۱۱- اوپر کی تفصیلات سے یہ بات صاف ہو گئی کہ اہل عرب قسم میں اپنی جان کی شہادت یا  اللہ تعالیٰ کی شہادت پیش کرتے  تھے اور چونکہ اللہ تعالیٰ کی شہادت سب سے بڑی شہادت تھی اس لیے اس کا رواج زیادہ ہوا۔ اس سے ان لوگوں کو جو عربی کے اسالیب اور آداب بلاغت سے بھی اچھی طرح واقف نہ تھے یہ غلط فہمی ہو گئی کہ شہادت میں صرف معبود کو پیش کیا جاتا ہے اور اس میں ہمیشہ مقسم بہ کی تعظیم کا پہلو مدنظر ہوتا ہے لیکن جب تم کلام عرب پر غور کروگے تو تمہیں معلوم  ہو گا کہ اہل عرب بسا اوقات ایسی چیزوں کو  بھی شہادت میں پیش کرتے تھے جن کو نہ تو پوجتے تھے اور نہ کی کسی طرح کی تعظیم ہی کرتے تھے بلکہ قسم سے مقصود محض اپنی بات پر دلیل  لانا ہوتا تھا یہاں تک کے مذہبی قسموں میں بھی بسا اوقات استدلال کا پہلو مضمر ہوتا تھا جس کی تفصیل پندرھویں فصل میں تمہارے سامنے آئے گی۔ یہاں ہم محض استدلالی قسم کے بیان پر کفالت کرتے ہیں اور کلام عرب سے اپنے دعوے کے ثبوت میں دلائل پیش کرتے ہیں۔

ابوالعریان طائی حاتم کی مدح میں کہتا ہے:

قد علموا و القد ورتعلمہ
ومستھل الغرور مطرد
لوگ جانتے ہیں اور دیگیں گواہ ہیں اور پیہم چلنے والی چمک دار چھریاں

ان لیس عنداعترار طارقھا
لدیک الااستلا لھا مدد

کہ زمانۂ قحط میں شب میں کسی آنے والے کی میزبانی تیری طرف سے صرف اتنی تاخیر ہوتی ہے جتنی دیر میں (کسی جانور کو ذبح کرنے کے لیے) تو اپنی تلوار کھینچ سکے۔

راعی کے شعر ہیں:

ان   المساء  و   ان    الریح      شاھدۃ
والارض   تشھد   و  الایام    و     البلہ
آسمان اور ہوا شاہد ہیں،زمین شاہد ہے جنگیں شاہد ہیں اور سرزمین شاہد ہے۔

لقد    جزیت     بنی    بدر     ببغیتھا
یوم    الھباء ۃ      یوما   مالہ     قود

کہ میں نے بنی بدر کو ہباء ۃکی لڑائی میں ان کی سرکشی کا مزہ چکھایا ایسی لڑائی کہ اس کا بدلہ ممکن نہیں۔

والخیل تعلم انافی تجادلنا
عندالطعان اولو بوسی وانعام
گھو ڑے جانتے ہیں (گواہ ہیں) کہ ہم نیزہ بازی میں جولانی کے وقت کسی کے لیے تازیانہ عذاب ہیں اور کسی کے لیے رحمت۔

غشرہ  کا شعر ہے:

والخیل تعلم و الفوارس اننی
فرقت جمعھم بطعنۃ فیصل
گھوڑے اور شہ سوار گواہ ہیں کہ میں نے ایک فیصلہ کن نیزہ بازی سے ان کی جمعیت منتشر  کردی۔

ان مثالوں میں دیکھو ان شاعروں نے دیگوں،چھریوں،آسمان، زمین، جنگوں، سرزمین اور گھوڑوں، شہ سواروں کو گواہی میں پیش کیا ہے اور ظاہر ہے کہ ان کو پیش کرنے کا مطلب یہی ہے کہ اگر تم ان سے پوچھو اور یہ جواب دے سکیں تو یہ ہمارے دعوے کی تصدیق کریں گے۔ اس دعوے کی تائید میں فضل بن عیسیٰ ابن ابان کا یہ وعظ بھی پیش کیا جا سکتا ہے۔

