۶-      بعض اوقات آدمی اپنے مخاطب کو مطمئن کرنے کے لیے ضرورت محسوس کرتا ہے  کہ اپنے کسی بیان یا وعدے کو زور اور تاکید کے ساتھ پیش کرے۔ خصوصیت کے ساتھ اہم قومی و اجتماعی  معاملات میں ایسا کرنا بسا واقات ناگزیر ہوتا ہے ایک قوم دوسری قوم کے ساتھ یا ایک بادشاہ اپنی رعایا کے ساتھ یا عام افراد آپس میں کوئی معاہدہ کرتے ہیں تو باہمی اعتماد واطمینان کے لیے اسی طرح کی تاکید و توثیق ضروری سمجھتے ہیں یہاں تک کہ یہ چیز موافق کو مخالف اور دوست کو دشمن سے پہچاننے کا معیار قرار پاجاتی ہے۔

انسان کی اس تمدنی ضرورت نے طرح طرح کے طریقے اور خاص خاص الفاظ پیدا کر دیئے جن سے لوگ اس تاکید کا اظہار کرنے لگے۔ یہ قسم کی اصل ہوئی۔

رومیوں، عربوں اور عبرانیوں کے حالات کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ بعض اوقات تاکید کا اظہار داہنا ہاتھ پکڑ کر کرتے تھے۔ جب معاہدے کے وقت ایک فریق دوسرے فریق کا ہاتھ پکڑ لیتا تھا تو یہ فریقین کی طرف سے معاہدے کی پختگی  اور مضبوطی کے ساتھ اس کی پابندی کا اظہار واقرار ہوتا ۔ گویا یہ ہیئت ان کی طرف سے اس امر کا اعلان سمجھی جاتی ہے کہ ہمارا تعلق محکم ہے اور اس کی ضمانت کے طورپر ہمارے داہنے ہاتھ گروہیں یہی وجہ ہے کہ قسم کے لیے یمین کا لفظ استعمال ہوا جس کے معنی عربی زبان میں داہنے ہاتھ کے ہیں۔ بعض شاعروں نے قسم کی اس حقیقت کو پوری وضاحت کے ساتھ بیان کر دیا ہے مثلاً جساس کا شعر ہے۔

سأو دی  حق  جاری
ویدی  رھن  فعالي
میں اپنے پڑوسی کا حق ادا کروں گا اور میرے ہاتھ میرے کارناموں کے بدلے رہن ہیں۔

یہیں سے قسم میں کفالت وضمانت کا مفہوم بھی پیدا ہو گیا ہے ۔ اس چیز کو ہر صاحب نظر جانتا ہے بیعت کے وقت داہنا ہاتھ تھامنا یا بیع وشراء کے وقت ہاتھ پر ہاتھ مارنا اسی حقیقت کی ایک عملی تصویر ہے۔ رومیوں اور ہندوستان کی قوموں میں اس کی یاد گار موجود ہے عبرانی میں بھی قسم کو یمین کے لفظ سے تعبیر کرتے ہیں۔

زبور باب۱۴۴-۸میں ہے:

’’جن کے منہ سے بطالت نکلتی رہتی ہے اور جن کی قسم جھوٹی قسم ہوتی ہے‘‘۔

عبرانی میں یہ عبارت یوں ہے:

’’اشرفہیم وبرسوء یمینام یمین سوئ‘‘

لیکن انگریزی مترجموں پر تعجب ہے کہ اس عبارت کا مطلب وہ نہ سمجھ سکے اور دوسرے فقرے کا ترجمہ انہوں نے یوں کر دیا۔

انہوں نے(یمین) کے لفظ سے قسم نہیں سمھجی بلکہ سچ مچ داہنا ہاتھ سمجھ لیا اور یہ ان کی بے شمار غلطیوں میں سے ایک نہایت بھونڈی غلطی اور عبرانی سے ان کی ناواقفیت کا نہایت کھلا ہوا ثبوت ہے۔

اور اس غلطی سے زیادہ انوکھی اور عجیب بات یہ ہے کہ انہوں نے بعد میں اس ترجمے پر نظر ثانی کرکے اس میں بہت کچھ ردوبدل کیا لیکن کیا یہ غلطی جوں کی توں رہ گئی۔

