تیسرا باب

پچھلے باب میں ہم نے دیکھا کہ اگر کوئی قوم چار بنیادی صفات یعنی تعلیم،جمہوریت، انصاف اور صبروحکمت کو اپنے لیے بنیادی اقدار بنائے تو وہ دنیا میں عزت اور وقار کی زندگی بسر کرتی ہے۔ اور اگر وہ ان بنیادی عوامل کی طرف توجہ نہ دے تو وہ کمزوری اور بے عزتی کی زندگی گزارتی ہے جو بعض حالات میں معاشی غلامی سے بڑھ کر حقیقی غلامی تک بھی جاسکتی ہے۔ اب ہم یہ دیکھیں گے کہ قوموں کی برادری میں کچھ اقوام بہت آگے کیسے بڑھ جاتی ہیں اور سُپر پاور کا درجہ کیسے حاصل کرلیتی ہیں۔ سُپر پاور بننے کے لیے مزید تین چیزوں کی ضرورت ہے۔ وہ ہیں:
O سائنس اور ٹیکنالوجی پر دوسروں سے بڑھ کر دسترس 
O بڑا رقبہ، زیادہ آبادی اور قدرتی وسائل پر دسترس 
O صحیح حکمت عملی 
اب ہم ان تینوں کی مزید تفصیل میں جانے کی کوشش کریں گے۔ 


سائنس اور ٹیکنالوجی 

سُپر پاور بننے اور برقرار رہنے کے لیے یہ ضروری ہے کہ سائنس اور ٹیکنالوجی پر اعلیٰ ترین دسترس حاصل کی جائے اور اس معیار کو نمو و ترقی کے ذریعے برقرار رکھا جائے۔ یہ ترقی صنعتی، زرعی،طبعی، دفاعی اور جنگی، غرض یہ کہ ہر میدان میں ہونی چاہیے۔ گویا جدید ترین علم کا مسلسل حصول اور اُس کا استعمال واطلاق ایک سُپر پاور کے لیے زندگی اور موت کا سوال ہے۔ ظاہر ہے کہ اس غرض کے لیے تعلیم، ریسرچ،دریافت اور اس سے متعلقہ تمام پہلووں کی طرف آخری درجے میں بھرپور توجہ ضروری ہے۔ چنانچہ سُپر پاورز یہ سب کام کرتی ہیں اور یہ اُن کے لیے اہم ترین شعبہ ہوتا ہے۔ 
ٹیکنالوجی کی برتری کی وجہ سے انگریزوں، فرانسیسیوں، پرتگیزوں اور ولندیزیوں نے سترہویں اور اٹھارویں صدی میں مسلم دنیا سمیت افریقہ اور ایشیا کے بہت بڑے علاقوں پر قبضہ جمالیا جو انیسویں صدی کے نصف تک جاری رہا۔ ٹیکنالوجی کے فرق ہی کی وجہ سے سراج الدولہ اور ٹیپو سلطان انگریزوں کے مقابلے میں شکست کھا گئے۔ بہتر ٹیکنالوجی اور تنظیم کی وجہ سے 1857ء کی جنگِ آزادی میں حریت پسندوں کے مقابلے میں انگریز کامیاب رہے۔ 
ٹیکنالوجی ہی کی مدد سے امریکہ نے 1985ء میں روس کو افغانستان میں شکست دی، جب اسٹنگر میزائلوں نے روسی ہیلی کاپٹروں پر نوے فیصد ٹھیک ٹھیک نشانے لگاکران کی فضائی برتری ختم کردی۔اسی وجہ سے برطانیہ نے ارجنٹائن کے بالکل پاس جاکر فاک لینڈ کی جنگ میں اُسے شکست سے دوچار کیا۔ یہ ٹیکنالوجی ہی کا کرشمہ تھا کہ امریکہ نے طالبان اور صدام کو شکست سے دوچار کیا۔ کمپیوٹر اور انٹرنیٹ کی ایجاد بھی امریکہ ہی میں ہوئی۔ 
گویا جو بھی طاقت اپنے آپ کو برتری کے مقام پر فائز دیکھنا چاہتی ہو، اُس کے لیے لازم ہے کہ وہ سائنسی علوم اور ٹیکنالوجی کے میدان میں اعلیٰ ترین مقام پر فائز ہو۔ 


