۱۷- ممکن ہے کسی کو شبہ ہو کہ اگر یہ قسمیں دلیل ہیں تو ان کو دلیل کے صاف اسلوب میں کیوں نہیں پیش کیا گیا؟ اس کا جواب یہ ہے کہ استدلال کی مختلف حالتیں ہیں بعض مرتبہ استدلال ایسے امور پر ہوتا ہے جن میں نفرت یا رغبت کا کوئی پہلو نہیں ہوتا اس کی نہایت واضح مثالیں علوم طبیعی ،ریاضی یا بالعموم تاریخ میں مل سکتی ہیں ۔ ایسے مواقع پر بلاشبہ استدلال کاصاف اور واضح  اسلوب ہی موزوں ہو سکتا ہے لیکن بعض اوقات استدلال کا تعلق ایسے نفسیاتی امور سے ہوتا ہے جن میں متکلم ومخاطب دونوں طرف سے ترغیب وانکار ،زجرواعراض اور ضد واصرار کی ایک خاص کشاکش ظہور میں آجاتی ہے ایسے مواقع میں ضرورت پیش آتی ہے کہ دلیل کومختلف صورتوں اور بھیسوں میں پیش کیا جائے اور کلام کے ایسے ڈھب اختیار کیے جائیں جو وضاحت ولطافت اور قوت وشدت کے اعتبار سے متفاوت ہوں یہی نکتہ ہے کہ بعض مرتبہ  اسلوب کلام بدل دیا جاتا ہے کہ مخاطب ایک ہی انداز کی گفتگو سے بے مزہ ہو اور اگر ایک اسلوب کلام اس پر موثر نہیں ہوتا تو دوسرا اختیار کیا جاتا ہے کہ ممکن ہے یہ کچھ کار گر ہو قرآن مجید نے اسی حقیقت کی طرف اشارہ کیا ہے۔

 اُنْظُرْ کَیْفَ کَذَبُوْا عَلٰٓی اَنْفُسِھِمْ وَ ضَلَّ عَنْھُمْ مَّا کَانُوْا یَفْتَرُوْنَ(الانعام:۲۵)

غور کرو کس طرح ہم اپنی آیتیں ہیر پھیر کر بیان کرتے ہیں تاکہ وہ سمجھیں ۔

حضرت ابراہیم علیہ السلام نے جس بادشاہ سے مجادلہ کیا تھا ،اس کے ساتھ بھی آپ نے یہی انداز اختیار کیا۔جب دیکھا کہ جو دلیل انہوں نے مخاطب کے سامنے پیش کی ہے اس کو وہ نہیں سمجھ رہا ہے انہوں نے اس کو ترک کرکے فوراً دوسری دلیل اختیار کر لی اور پہلی دلیل پر اصرار مناسب نہیں سمجھا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ معترض  اس دوسری دلیل کے سامنے بے بس ہو کے رہ گیا۔

یہ شبہے کا اجمال جواب ہوا۔ اب ہم چاہتے ہیں کہ اسلوب قسم کے اندر محاسن بلاغت کے جو گوناگوں  پہلو موجود ہیں ان میں ہے بعض کی طرف یہاں اشارہ کریں۔

۱- اس اسلوب سے قول کی پختگی اور تاکید کا اظہار مقصود ہوتا ہے قرآن مجید میں رسولوں کا قول مذکور ہے۔

 قَالُوْا رَبُّنَا یَعْلَمُ اِنَّآ اِلَیْکُمْ لَمُرْسَلُوْنَ وَ مَاعَلَیْنَآ اِلَّا الْبَلٰغُ الْمُبِیْنُ(یس ۱۶-۱۷)

اور نہیں ہے ہماری ذمہ داری مگر کھلے طورپر پہنچادینا۔

سورہ طارق میں ہے:

 وَالسَّمَآئِ ذَاتِ الرَّجْعِ وَالْاَرْضِ ذَاتِ الصَّدْعِ اِِنَّہٗ لَقَوْلٌ فَصْلٌ وَّمَا ہُوَ بِالْہَزْلِ (۱۱-۱۴)

اور شاہد ہے آسمان پر نگارا ورزمین پر شگاف کہ یہ دوٹوک بات ہے اور ہنسی مسخری نہیں ہے۔

