۹۔ سچائی عرب کی فطرت کا اصلی جوہری تھی بالخصوص جب وہ کوئی معاہدہ کر لیتے کسی بات کے لیے زبان دے دیتے کسی معاملے میں قسم کھا بیٹھتے تو پھر اس سے ٹلنا اس کے لیے ناممکن ہوتا وہ کسی کے حلیف ہوتے یا کسی سے رشتہ جوار قائم کرتے یا کوئی نذر مانتے تو اپنی ذمہ داری جس طرح بھی ممکن ہوتا ضرور پوری کرتے ۔ قسم کھا لینے کے بعد اس سے مکرنا اور پیچھے قدم ہٹانا وہ اپنی غیرت وحمیت کی انتہائی توہین سمجھتےتھے۔ معاہدے کے وقت وہ جو ہاتھ میں ہاتھ دیتے تھے تو اس کے معنی یہ ہوتے کہ اس عہد کی حرمت کے لیے وہ اپنی جان کے لیے ہر جوکھم برداشت کرلیں گے یہی وجہ ہے کہ جان کو خطرے میں ڈالنا قسم کا ایک لازمی مفہوم ہو گیا ہے۔ ہم چھٹی فصل میں اس کی طرف اشارہ کر چکے ہیں چنانچہ عرب میں سب سے زیادہ عام قسم لعمری (میری جان کی قسم) ہے جس کے یہ معنی ہیں کہ میں اپنی بات کے لیے اپنی زندگی خطرے میں ڈال دوں گا بعض شاعروں نے قسم کی یہ حقیقت صاف لفظوں میں واضح کردی ہے ریطہ بنت عباس سلمیہ کا شعر ہے۔

لعمری دما عمری علی بھین
لنعم الفتی اردیتم آل خثعما
میری جان کی قسم اور میری جان کوئی معمولی چیز نہیں ہے اے آل خثم تم نے بہترین نوجوان کو ہلاک کیا۔

نابغہ ذبیانی کہتا ہے:

لعمزی دما عمری علی بھین
لقد نطقت بطلا علی الاقارع

میری جان کی قسم اور میری جان کوئی معمولی چیز نہیں ہے کہ بنی قریع بن عوف نے میرے بارے میں بے اصل باتیں کہیں۔

اس کے شواہد کلام عرب میں بہت ہیں۔

یہیں سے قسم کی اس نوع میں مقسم بہ کے احترام کا پہلو بھی پیدا ہو گیا ۔ کیونکہ کوئی شخص اس طرح بات کو موکد اسی حالت میں کر سکتا ہے جب وہ ایسی چیز کی قسم کھائے جو اس کی نظروں میں محترم اور عزیز ہو۔ اس نوع کی اقسام کی اصل یہی ہے پھر یہیں سے ’’لعمرک‘‘ (تیری جان کی قسم) وغیرہ اسالیب قسم پیدا ہو گئے جن میں مخاطب کے احترام کا پہلو ہوتا ہے۔ اس طرح کی قسموں میں متکلم کا منشا گویا یہ ہوتا ہے کہ میں اپنی جان کی نہیں بلکہ’’تیری جان کی قسم کھاتا ہو ں جو میری نظروں میں سب سے زیادہ عزیز ومحترم ہے ۔ چونکہ عام گفتگو کے لیے یہ اسلوب نہایت دل پسند اور موزوں تھا  اس لیے کثرت سے چل گیا اور  لَعَمروک، لَعَمُْرابِیک وَجَدِّکَ اور بِغّزتِکَ وغیرہ بہت سے اسلوب رائج ہو گئے۔

یہ الفاظ عام طور پر گفتگو میں رائج ہیں ۔ اس لیے ان کی سندیں نقل کرنے کی ضرورت نہیں ہے ۔ البتہ ان میں چند باتیں قابل لحاظ ہیں جن کی طرف  ہم یہاں شارہ کر دینا چاہتے ہیں۔

۱- پہلی یہ کہ ان اقسام میں مقسم بہ اگرچہ محترم اور عزیز ہوتا ہے لیکن معبود اور مقدس نہیں ہوتا جیسا کہ آگے والی فصل میں ہم دینی اقسام کے بیان میں دیکھیں گے۔

