۱۳-    اہل یونان کا اپنی حریت وآزادی کے زمانہ میں،یہ دستور تھا کہ جب ان میں سے کوئی شخص کوئی بڑا کارنامہ انجام دیتا تو بطور اعزاز وتکریم اس کے سر پر تاج رکھتے۔ماراتھون کے معرکے میں مشہور یونانی شاعر عربولیوس نے ایسے جوہر دکھائے کہ اہل ملک کی طرف سے وہ بھی اس عزت کا مستحق ٹھہرا لیکن اس کے بعض حاسدوں لوگوں کے دلوں  سے اس کی وقعت کم کرنے کے لیے یہ مشہور کرنا شروع کردیا کہ وہ قوم کا غدار ہے۔ اس تہمت کی تردید میں اس نے ایک نظم لکھی جس کے دو شعروں کا ترجمہ یہ ہے۔

’’نہیں،اپنے سر کے تاج کی قسم جو مارتھون کے معرکے کے موقع پر میں نے پایا،میرا کوئی حاسد یہ نہیں بتا سکتا کہ میں اپنی قوم کے لیے اپنے دل میں کوئی عداوت چھپائے ہوئے ہوں"۔

اس نے اپنی قوم کے ہاتھوں جو تاج پایا ہے اس کو اس دعوے کے ثبوت مین پیش کیا ہے کہ وہ اپنی قوم کو دشمن نہیں ہو سکتا گویا اس کے کہنے کا مطلب یہ ہے کہ جس قسم نے ایسی عظیم الشان عزت سے اس کو سرفراز کیا ہے اس قوم کے خلاف وہ اپنے دل میں کسی عداوت کو کیسے جگہ دے سکتا ہے؟

غرض جس طرح بعض دوسروں مثالوں میں ہم دیکھ چکے ہیں۔اس مثال سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ قسم صرف معبودوں اور دیوتائوں کے ساتھ مخصوص نہیں ہے اور اس سے ایک طرف تو وہ بنیاد بالکل ڈھے جاتی ہے جس پر لانجنوس نے اپنی عمارت قائم کی ہے اور دوسری طرف ان لوگوں کی تائید ہوتی ہے جو کہتے ہیں کہ ڈیموس تھینیز اور ربولیوس دونوں کی قسمیں بالکل یکساں نوعیت کی ہیں اور ان کا مقصد استدلال ہے نہ کہ محض مقسم بہ کی تعظیم ۔ اگر ان قسموں میں مقسم بہ قابل تعظیم ہے تو یہ بالکل اتفاق کی بات ہے۔ نفس قسم کی اس مسئلہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ بعینہٖ یہی بات ہم نے اوپر عروہ بن مروہ کے شعر میں دیکھی ہے جو گیارھویں فصل میں گزر چکا ہے۔ اس نے مرخہ کی قسم کھائی ہے اور مقصود اس کو ضعف اور ذلت کی مثال کی حیثیت سے پیش کرنا ہے۔

 

استدلالی قسموں میں دلیل کا پہلو

۱۴-    اوپر کی فصلوں میں ہم نے بہت سی استدلالی قسمیں پیش کی ہیں جو نظم ونثر ہر طرح کے کلام اور عرب وعجم سب کے مذاق سے تعلق رکھتی ہیں اس سے یہ حقیقت تم پر واضح ہو گئی کہ یہ بلاغت کا ایک خاص اسلوب ہے اب اس فصل میں ہم چاہتے ہیں کہ ان استدلالی قسموں کے اندر جو پہلو دلیل کے ہیں ان کی تشریح کریں تاکہ یہ بحث بالکل منقح ہو کر سامنے آجائے ۔ یہ بحث اس کتاب کے مہمات مباحث میں سے ہے۔ یہاں صرف چند اجمالی اشارات ہوں گے ۔ آگے جہاں ہم قسم کے ابواب بلاغت کی تفصیل کریں گے ،وہاں اس کی مزید وضاحت ملے گی۔

سب سے پہلی بات اس ذیل میں یہ یاد رکھنے کی ہے کہ جب قسم بغرض استدلال کھاتے ہیں تو بسا اوقات اس سے منقسم علیہ کی غایت درجہ وضاحت کو بتانا مقصود ہوتا ہے۔مثلا راعی کا شعر اوپرگزر چکا ہے کہ

ان السماء وان الریح شاھدۃ
والارض تشھد والایام البلد

اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ معاملہ شہرت کی اس حد کو پہنچ چکا ہے کہ آسمان وزمین کی کوئی چیز بھی اس کے ذکر سے ناآشنا نہیں رہ گئی ہے آسمان کے اطراف اور زمین کے اکناف  میں جتنی چیزیں موجود ہیں سب  اس کی گواہی دیتی ہیں ہوائوں نے اس کا چرچا گوشے گوشے میں پھیلا دیا ہے اور زمانے نے صفحات وہر پر اس کے بقائے دوام کی مہرثبت کردی ہے اور اس میں تاکید کا پہلو یہ ہے کہ جب یہ بے جان اشیاء اس چیز کی گواہ ہیں تو پھر آنکھ کان والوں کا کیا ذکر۔ وہ تو بدرجہ اولیٰ اس کے جاننے والے اور بیان کرنے والے ہوں گے۔