اور عرب اس بات کو جانتے تھے کہ ایک شریف انسان جب کسی بات پر قسم کھاتا ہے تو اس سے اس کا مقصود بات کی سچائی اور واقعیت کا اظہار ہوتا ہے یہی وجہ ہے کہ اوائل نبوت میں قسمیں زیادہ ہیں تاکہ لوگوں کے سامنے معاملے کی اہمیت اور سنجیدگی پوری طرح واضح ہو جائے اور یہ چیز خود اسلوب قسم کی خصوصیات میں سے ہے ۔ اس وجہ سے نہیں ہے کہ اس میں تعظیم کا کوئی پہلو ہوتا ہے جس طرح اثبات یا انکار کی تاکید کے لیے اکثر زبانوں میں استفہام یا تعجب کا اسلوب لاتے ہیں ۔ یا تعجب کی تاکید  کے لیے نداء کا اسلوب اختیار کرتے ہیں۔ مثلاً یا’’للماء ‘‘’’یا لقموی للشباب المبکر‘‘ اسی قسم کے اسلوب کی یہ لازمی خصوصیت ہے کہ اس سے قول کی پختگی اور سنجیدگی کا اظہار ہو۔

۲-      اسلوب قسم کی دوسری خصوصیت یہ ہے کہ وہ انشاء کی صورت میں ہوتا ہے جس کی وجہ سے مخاطب کو اس میں تردید وانکار کا کوئی پہلو نہیں ملتا وہ جواب قسم کا آسانی سے انکار کر سکتا ہے کیونکہ وہ خبر کی صورت میں ہوتا ہے لیکن نفس قسم کا انکار نہیں کر سکتا کیونکہ وہ انشاء کی شکل میں سامنے آتی ہے یہی حالت صفت کی بھی ہوتی ہے وہ ایسی صورت میں سامنے آتی ہے کہ سامع کو اس کے ردوانکار کی طرف توجہ نہیں ہوتی حالانکہ ان دونوں صورتوں میں انشاء کا رنگ محض ظاہری ہے حقیقت کے اعتبار سے یہ دونوں اسلوب خبری ہیں ۔ اور قرآن مجید کی بعض قسموں میں تو یہ دونوں قسم کی خبریں جمع ہو گئی ہیں مثلاً والقرآن للمجیدوالیوم الموعود،فالمقسمت امرا،فالفارقات فرقا، و و الصّٰفّٰت صفا،چنانچہ اگر ان کی تشریح کی جائے تو ان میں سے ہر جملہ خبر یہ چملوں کی شکل میں ڈھل جائے گا۔ مثلاً والصفات صفاً کا مطلب ہوگا ملائکہ غلاموں کی طرف صف البتہ ہیں فالمقسمت امرا اور فالفارقات فرقاً کا مطلب ہوگا کہ ہوائیں خدا کے حکم سے فرق وامتیاز کرتی ہیں۔ والقرآن المجید کا مطلب ہوگا کہ یہ قرآن برتر کلام ہے والیوم الموعود کا مطلب ہوگا کہ ان کے محاسبے کے لیے ایک روز مقرر ہے۔ پس یہ گویا خبریں ہیں جو صافات اورفارمات  وغیرہ میں چھپا دی گئی ہیں اورنیز چونکہ قسم کا اسلوب ہے اس لیے ان اشیاء کا شہادت اور دلیل ہونا مزید برآں ہے اور اس پہلو سے گویا اس میں دہری خبریں چھپی ہوئی ہیں۔

یہاں یہ نکتہ بھی قابل لحاظ ہے کہ جہاں کہیں یہ اندیشہ ہوتا ہے کہ مخاطب ہو شہار ہو کر انکار کاترکش سنبھال لے گا وہاں یا تو خطاب کا رخ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف پھیر دیا جاتا ہے۔ مثلاً

یٰس وَ الْقُرْاٰنِ الْحَکِیْمِ

قرآ ن حکیم کی قسم تم خدا کے فرستادوں میں سے ہو۔

یا جواب قسم کو،جس کا جملہ خبر یہ کی شکل میں ہونا ناگزیر ہے ۔ حذف کردیا جاتا ہے اور صرف مقسم بہ پر اکتفا کرکے اس کے بعد کوئی ایسی بات لائی جاتی ہے جو مخدوف پر دلیل ہو ،تاکہ مخاطب کو اتنی فرصت ہی نہ ملے کہ وہ انشاء کو خبر کی صورت میں ڈھال کر اس کے تردید وانکار کے لیے آمادہ ہو۔ اس وقت وہ قسم کے بعد کی بات سننے کے لیے کان لگاتا ہے تاکہ اس کی تردید کر سکے لیکن دفعتہ اس کے سامنے ایک ایسی بات آجاتی ہے جس کا مقصود اس استدلال کی قوت پہنچانا ہوتا ہے جو سابق کلام میں پیش نظر تھا۔مثلاً

