۱۰- ہم چھٹی فصل میں بیان کر چکے ہیں کہ بعض مرتبہ تمدنی ضروریات اور بعض دوسرے حالات مجبور کرتے ہیں کہ آدمی اپنی بات تاکید وتوثیق کے ساتھ پیش کرے۔ یہی ضروریات وحالات کبھی کبھی اس بات کے داعی ہوتے ہیں کہ اس تاکید میں پوری شدت اور اس توثیق میں کامل استحکام ہو اس کے لیے طریقہ یہ تھا کہ بالعموم معاہدوں اور قسموں کی تکمیل عبادت  گاہوں کے سامنے ہوا کرتی تھی اسی طرح قسم میں مذہبی تقدس کا رنگ پیدا ہوا۔ اس طرح کی قسموں اور معاہدوں پر گویا اللہ تعالیٰ کی گواہی ثبت ہوجاتی تھی اور ان کے توڑنے میں اس کی خفگی کا اندیشہ تھا۔

شروع شروع میں علیحدہ علیحدہ قوموں کی چوٹی چھوٹی حکومتیں ہوا کرتی تھیں قدرتی حدود  سمندروں اور پہاڑوں نے قوموں کو الگ الگ نہیں کیا تھا جس کے سبب سے پڑوسی قوموں کا آپس مین ٹکرا جانا ہر وقت مقصور تھا۔ ایسی حالت میں ایک دوسرے کی زیادتیوں سے بچائو کا واحد ذریعہ معاہدہ ہی تھا۔

بعض اوقات مختلف النسل قومیں بھی کسی مشترک دشمن کے مقابل میں دفاع وتعاون کی غرض سے معاہدے کر لیتی تھیں ۔ غرض صلح ہو یا جنگ ہر اہم معاملہ میں اصلی سپرمعاہدہ ہی بنتا تھا حضرت ابراہیم علیہ اسلام جب اپنی قوم کو چھوڑ کر عرب میں آ کے آباد ہوئے اور ابوملک نے ان کو طاقت ور اور صاحب جمعیت دیکھا تو فوراً ایک خاص رسم کے مطابق ان سے معاہدہ کر لیا کہ آپس میں کوئی جنگ نہ برپا ہو اس معاہدے کے ذریعہ سے حضرت ابراہیم علیہ السلام اور ابو ملک باہمدگر حلیف بن گئے۔

معاہدے کی تمدنی عظمت واہمیت پر تاریخ شاہد ہے۔ جب آج بھی متمدن اقوام میں اس کی ضرورت اور اہمیت مسلمہ ہے تو قدیم قوموں میں اس کی عظمت کا کون اندازہ کر سکتا ہے جن کی زندگی کا خمیرغیرت وحمیت اور تعدی و دست درازی ہی سے مرکب تھا؟ آج دنیا کا حال کل سے کچھ بہتر نہیں ہے بلکہ کہا جا سکتا ہے کہ آج کا حال کل سے کچھ زیادہ ہی برا ہے۔

آج ظلم وتعدی کے ساتھ جھوٹ اور فریب کی بھی آمیزش ہو گئی ہے اور معاہدوں کا اعتماد بالکل اٹھ گیا ہے تاہم قومیں اپنی تمدنی ضروریات سے مجبور ہو کر انہی تنکوں کا سہارا ڈھونڈھتی ہیں اور ججوں اور حکام کے سامنے اللہ تعالیٰ اور اس کے شعائر کی قسمیں کھائی جاتی ہیں پس جب آج بھی تمام بے اعتمادی اور فریب کے باجوود معاہدہ کی اہمیت اور ضرورت مسلم ہے تو وہ قدیم قومیں اس پر اعتماد کرنے کی زیادہ حق دار تھیں جو سچائی کو تمام اخلاق کی روح سمجھتی تھیں۔ چنانچہ تاریخ شاہد ہے کہ ان کی تمام معاشرتی اور اجتماعی زندگی کی بنیاد اسی چیز پر تھی ان کو جب کوئی اہم ضرورت پیش آتی تو اپنے معبدوں اور تھانوں کے پاس اکٹھی ہوتیں اور وہیں اپنے دیوتائوں کے سامنے معاہدہ کرتیں۔