رقبہ، آبادی اور قدرتی وسائل 

جس ملک کا رقبہ بڑا ہو، آبادی زیادہ ہو اور وہ قدرتی وسائل پر دسترس رکھتا ہو، اُتنا ہی اُس کے سُپر پاور بننے کا امکان زیادہ ہوجاتا ہے اور اگر وہ اُس مقام پر نہ رہے تب بھی وہ کامل زوال اور فنا سے بچ جاتا ہے۔ امریکہ کے ایک بڑی طاقت بننے میں اُس کے رقبے اور آبادی کا بڑا دخل ہے۔ چین بھی انہی دو عوامل کی وجہ سے ایک بڑی طاقت کے طور پر جانا جاتا ہے۔ سوویت یونین بھی اپنے رقبے اور آبادی کی وجہ سے سُپر پاور بن گیا تھا۔ اگرچہ اختیارات کی مرکزیت اور جمہوریت کے نہ ہونے کی وجہ سے سوویت یونین تو ختم ہوگیا، مگر اس کے باوجود روس ایک بڑی طاقت کے طور پر ابھر رہا ہے اور اغلباً اگلے چند برس میں اُس کی عظمتِ رفتہ پھر بحال ہوجائے گی۔ 


صحیح حکمت عملی 

سُپر پاور بننے، برقرار رہنے اور اپنے آپ کو حال اور مستقبل کی مشکلات سے بچانے کی خاطر عالمی حالات کا صحیح تجزیہ اور اُس کے مطابق عمل کرنا بھی حد درجہ ضروری ہے۔ یہ حکمتِ عملی زمانۂ امن اور زمانۂ جنگ، دونوں میں ہوتی ہے۔ ہر جنگ اور ہر معرکے میں اُسی ملک کو کامیابی ملی ہے جس نے بہتر حکمت عملی کا مظاہرہ کیا۔ جب یورپ نے دیکھا کہ اس کا رقبہ بڑھتی ہوئی آبادی کو سنبھالنے کے لیے کافی نہیں ہے تو اُس نے دوسرے ممالک کو اپنی نوآبادی بنایا۔ اور پھر جب یورپی ممالک نے دیکھا کہ حالات کی تبدیلی کی وجہ سے اب اُن کے لیے اپنی نوآبادیات کو قابومیں رکھنا ممکن نہیں ہے تو انہوں نے آہستہ آہستہ تمام غلام ملکوں کو آزاد کرکے اپنی قوت محفوظ کرلی۔ 
چین نے بھی خارجہ حکمت عملی کے میدان میں نمایاں کامیابی حاصل کی ہے ۔تائیوان اسی کا جزوہے جو امریکی پشت پناہی سے آزاد ملک کی حیثیت سے زندہ ہے ، مگر چین نے آج تک اس کے خلاف کوئی فوجی کارروائی نہیں کی، اس لیے کہ وہ جانتا ہے کہ اس سے وہ مشکلات میں پھنس جائے گا ۔اسی طرح ایک لمبے عرصے سے اس نے یہ پالیسی بنائی ہے کہ وہ کسی بین الاقوامی معاملے میں براہ راست مداخلت نہیں کرے گا۔چنانچہ 1971ء کی جنگ میں اس نے پاکستان کی کوئی فوجی مدد نہیں کی ، حالا نکہ اس کی عملی مداخلت کی صر ف دھمکی ہی بنگلہ دیش بننے میں بڑی رکاوٹ ثابت ہو سکتی تھی ۔ اسی طرح1984 ء میں سیاچین پر بھارتی قبضے کے وقت بھی اس نے کوئی سرگرمی نہیں دکھائی۔ 1999ء میں پاکستان نے کارگل کے محاذ پر جو لڑائی شروع کی ،اس پربھی چین نے ناراضگی کا اظہار کیا اور پاکستان کی عملی مدد سے انکار کیا ۔دراصل چین کی حکمت عملی یہ ہے کہ ایک بھر پور عالمی طاقت بننے تک وہ امریکہ سے کسی بھی طرح بگاڑ پیدا نہ کرے تا کہ امریکہ کو اس کے خلاف کارروائی کا کوئی جواز نہ مل سکے ۔