صٓ وَالْقُرْاٰنِ ذِی الذِّکْرِ بَلِ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا فِیْ عِزَّۃٍ وَّشِقَاقٍ (ص ۱-۲)

پُر نصیحت قرآن کی قسم بلکہ کافر گھمنڈ اور غار میں مبتلا ہیں۔

اس آیت کو دیکھو صرف جملہ  انشائیہ پر اکتفا کیا ۔ جملہ  خبر یہ نہیں لائے ۔قسم کے ساتھ جو صفت مذکور تھی گویا وہی خبر کی قائم مقام ہو گئی یعنی پوری بات یوں ہوئی کہ قرآن مجید شاہد ہے کہ وہ ان کے لیے یا د دہانی اور نصیحت ہے اس کے بعد ان کے بعض ایسے خصائل کا ذکر کیا ہے جس سے ان کو انکار نہیں تھا بلکہ ان پر فخر کرتے تھے اور واضح کردیا کہ ان کا یہ اعراض محض حمیت جاہلیت اور عناد کا نتیجہ ہے۔

اسی سے مشابہ سورہ ق کی قسم ہے۔

قٓ،وَاْلقُرٰنِ اْلِمجِیّدِ بَلْ عَجِبُوْٓ ا اَنْ جَآئَ ھُمْ مُّنْذِرٌ مِّنْھُمْ فَقَالَ اْلکٰفِرْونَ ہٰذَا شَیْ ئٌ عَجِیْبٌ(۱-۲)

قرآن بزرگ کی قسم،بلکہ ان کی تعجب ہے کہ ان کے پاس انہی میں سے ایک ہوشہار کرنے والا آیا پس کافروں نے کہا یہ تو ایک عجیب چیز ہے۔

یعنی قرآن مجید شاہد ہے ک وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے نہایت کھلے لفظوں میں بعث کی خبر دینے والا ہے لیکن وہ صرف اس وجہ سے اس کے منکر ہیں کہ ان کی نظر میں یہ بات عیب ہے کہ اس کی خبر دینے والا انہیں کے اندر کا ایک آدمی ہے ہاں اگر قسم ایسی ہے کہ مخاطب کو اس سے انکار نہیں ہے تو ایسے مواقع پر جواب قسم کو حذف نہیں کیا گیا ہے مثلاً

حٓم،وَالْکِتٰبِ الْمُبِیْنِ اِنَّا جَعَلْنٰہُ قُرْاٰنًا عَرَبِیًا لَّعَلَّکُمْ تَعْقِلُوْنَ(الزخرف ۱۔۳)

شاہد ہے واضح کتاب بلاشبہ ہم نے بنایا اس کو عربی قرآن تاکہ تم لوگ سمجھو۔

اس میں قسم کے ساتھ واضح اور کھلی ہوئی ہونے کا کر کیا ہے اور جواب میں اس کے قرآنی عربی ہونے کا ذکر کیا ہے اور یہ دونوں باتیں ایسی ہیں جن میں سے کسی سے بھی ان کا انکار نہیں تھا۔ پھر لطف یہ ہے کہ یہاں قرآن مجید کے منزل من اللہ ہونے کو علیحدہ  دعوے کی شکل میں نہیں پیش کیا کیونکہ یہ بات خود کلام کے اندر مضمر ہے جب کہ اس  نے کلام کو اپنی طرف منسوب فرمایا۔ اس کا فائدہ یہ ہے کہ اس کے انکار کی طرف مخاطب کو توجہ نہیں ہو سکتی یہاں اگرموضوع کے حدود سے باہر نکل جانے کا اندیشہ نہ ہوتا تو جواب قسم کے حذف کے مواقع اور اس کے فوائد پر ہم تفصیل سے بحث کرتے ہیں لیکن قسموں کے تحت ہی ان سے تعرض کرنا مناسب ہوگا۔

۳-  اس اسلوب کی تیسری خوبی استدلال کے لیے اس کی موزونیت ہے ۔ اس اسلوب میں اختصار ہوتا ہے اور جب الفاظ کم ہوں تو مفہوم تمام حجابات سے مجرو ہو کر سہولت سے سامنے آجاتا ہے اور اس سے اس کی تاثیر اور زور میں اضافہ ہو جاتا ہے یہی وجہ ہے کہ استعارہ کبھی کبھی بلاغت میں تشبیہ پر فوقیت لے جاتا ہے یہاں ایجاز کے محاسن پر بحث کرنے کی ضرورت نہیں ہے بلاغت کی کتابوں میں اس پر مفصل مباحث موجود ہیں بعض معاصرین ادب نے تو ایجاز کی تعریف میں اس قدر مبالغے سے کام لیا ہے کہ ان کے نزدیک ایجاز بلاغت کا دوسرا نام ہے وہ کلام کے تمام محاسن کا محوراسی کو قرار دیتے ہیں اور اس کی وجہ اس کے تنوعات کی کثرت اور گوناگونی ہے وہ جس راستے سے بھی داخل ہوں اسی دروازے  تک پہنچتے ہیں اور جس دروازے کو بھی کھولتے ہیں اسی کا جلوہ ان کے سامنے آتا ہے ۔ پس  تمام ابواب بلاغت میں ایسی ایک چیز پر ان کی نگاہ ٹک گئی ہے۔

