابہ‘‘ کے تحت تفصیلی بحث کریں گے۔