۲- دوسری یہ کہ جب مقسم بہ مخاطب کی طرف مضاف ہو تو اس سے مقصود مخاطب کے عزت واحترام کا اظہار ہوتا ہے مثلاً فرمایا ہے۔

لَعَمْرُکَ اِنَّھُمْ لَفِیْ سکْرَتِھْم یَعْمُوْنَ (الحجر: ۷۲)

تیری جان کی قسم وہ اپنی مدہوشی میں اندھے ہوئے جا رہے ہیں۔

اس خطاب سے اللہ تعالیٰ نے آحضرت ﷺ کی عزت بڑھائی ۔ اسی اسلوب کی دسری آیت ہے۔

فَلَاوَرَبِّکَ لَایُوْمِنُوْنَ حَتّٰی یُحَکِّمُوْکَ۔

پس نہیں تیرے رب کی قسم وہ مومن نہیں ہیں تاکہ آنکہ وہ تجھے حکم نہ مانیں۔

اور جب مقسم بہ کی اضافت متکلم کی طرف ہوتی ہے تو اس سے خود اس کی عزت اور عظمت کا اظہار مقصود ہوتا ہے گویا وہ کہتا ہے کہ میری عزت وحرمت ایسی وبالاترشے ہے کہ اس پر ہاتھ ڈالنے کی جرات نہیں کی جا سکتی۔

یہی پہلو ہے جس کی وجہ سے اس طرح کی قسم خاکسار اور متواضع بندوں کے لیے موزوں نہیں ہے اور شاید مسیح علیہ السلام نے جو قسم کی مطلق ممانعت فرمائی تو اس سے یہی قسم مراد ہے ان کا ارشاد ہے کہ اپنے سر کی قسم مت کھاکیونکہ ایک بال بھی سفید یا سیاہ کرنے پر تو قادر نہیں ہے۔

چونکہ بعض قسموں میں بدعہدی پر وبال کی بددعا بھی ہوتی ہے جیسا کہ چھٹی فصل میں بیان ہو چکا ہے اس لیے بعض اوقات وہ مفہوم بھی اس طرح کی قسموں میں شامل ہو جاتا ہے گویا قسم کھانے والا یوں کہتا ہے کہ اگر میں جھوٹا ہوں تو میری عمر برباد اور میری عزت تباہ ہو جائے۔

 

لیکن اس ساری تفصیل سے تم پر یہ حقیقت واضح ہو چکی ہوگی کہ اس قسم کے لیے ضروری شرط یہ ہے کہ مقسم بہ مخاطب یامتکلم کی طرف مضاف ہو نیز اس کے لیے مخصوص الفاظ ہیں جو اوپر بیان ہوئے اور اس میں قسم اسی چیز کی کھائی جاتی ہے۔ جس کا احترام جس کا احترام اور جس کی عزت متکلم کی نظروں میں مسلم ہو۔ پس معلوم ہوا کہ قرآن کی وہ قسمیں جن میں مقسم بہ ذاریات،عادیات ،خنس اور الجوار الکنس وغیرہ کے قبیل کی چیزیں ہیں ۔ اس نوع سے بالکل الگ ہیں۔

پھر یہ بات بھی یاد رکھنی چایے کہ یہ قسمیں عرب کی پختہ قسموں میں سے نہیں ہیں عام طور پر ان کا استعمال محض تاکید کے لیے ہوتا ہے اور اس کی حیثیت وہی ہوتی ہے جو اقسمت وغیرہ کی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کبھی کبھی لعمر اللہ بھی کہہ دیتے ہیں پس عام طور پر جب یہ قسمیں کھاتے ہیں تو اس کا پورا مفہوم نہیں مراد لیتے ۔ پورا مفہوم جب مراد لیتے ہیں تو اس کو واضح کرنے کی کوشش کرتے ہیں جیسا کہ ہم ریط سلمیہ اور تابغہ کے  شعروں میں دیکھ چکے ہیں۔

ان کے علاوہ ایمان غلیظہ کی قسم ہے جس کا بیان اگلی فصل میں آئے گا۔