۸-      جو قسم مقسم بہ سے خالی ہو اس کی اصلی حقیقت جب تم پر واضح ہو گئی تو مقسم بہ والی قسموں کا سمجھ لینا تمہارے لیے کچھ مشکل نہیں رہا ان کی حقیقت بس یہ ہے کہ قسم کھانے والا اپنے ساتھ اپنے دعوے کے گواہ کے طور پر مقسم بہ کو ملا لیا کرتا ہے چنانچہ یہی وجہ ہے کہ ان قسموں میں بیشتر و،ب،ت ،وغیرہ کا استعمال ہے جو معیت وصحبت کا مفہوم ظاہر کرنے والے حروف ہیں ’’و‘‘ اور ’’ب‘‘ معیت و صحبت کے مفہوم کے لیے مشہور ومستعمل ہیں ،البتہ’’ت‘‘ کے بارے میں تمہیں تردّد ہو گا لیکن یہ بھی حقیقت  میں ہے’’و‘‘ ہے جو منقلب ہو کر ’’ت‘‘ بن گئی جس کی مثال تم تقویٰ اور ’’تجاہ‘‘ وغیرہ الفاظ میں دیکھتے ہو۔

اوپر ہم نے قسم کی جو تاریخ بیان کی ہے اس سے بھی ہماری اس تاویل کی تائید نکلتی ہے اس میں تم دیکھ چکے ہو کہ قسمیں ہمیشہ سب کے سامنے ہوا کرتی تھیں اور دونوں فریق اپنی قسموں کو مؤکد کرنے کے لیے موقع پر موجود ہونے تھے غور کیجئے تو اصل مقصد کے اعتبار سے صحیح طریق کار بھی یہی تھا کیونکہ آدمی اپنے نہیں سب کی نظروں کے سامنے جھوٹا ثابت کرنے سے اجتناب کرتا ہے۔

قرآن مجید سے بھی ہمارے اس دعوے کی تائید ہوتی ہے ۔ انبیاء کے میثاق کے متعلق فرمایاہے:

 وَ اِذْ اَخَذَ اللّٰہُ مِیْثَاقَ النَّبِیّٖنَ لَمَآ اٰتَیْتُکُمْ مِّنْ کِتٰبٍ وَّ حِکْمَۃٍ ثُمَّ جَآئَ کُمْ رَسُوْلٌ مُّصَدِّقٌ لِّمَا مَعَکُمْ لَتُؤْمِنُنَّ بِہٖ وَ لَتَنْصُرُنَّہٗ قَالَ ئَ اَقْرَرْتُمْ وَ اَخَذْتُمْ عَلٰی ذٰلِکُمْ اِصْرِیْ قَالُوْٓا اَقْرَرْنَا قَالَ فَاشْھَدُوْا وَ اَنَا مَعَکُمْ مِّنَ الشّٰھِدِیْنَفَمَنْ تَوَلّٰی بَعْدَ ذٰلِکَ فَاُولٰٓئِکَ ھُمُ الْفٰسِقُوْن(ال عمران: ۸۱-۸۲)

اور(وہ وقت یاد کرو) جب کہ اللہ نے نبیوں کے بارے میں میثاق لیا کہ البتہ میں تم کو جو کتاب وحکمت دوں اور پھر جب آئے تمہارے پاس کوئی رسول مطابق اس کے جو تمہارے پاس ہے تو تم اس پر ایمان لانا اور اس کی مدد کرنا پوچھا کیا تم نے اقرار کیا اور میراوپر لیا کہا ہم نے اقرار کیا کہا بس گواہ ہو اور میں تمہارے ساتھ گواہوں میں ہوں بس جنہوں نے منہ موڑا اس کے بعد تو وہی لوگ بدعہد ہیں۔

یعنی یہ عہد جو تم سے میں نے باندھا ہے اپنی اور تمہاری موجودگی میں باندھا ہے پس اس سے مکرنا کسی حال میں جائز نہ  ہوگا اور جو اس عہد کو توڑیں گے وہ بدعہداور خائن ٹھہریں گے۔

