اللہ تعالیٰ نے یہ دنیا جس قانون پر بنائی ہے، اس کے مطابق انفرادی سطح پر انسان جو اچھے اور برے اعمال کرتا ہے، اس کی جزا و سزا اس دنیا ہی میں نہیں، بلکہ آخرت میں اسے ملے گی۔افراد کے لیے یہ دنیا صرف ایک دار العمل ہے۔ یہاں انسان کی آزمایش ہو رہی ہے۔ اسے اچھے حالات دے کر یہ دیکھا جاتا ہے کہ وہ اپنے رب کا شکرگزار بندہ بنتا ہے یا نہیں۔ دوسری طرف اسے کسی مشکل میں ڈال کر یہ پرکھا جاتا ہے کہ وہ اللہ کے لیے صبر کرتا ہے یا نہیں۔

افراد کے برعکس قوموں کا معاملہ یہ نہیں ہے۔ قوم اگر بحیثیت مجموعی خدا کی فرماں برداری کی راہ اختیار کر لے تو اللہ اس پر اپنی نعمتوں کے دروازے وا کر دیتے ہیں۔ وہ اس دنیا میں ترقی پاتی اور عروج کی منزلیں طے کرتی ہیں۔ دوسری طرف قوم اگر بحیثیت مجموعی خدا کی نافرمانی پر اتر آئے تو وہ اللہ کی مدد اور اس کی عنایتوں سے محروم ہو جاتی ہے۔ وہ اسی دنیا میں ذلت و خواری کی مثال بن جاتی اور بعض خاص حالات میں خدا کے قانون کے تحت صفحۂ ہستی سے مٹا دی جاتی ہے۔ اس طرح کی صورت حال میں خدا کے قانون امہال کے تحت اگر قوم کے حالات اچھے ہوتے بھی ہیں تو اسی لیے کہ وہ اپنا پیمانہ اچھی طرح سے لبریز کرلے اور خدا کی پکڑ سے بچنے کا کوئی عذر اس کے پاس نہ رہے ۔ 

قوموں کے بارے میں خدا کے اسی ضابطے کے تحت قوم اگر غلط روش اختیار کرنے کے بعد، بحیثیت مجموعی توبہ و انابت کا رویہ اپنا لے تو ایک مرتبہ پھر اللہ کی نعمتوں اور اس کی خاص عنایتوں کے در اس پر کھل جاتے ہیں۔ اس کی زمینیں سونا اگلتیں اور اس کے آسمان ہن برساتے ہیں۔ اللہ کے پیغمبروں نے اپنی اپنی قوموں کو جب اپنے رویے کی اصلاح کرنے کی دعوت دی تو ساتھ ہی انھیں اس بات کی بشارت دی کہ اگر انھوں نے اپنے رویے کی اصلاح کی اور اپنے سابقہ گناہوں سے توبہ کر لی تو اللہ ان کے لیے خوش حالی کے دروازے کھول دے گا۔ چنانچہ دیکھیے حضرت ہود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی اپنی قوم کو دعوت، قرآن مجید میں ان الفاظ میں نقل ہوئی ہے:

 

وَیٰقَوْمِ اسْتَغْفِرُوْا رَبَّکُمْ ثُمَّ تُوْبُوْٓا اِلَیْہِ یُرْسِلِ السَّمَآءَ عَلَیْکُمْ مِّدْرَارًا وَّیَزِدْکُمْ قُوَّۃً اِلٰی قُوَّتِکُمْ وَلَا تَتَوَلَّوْا مُجْرِمِیْنَ.(ہود ۱۱: ۵۲)

’’اے میری قوم، اپنے رب سے مغفرت چاہو، پھر اس کی طرف رجوع کرو، وہ تم پر آسمان سے خوب مینہ برسائے گا اور تمھاری موجودہ قوت میں بھرپور اضافہ کرے گا اور تم مجرم بن کر (بندگی سے) منہ نہ پھیرو ۔‘‘

 

حضرت نوح علیہ الصلوٰۃ والسلام نے اپنی قوم کو اللہ کی طرف پکارتے ہوئے کہا:

 

اسْتَغْفِرُوْا رَبَّکُمْ اِنَّہٗکَانَ غَفَّارًا یُّرْسِلِ السَّمَآءَ عَلَیْکُمْ مِّدْرَارًا وَّ یُمْدِدْکُمْ بِاَمْوَالٍ وَّ بَنِیْنَ وَ یَجْعَلْ لَّکُمْ جَنّٰتٍ وَّ یَجْعَلْ لَّکُمْ اَنْھٰرًا.(نوح ۷۱: ۱۰۔ ۱۲) 

’’اپنے رب سے اپنے گناہوں کی معافی مانگو۔ بے شک، وہ بڑا ہی بخشنے والا ہے۔ وہ تم پر آسمان سے خوب مینہ برسائے گا اور مال و اولاد سے تمھیں فروغ بخشے گا اور تمھارے لیے باغات پیدا کرے گا اور تمھارے لیے نہریں جاری کرے گا۔‘‘

 

انبیا کے قدیم صحیفوں میں بھی اس سنت کا جگہ جگہ ذکر موجود ہے۔’’ایوب‘‘ میں ہے:

 

’’وہ ان کے کان کو تعلیم کے لیے کھولتا ہے اور حکم دیتا ہے کہ وہ بدی سے باز آئیں۔ اگر وہ سن لیں اور اس کی عبادت کریں تو اپنے دن اقبال مندی میں اور اپنے برس خوش حالی میں بسر کریں گے۔ پر اگر نہ سنیں تو وہ تلوار سے ہلاک ہوں گے اور جہالت میں مریں گے۔‘‘ ( ۳۶: ۱۰۔ ۱۲)

 

’’حزقی ایل‘‘ کے صحیفے میں ہے:

 

’’پس خداوند خدا فرماتا ہے اے بنی اسرائیل،میں ہر ایک کی روش کے مطابق تمھاری عدالت کروں گا۔ توبہ کرو اور اپنے تمام گناہوں سے باز آؤ تاکہ بدکرداری تمھاری ہلاکت کا باعث نہ ہو۔ ان تمام گناہوں کو جن سے تم گناہ گار ہوئے دور کرو اور اپنے لیے نیا دل اور نئی روح پیدا کرو۔ اے بنی اسرائیل ،تم کیوں ہلاک ہو گے ؟ کیونکہ خداوند خدا فرماتا ہے مجھے مرنے والے کی موت سے شادمانی نہیں، اس لیے باز آؤ اور زندہ رہو۔‘‘ ( ۱۸: ۳۰۔ ۳۲)

 

’’ملاکی‘‘ میں یہود سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا:

 

’’تم اپنے باپ دادا کے ایام سے میرے آئین سے منحرف رہے اور ان کو نہیں مانا۔ تم میری طرف رجوع ہو تو میں تمھاری طرف رجوع ہوں گا۔‘‘( ۳ : ۷)

 

قرآن مجید سے بھی اور قدیم صحیفوں کے ان حوالوں سے بھی یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ قوموں کے معاملے میں اللہ تعالیٰ کا یہ قانون شروع ہی سے قائم ہے۔ قرآن مجید اس معاملے میں بالکل صریح ہے کہ خدا کے یہ قوانین اور سنن قطعی طور پر غیر متبدل ہیں۔ آج بھی جو قوم اپنے اندر خدا کی پسند کے خصائص پیدا کر لے، خدا اس کو دنیا میں اپنی نعمتوں سے سرفراز کر دے گااور خاص اس کے لیے اپنے خزانوں کے منہ کھول دے گا۔