ایجاز کا ایک بڑا فائدہ یہ ہے کہ اس کے ذریعے سے پہلو بہ پہلو متعدد دلائل جمع کیے جا سکتے ہیں اور جب ایک ہی بات پر مختلف پہلوئوں سے استدلال کیا جائے تو قوت واثر کے لحاظ سے اس کا درجہ بلند ہو جاتا ہے اس کی مثال سورہ طور،سورہ بلد اور سورہ تین کی قسموں میں مل سکتی ہیں۔ اگر ان قسموں کی تفصیل کردی جائے اور ان کے اندر جو دلائل مضمر ہیں ان کو  پوری طرح کھول دیا جائے تو کلام کا تمام نظم پر اگندہ اور منشتر ہو جائے گا بعینہٖ یہی بات ہم سورہ فجر،سورہ والشمس اور سورہ واللیل کی قسموں میں پاتے ہیں۔

یہاں یہ امر بھی یاد رکھنا چاہیے کہ عرب  اپنی ذہانت اور احساس برتری کی وجہ سے دوسری قوموں کے مقابل میں ایجاز  کو زیادہ پسند کرتے تھے یہی وجہ ہے کہ قرآن مجید کی کوئی آیت ایسی نہیں ہے جس کے معانی ومطالب اس کے الفاظ سے زیادہ نہ ہوں۔ اگر کوئی بات کسی پہلو سے نسبتاً پھیلائو کے ساتھ بیان ہوتی ہے تو وہی بات دوسروں پہلوئوں سے ایجاز واختصار کی خوبیاں بھی اپنے اندر رکھتی ہے۔ یہی راز ہے کہ قرآن مجید کے عجائب واسرار کی کوئی انتہا نہیں ہے۔

۴- اسلوب قسم کی چوتھی خوبی یہ ہے کہ اس میں دلیل کے ڈھونڈھنے میں سامع خود متکلم کے ساتھ شریک ہوتا ہے جس کا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ اس کے اندر عنادواختلاف کا داعیہ کمزور پڑجاتا ہے ۔ انسانی طبیعت کی یہ خصوصیت ہے کہ جب کوئی حقیقت کے اس کے سامنے غوروتامل کے بعد آتی ہے تو اس سے اس کی خوشی اور مسرت ہوتی ہے برعکس اس کے اگر متکلم سامع کو اپنے بیان کی وضاحت سے منفعل ومرعوب کردے تو یہ چیز اس کی طبیعت پر ایک قسم کا بوجھ بن جاتی ہے اور خوشی کے بجائے اس میں ایک قسم کی تکان اور انقباض کا احساس  پیدا ہوتا ہے اور یہ بھی اس صورت میں جب کہ مخاطب کو متکلم کی رائے سے اختلاف نہ ہو  اور اگر اختلاف ہو تو اس کا نتیجہ اور بھی مہلک ہوتا ہے اس شکل میں وہ اس سے بالکل بے راز ہو کر اپنے کان ہی بند کر لیتا ہے کلام میں بسا اوقات خبر کے بجائے استفہام کا جو اسلوب اختیار کیا جاتا یہ اس کا مقصد بھی عموماً سامع کو استنباط  دلیل میں شریک کرنا ہے ۔ الاتری ذلک اور ہل سمعت ہذا وغیرہ اسالیب بیشتر اسی مقصد سے استعمال ہوتے ہیں خطبۃ الوداع میں اس طرح کے استفہام کی نہایت بلیغ مثالیں موجود ہیں ۔ آپ نے پوچھا ای بلدہذا،اسی شہر ہذا ،ای یوم ہذا؟ یہ کون سا شہر ہے کون سا مہینہ ہے ،کون سا دن ہے؟ان تمام سوالات  کا مقصد صرف یہ تھا کہ سامیعن کو بیان سننے کے لیے پوری طرح آمادہ کردیا جائے۔ قرآن مجید نے سورہ فجر میں یہ دونوں بلیغ اسلوب ایک جگہ جمع کردیئے ہیں پہلے بعض ایسی چیزوں کی شہادت پیش کی ہے جو عقل انسانی کو ابھارتی ہیں کہ وہ ان کے اندر سے اللہ تعالیٰ کی تدبیر وتقدیر اور اس کے عدل کی دلیلیں استباط کرے اس کے بعد فرمایا:

 ھَلْ فِیْ ذٰلِکَ قَسَمٌ لَّذِیْ حِجرٍ(۵)

کیوں اس میں تو ہے قسم عقلمند کے لیے

  اسی کے مثابہ سورہ طارق کا اسلوب ہے۔

وَالسَّمَآئِ وَالطَّارِقِ وَمَآ اَدْرٰکَ مَا الطَّارِقُ النَّجْمُ الثَّاقِب (۱-۲)

آسمان اور شب آہنگ کی قسم اور تو کیا جانے کہ شب آہنگ کیا ہے ’دمکتا ستارہ!

یہی وجہ ہے کہ جو لوگ استدلال میں ماہر ہوتے ہیں وہ مخاطب ہو کر بغیر اس کی رائے کا تخطیہ کیے ہوئے نہایت آسانی سے اصل دعویٰ تسلیم کرا دیتے ہیں اورمخاطب سمجھتا ہے کہ وہ اس نتیجے تک بغیر کسی رہبری کے خود بخود پہنچ گیا ہے ۔ تصریح کے مقابل میں کنائے کے بلیغ ہونے کا راز بھی بیشتر یہی ہے۔

قرآن مجید کی قسموں پر غور کرنے والے کو یہ بات صاف نظر آئے گی کہ ان میں پہلے کوئی ایسی بات سامنے آتی ہے جو انسان کو عقل کے استعمال پر آمادہ کرتی ہے اور پھر وہ اصل دعوے کی طرف نہایت لطافت اور تدریج کے ساتھ رہنمائی کرتی ہیں ۔۔ مثلاً سورہ ذاریات میں پہلے ذاریات (غبار اڑانے والی ہوائیں) کی قسم کھائی اس کے بعد آہستہ آہستہ فرمایا فَاْلمُقَسِّمٰتِ اَمُرً(وہ حکم الٰہی کو تقسیم کرتی ہیں) سورہ مرسلت میں پہلے تیز ہوائوں کے چلنے کی قسم کھائی اس کے بعد درجہ بدرجہ فَالفٰرِقٰتِ فَرْتًا،فَاْلُملٰقِیٰتِ ذِکرًا ،عُذْرًا اَوْنُذْرًا(پھر پھاڑتی ہیں،پھر یاد دلاتی ہیں،الزام اتارنے کو یاڈرسنانے کو) تک پہنچے۔ اگر شروع میں ہی یہ بات کہہ دی جاتی کہ ہوائیں نیکو کار اور بد کارقوموں میں فرق کرتی ہیں تو مخاطب اس کا انکار کر بیٹھتا۔

 ۸-  اس اسلوب کی ایک خوبی یہ بھی ہے کہ دلیل اپنی معروف  صورت سے ایک بالکل مختلف صورت میں سامنے آتی ہے۔ جس کے سبب سے منکر کو مناظرہ کرنے اور جھگڑنے کی راہ نہیں ملتی اوپر ہم نے دوسری خصوصیت بیان کرتے ہوئے جس حقیقت کی طرف اشارہ کیا ہے یہ بات اس سے مختلف ہے وہ بات صر ف اس اسلوب کے انشائی ہونے کا نتیجہ ہے اور اس سے صرف مخاطب کے انکار کا سدباب ہوتا ہے اور یہ پہلو جس کی طرف ہم اشارہ کرنا چاہتے ہیں سرے سے جھگڑے اور مناظرے کی راہ بند کر دیتا ہے اور صرف انشاء کے ساتھ مخصوص نہیں بلکہ خبر  کی صورت میں باقی رہتا ہے۔مثلاً

وَالْعَصْرِ اِِنَّ الْاِِنْسَانَ لَفِیْ خُسْرٍ  (العصر۱-۲)