اس طرح کی تاکیدات کا اصلی راز یہ ہے کہ آدمی جب کہتا ہے کہ ’’اشہدبہ‘‘ میں اس کی شہادت دیتا ہوں تو اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ میں اس کو اپنے علم واقفیت اور مشاہدے کی بنا پر کہتا ہوں ،صرف دوسروں سے سن کر نہیں کہتا  پس ایسی شہادت کے بعد بھی اگر وہ جھوٹ بولے اور مکر جائے تو اس کے لیے کوئی وجہ غدر نہیں ہے اسی بنا پر حضرت یوسف علیہ السلام کے بھائیوں نے کہا:

وَمَا شَھِدُنَآ اِلَّا بِمَا عَلِمْتَ وَمَا کُنَّا لِلْغَیْبِ حٰفِظِیْنَ(یوسف: ۸۱)

اور ہم نے نہیں شہادت دی مگر اس بات کی جو تم نے جانی اور ہم غیب کے عالم نہیں۔

قسم میں اس پہلو کا استعمال بہترین شکل میں مندرجہ ذیل آیت میں پایا جاتا ہے۔

لٰکِنَ  اللّٰہُ یَشْھَدُ بِمَآ اَنْزلَ اِلیْکَ اَنْزَلَہ بِعِلْمِہٖ وَ الْمَلِٰکَۃُ دَکَفٰی بِاللّٰہِ شَھِیْدٌ : (النساء: ۱۶۶)

لیکن اللہ گواہی دیتا ہے اس چیز کی جو تم پر اتارا اس کو اتارا اپنے علم سے اور ملائکہ گواہ نہیں اور اللہ کی گواہی کافی ہے۔

اس کے علاوہ شہادت میں تاکید وتوثیق کے بعض دوسرے نہایت اہم پہلو بھی موجود ہے۔ ازاں جملہ ایک یہ ہے کہ آدمی جب یہ کہتا ہے کہ میں شہادت دیتا ہوں کہ فلاں بات یوں ہے تو اس کے معنی یہ ہو تے ہیں کہ وہ اس معاملے میں اپنا  بیان اس ذمہ داری کے ساتھ دے رہا ہے جس ذمہ داری کے ساتھ ایک گواہ کسی معاملہ میں گواہی دیتا ہے  گواہی کی ذمہ داریاں ہر شخص کو معلوم ہیں کہ گواہی میں جھوٹ بولنا نہایت مذموم اور گناہ کی بات ہے یہ تمام مذاہب میں صراحت کے ساتھ اس کی ممانعت  آئی ہے تورات کے احکام عشرہ میں اس کا ذکر ہے۔ قرآن نے نیکو کاروں کی جو صفات گنائی ہیں ان میں سے ایک صفت ان کی یہ بھی بتائی گئی ہے کہ وَالَّذِیْنَ لَایَشْھَدَوْنَ الزَّوْدَ جس کی ظاہر تاویل یہی ہو سکتی ہے کہ وہ جھوٹی گواہی نہیں دیتے۔

علاوہ ازیں یہ امر بھی قابل لحاظ ہے کہ  اَنَااَشْھَدُ وَاللّٰہَ یَشْھَدُ اور وَاللّٰہُ یَعْلَمُ  وغیرہ الفاظ عام طور عربی زبان میں قسم کے لیے مستعمل ہیں اور یہ بات عربی زبان ہی کے ساتھ مخصوص نہیں ہے مشرق ومغرب کی دوسری قوموں کے عادات واطوار کے ہزار اختلافات ہوں لیکن جب وہ بولیں کہ اللہ اس بات پر گواہ ہے یا اس کے مشابہ اور ہم معنی کوئی اور فقرہ ہو تو ان کے ہاں بھی اس کا مطلب قسم کے سوا کچھ نہیں ہوا کرتا۔ سیبویہ نے لام قسم کا ذکر کرتے ہوئے کہا ہے کہ افعال میں سے بعض ایسے ہیں جن میں قسم کے معنی پائے جاتے ہیں اور ان کے بعد اگر کوئی فعل آئے تو اس کی نوعیت ٹھیک وہی ہوتی ہے کہ جیسی کہ اقسم لا فعلن اور اشھد لا فعلن میں ہے  اس سے اتنی بات بالکل  غیر مشتبہ طور پر ثابت ہوتی ہے کہ سیبویہ کے نزدیک اشھد کے معنی قسم کے ہیں اوراقسم اور اشھد بالکل یکساں ہیں

