اسلام کے بارے میں ایک بڑی غلط فہمی یہ بھی ہے کہ وہ غلامی کے ادارے کو صحیح سمجھتا ہے اوروہ اپنے پیروکاروں کو جنگی قیدیوں کو اپنا غلام بنانے اور بالخصوص قیدی خواتین کے ساتھ صنفی تعلق کو جائز قرار دیتا ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ اسلام کا غلامی سے قطعاً کوئی تعلق نہیں اور نہ ہی لونڈیوں سے جنسی تعلق رکھنے کی اسلام اب اجازت دیتا ہے۔اس کے برعکس وہ ان باتوں کو ناپسند کرتا ہے اور ان سے سختی سے منع کرتا ہے۔ یہ انتہائی شرم ناک بات ہے کہ اس طرح کی رذیل باتوں کو ایسے دین سے منسوب کیا جائے جو انسانیت کے معیار کو بلندکرنے کے لیے آیا ہے۔
اس معاملے میں جس بنیادی نقطہ کوملحوظ رکھنا چاہیے اورجو شاید اس غلط فہمی کی اصل وجہ ہے، وہ یہ ہے کہ اسلام نے غلامی کے ادارے کو ختم کرنے کے لیے تدریجی طریقہ اختیار کیاتھا، کیونکہ اس وقت کچھ معاشرتی مجبوریوں نے عرب معاشرے کو جکڑ رکھا تھا۔ ان کا حل یہی تھا کہ غلامی کو درجہ بدرجہ ختم کیا جائے۔ یہ بات بھی ذہن میں رکھنی چاہیے کہ اس وقت تقریباً ہر گھر میں غلام مرد اور عورتیں موجود تھے اور یہ زیادہ تر دو وجوہات کی بناپر تھے: پہلی وجہ یہ تھی کہ اس وقت جنگ میں گرفتار ہونے والے قیدیوں کو فاتح فوجیوں میں غلاموں کی حیثیت سے تقسیم کردیا جاتا تھا۔ دوسری وجہ یہ تھی کہ اس وقت عرب میں بہت بڑی بڑی منڈیاں تھیں جہاں ہر عمر کے مرد اور عورتوں کو اشیاکی طرح بیچا جاتا تھا۔
ان حالات میں جب غلامی عرب سماج میں ایک اہم جزو بن گئی تھی، اسلام نے غلامی کو ختم کرنے کا تدریجی طریقہ اختیار کیا۔ اگر اسے یک قلم ختم کردیا جاتا تو اس کے نتیجے میں بہت سے معاشرتی اور معاشی مسائل پیدا ہوجاتے۔ یہ غلام معاشرے پر بوجھ بن جاتے اور حکومتی بیت المال کے لیے ممکن نہ ہوتا کہ مستقل بنیاد پر ان کی ضروریات کو پورا کرنے کی ذمہ داری لیتا۔غلاموں کی ایک بڑی تعداد بوڑھوں کی تھی اور ان کی حالت ایسی نہ تھی کہ وہ اپنی کفالت کرسکتے۔ اگر انھیں فوری طور پر آزاد کرنے کا حکم دے دیا جاتا تو نتیجہ یہ نکلتا کہ وہ اپنی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے یا تو بھیک مانگتے یا پھر معاشرے پر بوجھ بن جاتے۔ جہاں تک لونڈیوں کا سوال ہے توان کا معاملہ اور بھی سنگین تھا۔ معاشرے میں ان کا اخلاقی معیار بہت پست تھا۔ان کو اچانک آزاد کردینے کا نتیجہ یہ نکلتا کہ بہت سے فحاشی کے اڈے کھل جاتے۔
اسلام نے غلامی کو ختم کرنے کے لیے جو تدریج اختیارکی، اس کو خوب سمجھا جاسکتا ہے، اگران اسلامی ملکوں کے معاشی نظام کا جائزہ لیا جائے جنھیں سود نے بری طرح سے جکڑ رکھا ہے۔اگر کوئی حکومت چاہتی ہے کہ وہ اسلام میں ممانعت کی وجہ سے اپنے نظام سے سود کو نکال پھینکے تو اسے بھی سود سے نجات حاصل کرنے کے لیے تدریجی طریقہ اختیار کرنا پڑے گا۔ اس دوران ریاست میں سود پر مبنی کاموں کو برداشت کرنا ہوگااور ان معاملات کو چلانے کے لیے وقتی قانون سازی کرنی ہوگی۔ بغیر کوئی متبادل اور مساوی نظام بنائے، اگر سود کو اس نظام سے اچانک ختم کردیا جائے تو پورا معاشی نظام تہس نہس ہوجائے گا جو کہ پورے ملک کی معیشت کو تباہ وبرباد کردے گا۔
اسی طرح کے کسی نقصان اور پریشانی سے بچنے کے لیے چودہ سوسال پہلے اسلام نے غلامی جیسے غیر انسانی ادارے کو ختم کرنے کے لیے اور معاشرے میں غلاموں اور لونڈیوں کا مقام بلندکرنے کے لیے مرحلہ وار اور تدریجی طریقہ اختیار کیا۔ مختلف مواقع پر مختلف احکام دیے گئے جس کی وجہ سے آہستہ آہستہ معاشرے کا اس برائی سے چھٹکارا ممکن ہوا۔ان احکام کا خلاصہ ہم یہاں بیان کرتے ہیں:

’’۱۔قرآن نے اپنی دعوت کی ابتدا ہی میں غلام آزاد کرنے کو ایک بہت بڑی نیکی قرار دیا اور لوگوں کو نہایت موثر الفاظ میں اِس کی ترغیب دی۔ چنانچہ اِس کے لیے ’فَکُّ رَقَبَۃٍ‘ یعنی گردنیں چھڑانے کی تعبیر اختیار کی گئی جس کی تاثیر کا اندازہ ہر صاحب ذوق بہ آسانی کرسکتا ہے۔ قرآن میں جہاں یہ الفاظ آئے ہیں، وہاں سیاق سے واضح ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس کو حصول سعادت کی راہ میں سب سے بڑا اور پہلا قدم قرار دیا ہے۔ ۱۲؂
نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اسی طریقے سے لوگوں کو اس کی ترغیب دی اور فرمایا: جس نے کسی مسلمان غلام کو آزاد کیا، اللہ اُس غلام کے ہر عضو کے بدلے میں اُس کے ہر عضو کو دوزخ سے نجات دے گا۔ ۱۳؂
۲۔لوگوں کو تلقین کی گئی کہ جب تک وہ اُنھیں آزاد نہیں کرتے، اُن کے ساتھ حسن سلوک کریں۔ زمانۂ جاہلیت میں اُن کے مالک جس طرح خود مختار اور مطلق العنان تھے،اُسے ختم کردیا گیااور اُنھیں بتایا گیا کہ غلام بھی انسان ہیں اور اُن کے انسانی حقوق کے خلاف کوئی رویہ کسی شخص کے لیے جائز نہیں ہے۔
ابو ہریرہ کی روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کھانا اور کپڑا غلام کا حق ہے اوراُسے کوئی ایسا کام کرنے کے لیے نہ کہا جائے جو اُس کی ہمت سے باہر ہو۔۱۴؂
حضرت ابوذر غفاری بیان کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: یہ تمھارے بھائی ہیں۔ اللہ نے اِنھیں تمھارے ماتحت کردیا ہے۔ اِس لیے جو کھاؤ، اِنھیں کھلاؤ اور جو پہنو، اِنھیں پہناؤ اور کوئی ایسا کام اِن کو نہ کہو جو اِن کی ہمت سے باہر ہو اور اگر کہو تو اُس میں اِن کی مدد کرو۔ ‘‘۱۵؂
ابن عمر کی روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے سناکہ جس نے اپنے غلام کو تھپڑ مارا یا اُس کی پٹائی کی، اُس کے گناہ کا کفارہ یہ ہے کہ اُسے آزاد کردے۔ ۱۶؂
ابو مسعود انصاری کا بیان ہے کہ میں اپنے غلام کو پیٹ رہا تھا۔ میں نے پیچھے سے کسی کوکہتے ہوئے سنا: ابو مسعود ،جان لو کہ اللہ تعالیٰ تم پر اِس سے زیادہ قدرت رکھتا ہے۔ میں نے مڑ کر دیکھا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تھے۔ میں نے فوراً کہا: یا رسول اللہ ، یہ اللہ کے لیے آزاد ہے۔ آپ نے فرمایا: یہ نہ کرتے تو تمھیں آگ کی سزا دی جاتی۔ ۱۷؂
ابن عمر روایت کرتے ہیں کہ ایک شخص نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور اُس نے پوچھا: یا رسول اللہ، اپنے خادم کو کتنی مرتبہ معاف کریں؟ آپ خاموش رہے۔ اُس نے پھر پوچھا۔ آپ خاموش رہے۔ تیسری مرتبہ پوچھا تو آپ نے فرمایا: دن میں ستر مرتبہ۔ ۱۸؂
۳۔ قتل خطا، ظہار اور اِس طرح کے بعض دوسرے گناہوں میں غلام آزاد کرنے کو کفارہ اور صدقہ قرار دیاگیا۔ ۱۹؂
۴۔تمام ذی صلاحیت لونڈیوں اور غلاموں کے نکاح کردینے کی ہدایت کی گئی تاکہ وہ اخلاقی اور معاشرتی لحاظ سے دوسروں کے برابر ہوسکیں۔ ۲۰؂
۵۔ یہ نکاح اگر دوسروں کی لونڈیوں سے کیا جائے تو اِس میں چونکہ نکاح اور ملکیت کے حقوق میں تصادم کا اندیشہ تھا، اِس لیے احتیاط کی تاکید کی گئی۔ تاہم اُنھیں اجازت دی گئی کہ وہ اگر آزاد عورتوں سے نکاح کی مقدرت نہیں رکھتے تو اِن لونڈیوں میں سے جو مسلمان ہوں اور پاک دامن رکھی گئی ہوں، اُن کے مالکوں کی اجازت سے اُن کے ساتھ نکاح کرلیں۔ پھر اِس نکاح میں بھی حکم دیا گیا کہ اُن کا مہر اُنھیں لازماً دیا جائے تاکہ بتدریج وہ آزاد عورتوں کے معیار پر آجائیں۔ قرآن کاارشاد ہے:

