کسی قوم کے عروج و زوال کا بہت حد تک انحصار اس بات پر ہوتا ہے کہ اسے اچھے قائدین میسر ہیں یا نہیں۔قومی جسد میں قائدین کی حیثیت دماغ کی سی ہوتی ہے۔انسانی جسم میں دماغ پورے جسم کو کنٹرول کرتا ہے اور ہر طرح کے حالات میں جسم کے عمل یا ردعمل کا تعین کرتا ہے۔ اسی طرح قائدین قومی زندگی کے ہر مرحلے پر قوم کے اندر اور باہر سے اٹھنے والے ہر چیلنج کے جواب میں قوم کا ردعمل متعین کرتے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ عام حالات میں وہ قومی زندگی کی گاڑی کو رواں دواں رکھتے ہیں۔ قیادت کی بحث سمجھنے کے لیے ہم اس کی تین نمایاں اقسام پر بحث کرتے ہیں:


ا۔ فکری قیادت،
ب۔ مذہبی قیادت،
ج۔ سیاسی قیادت۔

 

ا۔ فکری قیادت 

انسان اصلاً ایک فکری مخلوق ہے۔ وہ اس دنیا میں جو کچھ بھی افعال سر انجام دیتا ہے ، ان کی کوئی نہ کوئی فکری بنیاد ہوتی ہے۔اعمال کے ترک و اختیارکا معاملہ ہو یا اشیا کے رد و قبول کا ، اس کی اساس اس کے ذہن میں ہوتی ہے۔وہ تمام اقدار، اصول، تصورات، نظریات، خیالات اور عقائد جن کے گرد وہ اپنی عملی زندگی کا تانا بانا بنتا ہے ، ان کا تعلق فکر کی دنیا ہی سے ہوتا ہے۔ یہ بات اگر واضح ہے تو پھر اس حقیقت کو سمجھنے میں بھی کوئی مشکل نہیں ہونی چاہیے کہ وہ لوگ جو انسانی اذہان و افکار کی تشکیل کرتے ہیں ، وہی لوگ سب سے زیادہ کسی معاشرہ اور قوم کی زندگیوں پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ ایک قوم کی زندگی میں آنے والے ہر اہم موڑ میں ان لوگوں کی فکری رہنمائی کا گہرا اثر ہوتا ہے۔ ہم اپنی بات کو کچھ مثالوں سے واضح کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
انیسویں صدی میں کارل مارکس نے سرمایہ دارانہ نظام کی خرابیوں کے خلاف ایک فکری محاذ قائم کیا۔ اس نے سرمایہ دارانہ نظام معیشت کی ہر خرابی سے پاک ایک تصوراتی دنیا کا نقشہ پیش کیا۔ اس طرح صنعتی انقلاب کے دھارے میں بہتے ہوئے معاشروں کے سامنے ایک نئی فکر آئی۔ اس کے نظریات نے ایک دنیا کو متاثر کیا۔ وہ خود تو اپنی زندگی میں اپنے نظریات کو عملی شکل میں نہ دیکھ سکا ، مگر اس کے بعد روس میں اس کے افکار کے زیر اثر ایک عظیم اشتراکی انقلاب آیا جس نے آنے والی پون صدی تک نصف دنیا پر حکومت کی ۔
اسی طرح علامہ اقبال نے جنوبی ایشیا میں مسلمانوں کی ایک علیحدہ ریاست کا تصور پیش کیا۔ انھیں بھی اپنی زندگی میں اپنی فکر کو عملی زندگی میں برگ وبار لاتے ہوئے دیکھنا نصیب نہ ہوا ، لیکن ان کے بعد اس فکر کو مسلمانوں کی اکثریت نے قبول کیا جس کے نتیجے میں انگریزوں کے جانے کے بعد اس خطے میں دنیا کی پانچویں اور مسلم دنیا کی سب سے بڑی ریاست وجود میں آئی۔
یہ دو مثالیں اس بات کو بخوبی واضح کرتی ہیں کہ کس طرح ایک فکری رہنما کی شخصیت اور اس کے نظریات کروڑوں ، بلکہ اربوں لوگوں کی زندگی پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ تاہم ان مثالوں سے یہ خیال نہیں پیدا ہونا چاہیے کہ ایک فکری رہنما صرف نظریہ دیتا ہے اور دنیا سے رخصت ہوجاتا ہے،بلکہ وہ معاشرے میں رائج قدیم تصورات کے خلاف جنگ کرتا ہے اور نئے خیالات کو فروغ دیتا ہے۔ وہ ان کی ذہنی تربیت کرتا ہے اور ان کے شعور کو فکر کے نئے دھارے دیتا ہے ۔ وہ لوگوں کو معاملات کو مختلف انداز سے دیکھنے کی صلاحیت دیتا ہے اور اس کے قومی مزاج کی تشکیل نو کرتا ہے ۔
مثال کے طور پر۱۸۵۷ء کی جنگ آزادی کے بعد مسلمانوں اور انگریزوں میں شدید مخاصمت پیدا ہوگئی تھی۔ انگریزوں نے ہندوستان میں صدیوں سے قائم مسلمانوں کے اقتدار کو ڈھایا تھا۔ نیز جنگ آزادی میں فتح کے بعد انھوں نے مسلمانوں کو بہت سختی کے ساتھ کچلا تھا، اس لیے مسلمانوں کے دل میں ان کے خلاف شدید نفرت تھی۔ایسے میں سر سید احمد خان نے مسلمانوں کو انگریزوں سے ٹکراؤ کی پالیسی سے ہٹایا اور جدید تعلیم کے حصول کی طرف متوجہ کیا۔ یہ انھی کی کوششیں تھیں جن کے زیر اثر مسلمانوں نے تعلیم اور سیاست کے میدان میں بھرپور طریقے سے حصہ لیا اور آخر کار اپنے لیے ایک الگ وطن حاصل کرنے کی جدو جہد میں کامیاب رہے ۔
اسی طرح یورپ میں مارٹن لوتھر(Martin Luther) اور کیلون(Calvin) وغیرہ نے سولہویں صدی کے آغاز پر اپنے افکار کے ذریعے سے یورپ کے معاشرے میں ہلچل مچادی۔ انھوں نے چرچ کے اقتدار کے خلاف آواز اٹھائی اور صدیوں سے جامد یورپی معاشرے کو آزادی کی نئی راہیں دکھائیں۔ یورپ کے عروج کی وجہ سائنس میں اس کی غیر معمولی ترقی تھی۔ چرچ اس سائنسی ترقی کا مخالف تھا۔ یہ لوتھر وغیرہ ہی تھے جن کے افکار کے زیر اثر چرچ کے اقتدار کو دھچکا پہنچا اور آزادی فکر کی فضا عام ہوئی، جس کے بعد یورپ نے تیزی سے عروج کا سفر طے کرنا شروع کر دیا۔