زمانہ جاہلیت میں عربوں کا حال بھی یہی تھا وہ جس طرح لڑنے جھگڑنے میں طاق تھے اس طرح قول کی پاسداری اور وفائے عہد میں بھی اپنی نظیر نہیں رکھتے تھے۔ خانہ کعبہ ان کا سب سے بڑا معبد تھا اور اس کا احترام صلح و امن کا سب سے بڑا منادی۔ یہ اسی کا احترام تھا کہ حج کے مہینوں میں تمام فتنے سرد پڑ جاتے ۔ جو عرب اپنی زندگی میں شیروں کی طرح خوفناک بھڑیوں کی طرح خونخوار تھے۔ وہ ان مہینوں کے آتے ہی بھیڑوں سے زیادہ حلیم وبردبار بن جاتے اورراہبوں کے لباس پہن کر اور امن وعدل کی تمام خوبیوں سے بن سنور کر اللہ کے گھر کے گرد اکٹھے ہوتے اور اس جگہ پہنچ کر دشمن اپنے دشمن سے اور حریف اپنے مقابل سے بغیر کسی خوف واندیشے کے مل سکتا یہی وجہ ہے کہ وہ مکہ کو ’’صلاح‘‘ اور ام الرحم بھی کہتے تھے اور جب ان کا کوئی معاہدہ کرنا ہوتا تو وہ اسی معبد کے پاس آتے اور گویا خدا کے سامنے اپنے معاہدے مرتب کرتے۔

عربوں میں معاہدوں کی اصل شکل یہی تھی لیکن پھر شرک کی آلودگی کی وجہ سے کبھی یوں بھی ہونے لگا کہ کسی تھان کے پاس اکٹھے ہو کر معاہدہ کر لیتے کیونکہ جن تھانوں پر وہ قربانی کرتے تھے ان کو خدا کا شریک اور خدا کے دربار میں ان کو اپنے لیے سفارشی  سمجھتےتھے۔

ادائے رسم کا طریقہ یہ تھا کہ یا تو قربانی کرکے ان کا خون چھڑکتے یا خانہ کعبہ کو چھوتے جیسا کہ ان کے اشعار میں اس کا ذکر ملے گا یا پھر یہ کرتے کہ کسی خوشبو میں اپنے ہاتھ سب ڈالتے اور پھر اس سے خانہ کعبہ کو چھوتے ۔ اس کی مثال ہم کو بعثت سے کچھ پہلے بنی عبد مناف کے حلف میں ملتی ہے انہوں نے آپس میں معاہدہ اتحاد کرنا چاہا تو خانہ کعبہ کے پاس اکٹھے ہو کر ایک لگن میں خوشبو ڈالی ۔ پھر تمام حلیفوں نے اس میں اپنے ہاتھ ڈبائے اور پھر اس سے خانہ کعبہ کو چھوا ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت ابوبکرؓ بھی اس حلف میں شریک تھے ۔ اس خوشبو کی وجہ سے یہ لوگ  مطیبین سے مشہور ہوئے۔

بعض حالتوں میں یہ رسوم ادا نہیں کیے جاتے تھے صرف فریقین خانہ کعبہ کے پاس جمع ہو جاتے اور اس کے سامنے قسمیں کھا لیتے۔

یہ دینی قسموں کی اصل ہے پھر آہستہ آہستہ اس میں وسعت ہوئی اور مجرد ذکر کعبہ وشعائر حج نے ایک دینی قسم کی حیثیت حاصل کرلی جیسا کہ ان مثالوں میں تم دیکھو گے۔

زہیر بن ابی سلمیٰ کہتا ہے:

فاقسمت بالبیت الذی طاف حولہ
رجال بنوہ من قریش وجُرھم

پھر اس گھر کی قسم کھاتا ہوں جس کے گرد قریش وجرہم میں سے وہ لوگ پھرتے ہیں جنہوں نے اس کو بنایا ۔

ایضاً:

فتجمع ایمن منا ومنکم
بمقسمۃ تمور بھا الدماء

پس ہمارے ہاتھ اور تمہارے ہاتھ ایک ایسی قسم کی جگہ(بیت اللہ) اکٹھے ہوں گے جہاں قربانیوں کا خون بہتا ہوگا۔

اعشیٰ قیس کا شعرہے:

فانی وثوبی راھب الحج والتی
بنا ھا قصی وحدہ وابن جرھم

راہب حج کی دو چادروں اور اس گھر کی قسم جس کو تنہا قصی اور ابن جرہم نے بنایا کہ میں…

ایضاً:

خلفت لہ بالرا قصات الٰی منٰی
اذا محرم خلفتہ بعد محرم

میں نے اس کے لیے ان اونٹنیوں کی قسم کھائی جو رقص کرتی ہوئی منی کی طرف جاتی ہیں جب کہ حاجیوں کی ریل پیل ہوتی ہے۔

حارث بن عابد کہتا ہے:

کلا و رب الرٰ قصات الٰی منٰی
کلا و رب الحل و الاحرام
ہرگز نہیں،ان اونٹنیوں کے رب کی قسم جو رقص کرتی ہوئی منی کی طرف جاتی ہیں ۔ ہرگز نہیں،حل واحرام کے رب کی قسم۔

نابغہ ذُبیانی کا شعر ہے:

فلا لعمر الذی مسحت کعبتہ
وما ھریق علی الانصاب من جسد

پس نہیں اس کی ذات کی قسم جس کے کعبے کا میں نے طواف کیا اور اس خون کی قسم جو تھانوں میں بہایا گیا۔

والمومن العائذات الطیر تمسحھا
رکبان مکۃ بین الغیل والعسد
اور اس ذات کی قسم جو چڑیوں کو پناہ دیتی ہے جن پر غیل وسعد کے درمیان مکہ کے قافلے گزرتے ہیں لیکن ان کوچھیڑتے نہیں۔

ما قلت  من  سیء  مما  اتیت بہ
اذا فلا رفعت سوطی الی  یدی
کہ میرے متعلق جو غلط بات تم کو پہنچائی گئی ہے وہ میں نے نہیں کہی ہے اگر میں نے وہ بات کہیں ہو تو میرے ہاتھ شل ہو جائیں۔

اذاً فعا تبنی ربی معاقبۃ
قرت بھا عین من یاتیک بالفنہ
 اور میرا رب مجھ کو ایسی سزا دے کہ اس سے میرے حاسد کی آنکھیں ٹھنڈی ہو جائیں۔

شاس،عقلمہ الفحل کا بھائی کہتا ہے:

حلفت بما ضم الحجیج الی منٰی
وماثج من نحرالھدی المقلد

اس کی قسم جس نے حاجیوں کو منٰی کی طرف جمع کیا اور اس خون کی قسم جو قربانی کے جانوروں سے بہایا گیا۔

          غنیہ اعرابیہ اپنے بیٹے کی تعریف کرتی ہے:

احلف    بالمروۃ    یوما    و    الصفا
انک     خیر    من    تفاریق    العصا
میں کبھی مردہ کی قسم کھاتی ہوں کبھی صفا کی تو لٹھیا کے ٹکڑوں سے زیادہ نفع بخش ہے۔

تھانوں کی قسم ان شعروں میں ملے گی۔

مہلہل کا شعر ہے:

کلا و انصاب لنا عادیۃ
معبود قد قطعت تقطیعا

ہرگز نہیں،پرانے اور معبود انصاب کی قسم جو خوب کو تراشے گئے ہیں۔

طرفہ کہتا ہے:

فاقسمت عندالنصب انی لھالک
بملثفۃ  لیست بغبط ولا خفض

کیونکہ میں نے تھان کے پاس قسم کھائی ہے کہ میں کسی سخت معرکے میں جان دے کر ہوں گا۔

متلمس کا شعر ہے:

اطر   دتنی  حذرا   لھجا ء  ولا
واللہ     والا     نصاب    لا تئل
تو نے مجھے دور کیا ہجو کے اندیشے سے لیکن اللہ اور انصاب تھانوں کی قسم تو اس سے نجات نہیں پا سکتا۔

