۷- اللہ اور اس کے شعائر کی قسم مفرد اور بسیط معانی اور مفاہم میں سے نہیں ہے کہ اس کے لیے شروع ہی سے مستقل  الفاظ وضع ہو کر استعمال میں آتے۔ یہ چیز تو معاشرتی ضروریات اور دینی عقائد کے تعلق وامتزاج سے پیدا ہوئی ہے۔ پس یہ بات کچھ صحیح نہیں ہے کہ جہاں کہیں مقسم بہ مذکور نہ ہو وہاں ہم یہ خیال کرلیں کہ یہاں اللہ تعالیٰ کی قسم کھائی گئی ہے اور لفظ اللہ یہاں مقدر ہے تعظیمی اقسام پر ہم دسویں فصل میں بحث کریں گے وہاں ان کی اصلی نوعیت پوری طرح واضح ہو جائے گی۔

 اس فصل میں ہم ان الفاظ کے معانی کی تشریح کرنا چاہے ہیں جو قسم کے لیے عام طور پر مستعمل  ہیں اور مقصد یہ دکھانا ہے کہ یہ الفاظ اصلاً اللہ تعالیٰ یا اس کے شعائر یا کسی خاص چیز کی قسم کے لیے نہیں وضع ہوئے تھے وہ الفاظ یہ ہیں:

یمین، نذر،الیّہ ،قسم ،حلف۔

"یمین" کی اصل حقیقت اور قسم کے لیے اس کا عام استعمال اوپر ہم تفصیل سے بیان کرچکے ہیں اور اس میں رہن کفالت اور ضمانت کا جو مفہوم پیدا ہو گیا ہے اس کی طرف بھی اشارہ کر چکے ہیں یہاں اعادے کی ضرورت نہیں ہے۔

نذر کے اصل معنی کسی شے کو دور کرنے اور اس سے بچنے کے ہیں ۔ اگر کسی شے کو تم اپنے سے ہٹا کر خدا کے لیے خاص کردو تو یہ نذر ہے۔ یہیں سے اس میں کسی شے کو حرام کر دینے کا مفہوم پیدا ہو گیا ہے۔ عبرانی میں اس کا یہی مفہوم ہے پھر یہ لفظ اپنے اوپر کسی لذت کو حرام کردینے کے لیے استعمال ہونے لگا یہاں تک کہ آہستہ آہستہ اپنے اوپر کسی شے کو بطور قسم لازم کرنے کے مفہوم کے لیے اس میں وسعت پیدا ہو گئی۔

الیَّہ کے معنی کسی امر سے کوتاہی کرنا،آلٍ،اس شخص کو کہتے ہیں جو کسی شے میں کوتاہ اور عاجز ہو۔ پھر یہ کسی شے کو چھوڑ دینے کے معنی میں استعمال ہونے لگا یہیں سے یہ عورتوں سے قسم کھا کر ترک تعلق کے معنی میں منتقل ہو گیا پھر اس میں مزید وسعت پیدا ہوئی اور اپنے اوپر کسی شے کے لازم کر لینے کے لیے استعمال ہونے لگا خواہ یہ لازم کر لینا بصورت اختیار لیکن اس میں غالب پہلو کسی ایسی شے کے لازم کرنے کا ہے جس میں کچھ مضرت کا شائبہ ہو اس اعتبار سے یہ ’’نذر‘‘ سے مشابہ ہے۔

ابن زیابہ کا شعر ہے:

الیت لا ادفن قتلا کم
فد خنوا المراء وسربالہ
میں نے قسم کھائی ہے کہ تمارے مقتولوں کو دفن نہ کروں گا پس آدمی اور اس کے کپڑوں کو دھونی دو۔

پھر آہستہ آہستہ اس میں وسعت پید ا ہوئی اور یہ قسم کے مرادف بن گیا ۔ جیسا کہ اوپر گزر چکا ہے قسم ،قسم کے اصل معنی (قطع) کاٹنے کے ہیں۔ قسمت الشیٔ وقسمۃ  اس معنی میں مستعمل ہیں اور قطع کا لفظ شک وشبہ کی نفی کے لیے عام ہے عربی زبان میں اس کے شواہد بہت ہیں صریمۃ ،جزم ،قول فصل،ابانۃ ،صدع،قطع وغیرہ سارے الفاظ میں یہ حقیقت موجود ہے ایک ہی روح ان تمام الفاظ کے اندر ساری ہے پھر قولاً کسی بات کو قطعی طور پر واضح کر دینے کے لیے لفظ قسم ،ان میں سے مخصوص ہو گیا اور اس کے استعمال باب افعال سے ہوا کیونکہ باب افعال میں مبالغے کی خاصیت پائی جاتی ہے ۔ مثلاً سفر الصبح اور اس کے لیے مقسم بہ کوئی ضروری شرط نہیں خواہ مقصود بیان خبر ہو یا اظہار عزیمت طرفہ نے اپنے معلقہ میں کہا ہے۔

اقسم      ربھا      لتکتفنن

اس کے مالک نے قسم کھائی کہ اس کی بھرائی کی جائے۔

کلام عرب میں اس کی مثالیں بہت ہیں ۔ جنوب اپنے مشہور مرثیہ میں کہتی ہے:

فاقسمت یا عمرولو نبھاک
اذا نبھا منک امر عضا لا
پس میں نے قسم کھائی اسے عمرو کہ اگر وہ (چیتے) اس وقت تجھ کو جگا دیتے تو تیرا  جگنا ان کے لیے غضب ہو جاتا ۔

ریطہ سلیمہ  کا شعر ہے:

فاقسمت لا انفلک احد رعبرۃ
تجو دبھا العینان منی لتسجما
پس میں نے قسم کھائی کہ برابر میری دونوں آنکھیں آنسو بہاتی رہیں گی۔

خرنق اخت طرفہ کہتی ہے:

الا اقسمت اسی بعد بشر
علی حی یموت ولا صدیق
میں نے قسم کھائی ہے کہ بشر کے بعد کسی مرنے والے اور کسی دوست پر غم نہ منائوں گی۔

قرآن مجید میں ہے۔

 اَھٰٓؤُلَآئِ الَّذِیْنَ اَقْسَمْتُمْ لَا یَنَالُھُمُ اللّٰہُ بِرَحْمَۃٍ۔ (اعراف: ۴۹)

کیا یہی لوگ ہیں جن کے بارے میں تم نے قسمیں کھائی تھیں کہ خدا کی رحمت میں ان کے لیے کوئی حصہ نہیں ہے۔

دوسری جگہ:

وَقَاسَمَھُمَآ اِنِّیْ لَکُمَالَمِنَ النّٰصِحِیْنَ فَدَ لّٰھُمَا بِغُرُورٍ(الاعراف : ۲۱)

اور اس (ابلیس ) نے ان دونوں سے قسمیں کھائیں کہ میں تم لوگوں کے خیر خواہوں میں سے ہوں۔پھر ان کو فریب سے مائل کرلیا۔

اگر تم کہو کہ ان مقامات میں مقسم بہ اللہ تعالیٰ ہے جو مقدر ہے تو ہم کو اس سے انکار ہے ہمارا دعویٰ یہ ہے کہ ایسے مواقع پر مقسم بہ کوئی لازمی چیز نہیں ۔ اس دعوے کو ثابت کرنے کے لیے اوپر جو دلائل بیان ہوئے وہ کافی ہیں تم دیکھ  چکے کہ قسم کبھی اللہ تعالیٰ کی ہوتی ہے اور کبھی اس کے علاوہ کسی اور چیز کی اور کبھی ایسا ہوتا ہے کہ سرے سے مقسم بہ ہوتا ہی نہیں ۔ ایسے مواقع میں محض تاکید اور جرم کا اظہارمقصود ہوتا ہے۔

"حلف" کے معنی بھی کاٹنے اور تیز ہونے کے ہیں ۔ اس اعتبار سے یہ بالکل لفظ قسم کے مشابہ ہے ۔ عربی میں وسنان حلیف اور لسان حلیف وغیرہ محاورات عام طور پر مستعمل ہیں ۔ ازہری کے نزدیک یہ حلف سے ماخوذ ہے جو ایک تیز نکیلی گھاس ہے۔ پس حلف علیٰ امر ،کا مفہوم بعینہٖ وہی ہوگا جو قطع بامر،کا ہوگا۔ لفظ کی اصل معنوی روح یہی ہے پھر یہ لفظ قسم کی طرح بات میں عزیمت اور پختگی کے اظہار کے لیے استعمال ہونے لگا اور اسی وجہ سے اس کے لیے مقسم بہ کوئی ضروری نہیں ہے اوپر جو واقعات بیان ہوئے ہیں ان میں تم دیکھ چکے ہو کہ باہمد گر جس طرح بھی معاہدہ موالات و دوستی ہوگیا، فریقین آپس میں حلیف بن گئے اور ایک دوسرے کو حلیف سمجھنے لگے ہم ان میں کہیں یہ بات نہیں پاتے کہ فریقین نے کسی متعین چیز کی قسم کھائی ہو۔

اس فصل میں اور اس سے پہلے کی فصلوں میں جو تفصیلات بیان ہوئی ہیں ان سے یہ حقیقت اچھی طرح واضح ہو گئی کہ قسم کے لیے مقسم بہ سرے سے کوئی ضروری چیز نہیں ہے اس کی تعظیم واحترام کا پہلو تو الگ رہا۔ اپنے اس دعوے کے ثبوت میں ہم نے اب تک جن الفاظ قسم سے بحث کی ہے وہ ایسے ہیں جو قسم کے لیے عام طور پر مستعمل ہیں اور ان کے اصلی معنی اس مستعمل مفہوم کے مقابل ہیں بالکل غائب ہو چکے ہیں ۔ اسی لیے ہم نے ان سے پہلے بحث کی لیکن ان کے علاوہ اور بھی الفاظ ہیں جن میں ان کے اصلی معانی کی رعایت باقی ہے۔ ان پر غور کرنے سے یہ حقیقت پوری طرح آئینہ ہو جائے گی کہ ان میں مقسم بہ کی تعظیم کا کوئی ادنیٰ شائبہ بھی موجود نہیں ہے آگے کی فصل میں ہم ان الفاظ پر بحث کرتے ہیں۔