۱۲-    یونان کے لوگ ابتداء بالکل آزاد تھے۔ وہاں کا نظام حکومت جمہوری تھا شخصی حکومت کے اقتدار سے یہ لوگ بالکل ناآشناتھے۔ یہاں تک کہ سکندر اعظم کا باپ فیلیوس پیدا ہوا اور اس نے ان پر اپنی شخصی حکومت قائم کر لی اس کو اپنا اقتدار جمانے  کے لیے جمہور سے بہت سے خوفناک مقابلے کرنے پڑے ۔ ان مقابلوں میں عوام کی رہنمائی کی باگ یونان کے سب سے بڑے خطیب ڈیموس تھینیز کے ہاتھوں میں تھی جب فیلیوس نے جمہوریت کو شکست دے دی تو دارالسلطنت ایتھنز کے باشندوں کو تسلی دینے اور ان کی جانبازی اور حریت پرستی کی تعریف کرنے کے لیے ڈیموس تھینیز نے ایک مشہور تاریخی تقریر کی۔ اس میں اس نے اپنے حریف اس کی نس کے دلائل کی جو بادشاہ کا حامی تھا، پر زور تردید کی ہے اس تقریر کے بعض فقرے ہم یہاں نقل کرتے ہیں:

’’اے اہل ایتھنز! جس وقت کہ تم نے یونان کی آزادی وحفاظت کی راہ میں اپنی جانیں خطرے میں ڈالیں تو تم باطل پر نہیں تھے۔ اس کے لیے تمہارے اسلاف کی زندگی تمہارے کے لیے بہترین نمونہ ہے جنہوں نے سلامیس کی لڑائی میں اپنی گردنیں کٹوائیں۔ جنہوں نے پلاٹیہ کے مورچہ پر سرفروشیاں کیں، وہ باطل پر نہیں تھے،ہرگز باطل پر نہیں تھے ،ان جانثاروں کی قسم جنہوں نے ماراتھون کے معرکے میں اپنی جانیں جو کھم میں ڈالیں،ان سرفروشوں کی قسم جو سالائیس  اور ارطیسیم کی بحری جنگ میں شریک تھے،ان سورمائوں کی قسم جنہوں نے پلاٹیہ میں دشمن کا مردانہ وار مقابلہ کیا!! اے اس کی نس!اہل ایتھنز نے اس وقت صرف انہیں کی عزت نہیں کی جو میدان جنگ سے کامیاب واپس آئے بلکہ ان کی لاشوں کا بھی عمومی احترام کیا جنہوں نے بہادرانہ اپنی گردنیں کٹوادیں‘‘۔

یعنی پبلک کی طرف سے احترام و اعزازان کی کامیابی پر نہیں ہوا بلکہ محض جانبازی وسرفروشی پر ہوا سی طرح آج تم اگرچہ کامیاب نہیں ہو سکے لیکن اعزاز کے لیے یہ بس ہے کہ تم نے آزادی وطن کی راہ میں گردنیں کٹوادیں۔

ڈیموس تھینیز کی مذکورہ بالا قسموں پر غور کرو۔ اس نے حاضرین کے سامنے کس طرح ان کے اسلاف اور ان کے پُر فخر کارناموں کو لاکھڑا کردیا ہے تاکہ ہر سننے والے کا دل جوش اور فخر سے معمور ہو جائے اور پھر ان کے کارناموں کو مخاطب جماعت کی ناکام مگر جانبازانہ جدوجہد کی صحت وصداقت پر دلیل ٹھہرایا ہے اور کلام کا اسلوب اس قسم کا ہے کہ جو تاکید توثیق کے لیے آئی ہے اس قسم کی بلاغت پرڈیموس تھینیز کے تمام ناقدین کا اتفاق ہے۔ لیکن جس طرح ہمارے علمائے متاخرین اس طرح کے اسالیب بلاغت سے آہستہ آہستہ ناآشنا ہو گئے اسی طرح یونان کے علماء متاخرین بھی ان چیزوں کے ذوق سے محروم  ہو گئے۔ چنانچہ لانجنوس،جوڈیموس تھینیز کے چھ سو برس بعد پیدا ہوا اور ایتھنز میں بلاغث کا معلم اور سر آمد روز گار تھا، اپنی فن بلاغت کی کتاب میں اس قسم کا ذکر کرتا ہے اور اس کی ساری خوبی اور بلاغث کا راز یہ بتاتا ہے کہ اس میں مقسم بہ کی غایت درجہ تعظیم ہے۔ گویا ڈیموس تھینیز نے قوم کے اسلاف کو معبودوں کی حیثیت دے کر ان کی قسم کھائی ہے۔

لانجوس کو اس قسم کے بارے میں ان لوگوں کی رائے سے اختلاف ہے جو کہتے ہیں کہ اس قسم میں وہ اسلوب ملحوظ ہے جو بولیوس شاعر نے اپنے تاج کی قسم میں ملحوظ رکھا ہے ہم یہاں بولیوس کی قسم کی بھی تفصیل کردیتے ہیں تاکہ ہمارے دعوے کا ایک عمدہ ثبوت بھی سامنے آجائے اور یہ امر بھی واضح ہو جائے کہ ڈیموس تھینیز کی قسم کے بار ے میں صحیح رائے دہی ہے جس کو قبول کرنے سے لانجنوس کو انکار ہے۔