رشید بن رمیض الغزی کہتا ہے:

حلفت بمائرات حول عوض
وانصاب ترکن لدی السعیر
میں نے ان خونوں کی قسم کھائی جو عوض اور ان تھانوں کے پاس بہائے گئے وہ سعیر کے پاس ہیں۔

انصاب  کی قسمیں کم ہیں زیادہ تر قسمیں کعبہ اور شعائر حج کی ہیں ۔ اہل عرب زمانہ جاہلیت میں ہر طرح کے اختلافات عقائد  کے باوجود بیت اللہ کی تعظیم میں بالکل متفق تھے۔ وہ جانتے تھے کہ خدا کا ولین گھر جو لوگوں کے لیے تعمیر ہوا یہی ہے یہاں تک کہ عرب کے نصرانی بھی اس گھر کی قسم کھاتے تھے۔ عدی بن زید جاہلیت میں نصرانی ہو چکا تھا۔ تاہم کہتا ہے۔

سعی  الاعداء  لا  یالون   شرا
علیک  ورب  مکۃ  و الصلیب

اعداء سرگرم سازش ہیں اور تمہارے خلاف کوئی شرارت اٹھا نہ رکھیں گے مکہ کے رب اورصلیب کی قسم!

اخطل اپنی نصرانیت کے پُرفخر اعلانات کے باوجود کہتا ہے:

حلفت بمن تساق لہ الھدایا
ومن حلت بکعبتہ النذور
میں  نے اس ذات کی قسم کھائی جس کے لیے ہدیے پیش ہوتے ہیں اور جس کے کعبے میں نذریں حلال ہوتی ہیں۔

ایضاً

لقد حلفت بما اسری الححیج لہ
ولناذرین دماء البدن فی الحرم

میں نے اس کی قسم کھائی جس کے لیے حجاج سفر کرتے ہیں اور تدر،کرنے  والوں کی جو قربانیوں کا خون حرم میں نذر کرتے ہیں۔

اسی کے شعر ہیں:

انی حلفت برب الراقصات وما
اضحٰی بمکۃ من حجب واستار
میں نے ان اونٹنیوں کے رب کی قسم کھائی جو اتراتی ہوئی منی کی طرف جاتی ہیں اور مکہ کے پردوں اور غلافوں کی۔

وبالھدی واذا حمرت مذا رعھا
فی یوم نسک وتشریق وتخار
اور قربانی کے جانوروں کی قسم جبکہ ان کے پیر قربانی کے ایام میں خون آلود ہو جاتے ہیں۔

اس سے تمہیں معلوم ہوگا کہ اہل عرب جب کسی قسم کو موکد اور پُر زور کرنا چاہتے تھے تو کعبہ اور شعائر حج کی قسم کھاتے تھے اس بات کی انہوں نے اپنے اشعار میں جا بجا ظاہر بھی کردیا ہے حضرت حسان بن ثابتؓ نے اسلام لانے  سے قبل کہا تھا۔

 

انی   و  رب   المخیسات وما
یقطعن من کل سرنج جدو
سدھائی ہوئی اونٹنیوں کے رب کی قسم اور ان کے وسیع میدانوں اور پتھریلی زمینوں کے قطع کرنے کی قسم!

والبدن قد قربت لمنحرھا
حلفۃ برالیمین مجتھدا
اور قربانی کے جانوروں کی قسم جو قربان گاہ پر پیش کیے جائیں ایسی قسم جو وفادارانہ صاحب عزم کی قسم ہے۔

زہیر بن ابی سلمیٰ کہتا ہے:

فاقسمت جھدًا بالمنازل من منیٰ
وما سحقت فیہ المقادم والقمل
میں نے منیٰ کے منازل کی اور اس جگہ کی قسم کھائی جہاں سر منڈائے جاتے ہیں۔

جاہلیت کی یہ بات اسلام میں بھی باقی رہی۔فرزوق کا شعر ہے:

الم ترنی عاھدت ربی داننی
بسین رتاج قائما ومقام

کیا تمہیں  نہیں معلوم کہ میں نے باب کعبہ اور مقام کے مابین کھڑے ہو کر اپنے رب سے عہد کیا ہے کہ