اسی طرح معاملے کے وقت ہاتھ پر ہاتھ مارنے کا ذکر امثال سلیمان ب۶-۱میں ہے۔

’’اگر تو ہاتھ پر ہاتھ مار کر کسی بیگانے کا ذمہ دار ہواہے۔"

اس سے معلوم ہوا ہے کہ عہدو معاملے کے بارے میں عربوں اور عبرانیوں کا حال بہت کچھ یکساں ہے اسی طرح "یمین" کا لفظ جس طرح ہمارے ہاں قسم کے لیے برتا گیا ہے اسی طرح ان کے ہاں بھی قسم کے لیے برتا گیا ہے۔

جب عہد میں شریک ہونے والے بہت سے لوگ ہوتے تو ایسا بھی ہوتا کہ پانی سے بھرے ہوئے کسی برتن میں سب اپنے داہنے ہاتھ ڈالتے اور چونکہ برتن کا چیز سے سب کے ہاتھ مس ہوتے اس لیے اس کے معنی یہ سمجھے جاتے کہ گویا سب نے ایک دوسرے کا داہنا ہاتھ پکڑ کر کسی بات پر اتفاق کیا ہے اور چونکہ چھوٹے اور لگنے کے لیے سب سے زیادہ موزوں چیز پانی ہے۔

اس لیے عربی میں بلت یا لشیٔ یدی لصقت بہ(میرا ہاتھ اس شے پر جم گیا) کے معنی میں استعمال ہونے لگا طرفہ کا مشہور شعر ہے۔

إذا ابتدر القوم السلاح وجدتنی
منیعا إذا بلت بقائمہٖ  یدی

جب قوم کے لوگ اسلحہ کی طرف جھپٹتے ہیں تو مجھے اس وقت محفوظ دیکھے گا جب میرے ہاتھ تلوار کے قبضہ پر جم جاتے ہیں۔

کبھی ایسا ہوتا کہ کوئی خوشبو لے کر باہم تقسیم کرتے اور اس کو ہاتھوں میں مل لیتے اور چونکہ خوشبو پانی کے مقابلے میں زیادہ دیرپا، زیادہ پھیلنے والی اور زیادہ اعلان کرنے والی ہوتی ہے اس لیے اس کو ’عرف‘ اور ’نشر‘ بھی کہنے لگے۔ اس قسم کے معاہدے کی مثال ہم کو عربی لٹریچر میں ’’عطر منشم‘‘ کے قصے میں ملتی ہے ،جس کے متعلق بیان کیا جاتا ہے کہ ایک قوم نے اپنے دشمنوں سے لڑائی کی ٹھانی اور اس کے لیے معاہدہ کیا اور اس معاہدے کی صورت یہ ہوئی کہ ایک عطر فروش عورت منشم نامی سے خوشبو خریدی گئی اور اس کو باہم تقسیم کیا گیا اس معاہدے کا قصعہ مشہور ہے یہاں تک کہ عربی لٹریچر میں اس کا ذکر بطور ضرب المثل کے ہوتا ہے ۔ زہیر اپنے ایک شعر میں کہتا ہے:

تدار   کتما    عبسا    و    ذیبان     بعد    ما
تفانوا    و     دقّوا    بینھم   عطر    منشم

تم دونوں نے عبس اورذیبان کو اس وقت سنبھالا جب وہ آپس میں لڑکے فنا ہو چکے تھے اور منشم کا عطر تقسیم کیا تھا۔

اسی سے ملتی جلتی شکل خوشبو ہاتھ ڈبونے کی بھی ہے جس کے متعلق مطیبین کے حلف کا واقعہ ہم دسویں فصل میں انشاء اللہ بیان کریں گے۔

بعض مرتبہ کوئی چوپایہ ذبح کرکے اس کا خون معاہدے کے دونوں فریق اپنے جسموں پر چھڑکتے ۔ اس کا مطلب  یا تو یہ سمجھا جاتا کہ یہ دوستی رشتہ خون وقرابت کے درجے کی ہے یا یہ کہ اس عہد کی حفاظت کی راہ میں ہم اپنا خون تک بہا دیں گے خراج ب ۲۴ : ۵۔۸میں ہے:

’’اور اس نے بنی اسرائیل کے جوانوں کو بھیجا جنہوں نے سوختنی قربانیاں چڑھائیں اور بیلوں کو ذبح کرکے سلامتی کے ذبیحے خداوند کے لیے گزارنے اور موسیٰ نے آدھا خون لے کر باسنوں میں رکھا اور آدھا قربان گاہ پر چھڑک دیا پھر اس نے عہد نامہ اور لوگوں کو پڑھ کر سنایا انہوں نے کہا کہ جو کچھ خداوند نے فرمایا ہے اس سب کو ہم کریں گے اور تابع رہیں گے تب موسیٰ نے اس خون کو لے کر لوگوں پر چھڑکا اور کہا کہ دیکھو یہ اس عہد کا خون ہے جو خداوند نے ان سب باتوں کے بارے میں تمہارے ساتھ باندھا ہے۔"

اس قسم پر غورکرو۔معاہدے کے لیے ایک طرف تو انہوں نے اپنے جسموں پر خون چھڑکا دوسری طرف مذ بح پر چھڑکا جو گویا خداکا قائم مقام تھا اور اس طرح خداوند کے حلیف ہوئے تورات میں اس کی مثالیں بہت ہیں زکریا ۹ب ۱۲میں ہے:

’’اور تیری بابت یوں ہے کہ تیرے عہد کے خون کے سبب سے میں تیرے اسیروں کو اندھے کنویں سے نکال لایا۔"

کبھی ایسا ہوتا ہے کہ اپنی رسی ایک دوسرے کے ساتھ جوڑتے اور اس طرح باہم حلیف بن جاتے ۔ چنانچہ لفظ ’’حبل‘‘ ذمہ اور جوار کے معنی کے لیے استعمال ہونے لگا۔ قرآن مجید میں ہے۔

اِلَّا بِجَمْلٍ مِّنَ اللّٰہِ وَ حَبْلٍ مِّنَ النَّاسِ الآیۃ (اٰل عمران۔۱۲۲)

مگر اللہ کے عہد وپیمان کے ذریعے سے  اورلوگوں کے عہد وپیمان کے ذریعے سے

امراء القیس کا شعر ہے:

إني                بجلک       واصل      حبلی
و  بریش        نبلک         واصل       نبلي
میں تیری رسی کے ساتھ اپنی رسی جوڑوں گا اور تیرے تیر کے پر کے ساتھ اپنا تیر لگائوں گا۔

خطیۂ نے اپنے ایک شعر میں اس کی اصل حقیقت بے نقاب کردی ہے۔

قوم   یبیت   قریر    العین   جادھم
إذا لوی    بقوی    أطنابھم     طنبا
ایسے لوگ ہیں کہ ان کا پڑوسی چین کے ساتھ سوتا ہے جب کہ ان کی رسی کے ساتھ اپنی رسی جوڑلیتا ہے۔

غرض فریقین میں جو معاہدے ہوتے عموماً اس کی تاکید وتوثیق کے یہ طریقے رائج تھے۔ بسا اوقات کوئی لذت اپنے اوپر اس قصد سے حرام کر لیتے کہ جب تک فلاں کام پورا نہ کرلیں گے اس وقت تک اس سے متمتع نہ ہوں گے اس کو نذر کہتے تھے۔ اس قسم کی مشہور نذر کلیب کے بھائی مہلہل کی نذر تھی ۔ جس نے نذر مانی تھی کہ جب تک اپنے بھائی کا قصاص نہ لے لے گا اس وقت تک نہ تو شراب پئے گا نہ خوشبو لگائے گا۔ نہ بالوں میں کنگھی کرے گا۔ ایساہی ایک موقع پر امراء القیس نے بھی کیا تھا ۔ چنانچہ نذر پوری ہونے کے بعد اس نے کہا۔

حلت      لي      الخمر   و     کنت    امرأً
عن     شربھا       في      شغل      شاغل
اب میرے لیے شراب حلال ہوئی اور میں ایسا شخص تھا جس کو ایک بڑی مہم نے اس کے پینے سے روک رکھا تھا۔

بعد میں اس کے مفہوم میں وسعت پیدا ہو گئی اور اس بات کو نذر کہنے لگے جس کا بطریق قسم التزام کر لیا جائے چنانچہ عمروبن معدیکروب کہتا ہے:

ھم     ینزون      دمی     و    أنذر
ان         قصیت        بأن     اشدا
انہوں نے منت مانی ہے کہ مجھ سے مقابلہ ہوا تو مجھے قتل کر دیں گے اور میں نے منت مانی ہے کہ اگر مقابلہ ہوا تو میں ان پر بے جگری سے حملہ کروں گا۔