زمانہ گواہی دیتا ہے کہ آدمی گھاٹے میں ہے۔

اس کو اگر تم خبر کی صورت میں ڈھال دو جب بھی اس میں اور صریح استدلال کے اسلوب میں کچھ نہ کچھ فرق باقی رہے گا مثلا اسی  بات کو صریح استدلال کے اسلوب میں یوں کہیں گے کہ انسان گھاٹے میں ہے کیونکہ زمانے کی تیز روی ہر لمحہ عمر کو کم کررہی ہے ۔ یہ استدلال ہر چند نہایت واضح اور صحیح ہے لیکن مخالف جو مجادلے کا خوگر ہے اس میں آسانی کے ساتھ جھگڑے کی راہ پیدا کرے گا یا کم ازکم اس نتیجے سے انکار کردے گا جو اس سے پیدا ہوتا ہے یعنی ایمان اور عمل صالح پر اعتماد وہ فوراً بول اٹھے گا کہ یہ صحیح نہیں ہے  بلکہ انسان بڑے نفع میں ہے کیونکہ وہ اسی چند روزہ حیات فانی کے بدلے جس کا فنا ہونا ناگزیر ہے بہت سی لذتیں اور آرزوئیں حاصل کر لیتا ہے یہ یا یہ کہہ دے گا کہ جب اس زندگی کو فنا ہی ہونا ہے تو ع ایں دفتر بے معنی غرق مے ناب اولیٰ چنانچہ امرا القیس ،جو اپنی شوریدہ مزاجی اور رندی  کی وجہ سے الملک الضلیل کے لقب سے مشہور ہوا ،کہتا ہے۔

تمتح من الدنیا فانک فان
من النشوات والنساء الحسان
 دنیا کی لذتوں ،شراب اور نازنینوں سے متمتع ہو لو کیونکہ بالآخر تمہیں فنا ہونا ہے۔

یہ دلیل کتنی ہی کمزور اور مہمل ہو لیکن جب بحث ومناظرہ کا دفتر ایک دفعہ کھول دیا جاتا ہے تو اس کو آسانی سے سمیٹا نہیں جا سکتا اور بات جتنی ہی کھلتی جاتی ہے معترض کی کرنپری  اتنی ہی بڑھتی جاتی ہے پس اکثر حالات میں بہتر یہی ہوتا ہے کہ بحث ومناظرہ کے پہلو سے گریز کیا جائے کیونکہ شہ دینے سے یہ چیز اور زور پکڑتی ہے بالخصوص عربوں کا حال اس معاملے میں بہت قابل لحاظ تھا قرآن مجید نے جا بجا ان کی اسی خصوصیت کی طرف اشارہ کیا ہے۔مثلاً

َ مَا ضَرَبُوْہُ لَکَ اِِلَّا جَدَلًا بَلْ ہُمْ قَوْمٌ خَصِمُوْنَ (الزخرف۔۵۸)

یہ مثال انہوں نے تمہارے سامنے نہیں پیش کی ہے مگر محض جھگڑے کے لیے۔ یہ بڑے جھگڑا لو لوگ ہیں۔

ایک جگہ اور ان کو صاف صاف جھگڑا لو قوم (قَوْمًالُّدًّا) کہا ہے۔

اصلی قابل لحاظ چیز ان دونوں فعلوں کے اندر قسم کے وہ لطیف دلائل ہیں جو ایک طرف تو انکار اور بحث کا سدباب کرتے ہیں اور دوسری طرف طبیعت انسانی کے اندر فکرواستباط کی تخم ریزی کرتے ہیں۔