اسی طرح جب چین نے دیکھا کہ کمیونزم اس کی معاشی ترقی میں رکاوٹ بن رہا ہے تو اس نے بہت عرصہ پہلے بڑے شہروں میں سرمایہ دارانہ نظام کو پھلنے پھولنے کی آزادی دی۔اسی لیے جب روس اور باقی کمیونسٹ دنیا میں بغاوت کی لہر پورے زوروں پر تھی ،چین اس سے نسبتاًمحفوظ تھا۔ کمیو نسٹ پارٹی نے اقتدار پر سے تو اپنی گرفت کمزور نہیں کی لیکن عوام کو مزید معاشی آزادی دے کر اس نے اپنے ہاں بغاوت پر قابو پا لیا ۔اور نومبر 2002میں بوڑھی قیادت نے نئی قیادت کے لیے جگہ چھوڑ کر ایک بڑا کارنامہ سر انجام دے دیا ۔
سُپر پاورز دنیا میں اپنی سودے بازی کی قوت برقرار رکھنے کی خاطر اپنے سخت ترین مخالف ملکوں کو بھی قرضے اور امداد دیتی ہیں۔ مثلاً مغربی ممالک غیر ترقی یافتہ دنیا کے تمام ملکوں کو امداد دیتے ہیں، جس میں اُن کے بدترین مخالف بھی شامل ہوتے ہیں۔ اس سے اُن کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ رابطے کا دروازہ کھلا رہے اور مناسب موقع پر اسے استعمال کیا جائے۔ سپر پاورز اپنی غلطیوں سے بھی بہت کچھ سیکھتی ہیں۔ مثلاً پچھلی صدی میں امریکہ نے بہت سی کامیابیاں حاصل کی ہیں، تاہم امریکہ میں ان کامیابیوں کو بہت کم یادرکھا جاتا ہے۔ امریکہ کی ایک بہت بڑی غلطی ویت نام میں فوجی مداخلت تھی۔ امریکہ کے دارالحکومت واشنگٹن کی اہم ترین یادگاروں میں سے ایک ویت نام جنگ کی یادگار ہے۔ اس عجیب وغریب یادگار پر اُن تمام اڑسٹھ ہزار (68000) ہلاک شدہ فوجیوں کے نام بمعہ کمپنی ورجمنٹ کندہ ہیں جو اس جنگ میں کام آئے۔ اس یادگار پر روزانہ سینکڑوں افراد آتے ہیں اور میموریل ڈے پر تو وہاں ہزاروں افراد کے میلے کا سماں رہتا ہے۔ یہ عام انسانی نفسیات ہے کہ لوگ اپنی ناکامیاں فراموش کرنے کو ترجیح دیتے ہیں۔ جیسے ہم لوگ بحیثیتِ قوم سقوطِ مشرقی پاکستان کی یاد کبھی نہیں مناتے، لیکن ہم چھ ستمبر کی چھٹی ضرور کرتے ہیں اور اپنے آپ کو یہ دھوکہ دیتے ہیں کہ ہم نے 1965ء کی جنگ جیتی۔ لیکن زندہ قومیں اپنی کامیابیوں کی بجائے ناکامیوں کو ایک زندہ واقعے کے طور پر یادرکھتی ہیں اور ہر ہر حوالے اور پہلو سے اُن کا تجزیہ کرتی ہیں تاکہ آئندہ اُس کے اعاد ے سے بچا جاسکے۔ 