سل الارض فقل من شق انھارک وغوس اشجارک وخیی ثمارک فان لم تجبک حوارا اجابتک اعتباراً زمین سے پوچھو نہریں کس نے جاری کیں ۔ تیرے درخت کس نے لگائے، تیرے پھل کس نے چنے، اگر زبان قال سے جواب نہ دے سکے گی تو زبان حال سے ضرور جواب دے گی۔

اور معلوم ہوا ہے کہ یہ کلام صحف ایوب باب۱۲،۷۔۱۰سے ماخوذ ہے اس میں یوں وارد ہے:

حیوانوں سے پوچھو اور وہ تجھے سکھائیں گے۔

اور ہوا کے پرندوں سے دریافت کراور وہ تجھے بتائیں گے۔

یازمین سے بات کر اور وہ تجھے سکھائے گی۔

اور سمندر کی مچھلیاں تجھ سے بیان کریں گی۔

کون نہیں جانتا کہ ان سب باتوں میں خداوند ہی کا ہاتھ ہے جس نے یہ سب بنایا ؟اسی کے ہاتھ میں ہر جاندار کی جان اور کل نبی آدم کا دم ہے۔

بالکل اسی کے مثل کلام تثنیہ باب۳۰،۱۹میں واردہے:

’’میں آج کے دن آسمان وزمین کو تمہارے برخلاف گواہ بناتا ہوں کہ میں نے زندگی اور موت کو اور برکت اور لعنت کو تیرے آگے رکھا ہے پس تو زندگی کو اختیار کر کہ تو بھی جیتا رہے اور تیری اولاد بھی"۔

اس کا مطلب یہ ہے کہ تمہارے ساتھ میرا یہ عہد کوئی راز دارانہ کارروائی نہیں ہے بلکہ یہ ایک علانیہ اور مشتہربات ہے ۔ پس اگر تم اس کو توڑوگے تو اس کا وبال ہمیشہ کے لیے تم سے چمٹ جائے گا۔ اس زمین کی پشت پر اور اس آسمان کے نیچے سے تم پر عذاب اور لعنت کی بارش ہوتی رہے گی ۔ پس عہد کے دوام اور نقص عہد کے نتائج کے لزوم کو بیان کرنے کے لیے حضرت موسیٰ علیہ السلام نے ان پردو ایسے گواہ قائم کر دیئے جو ان پر ہمیشہ مسلط رہیں گے۔

زبان حال سے شہادت دینے والی چیزوں کی قسم کے بارے میں ممکن ہے کسی کو شبہ ہو کہ یہ تمام تر یشہد اور یعلم وغیرہ الفاظ کے ساتھ آئی ہیں۔ چنانچہ اوپر مثالیں ہم نے پیش کی ہیں ان میں یہی الفاظ وارد ہیں لیکن یہ شبہ صحیح نہیں ہے کلام عرب کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ اس طرح کی چیزوں کی قسم ان الفاظ کے ساتھ بھی کھاتے ہیں جو قسم کے لیے مخصوص ہیں۔’’مثلاً وائو  قسم یاً لعمرً وغیرہ کے الفاظ۔پس اگر اوپر کی مثالوں سے کسی کا دل مطمئن نہ ہوتو اس کی واضح اور صریح مثالیں بھی موجود ہیں۔

عروہ بن مرہ ہذکی کا شعر ہے:

وقال ابوامامۃ یالبکر
فقلت ومرخۃ دعوی کبیر
اور ابا امامہ نے پکارا اے قبیلہ بکر کے لوگو مدد کرو ! میں نے کہا مرخہ کی قسم بڑی خوفناک پکار ہے۔

ابوامامہ نے قبیلہ بکر سے مدد چاہی اس پر شاعر ابو امامہ کا مذاق اڑارہا ہے کہ کیسے زبردست لوگوں کی مدد چاہی گئی ہے ! اور کیسا خوفناک استغاثہ ہے! اور اس پر ایک کمزور درخت (مرخہ) کی قسم کھائی ہے جو اپنے سائے کے نیچے ایک شخص کو بھی پناہ نہیں دے سکتا اور عربی ادب میں ضعف وناتوانی کی مثال کے لیے مخصوص ہے۔

ابوجندب ہذلی نے اس قسم کی اصل حقیقت پوری طرح واضح کردی ہے۔

وکنت اذاجاردعا لمضوفۃ
اشمر حتی ینصف الساق مئزری
میرا حال یہ ہے کہ جب میرا پڑوسی کسی ضرورت میں مجھ سے طالب مدد ہوتا ہے میں فوراً اس کے لیے چاک وچوبند ہو جاتا ہوں۔