اسی وجہ سے نذرکویمین بھی کہنے لگے چناچنہ قبیصہ ایفائے نذرکاذکر کرتے ہوئے کہتا ہے۔

فاصبحت    قد     حلت     یمینی   واد  رکت
بنو     ثعل    تبلی  و     راجعنی     شعری
اور میری قسم پوری ہو گئی اور بنوثعل نے میرا قصاص پالیا اور میری شاعری میرے پاس لوٹ آئی۔

یعنی میں نے نذرکے ذریعہ سے جو چیز اپنے اوپر حرام کر لی تھی وہ میرا قصاص پالینے کے بعد حلال ہو گئی۔

اسی نذر سے ملتی جلتی صورت ایک یہ بھی تھی کہ بددعا کرتے تھے کہ اگر فلاں بات یا فلاں وعدے میں ہم جھوٹے ثابت ہوں تو ہم پر فلاں فلاں آفتیں نازل ہوں۔ معدان بن جواس کندی کہتا ہے۔

ان      کان      ما     بلغت    عنی    فلا منی
صدیقی     و    مثلت   من     یدی     الانامل
اگر وہ بات سچ ہے جو تجھے میری نسبت پہنچی تو میرے دوست مجھے ملامت کریں اور میرے ہاتھوں کی انگلیاں شل ہو جائیں۔

و   کفنت     و   حدی  منذراً      فی     ردائہٖ
و صارف      حوطا      من      اعادی     قاتل
اور میں تنہا مندر کو اس کی چادر میں کفنائوں اور حوط کو میرا کوئی دشمن قتل کر ڈالے۔

اشتر نخعی کہتا ہے:

بقیت   دفری   وانحرفت   عن   العلیٰ
ولقیت    اضیافی     بوجہ     عبوس
میں اپنا مال بچا بچا کے رکھوں الواالعزمی کے کارناموں سے اعراض کروں اپنے مہمانوں سے بدخلقی سے پیش آئوں۔

ان    لم    اشن   علی   ابن  حرب  غارۃ
لم    تخمل    یوما    من    تھاب   نفوس
اگر ابن حرب پر ایسی غات گری نہ کروں جس کا کوئی دن بھی جان ومال کی تباہی سے خال نہ جائے۔

اس طرح کی قسموں میں دینی قسموں کی جھلک ہے  کیونکہ ان میں بھی قسم کھانے والوں کو خیال ہوتا ہے کہ خدا کے گواہ ٹھہرانے کے بعد اگر کوئی بے عنوانی ہوئی تو اس کے قہر وغضب سے دوچار ہونا پڑے گا۔

ایک صورت یہ تھی کہ کسی چیز سے بغیر کسی شر ط کے رک جاتے،اس کو الیَّتہ کہتے ہیں قرآن مجید میں اس کا ذکر آیا ہے۔

لِلَّذیْنَ یُؤْلوْنَ مِنْ نِسّآ ئِھِمْ تَرَبُّصُ اَرْبَعَۃِ انشْھُرٍ (البقرہ : ۲۲۶)

جو لوگ اپنی بیویوں سے نہ ملنے کی قسم کھا بیٹھے ہیں ان کے لیے چار مہینوں کی مہلت ہے۔

پھر آہستہ آہستہ اس کے مفہوم میں وسعت پیدا ہوئی یہاں تک کہ آلیت اقسمت کے مرادف کی حیثیت سے استعمال ہونے لگا چنانچہ امراء القیس کہتا ہے۔

والت      حلفۃ      لم      تحلل
اور اس نے نہ ٹوٹنے والی قسم کھائی۔

طرفہ کاشعر ہے:

فآلیت لا ینفک  کشحی بطانۃ
لعضب دقیق الستضرنین مہند
پس میں نے قسم کھالی کہ میرا پہلو ایک تیر کاٹ والی تلوار سے کبھی خالی نہ ہوگا۔

غفیۃ ،حاتم طائی کی ماں کا شعر ہے:

لعمری لقد ماعضتی الجوع عفتہ
فألیت الاامتع الدھر جائعا
میری جان کی قسم بھوک کی اذیت نے مجھے پہلے سے سنایا ہے  پس میں نے قسم کھائی کہ کسی بھوکے کو کبھی بھی محروم نہ کروں گی۔