ب۔ مذہبی قیادت

انسان اس دنیا میں جن تصورات سے سب سے زیادہ متاثر ہوتا ہے ، وہ مذہبی تصورات ہیں۔مذہب کی سب سے بڑی طاقت یہ ہے کہ اس کی بنیاد انسان کے خارج میں نہیں ، بلکہ انسان کے داخل میں ہے۔کسی برتر ہستی کاتصور وہ داخلی بنیاد ہے جس سے انسان خود کو کبھی بھی آزاد نہیں کرسکا۔مذہب اپنی اساس میں ایسی ہی برترہستی یا ہستیوں کے تعارف کا نام ہے۔پھر یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ انسان توجیہ پسند واقع ہوا ہے۔حیات و کائنات کے بارے میں ان گنت سوالا ت ہیں جو اس کے ذہن میں پید اہوتے ہیں۔مذہب ان سوالات کے سب سے آسان اور عام فہم جوابات دیتا ہے۔ یہی وہ بنیادیں ہیں جن کی بنا پر ہر دور میں مذہب اور اہل مذہب فرد و اجتماع کی زندگی میں بآسانی ایک غیر معمولی مقام حاصل کرلیتے ہیں۔ 
مندرجہ بالا گفتگو سے یہ بات بھی واضح ہوتی ہے کہ مذہب اصلاً ایک فکر اور ایک تصور ہے۔ چنانچہ تمام مذہبی قائدین بشمول انبیا علیہم السلام فکری قائد ین ہوتے ہیں۔ لیکن مذہب صرف فکر تک ہی محدود نہیں رہتا، بلکہ ایک قدم آگے بڑھتا ہے اور انسانوں کے طرز زندگی، رسوم و رواج، معمولات حتیٰ کہ سونے جاگنے کے اوقات اور دستر خوان کا بھی تعین کرتا ہے۔انسانی زندگی میں مذہب کی اس اہمیت کی بنا پر مذہبی قائدین اس بات کے مستحق ہیں کہ ان کا ذکر فکری قائدین سے علیحدہ کیا جائے۔
مذہبی قیادت کا فرد و معاشرے کی زندگیوں میں ہمیشہ ایک غیر معمولی کردار رہا ہے۔ مثال کے طور پر عیسائی مذہب میں چرچ اعتراف گناہ کے مذہبی تصور کے ذریعے سے فرد کے انتہائی ذاتی معاملات میں بھی مداخلت کا حق رکھتا تھا۔یہ کوئی اختیاری معاملہ نہ تھا، بلکہ قرون وسطیٰ کے یورپ میں چرچ نے لوگوں پر یہ پابندی لگادی تھی کہ سال میں ایک دفعہ ہر شخص اپنے علاقے کے پادری کے سامنے گناہوں کا اعتراف کرے گا۔ اسی طرح ۱۰۹۹ء سے لے کر ۱۲۹۱ء کے دوران میں لڑی جانے والی انسانی تاریخ کی مشہور لڑائیاں جو صلیبی جنگوں کے نام سے معروف ہیں ، ایک مذہبی لیڈر پوپ اربن دوم نے شروع کرائیں۔اس نے یورپ کے لوگوں میں جنگی جنون بھڑکایا اور انھیں مسلمانوں پر حملہ کرکے اپنے مقامات مقدسہ واپس لینے پر اکسایا۔
مذہبی قیادت قوموں کے عروج وزوال میں غیر معمولی کردار ادا کرتی ہے۔اخلاقی اقدار کو فروغ دے کر یہ نہ صرف معاشرے میں استحکام پیدا کرتی ہے ، بلکہ قومی زندگی کی مشکلات میں یہ سب سے بڑھ کر افراد کا حوصلہ بلند رکھتی ہے۔اسی طرح قومی مفادات کے حصول کے لیے جس اجتماعی تحریک وتوانائی کی ضرورت ہوتی ہے ، وہ بھی مذہبی قیادت ہی فراہم کرتی ہے۔ اس اعتبار سے قوموں کی زندگی کے کٹھن لمحات میں مذہبی قیادت غیر معمولی کردار ادا کرکے قوم کو عروج کی طرف لے جا سکتی ہے۔اس کے بر خلاف بعض اوقات مذہبی قیادت پوری قوم کو بے عملیت اور جمود کی طرف لے جاتی ہے، خود اخلاقی انارکی کا شکار ہوجاتی ہے اور بعض صورتوں میں یہ اہل اقتدار کی آلۂ کار اور اپنے مفادات کی حریص ہوکر رہ جاتی ہے۔ ان تمام صورتوں میں یہ قومی زوال کا اہم سبب بن جاتی ہے۔ 