اور اس بارے جھگڑے کو قرآن مجید کی ایک آیت چکا دیتی ہے جس میں شہادت اور اشہاد تصریح کے ساتھ قسم کے معانی میں استعمال ہوئے ہیں۔ فرمایا ہے:

اِِذَا جَآ      ءَ کَ الْمُنَافِقُوْنَ قَالُوْا نَشْہَدُ اِِنَّکَ لَرَسُوْلُ اللّٰہِم  وَاللّٰہُ یَعْلَمُ اِِنَّکَ لَرَسُوْلُہٗ وَاللّٰہُ یَشْہَدُ اِِنَّ الْمُنٰفِقِیْنَ لَکٰذِبُوْنَ  اِتَّخَذُوْٓا اَیْمَانَہُمْ جُنَّۃً فَصَدُّوْا عَنْ سَبِیْلِ اللّٰہِ(المنافقون۔۱۔۲)

جب تمہارے پاس منافق آتے ہیں کہتے ہیں ہم گواہی دیتے ہیں کہ تم اللہ کے رسول ہو۔ اللہ جانتا ہے کہ تو اس کا رسول ہے اور اللہ گواہ ہے کہ منافق جھوٹ ہیں ۔ انہوں نے اپنی قسموں کو ڈھال بنا لیا ہے پس روکتے ہیں اللہ کی راہ سے۔

اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے ان کی شہادت کو ان کی قسم  اِتَّخَذُوْ ٓاَیْمَانَھُمْ اسی طرح ایک دوسری  آیت میں بھی تصریح ہے کہ اللہ کی شہادت قسم ہے:

 وَیَدْرَؤُا عَنْہَا الْعَذَابَ اَنْ تَشْہَدَ اَرْبَعَ شَہٰدَاتٍم بِاللّٰہِ اِِنَّہٗ لَمِنَ الْکٰذِبِیْنَ(النور:۸)

اور اس سے سزا کی بات دفع کرے گا وہ چار قسمیں اللہ کی کھائے کہ وہ جھوٹا ہے۔

 ایک اور مقام میں ہے۔

وَیُشْھِدُ اللَّہَ عَلیٰ مَافِیْ قَلُبِہٖ وَھُوَ اَلَدُّ الْحِصَامِ۔(البقرہ: ۲۰۴)

 اور وہ اللہ کو گواہ ٹھہراتا ہے اپنے دل کی بات پر اور وہ سخت جھگڑا لوہے۔

اس ساری تفصیل کا خلاصہ یہ ہے کہ کسی شے کی قسم کا مطلب دراصل اس شے کی شہادت پیش کرنا ہے یہاں بقدر ضرورت دلائل پیش کیے گئے ہیں مزید تفصیل دسویں فصل میں ملے گی۔

رہا مقسم بہ کی تعظیم کا مفہوم تو یہ قسم کے لازمی شرائط میں سے نہیں ہے بلکہ اس کے عوارض میں سے ہے خاص خاص صورتوں میں یہ مفہوم پیدا ہو جاتا ہے آگے اس پر تم تفصیل کے ساتھ بحث کریں گے۔

قسم کی حقیقت اور اس کا اصل مفہوم بیان کر چکنے کے بعد اب ہم قسم کے ان مفاہیم کو بیان کرنا چاہتے ہیں جو اس اصلی مفہوم کے فروغ کی حیثیت رکھتے ہیں یعنی اکرام ،تقدیس اور استدلال اور ان کی ترتیب کے ساتھ پیش کریں گے تاکہ اس کے تمام پہلو اچھی طرح سمجھ میں آجائیں اور ان کی رہبری میں تم قرآن کی اسموں پر غور کرکے جو رائے قائم کر و وہ علی وجہ البصیرت ہو۔