سُپر پاورز کی نفسیات اور اس سے جنم لینے والے جرائم 

دنیا کی پوری تاریخ میں سُپر پاورز کی ہمیشہ سے ایک ہی نفسیات رہی ہے۔ اس کو ایک فقرے میں یوں بیان کیا جاسکتا ہے کہ ایک سُپر پاور یہ چاہتی ہے کہ وہ مستقلاً ایک سُپر پاور کے طور پر قائم رہے اور اس خواہش کو پورا کرنے کے لیے وہ سب کچھ کرنے پر آمادہ رہتی ہے۔ 
چونکہ ہر سُپر پاور ایک قوم کی بنیاد پر بنتی ہے، اس لیے اس نفسیات کا ایک قدرتی نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ یہ طاقت اپنی قوم اور دوسری اقوام کے معاملے میں دُہرے معیار (Double standard) سے کام لیتی ہے۔ مثلاً اپنے لیے تو اُن کو جمہوریت بہت اچھی لگتی ہے اور اپنے ملک میں جمہوریت برقرار رکھنے کے لیے یہ لوگ سر دھڑ کی بازی لگادیں گے۔ لیکن اگر کسی دوسرے ملک میں ایک ڈکٹیڑ اقتدار پر براجمان ہوگا، تو یہ سُپر پاورز اُس سے اچھے تعلقات رکھنے اور معاملہ کرنے میں کوئی شرم محسوس نہیں کریں گی۔ اسی طرح اپنے ملک میں تو یہ ترقی یافتہ اقوام انصاف، دیانت داری اور میرٹ کا پورا خیال رکھتی ہیں، لیکن دوسری اقوام سے معاملہ کرتے ہوئے رشوت، دھونس اور دھاندلی سب کچھ روا رکھا جاتا ہے۔سُپر پاورز دوسروں، خصوصاً اپنے دشمنوں، کے ساتھ امن وجنگ دونوں میں ہر طرح کے جھوٹ، غلط بیانی اور پروپیگنڈے کو بالکل جائز سمجھتی ہیں۔اس کی مثال یہ ہے کہ امریکہ کو اسرائیل کے ایٹم بم پر کوئی اعتراض نہیں ہے، لیکن کسی دوسرے ملک کے پاس ایٹمی طاقت کا آنا اُسے گوارا نہیں ہے۔اسی طرح عراق پر حملے کے وقت امریکہ نے بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں (weapons of mass destruction) کا جھوٹا پروپیگنڈا کیا۔ خالصتاً اصولی اعتبار سے یہ دُہرا معیار یقیناًغیر انسانی، غیر جمہوری اور خلافِ حق وانصاف وضمیر ہے۔ ترقی یافتہ ممالک اپنے اس طرزِ عمل کے لیے یہ جواز پیش کرتی ہیں کہ ہم دنیا میں صرف جہد للبقاء (Struggle for exitence) اور بقائے اصلح (Survival of the fittest) کے ذریعے زندہ رہ سکتے ہیں۔ چنانچہ اس مقصد کو حاصل کرنے کے لیے ہر وہ کام عملی اعتبار سے بالکل ٹھیک، صحیح اور مطلوب ہے جس کے ذریعے ہم اپنی سُپر پاور والی پوزیشن برقرار رکھ سکیں۔ دنیا کی پوری معلوم تاریخ میں، پیغمبروں کی حکومتوں کو چھوڑ کر، ہمیشہ یوں ہی ہوا ہے اور شاید مستقبل میں بھی ایسا ہی ہوتا رہے گا۔ 
سُپر پاورز کی یہ دلیل ظالمانہ اور سفاکانہ ہے۔ ایسا نہیں ہونا چاہیے اور انسانی ضمیر کو لازماً اُس مقام تک ارتقاء کا سفر طے کرنا چاہیے جہاں اُس کا معیار اپنی قوم اور دوسری قوم سب کے لیے ایک ہو۔ مگر کیا انسان اس دنیا میں ارتقاء کا یہ سفر طے کرسکے گا؟ اس کا جواب کسی کے پاس نہیں۔ 
یہاں ایک اور سوال پیدا ہوتا ہے۔ وہ یہ کہ اگر سُپر پاورز اتنے ظالمانہ دُہرے معیار سے کام لیتی ہیں تو قدرت اُنہیں سزا کیوں نہیں دیتی؟اس کا جواب یہ ہے کہ غیر ترقی یافتہ اقوام اس سے دُگنے دُہرے معیار (Multiple double standards) کا شکار ہوتی ہیں۔ غیر ترقی یافتہ ممالک میں حکمرانوں اور بالائی طبقات کے لیے کچھ اور معیارہوتا ہے اور عوام کے لیے کچھ اور۔ غیر ترقی یافتہ ممالک میں اندرونی طور پر بھی طاقت کا قانون چلتا ہے۔ خود اپنے ملک کے اندرتعلیم، جمہوریت، انصاف اورمیرٹ پر عمل درآمد نہیں کیا جاتا۔ آج کی مسلمان دنیا کا عام طور پر یہی حال ہے۔ اسی دُگنے دُہرے معیار کی وجہ سے قدرت اُنہیں ترقی یافتہ اقوام سے کم تر رکھتی ہے۔ 


