پہلی بحث



عروج و زوال کا قانون اصلاً تاریخ کا موضوع ہے، تاہم قرآن بھی تاریخ کو اپنے مخاطبین کے سامنے استدلال کے طور پر پیش کرتا ہے۔ اس میں نہ صرف اقوام سابقہ کے حالات بالتفصیل بیان کیے گئے ہیں ، بلکہ اس ضمن میں بعض اصولی باتیں بھی بیان کی گئی ہیں، اس لیے یہ ممکن نہیں رہتا کہ قرآن کو نظر انداز کرکے عروج و زوال کے قانون کو صرف تاریخ کی روشنی میں بیان کیا جائے۔
اس بات کو ایک دوسرے انداز سے دیکھیے۔ قرآن خدا کا تعارف ایک علت العلل اور مبدء اول کے طور پر نہیں کراتا، یعنی ایک ایسا وجود جس نے کائنات کو تخلیق کیا اور اس کے بعد وہ کہیں جاکر سوگیا۔قرآن کا خدا ایک زندہ اور فعال ہستی ہے جس کے علم میں آئے بغیر ایک پتا بھی زمین پر نہیں گرتا۔ایسے خدا سے یہ کیسے متوقع ہے کہ پوری پوری قوموں کے معاملات سے وہ لا تعلق رہے۔ البتہ دو باتیں اس ضمن میں ملحوظ رہنی چاہییں: اول یہ کہ خدا جو کچھ کرتا ہے ، اس کا تعلق انسانوں کے اختیار سے نہیں ، بلکہ اس کی وسیع تر حکمت سے ہوتا ہے جس کے تحت اسے کائنات کا نظم چلانا ہے۔تاریخ میں خدا کی مداخلت سے انسانی اختیار پر پہرے نہیں بیٹھتے۔اس ضمن میں اصولی بات یہ ہے کہ فرد کی تقدیر کا فیصلہ اس کا ذاتی عمل اور قوم کی تقدیر کا فیصلہ قوم کا اجتماعی عمل کرتا ہے۔خدا کا کام فیصلہ سنانا اور سزاوجزا دینا ہے۔یہ فیصلہ فردکے لیے آخرت میں اور قوم کے لیے دنیا میں سنایاجاتا ہے۔دوم یہ کہ خدا غیب سے باہر آکر انسانوں سے معاملہ نہیں کرتا۔ وہ جو کرتا ہے، اسباب کے دائرے اور اصولوں کی حد بندی میں کرتا ہے۔چنانچہ پچھلے باب میں ہم نے دیکھا کہ تاریخ کے آئینے میں خدا باطن ہے اور ایسا باطن کہ اسباب کے پردے کبھی بھی اسے مخلوق کے سامنے نہیں آنے دیتے،جبکہ قرآن کی روشنی میں خدا ظاہر ہے اور ایسا ظاہر کہ تاریخ کے ہر صفحے پر اس کے آثار نقش ہیں۔ اس باب میں ہم انھی آثار و نقوش کا مطالعہ کرنے جارہے ہیں۔
قرآن اصلاً تاریخ کی نہیں ، ہدایت کی کتاب ہے،اس لیے اقوام عالم کے عروج و زوال سے متعلق اگر اس میں کچھ کہا گیا ہے تو وہ محض ضمنی طور پر ہے۔ قرآن میں اصلاً ان قوموں کے عروج و زوال کے ضابطے بیان کیے گئے ہیں جن تک اللہ تعالیٰ کی ہدایت براہ راست پہنچی ہے۔یہ اقوام دو قسم کی ہیں:ایک رسولوں کی مخاطب اقوام اوردوسری امت مسلمہ ۔اول الذکر کے معاملے میں ان قوانین کی کوئی حیثیت نہیں رہتی جن کا ذکر ہم پچھلے باب میں کرچکے ہیں،بلکہ ان اقوام کے ساتھ معاملہ کرنے کے قوانین کچھ دوسرے ہیں جن کا ذکر ذیل میں آرہا ہے،تاہم ختم نبوت و رسالت کے ساتھ رسولوں کی اقوام کے بارے میں دیا گیا قانون اور اس کے تمام اطلاقات اب ختم ہوچکے ہیں ۔ جہاں تک امت مسلمہ سے متعلق قانون کا تعلق ہے تو اس کے معاملے میں عروج و زوال کے تمام دیگر ضابطے اپنی جگہ موجود رہتے ہیں۔البتہ ان میں کچھ نئے پہلوؤں کا اضافہ ہوجاتا ہے، لیکن ان کا تعلق صرف اس عامل سے ہے جسے ہم اخلاقی اقدار کے تحت پچھلے باب میں بیان کرچکے ہیں۔ یعنی امت مسلمہ کی اخلاقی اقدار کی بنیاد صرف فطرت نہیں رہتی ، بلکہ خدا کی براہ راست رہنمائی حاصل ہونے کے بعد یہی رہنمائی ان کی اخلاقی اقدار کی بنیاد بن جاتی ہے ۔اس کی تفصیلات آگے آرہی ہیں۔ جبکہ عروج و زوال کے دیگر عوامل ان کے بارے میں اسی طرح مؤثر رہتے ہیں،جس طرح وہ دیگر اقوام کے معاملے میں روبہ عمل ہوتے ہیں۔
اس سے قبل کہ ہم اس گفتگو کا آغاز کریں، اس با ت کی وضاحت ضروری ہے کہ اس باب میں ہمارے نقطۂ نظر کی اساس قرآن پر غوروفکر کی اس روایت پر مبنی ہے جس کی طرح پچھلی صدی کے ایک جلیل القدر عالم حمید الدین فراہی نے ڈالی تھی۔پہلی تحقیق ان کے شاگرد امین احسن اصلاحی اوردوسری تحقیق اصلاحی کے شاگرد جاوید احمد غامدی کے قرآن پر غورو فکر کا نتیجہ ہے۔مصنف نے قوموں کے عروج و زوال پر اس کا اطلاق کرکے ایک منطقی ربط کے ساتھ پیش کیا ہے۔

____________