وَمَنْ لَّمْ یَسْتَطِعْ مِنْکُمْ طَوْلاً اَنْ یَّنْکِحَ الْمُحْصَنٰتِ الْمُؤْمِنٰتِ فَمِنْ مَّا مَلَکَتْ اَیْْمَانُکُمْ مِّنْ فَتَیٰتِکُمُ الْمُؤْمِنٰتِ وَاللّٰہُ اَعْلَمُ بِاِیْمَانِکُمْ بَعْضُکُمْ مِّنْ بَعْضٍ فَانْکِحُوْہُنَّ بِاِذْنِ اَہْلِہِنَّ وَاٰتُوہُنَّ اُجُوْرَہُنَّ بِالْمَعْرُوْفِ مُحْصَنٰتٍ غَیْْرَ مُسٰفِحٰتٍ وَّلاَ مُتَّخِذٰتِ اَخْدَانٍ فَاِذَآ اُحْصِنَّ فَاِنْ اَتَیْْنَ بِفَاحِشَۃٍ فَعَلَیْْہِنَّ نِصْفُ مَا عَلَی الْمُحْصَنٰتِ مِنَ الْعَذَابِ ذٰلِکَ لِمَنْ خَشِیَ الْعَنَتَ مِنْکُمْ وَاَنْ تَصْبِرُوْا خَیْْرٌ لَّکُمْ وَاللّٰہُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ.(النساء ۴: ۲۵)
’’اور جو تم میں سے آزاد مسلمان عورتوں سے نکاح کی مقدرت نہ رکھتا ہو، وہ اُن مسلمان لونڈیوں سے نکاح کرلے جو تمھاری ملکیت میں ہوں۔ اللہ تمھارے ایمان سے خوب واقف ہے۔ تم سب ایک ہی جنس سے ہو ۔ لہٰذا اِن لونڈیوں کے ساتھ اُن کے مالکوں کی اجازت سے نکاح کرلواور دستور کے مطابق اُن کے مہر ادا کرو، اِس شرط کے ساتھ کہ وہ پاک دامن رکھی گئی ہوں، نہ علانیہ بدکاری کرنے والی ہوں اور نہ چوری چھپے آشنائی کرنے والی ہوں...یہ اجازت تم میں سے اُن کے لیے ہے جن کے مشکل میں پڑ جانے کا اندیشہ ہو، اور صبر کرو تو یہ تمھارے لیے بہتر ہے۔ اور اللہ بخشنے والا ہے ، اُس کی شفقت ابدی ہے۔‘‘

۶۔زکوٰۃ کے مصارف میں ایک مستقل مد ’فِی الرِّقَاب‘ بھی رکھی گئی تاکہ غلاموں اور لونڈیوں کی آزادی کی اِس مہم کو بیت المال سے بھی تقویت بہم پہنچائی جائے۔ ۲۱؂
۷۔زنا کو جرم قرار دیا گیا جس کے نتیجے میں لونڈیوں سے پیشہ کرانے کے تمام اڈے آپ سے آپ بند ہوگئے اور اگر کسی نے خفیہ طریقے سے اِس کاروبار کو جاری رکھنے کی کوشش کی تو اُسے نہایت عبرت ناک سزا دی گئی۔
۸۔لوگوں کو بتایا گیا کہ وہ سب اللہ کے غلام ہیں، لہٰذا لونڈیوں اور غلاموں کے لیے ’عبد‘ اور ’أمۃ‘ کے الفاظ استعمال کرنے کے بجاے ’فتٰی‘ (لڑکا) اور ’فتاۃ‘ (لڑکی) کے الفاظ استعمال کیے جائیں تاکہ اُن کے بارے میں لوگوں کی نفسیات بدلے اور صدیوں سے جو تصورات قائم کر لیے گئے ہیں، وہ تبدیل ہوجائیں۔ ۲۲؂
۹۔ غلاموں کے فراہم ہونے کا ایک بڑا ذریعہ اُس زمانے میں اسیران جنگ تھے۔ مسلمانوں کے لیے اِس کا موقع پیدا ہوا تو قرآن نے واضح کردیا کہ اُنھیں غلام نہیں، بلکہ قیدی بنا کر رکھا جائے گا اور اِس کے بعد دو ہی صورتیں ہوں گی: اُنھیں فدیہ لے کر چھوڑ دیا جائے گا یا بغیر کسی معاوضے کے احسان کے طور پر رہا کردیا جائے گا۔ اِن کے علاوہ کوئی صورت اب مسلمانوں کے لیے جائز نہیں رہی۲۳؂۔‘‘ (میزان، جاوید احمد غامدی ۴۷۸۔۴۸۰)