قومیں سُپر پاور کے درجے سے کیسے گرتی ہیں؟

اگر کسی سُپر پاور کے اندر اجتماعی صفات میں کمزوری آجائے۔ مثلاً تعلیم کم ہوجائے، جمہوری اقدار ماند پڑ جائیں،اندرونِ ملک انصاف کی حکمرانی نہ رہے، سائنس اور ٹیکنالوجی میں کوئی دوسرا ملک اُس سے آگے بڑھ جائے، اگر اُس سے بین الاقوامی تنازعات میں کوئی غلطی سرزد ہوجائے اور وہ یہ بھول جائے کہ اُسے ہر وقت بہترین حکمتِ عملی پر کاربند رہنا ہے، تو یقیناًوہ اُس مقام سے نیچے گر جاتی ہے۔ اُس کا زوال اُس کی غلطی کے حساب سے ہوتا ہے۔ اگر غلطی کم تر نوعیت کی ہو تو زوال بھی معمولی ہوتا ہے۔ لیکن اگر غلطی بہت بڑی ہو تو زوال بھی اُسی اعتبار سے بہت بڑا ہوتا ہے۔ اگر غلطی کرنے کے بعد کوئی قوم اپنی غلطی کی اصلاح کرلے تو قدرت ایک دفعہ پھر اُسے آگے بڑھنے کا موقع دیتی ہے۔ جرمنی،اٹلی اور جاپان اس کی زندہ مثالیں ہیں۔ 
تاہم ہر معاملے کی طرح یہاں بھی معروضی تجزیہ(objective analysis) لازم ہے۔ مثلاً ہمارے ہاں بعض کم فہم سیاسی رہنما نعرے بازی کے طور پر کہتے ہیں کہ برطانیہ عظمیٰ پر پہلے سورج غروب نہیں ہوتا تھا اور اب اُس پر سورج طلوع بھی نہیں ہوتا۔ حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ سورج نیوزی لینڈ اور آسٹریلیا سے طلوع ہوتا ہے جو سلطنتِ برطانیہ ہی کی توسیع ہیں۔ پھر یہ سورج بحرِ ہند کے انگریزی عمل داری والے مختلف جزیروں سے ہوتا ہوا جنوبی افریقہ پہنچتا ہے۔ یہاں سورج یورپ سے ہوتا ہوا امریکہ جاپہنچتا ہے جو برطانیہ ہی کی اولاد ہے۔ پھر وہاں سے ہوتا ہوا وہ بحرالکاہل کے اُن جزیروں پر جاچمکتا ہے جہاں امریکی پرچم لہراتا ہے۔ 