فلا تحسباجاری لدی ظل مرخۃ
ولا تحسبنہ فقع قاع بقرقر
پس میرے پڑوسی کو کسی ’’مرخہ‘‘ کے سایے کے نیچے مت سمجھو اور نہ کسی نشیبی زمین کی نرم گھاسسمجھو۔

ہجرس نے اپنے باپ کے قاتل جساس کو قتل کرتے وقت جو قسم کھائی وہ بھی اس ذیل میں پیش کی جاسکتی ہے۔

وفرسی واذنیہ ورمعی ونصلیہ وسیفی وغراریۃ لایترک لرجل قاتل ابیہ دھرینظرالیہ۔

میرے گھوڑے کی قسم اور اس کی کنوتیوں کی،نیزے کی قسم اور اس کی نوک کی،میری تلوار کی قسم اور اس کی دھار کی کہ آدمی اپنے قاتل کو دیکھ کر نہیں چھوڑ سکتا۔

ہجرس نے ان تمام چیزوں کی قسم بطورثبوت اور شہادت کے کھائی ہے اس کے کہنے کا یہ مطلب ہے کہ میں نیزہ بازی اور شمشیر زنی اور حملہ ودفاع میں ماہر ہوتے ہوئے اپنے باپ کے قاتل کو بیچ کے نکل جانے کا موقع کیسے دے سکتا ہوں ۔ اس پر اس نے ایسی چیزوں کی قسم کھائی ہے جن سے اس کے دعوے کی تصدیق اور اس کے قول کی توثیق ہوتی ہے۔

طرفہ کی ایک قسم بھی اسی ذیل کی ہے۔

وقربۃ ذی القربی وجدک اننی
متی بک امرالنکیثۃ  اشھد
قرابت مندوں کے رشتہ قرابت کی قسم اور تیرے جد کی قسم جب کوئی بڑا معاملہ امتحان کا پیش آئے گا تو میں جان ومال سے حاضر ہوں گا۔

مطلب یہ ہے کہ جب اہل قرابت کسی بڑے مقصد کے لیے مجتمع ہوں تو یہ کیسے ممکن ہے کہ میں اس میں شریک نہ ہوں اور رحم کا پاس جو ایک عظیم الشان ذمہ داری ہے اس سے بے پروائی برتوں۔ اہل عرب کے ہاں رحم اور خدا دو چیزیں تمام معاشرتی واجتماعی تعلقات کی بنیاد تھیں ۔ شاعر نے اپنی شرکت کو ضروری بتانے کے لیے اسی رشتہ رحم کو بطور دلیل شہادت میں پیش کیا ہے۔

حصین بن حمام اپنے دوست بن حارث کے مرثیے میں کہتا ہے

قتلنا خمسۃ ورموا نعیما
دکان القتل للفتیان زینا
ہم نے پانچ قتل کیا اور انہوں نے نعیم کو نشانہ بنایا اور قتل ہونا نوجوان کے لیے شرف ہے۔

لعمر الباکیات علیٰ نعیم
لقد جلت رزیتہ علینا
!
نعیم پر ماتم کرنے والیوں کی قسم !نعیم کا قتل ہمارے لیے سخت مصیبت ہے۔

یہاں ماتم کرنے والی عورتوں کی قسم اس وجہ سے کھائی ہے کہ ان کی حالت درحقیقت اس حادثہ کی نوعیت پر گواہ ہے۔

قسم کی یہ نوع، اگرچہ اپنی باریکیوں اور دوسری انواع قسم کے عام ہونے کے سبب کچھ زیادہ نہ پھیل سکی ۔ تاہم عربی زبان میں یہ ایک معروف ومشہور اسلوب ہے جس میں بلاغت کلام کے لیے شمار ابواب،جیسا کہ سترھویں فصل میں معلوم ہو گا جمع ہو گئے ہیں بلکہ نہایت قابل اطمینان دلائل کی بنا پر ہم یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ یہ اسلوب عرب اور عجم دونوں میں معروف ہیں اور نامناسب نہ ہوگا اگر ہم اپنے دعوے کی تصدیق کے لیے یونانی ادب سے اس کی بعض مثالیں پیش کریں۔