آخر میں غلاموں کے معاملے میں مندرجہ ذیل ہدایت دی گئی:

وَالَّذِیْنَ یَبْتَغُوْنَ الْکِتٰبَ مِمَّا مَلَکَتْ اَیْْمَانُکُمْ فَکَاتِبُوْہُمْ اِنْ عَلِمْتُمْ فِیْہِمْ خَیْْرًا وَاٰتُوْہُمْ مِّنْ مَّالِ اللّٰہِ الَّذِیْ اٰتٰکُمْ.(النور۲۴: ۳۳)
’’اور تمھارے غلاموں میں سے ان کو آزاد کردو جو آزادی چاہیں، اگر تم ان میں کوئی خیر دیکھو اور ان کو اس مال میں سے دو جو اللہ تعالیٰ نے تمھیں عطا کیا ہے۔ ‘‘

اوپرسورۂ نور کی نقل کی گئی آیت میں مکاتبت کا حکم دیا گیا ہے۔ یہ ایک اصطلاح ہے جس کا مطلب ہے کہ ایک غلام اپنے آقا سے معاہدہ کرتا ہے جس کے تحت اسے ایک مقررہ مدت میں ایک خاص رقم دینی ہوگی یا پھر اپنے آقا کے لیے کوئی خاص خدمت انجام دینی ہوگی، تب وہ آزاد ہوجائے گا۔ ان دونوں میں سے کوئی ایک کو پورا کرنے کے نتیجے میں وہ آزاد قرار پائے گا۔اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ لازماً غلام کی طرف سے پیش کیے گئے معاہدے کو قبول کریں، اگر وہ اسے پورا کرنا چاہتا ہے اور معاشی طور پر خود کفیل ہونے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ آگے مزید یہ بات کہی گئی کہ اسلامی حکومت کو قومی خزانے، جسے اللہ کا مال کہا گیا ہے، سے ان غلاموں کی مدد کرنی چاہیے۔ آیت کے الفاظ سے یہ بات واضح ہے کہ مکاتبت کا حق غلام مرد اور عورت دونوں کو دیا گیا ہے۔ دوسرے لفظوں میں یہ حقیقت واضح کی گئی ہے کہ غلام اب اپنی قسمت کے مالک ہوں گے اور جب چاہیں، اپنے آپ کوآزاد کرواسکتے ہیں۔
اس تفصیل سے یہ بات بخوبی واضح ہوجاتی ہے کہ اسلام نے غلامی کو ختم کرنے کا ایک تدریجی طریقہ اختیار کیا اور اس کے بعد اسے ہمیشہ کے لیے ممنوع قرار دے دیا۔

_____
۱۲؂ البلد۹۰: ۱۳۔
۱۳؂ بخاری، رقم ۲۵۱۷۔ مسلم ، رقم ۳۷۹۵۔
۱۴؂ مسلم، رقم ۴۳۱۶۔
۱۵؂ بخاری، رقم ۶۰۵۰۔ مسلم، رقم ۴۳۱۳، ۴۳۱۵۔
۱۶؂ مسلم، رقم ۴۲۹۸۔
۱۷؂ مسلم، رقم ۴۳۰۸۔
۱۸؂ ابوداؤد، رقم ۵۱۶۴۔ ترمذی، رقم ۱۹۴۹۔
۱۹؂ النساء ۴: ۹۲۔ المجادلہ ۵۸: ۳۔ المائدہ ۵: ۸۹۔
۲۰؂ النور ۲۴: ۳۲۔۳۳۔
۲۱؂ التوبہ ۹: ۶۰۔
۲۲؂ مسلم، رقم ۵۸۷۵، ۵۸۷۷۔
۲۳؂ محمد ۴۷: ۴۔

____________