چین اور بھارت کے بارے میں ایک سوال 

یہاں یہ سوال پیدا ہوسکتا ہے کہ چین کیوں سُپر پاور ہے جب کہ وہاں جمہوریت نہیں ہے۔ اس کا جواب یہ ہے کہ چین میں 1947ء میں عوامی کمیونسٹ انقلاب آیا۔ اس انقلاب نے عوام کو ایک واضح مقصد دیا۔ چونکہ حکمران بلحاظ مجموعی انصاف پسند اور دیانت دار تھے اور انھوں نے تعلیم کی طرف بھر پور توجہ دی، اس لیے اس انقلاب کو ابتدائی تیس سالہ دور میں ان عوامل سے سہارا ملا۔ پھر جب حکمرانوں نے دیکھا کہ کمیونزم کی مرکزیت پسند پالیسیوں کی وجہ سے عوام کے اندر سستی اور بے زاری کا رجحان پیدا ہورہا ہے تو وہ تدریجاً سرمایہ دارانہ نظام کی طرف بڑھتے گئے۔ حتیٰ کہ اب صورت حال یہ ہے کہ چین نام کی حد تک تو کمیونسٹ ہے مگر وہاں سرمایہ دارانہ نظام اپنی پوری تابانیوں کے ساتھ قائم ہے۔ یہ بات بھی قابلِ ذکر ہے کہ چین کی کمیونسٹ پارٹی کے اندر قابلِ اطمینان حد تک جمہوریت موجود ہے۔ پارٹی اپنے ماضی پر ناقدانہ نظر ڈالتی ہے، سابقہ اقدامات کا پورا تجزیہ کرتی ہے اور پھر اپنی غلطیوں کا اعتراف کرتے ہوئے یہ پوری تفصیل عوام کے سامنے پیش کرتے ہے۔ پارٹی کے اندر کوئی بھی شخص اپنے عہدوں سے چمٹنا نہیں چاہتا، بلکہ باقاعدہ انتقالِ اقتدار ہوتا رہتا ہے۔ ابھی حال ہی میں،2002میں، سارے عہدوں پر نئے لوگوں کو متنخب کیا گیا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اگرچہ وہاں ملکی سطح پر معیارِ مطلوب جمہوریت موجود نہیں ہے، تاہم تیسری دنیا کی نسبت وہاں زیادہ جمہوری کلچر ہے۔ یہی چین کے سُپر پاور بننے کا راز ہے۔ راقم کے خیال میں چین ملکی سطح پر بھی جمہوریت کی طرف اپنا سفر تدریج کے ساتھ کرے گا۔ 
بھارت کے متعلق بھی یہ سوال پیدا ہوسکتا ہے کہ جمہوریت کے باوجود وہ ایک سُپر پاور کیوں نہ بن سکا۔ اس کا جواب یہ ہے کہ بھارت کے اندر تین میدانوں میں بہت بڑی کمزوریاں ہیں۔ وہاں تعلیم کی شرح کم ہے اور بھارتی حکومت نے صرف پچھلے چند سال ہی سے اس کی طرف توجہ دینی شروع کی ہے۔ بھارت میں انصاف، دیانت داری اورمیرٹ کی بڑی کمی ہے۔ پاکستان کی طرح بھارت نے بھی مانگے تانگے کے ہتھیاروں کی دوڑ پہلے دن سے شروع کی، جس کے نتیجے میں ملکی تعمیر سے حکمرانوں کی توجہ ہٹ گئی۔ جب تک بھارت ان تین میدانوں میں اپنی کمزوریوں پر قابو نہیں پائے گا، وہ سُپر پاور نہیں بن سکے گا۔ تا ہم ہمیں یہ بات یاد رکھنی چاہئے کہ ترقی کے میدان میں بھارت ہم سے کم از کم بیس برس آگے ہے۔