اس کی مثالیں بہت مل سکتی ہیں ،آلیت، کو اقسمت کی جگہ بہت استعمال کیا گیا ہے بعض جگہ اسی تاکید کے مقصد کے لیے لام تاکید استعمال کرتے تھے اس کی مثال قرآن مجید میں بھی ہے۔

 وَ اِنْ لَّمْ یَنْتَھُوْا عَمَّا یَقُوْلُوْنَ لَیَمَسَّنَّ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا مِنْھُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ (المائدہ:۷۳)

 اور اگر باز نہ آئے اس بات سے جو وہ کہتے ہیں تو البتہ ان لوگوں کو جنہوں نے ان میں سے کفر کیا ہے عذاب دردناک پکڑے گا۔

دوسری جگہ ہے:

وَ لَیَنْصُرَنَّ اللّٰہُ مَنْ یَّنْصُرُہٗ۔(الحج: ۴۰)

البتہ اللہ مدد کرے گا ان لوگوں کی جو اس کی مدد کریں گے۔

بعید کا شعر ہے:

ولقد علمت لتاتین منیتی
ان المنایا لا یطش سہامہا
اور معلوم ہے کہ میری موت آگے رہے گی موت کے تیر بے خطا ہوتے ہیں۔

سیبعویہؒ نے کہا ہے کہ قائلین گویا کہ واللہ لتائین کے مفہوم میں ہے سبیور نے یہ بات بطریق تمثیل کہی ہے۔اس کا مطلب ہے کہ یہاں قسم مقصود ہے چنانچہ لام قسم کے ذکر میں اس نے یہ بات کھول دی ہے کہتا ہے:

اور اسی کے مثل  لِمَنْ تَبَعَکَ مِنْھُمْ لَاَمْلَئنَّ سے یہاں بھی لام بقصد قسم آیا ہے۔ واللہ اعلم

سیبویہؒکا مقصدیہ نہیں ہے کہ یہاں کسی متعین چیز کی قسم کھائی ہے اس کا مقصد یہ ہے کہ محض "لاملئن" قسم ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ قسم کی اصل حقیقت محض تاکید ہے اس لیے ہر جگہ مقسم بہ مخدوف ماننے کی ضرورت نہیں ہے قرآن مجید میں جہاں جہاں لام قسم آیا ہے سب کو اسی اصول پر قیاس کرنا چاہیے اور اگر اس سے پہلے کوئی ایسا لفظ آئے جو قطعیت اور یقین کو ظاہر کرے تو وہ بھی لفظ قسم سے مشابہ ہوگا جس کی مثال لبید کے اس شعر میں موجود ہے جو اوپر نقل ہوا ہے قرآن مجید میں بھی اس کی مثالیں موجود ہیں۔مثلاً

 ثُمَّ بَدَالَھُمْ مِّنْم بَعْدِ مَا رَاَوُا الْاٰیٰتِ لَیَسْجُنُنَّہٗ حَتّٰی حِیْنٍ (یوسف: ۳۵)

پھر ان نشانیوں کے دیکھ لینے کے بعد بھی ان لوگوں نے یہی مناسب سمجھاکہ ایک مدت کے لیے اس کو ضرور قید کردیں۔

دوسری جگہ ہے:

قَالَ فَالْحَقُّ وَالْحَقَّ اَقُوْلُ لَاَ مْلَْنَّ جَھَنَّمَ (ص: ۸۵)

کیا تمہیں یہ سچ  ہے اور میں سچ ہی کہتا ہوں کہ جہنم کو ضرور بھردوں گا۔

پس اس طرح کے مواقع میں ہر جگہ مقسم بہ مخدوف ماننے کی ضرورت نہیںہے    سیاقِ کلام سے ظاہر ہے کہ ان مثالوں میں مخدوف ماننا کلام کی بلاغت کے بالکل خلاف ہے۔

یہ ساری تفصیل جو قسم کے مختلف طریقوں اور اس کی تعبیرات سے متعلق اوپر گزری یہ واضح کرنے کے لیے بالکل کافی ہے کہ مقسم بہ قسم کے ایسے لوازم میں سے نہیں ہے کہ جہاں اس کا ذکر نہ ہو خواہ مخواہ اس کو مخدوف مان لو،قسم کا مقصود محض بات کی تاکیدہوتا ہے یا جس بات کے کرنے یا نہ کرنے کا عہد کیا گیا ہے اس کے لیے عزیمت کا اظہار۔