دوسری بحث



تاریخ کا مطالعہ بتاتا ہے کہ اس دھرتی پر سدا ایک قوم کا اقتدار نہیں رہتا۔ایسا کبھی نہیں ہوا کہ خدا نے حکومت واقتدار کو ہمیشہ ایک رنگ، نسل، گروہ، خاندان یا قوم کے لیے مختص کردیا ہو۔ہردور میں اس دھرتی پر مختلف قومیں اور ملتیں آباد رہی ہیں جن میں قوت و حشمت کے لحاظ سے فرق رہا ہے۔ بعض قومیں اپنے معاصرین سے قوت و اقتدار میں اتنی بڑھ جاتی ہیں کہ وہ اپنے قرب وجوار میں رہنے والی اقوام پر غلبہ حاصل کرلیتی ہیں۔ان کا یہ غلبہ اس قدر بڑھتا ہے کہ موجودہ دور کی اصطلاح کے مطابق وہ اپنے وقت کی سپر پاور بن جاتی ہیں۔ کسی کو ان کے سامنے دم مارنے کی مجال نہیں ہوتی اوراقوام عالم ان سے جان کی امان پاکر ہی اپنے معاملات چلاتی ہیں۔ تاہم ایک وقت کے بعد اس قوم کو زوال آتا ہے۔ سپر پاور کی جگہ کسی اور سپر پاور کے لیے خالی ہوجاتی ہے۔ ناواقف لوگ یہ خیال کرتے ہیں کہ ایک یا ایک سے زیادہ سپر پاو رز کاموجودہ معاملہ صرف آج شروع ہوا ہے۔یہ بات درست نہیں ہے ۔یہ سلسلہ اس وقت سے شروع ہوا تھا جب انسانوں نے گروہوں کی شکل میں رہنا شروع کیا تھا اور آج کے دن تک یہ سلسلہ جاری ہے۔ مصری، ایرانی، یونانی، رومی ، عرب، ترک، یورپین، روسی اور اب امریکی سب اسی سلسلۂ عروج وزوال کی کڑیاں ہیں۔
سپر پاورز کے علاوہ دیگر اقوام بھی عروج وزوال کے اس عمل سے گزرتی ہیں ، مگر وہ تاریخ عالم میں اس لیے زیادہ نمایاں حیثیت نہیں رکھتیں کہ ان قوموں کا عروج و زوال اپنے ظہور کے لیے بڑی حد تک سپر پاورز ہی کا محتاج رہا ہے، ورنہ ہر قوم بہرحال اپنی ایک تاریخ رکھتی ہے جس میں اس کا ایک متعین آغاز ہوتا ہے۔ وہ ترقی کے مراحل طے کرتی ہے اور عروج کی سیڑھیاں چڑھتی ہوئی مسند کمال پر براجمان ہوتی ہے۔پھر ایک وقت کے بعد زوال سے دوچار ہوجاتی ہے۔
جیسا کہ ہم نے پیچھے بیان کیا کہ قوموں کا یہ عروج وزوال تدریجی عمل کے بعد جنم لیتا ہے، اس تدریجی عمل کو سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ یہ قطعیت کے ساتھ متعین کیا جائے کہ کسی قوم کو عروج و زوال کے عمل میں کن مراحل سے گزرنا ہوتا ہے؟نیز ان مراحل میں اس کا سامنا کس طرح کے حالات سے ہوتا ہے؟
یہاں ہم اس بات کی وضاحت کرنا چاہیں گے کہ ضروری نہیں کہ ہر قوم یکساں طور پر ان تمام مراحل سے گزرے۔ایک تاریخی عمل میں اتنے زیادہ عوامل و محرکات کام کررہے ہوتے ہیں جن کا احاطہ نہیں کیا جاسکتا۔ یہ محرکات حالات، زمانہ اور لوگوں کے اعتبار سے بدلتے رہتے ہیں۔ اس لیے ایک تاریخی مرحلہ اپنی ظاہری ہےئت کے اعتبار سے ہر قوم میں مختلف انداز میں ظہور کرتا ہے۔بعض جگہ یہ بہت واضح ہوتا ہے اور بعض جگہ بہت مبہم۔ بعض اقوام میں یہ بہت طویل ہوتا ہے اور بعض میں بہت مختصر۔ چنانچہ ہم کوشش کریں گے کہ قوموں کے مراحل حیات بیان کرتے ہوئے اپنی بات کی وضاحت میں ان قوموں کی مثالیں پیش کریں جن کی زندگی میں یہ مراحل بہت واضح طور پر دیکھے جاسکتے ہیں اورجن کے حالات سے ہمارے ہاں لوگ عام طور پر آگاہ ہیں۔

____________