علیٰ حلفۃ لا اشتم الدھر مسلما
ولا خارجا من فی زورکلام
کسی مسلم کو گالی نہ دوں گا اور نہ اپنے منہ سے کوئی جھوٹ بات نکالوں گا۔

خطئیہ کہتا ہے:

لعمر الراقصات بکل فج!
من الرکبان موعدھا مناھا
اٹھلا کر چلنے والی اونٹنیوں کی قسم ہر راہ سے جن کی منزل منی ہے۔

مذہبی قسموں کی اصل نوعیت یہ ہے اس سے تمہیں معلوم ہوا ہو گا کہ ان سے مقصود دراصل اللہ تعالیٰ کو گواہ بنانا ہے۔ پھر اسی سے اس کے وکیل وکفیل ہونے کے مفہوم بھی پیدا ہو گیا یعنی قسم کھانے والوں کو ذہنیت یہ ہوتی تھی کہ اگر انہوں نے اس قسم یا عہد میں جھوٹ اور فریب کو راہ دی تو یہ موجب قہر الٰہی ہوگا ۔ نابغہ کے جوا شعار اوپر مذکور ہوئے ہیں ان میں یہ تصور پوری طرح نمایاں ہے۔

رہے صلحاء واخیار تو وہ جب اللہ تعالیٰ کو گواہ ٹھہراتے ہیں تو ان کا مقصد صرف اللہ تعالیٰ پر توکل اور اعتماد کا اظہار اور قسم کی پختگی اور قطیعت کا اعلان ہوتا ہے۔ اس فصل کے آخر میں کچھ اشعار مذکور ہیں جن سے ہمارے اس خیال کا ثبوت ملے گا ۔ اور یہ جو اہل عرب اپنی قسموں میں خانہ کعبہ ،قربانی اور بیت اللہ کو چھونے کا ذکر کرتے ہیں تو ان سب سے مقصود محض شہادت کے مفہوم کو تقویت دینا اور قسم کے طریق کی طرف اشارہ کرنا ہوتا ہے مجرد اللہ تعالیٰ کے نام کی قسم پورا تنبہ نہیں پیدا کرتی اس وجہ سے وہ کوشش کرتے ہیں کہ قسم کی اصل ادراس کی صورت کو نگاہ کے سامنے رکھ دیں تاکہ قلب پر اس کا اثر پڑے۔

ہم نے قسم کا جو مفہوم اہل عرب کے حالات اور ان کے اشعار سے اخذ کیا ہے اس کی تائید اس بات سے بھی ہوتی ہے۔ کہ جو جگہ جگہ اپنی قسموں میں اللہ کی گواہی کا ذکر کرتے ہیں اللہ گواہ ہے اللہ جانتا ہے اور اس کے ہم معنی الفاظ ان کے کلام میں بہت ملتے ہیں ۔ عمروبن معدیکرب کہتا ہے:

اللہ یعلم ماترکت قتالھم
حتی علوا فرسی باشقر مزبد
خدا گواہ ہے کہ میں نے ان سے مقابلہ نہیں چھوڑا یہاں تک کہ سرخ اور جھاگ والے خون کے ساتھ میرے گھوڑے پر چھا گئے۔

لم اکن من جنا تھا علم اللہ
وانی بحر ھاالیوم صال
خدا گواہ ہے کہ میں اس فساد کے ابھارنے والے لوگوں میں سے نہیں ہوں مگر اس فساد کی آگ سے جل رہا ہوں۔

نابغہ نے سانپ اور اس کے ایک حلیف آدمی کا قصہ نقل کیا ہے اس قصہ سے بھی ہمارے خیال کی تائید ہوتی ہے قصہ یوں ہے کہ سانپ نے اپنے حلیف آدمی کے لڑکے کو ڈس لیا جس سے وہ مرگیا ۔ لیکن پھر دیت کے وعدہ پر فریقین میں صفائی ہوگئی ۔ لیکن جب آدمی نے اپنی دیت پوری وصول کر لی تھی تو سانپ کوبھی قتل کردینا چاہا لیکن وہ کسی طرح بچ گیا ۔ اس کے بعد آدمی نے اس کو دوبارہ صلح ومحبت کی دعوت دی۔ اس واقعے کو نابغہ بیان کرتا ہے:

آدمی

فقال تعالیٰ انجعل اللہ بیننا
علٰی مالنا اوتنجزی لی اٰخرہ

(آدمی نے ) کہا آئو ہم اپنے معاملہ پر از سر نو اللہ کو گواہ بنائیں ۔ یا پھر تم آخر تک اپنے وعدہ کوپورا کرو۔

سانپ:

فقالت یمین اللہ افعل اننی
وایتک مسحور ایمینک فاجرہ
(سانپ نے) جواب دیا خدا کی قسم اب میں یہ نہیں کرنے کا۔تم سحرزدہ ہو اور تمہاری قسم جھوٹی ہے۔

ہمارے اس دعوے کا نہایت واضح ثبوت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے آخری خطبے میں بھی موجود ہے ۔ آپؐ نے تمام اہم امور وفرائض کے ذکر کے بعد فرمایا:اَلَاھَلْ بَلََّٰتُ، الّّٰھم اشھد(آگاہ میں نے پہنچا دیا،اللہ تو گواہ ہے ) دیکھوآپؐ نے جو عہد کیا اس پر اللہ تعالیٰ کو گواہ ٹھہرایا۔

اس ذیل میں ابن التیبہ ازدی کا واقعہ بھی قابل ذکر ہے ۔ اُن کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے تحصیل صدقہ کے لیے عامل بنایا لیکن انہوں نے اس فرض کی ادائیگی کے دوران میں کچھ ہدیے وغیرہ قبول کر لیے۔ آپؐ کو معلوم ہوا تو آپؐ نے اس پر غصہ کا اظہار فرمایا اور ان کی ذمہ داریوں کو یاد دلانے کے بعد آسمان کی طرف ہاتھ اٹھا کر تین بار فرمایا ’’اللّٰم ھل بلغت‘‘(خداوند! میں نے پہنچا دیا)

آسمان کی طرف ہاتھ اٹھا کر اللہ کو گواہ ٹھہرانے کی مثال حضرت ابراہیم علیہ السلام کے ایک واقعے سے بھی ملتی ہے۔

کتاب پیدائش باب۱۴صفحہ ۲۲میں ہے:

’’پرابرام نے سدوم کے بادشاہ سے کہا کہ میں نے خداوند تعالیٰ ،آسمان وزمین کے مالک کی طرف ہاتھ اٹھایا ہے۔(قسم کھائی ہے) کہ میں نہ تو کوئی دھاگا نہ جوتی کا تسمہ نہ تیری کوئی اور چیز لوں‘‘۔

ہاتھ اٹھایا ہے یعنی اس پر اللہ تعالیٰ کی قسم کھائی ہے۔ اس کو گواہ ٹھہرایا ہے،اور اس سے معاہدہ کیا ہے،ہمارے نزدیک نماز میں ہاتھ اٹھانے کی اصل حقیقت بھی عہد وشہادت ہے۔ اس کی تفصیل ہم نے  اپنی کتاب اصول شرائع میں کی ہے۔ علاوہ ازیں قرآن مجید میں بھی جگہ جگہ اس کی تصریح موجود ہے اور اس کے بعض شواہد آٹھویں فصل میں بیان ہو چکے ہیں ۔ خلاصہ کلام یہ ہے کہ دینی قسموں کی اصل حقیقت بھی شہادت ہی ہے ،ان میں تعظیم کا مفہوم محض مقسم بہ کی جہت سے داخل ہو گیاہے۔ قسم کے اصل مفہوم یعنی شہادت کے جہت سے نہیں داخل ہوا ہے۔ اس حقیقت کی پوری توضیح ان قسموں سے ہوگی جن میں مقسم بہ محض استدلال کے لیے ہے اور یہ بلاغت کا ایک نہایت ہی لطیف باب ہے جس کے حقائق آئندہ فصلوں میں بیان ہوں گے۔