۶- جن سورتوں کے شروع میں قسمیں پائی جاتی ہیں اہل ذوق جانتے ہیں کہ ان قسموں نے ان کو حسن وخوبروئی کا ایک عنوان جمال بخش دیا ہے۔ سورتوں کے اوائل میں یہ قسمیں اس طرح چمکتی ہیں جس طرح انگشتری میں نگینہ،بعض جگہ سورتوں کے بیچ میں بھی قسمیں آئی ہیں لیکن کم، مگر جہاں کہیں آئی ہیں ایسا معلوم ہوتا ہے جیسے مطلع قصیدے کے بیچ میں آگیا ہو۔  قسم کا مقصود زیبائش کلام یقینانہیں ہے جب یہ آغاز کلام کے لیے موزوں سمجھی گئی تو اس کے لیے وہ تمام لوازم  تصویر اختیار کر لیے گئے جو اگر دیباچہ  مضمون میں مصور ہو سکیں تو دلوں کو مبہوت  اور نگاہوں کو خیرہ کر دیں ۔ یہ حقیقت محتاج اظہار نہیں ہے کہ تمام اسالیب کلام میں سے مصوری کے لیے قسم سے زیادہ موزوں کوئی اسلوب نہیں ہے کیونکہ جس چیز کی قسم کھاتے ہیں گویا اس کو ایک گواہ بنا کر مخاطب کے سامنے کھڑا کرتے ہیں پس جب اللہ تعالیٰ نے چاہا کہ سوورتوں کے اوائل نادرو بوقلموں تصویروں سے مزین ہوں تو ان کو خاص خاص قسموں سے شروع کیا یہ تصویریں مختلف قسم کی ہیں کہیں یہ ایک ہی چیز کی تصویر ہے مثلاً لکھنے والا قلم،دمکتا ستارہ،دوڑنے والے گھوڑے، غبار انگیز ہوائیں،صف بستہ ملائکہ،بعض جگہ یہ تصویریں مختلف چیزوں کی ہیں ۔ لیکن ایک جامع رشتے نے ان سب کو ایک البم میں جمع کردیاہے مثلاً تین ،زیتون ،طورسینا،بلدامین یا طور،کتاب مسطور، بیت معمور،سقفِ، مرفوع، بحر مسجور، یا مثلاً شمس وقمر ،لیل ونہار،ارض وسماء اور نفس وغیرہ جو مختلف حالات اور تغیرات کی طرف اشارہ کرتی ہیں اور جن سے نہایت اہم حقائق پر دلیل لائی جا سکتی ہے اور ان حقائق پر استدلال ہی جن کا اصلی مقصد ہے اگر یہ فائدہ ان سے حاصل نہ ہو تو عقل کے نزدیک ان کی چند اہمیت نہیں ہے۔ اسلوب کلام کی یہ نادرہ کاریاں محض مخاطب کی تالیف قلب اور دلداری کے لیے اختیار کی جاتی ہے تاکہ بات کسی طرح اس کے دل کے اندر گھر کر لے اور وہ بیزار ہو کر کان نہ بند کر لے۔ اتمام حجت کا اصلی گریہ ہے کہ انداز دعوت موثر اور دل نشین ہوا اور مخاطب کا دل مٹھی میں لے لے ۔ اللہ تعالیٰ نے انبیاء کرام کو اس اصول کی خاص طور پر تعلیم فرمائی ہے حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون علیہ السلام کو جب فرعون کے پاس بھیجا تو یہ ہدایت فرمائی کہ:

 فَقُوْلَا لَہٗ قَوْلًا لَّیِّنًا لَّعَلَّہٗ یَتَذَکَّرُ اَوْ یَخْشٰی (طٰہ: ۴۴)

اس سے نرمی سے بات کرو تاکہ وہ نصیحت پذیر ہو یا ڈرے۔

۷-  اس اسلوب کی ایک خوبی یہ ہے کہ اس میں دلیل دعوے سے پہلے سامنے آتی ہے جس کا فائدہ یہ ہے کہ یہ دلیل آہستہ آہستہ مخاطب کو اصل دعوے تک کھینچ لاتی ہے اس کے برعکس اگر مخاطب پہلے سے اصل دعوے کو سمجھ جائے تو اندیشہ ہو تا ہے کہ وہ کڑا کر ووسری راہ اختیار کرے لیکن اگر وہ دعوے سے بے خبر ہو تو توقع ہوتی ہے کہ سیدھی راہ سے منحرف  نہ ہوگا اور جس  کے قدم سیدھی راہ پر ہیں وہ انشاء اللہ منزل پر پہنچ رہے گا چوتھی اور پانچویں خصوصیات بیان کرتے ہوئے ہم نے جو کچھ لکھا ہے اور اس کو اس مثال میں پیش کر سکتے ہیں۔

۸-  قسم کلام کی اس قسم میں سے ہے جس کو جو امع الکلم کہتے ہیں یعنی بظاہر تو وہ صرف ایک مختصر سی بات ہوئی لیکن اس کے اندر معانی کا ایک دفتر پوشیدہ ہوتا ہے اس کی وجہ یہ ہوتی ہے کہ مقسم بہ کے ساتھ استدلال کا پہلو مذکور نہیں ہوگا اگر اس میں استدلال کے کسی خاص پہلو کی طرف اشارہ کر دیا جائے تب تو اس سے صرف ایک ہی دلیل پیدا ہوگی لیکن جب یہ صورت نہ ہو بلکہ استدلال کے پہلو کو غیر معین چھوڑ دیا جائے تو ایک ہی چیز کے اندر متعدد معانی  اور گونا گن پہلو استدلال واستنباط کے ہو سکتے ہیں اور ایک غور کرنے والی عقل اس کے اندر سے بے شمار دلیلیں نکال سکتی ہے۔

یہ بات صرف اسلوب قسم کے ساتھ مخصوص نہیں ہے بلکہ قرآن میں عام اسلوب پر بھی جو دلائل بیان ہوئے ہیں ان کے اندر بھی یہ چیزیں پائی جاتی ہے قرآن میں کہیں کہیں ایک ہی چیز کو بہت سے دلائل کے استنباط کا محل بتایا ہے۔ مثلاً