یہ بظاہر ایک مبالغے کا اسلوب ہے لیکن اس کی بناواقفیت پر ہے کیونکہ مراد اس سے مقسم علیہ کی غایت شہرت اور اس کے متعلق عام علم وواقفیت کا اظہار ہے اوپر حضرت موسیٰ علیہ السلام کی جو قسم گزر چکی ہے۔ وہ بھی اس باب سے تعلق رکھتی ہے ۔ انہوں نے بھی آسمان وزمین کا گواہ ٹھہرایا ہے۔

کبھی بطریق تشبیہ مثال دینا مقصود ہوتا ہے اور اس صورت میں درحقیقت متکلم کی طرف سے ایک ادّعا پنہاں ہوتا ہے۔ اس کی مثال عروہ بن مرہ کی قسم ہے قبیلہ بکر جس کے سامنے ابوامامہ نے فریاد کی تھی ۔ اس کی مثال عروہ نے ’’مرخہ‘‘ ایک بے سایہ درخت سے دی ہے۔ یہ مثال محض ادّعا ہے لیکن دعویٰ جب بطریق اشارہ  پیش  کیا جاتا ہے تو مخاطب اس کو نہایت آسانی سے قبول کرلیتا ہے ۔ تشبیہ وکنایے میں بھی یہی بات ہوتی ہے اور اس کی تفصیلات کتب معانی میں موجود ہیں ۔ہم انشاء اللہ سترھویں فصل میں اس کی مزید تشریح کریں گے۔

بعض اوقات قول کی تائید مقصود ہوتی ہے اوپر چونکہ مقسم بہ علیہ کی تائید ہوتی ہے اس لیے اس کی قسم کھاتے ہیں ۔ اس کی مثال بولیوس کے کلا م میں موجود ہے جس تاج سے قوم نے اس کی عزت افزائی کی تھی اسی کو اس نے شہادت میں پیش کیا ہے کہ قوم کی نظروں میں عزت کی سب سے بڑی چیز یہ تاج ہے اور جب میں نے یہ دائمی اپنے لیے قوم کی طرف سے مخصوص کرالیا تو میرا کوئی حاسد کیسے کہہ سکتا ہے کہ میں اپنی قوم سے نفرت کرتا ہوں۔

لیکن اس استدلال میں ایک کمزوری تھی اس کا مخالف کہہ سکتا تھا کہ قوم کی طرف سے اس عظیم الشان عزت افزائی کے باوجود تم نے احسان فراموشی کی ۔ اس کے لیے اس نے تاج کے ذکر کے ساتھ اپنے شرف نفس کا بھی حوالہ دیا کہ میں نے یہ عزت سب سے بڑی قومی جنگ میں حاصل کی ہے جس میں قوم کے تمام سرداروں نے اپنے اپنے جوہر دکھائے لیکن کوئی بھی میرے رتبے کو نہیں پہنچ سکا۔ اس تاکید مزید کے بعد صرف وہی شخص بولیوس پر شبہ کر سکتا ہے جو حاسد ہوا اور جس کو بڑوں کے ساتھ سو،ظن رکھنے کی خوہو۔ لیکن اس کے باوجود یہاں دعوے اور دلیل میں پوری پوری مطابقت نہیں ہے۔

بعض اوقات دعوے پر ایک قاطع حجت پیش کرنا مقصود ہوتا ہے اور اس کے لیے بالعموم یہ طریقہ اختیار کیا جاتا ہے کہ کسی ایسی چیز کی پیش کرتے ہیں جو مقسم بہ اور مقسم علیہ کے درمیان ایک جامع کی حیثیت رکھتی ہو اس کی مثال ڈیموس تھینیز  کی قسم یہ اس نے پہلے اسلاف کے وہ کارنامے بیان کیے جن کی عظمت مخاطب کے نزدیک مسلم ہے اور پھر انہی کارناموں کو ان لوگوں کے حسن عمل کے ثبوت میں پیش کیا ہے جنہوں نے اپنے پُرفخر اسلاف کے نقش قدم کی پیروی کی یہی وجہ ہے کہ اس نے شروع ہی میں کہا تھا کہ تمہارے لیے اسلاف کے روشن کاموں میں نمونہ ہے۔

اور اس میں شبہ نہیں کہ اس طرح کی قسموں میں سب سے زیادہ بلیغ اسلوب یہی ہے جو ڈیموس تھینیز نے اختیار کیا۔