اوپر ہم نے یہ واضح کر دیا ہے کہ ’’جماعت المسلمین‘‘ سے مراد مسلمانوں کا نظم اجتماعی ہے۔ اس لحاظ سے دیکھیے تو ’’التزام جماعت‘‘کا حکم دراصل قرآن مجید کے درج ذیل حکم ہی کی توضیح ہے:

یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْٓا اَطِیْعُوا اللّٰہَ وَاَطِیْعُوا الرَّسُوْلَ وَاُولِی الْاَمْرِ مِنْکُمْ فَاِنْ تَنَازَعْتُمْ فِیْ شَیْءٍ فَرُدُّوْہُ اِلَی اللّٰہِ وَالرَّسُوْلِ. (النساء ۴: ۵۹)
’’ایمان والو، اللہ کی اطاعت کرو اور رسول کی اطاعت کرو اور ان لوگوں کی بھی جو تم میں سے ذمہ داریوں پر فائز ہوں۔ پھر اگرکسی معاملے میں تمھارے درمیان اختلاف ہو جائے تو اسے اللہ اور رسول کی طرف لوٹاؤ۔‘‘

چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس حوالے سے جتنے بھی احکام دیے، وہ بالعموم سب کے سب قرآن مجید کے اس حکم ہی کی فرع ہیں۔ مثال کے طور پر قرآن مجید کی یہ آیت خود اس بات کی طرف واضح اشارہ کر رہی ہے کہ حکمرانوں کی اطاعت اللہ اور رسول کی اطاعت کے تابع رہ کر ہی کی جائے گی۔ ان کے کسی حکم کے معاملے میں اگر باہمی اختلاف پیدا ہو جائے تو یہ دیکھا جائے گا کہ اس معاملے میں اللہ اور رسول کا حکم کیا ہے۔ ظاہر ہے کہ آیت کے الفاظ ہی میں یہ بات بھی مضمر ہے کہ ایسی صورت میں وہی حکم نافذ العمل ہونا چاہیے جسے اجتماعی طور پر مسلمان اللہ اور رسول کا حکم سمجھیں گے۔ اس کے خلاف کسی حکمران کی بات نہیں مانی جائے گی، یہی بات نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی فرمائی کہ اللہ کی نافرمانی کے حکم کے معاملے میں حکمران کی اطاعت نہیں کی جائے گی۔
اسی طرح اس آیت پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ اس میں جن حکمرانوں کی اطاعت کا حکم دیا گیا ہے، ان کا ’منکم‘ یعنی مسلمانوں میں سے ہونا ضروری ہے۔ قرآن مجید کی مذکورہ آیت جب یہ کہہ رہی ہے کہ ’’مسلمانو ،حکمرانوں کی اطاعت کرو‘‘ تو اس سے آپ سے آپ یہ بات بھی نکلتی ہے کہ حکمران اگرکفر بواح کا ارتکاب کریں تو قرآن مجید کی اس آیت کے حکم کا ان کی اطاعت کے ساتھ کوئی تعلق ہی نہیں رہتا۔ یہی بات نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی اس روایت سے بھی واضح ہوتی ہے، جس میں آپ نے فرمایا ہے کہ حکمران کی طرف سے ’’کفر بواح‘‘ کے بعد اس کی اطاعت دین کا مطالبہ نہیں رہتی۔

____________