 اَلَمْ تَرَ اَنَّ الْفُلْکَ تَجْرِیْ فِی الْبَحْرِ بِنِعْمَتِ اللّٰہِ لِیُرِیَکُمْ مِّنْ اٰیٰتِہٖ  اِنَّ فِیْ ذٰلِکَ لَاٰیٰتٍ لِّکُلِّ صَبَّارٍ شَکُوْرٍ (لقمان: ۳۱)

نہیں دیکھتے کہ کشتی چلتی ہے سمندر میں اللہ کے فضل سے تاکہ اللہ تعالیٰ تم کو اپنی نشانیوں کا مشاہدہ کرائے بے شہ اس میں ثابت قدم رہنے والوں اور شکر گزاروں کے لیے بہت سے دلیلیں ہیں۔

دوسری جگہ ہے:

وَفِی الْاَرْضِ اٰیٰتٌ لِّلْمُوْقِنِیْنَ  وَفِیْٓ اَنْفُسِکُمْ اَفَلاَ تُبْصِرُوْنَ (الذاریات:۲۰-۲۱)

اور زمین میں نشانیاں ہیں یقین کرنے والوں کے لیے اور خود تمہارے اندر بھی کیا تم دیکھتے نہیں؟

زمین اور نفس کے اندر خدا کی قدرت وعظمت اور اس کی رحمت پھر توحید رسالت اور قیامت کی جو دلیلیں ہیں جن پر تفصیلی بحث ہم نے اپنی کتاب حج القرآن میں کی ہے ان کو کون شمار کر سکتا ہے۔

پس جہاں کہیں یہ صورت ہے کہ اللہ تعالیٰ نے کسی چیز کو شہادت کے طور پر پیش کرکے اس کے بعد کسی ایسے مذہبی دعوے کا ذکر کیا ہے جو محتاج دلیل ہے تو اصلی مقصود یہی ہے کہ اگر ایک صاحب فکر ونظر اس چیز سے جن قدردلائل مستنبط کر سکتا ہے کرے اور اگر اصلی دعوے اور نظم کلام کی رعایت ملحوظ رکھ کر ایک چیز کے دلائل میں اختلاف ہو تو اس میں کوئی قباحت بھی نہیں ہے کیونکہ عقلوں کے تفاوت کے لحاظ سے دلیلوں کا اختلاف اور ان کا تنوع لازمی ہے قرآن مجید کی تعریف یہی ہے کہ جس طرح اللہ تعالیٰ کے عجائب خلقت کی کوئی حد و پایاں نہیں ہے اسی طرح قرآن مجید کے اسراروحکمت کی بھی کوئی انتہا نہیں ہے۔

 وَ لَوْ اَنَّ مَا فِی الْاَرْضِ مِنْ شَجَرَۃٍ اَقْلَامٌ وَّ الْبَحْرُ یَمُدُّہٗ مِنْم بَعْدِہٖ سَبْعَۃُ اَبْحُرٍ مَّا نَفِدَتْ کَلِمٰتُ اللّٰہِ اِنَّ اللّٰہَ عَزِیْزٌ حَکِیْمٌ (لقمان: ۲۷)

اور اگر زمین میں جتنے درخت ہیں قلم ہو جائیں اور سمندر میں سات سمندر اور مل جائیں تو بھی اللہ تعالیٰ کے کلمات نہ ختم ہوں ۔ بے شک اللہ تعالیٰ عزیز وحکیم ہیں۔

قرآن کی قسموں میں وبلاغت کے جو پہلو ہیں ان میں سے چند یہ بیان ہو سکے ہیں اور اسی پر ہم بس کرتے ہیں ۔ ہمارق مقصود استقصاء نہیں ہے اور استقصاء کر بھی کون سکتا ہے؟

اوپر کے مباحث سے قسم کا اصلی مفہوم اور اس کی مختلف صورتیں روشنی میں آگئیں جس سے دو آخری شبہوں کی جو بہت اہم تھے جڑ کٹ گئی اور اہم تمدنی امور اور بادشاہوں اور قوموں کے تعلقات ومعاملات میں قسم کی ضرورت واہمیت پر ہم نے جو تقریر چھٹی اور دسویں فصل میں کی ہے اس نے پہلے شبہے کو بھی بے جان کردیا ہے اب صرف ایک چیز باقی رہ گئی وہ یہ کہ بعض مذہبی صحیفوں میں اس کی ممانعت کیوں وارد ہے ؟آئندہ فصل میں ہم اس کس وال کا جواب دینا چاہتے ہیں۔