دراصل مذہب ہر شخص کی ضرورت ہے۔ مذہبی رہنما لوگوں کی اس ضرورت کی تکمیل کرتے ہیں اور لوگوں کی ضرورت بن جاتے ہیں۔نیز مذہبی رہنما اپنی زندگیوں میں اعلیٰ اخلاقی نمونہ پیش کرتے ہیں۔اس کی بنا پر لوگوں میں ان کا غیر معمولی احترام پیدا ہوجاتا ہے۔ افادیت اور احترام کا یہ مجموعہ جب مذہبی قائدین کی ذات میں جمع ہوتا ہے تو ان کے دائرۂ اثر کو معاشرے کے ہر فرد اور ہر گھر تک وسیع کردیتا ہے۔اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ جو فکر اور جو رویہ ان کی بارگاہ سے سند قبولیت حاصل کرتا ہے، وہی معاشرے کے عرف میں داخل ہوجاتا ہے اور جو ان کے ہاں مردود ٹھہرتا ہے، وہ عوام کی نگاہ سے بھی گر جاتا ہے۔
مذہبی قیادت جب تک زندہ ہوتی ہے ، اپنے اس رسوخ کو استعمال کرکے معاشرے میں مثبت اقدار کو فروغ دیتی ہے اور شر کی طاقتوں کو اجتماعی زندگی میں دراندازی کی اجازت نہیں دیتی۔اس طرح قومی زندگی کے استحکام میں ان کا کردار بڑا غیرمعمولی ہوتا ہے۔ تاہم مسئلہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب مذہبی قیادت میں زندگی مفقود ہونے لگتی ہے۔ ایسے میں وہ ہر قدیم کو مقدس اور ہر جدید کو ملعون سمجھنے لگتی ہے۔ دوسری طرف زندگی کی گاڑی آگے کی سمت رواں رہتی ہے۔چنانچہ وقت کے ساتھ ساتھ معاشرہ آگے بڑھ جاتاہے اورروایتی مذہبی قیادت جمود کا شکار ہوکر پیچھے رہ جاتی ہے۔ ایسے تبدیل شدہ حالات میں مذہبی قیادت بالعموم خود بدلنے کے بجاے اپنے اثر و رسوخ اور طاقت کی بنا پر نئے افکار کو دبانے کی کوشش کرتی ہے۔ اس رویے کی وجہ سے دو میں سے ایک برا نتیجہ لازمی نکلتا ہے:
ایک یہ کہ انھیں کامیابی ہوتی ہے، مگر اس کے بعد قوم پس ماندگی کا شکار ہوجاتی ہے۔ جیسے پوپ کے زیر اثر جنوبی یورپ کے ممالک اسپین، پرتگال اور اٹلی میں نئے افکار کو طاقت کے ساتھ دبا دیا گیا۔ چنانچہ یہ ممالک جو پندرھویں صدی میں یورپ میں سب سے آگے تھے ، آنے والے دنوں میں باقی یورپ سے پیچھے رہ گئے۔ اس کے برعکس لوتھرکی پروٹسٹنٹ تحریک کے زیر اثر جس کا مرکز جرمنی تھا اور جو پوپ کے اثر سے باہر آچکا تھا، مغربی یورپ ترقی کی راہوں پر آگے بڑھتا چلا گیا۔
دوسری صورت میں مذہبی قیادت کو شکست ہوجاتی ہے اور جدید افکار اپنی جگہ بنالیتے ہیں۔ مگر اس کے نتیجے میں اکثر یہ ہوتا ہے کہ یہ جدید افکار بعض ایسی بنیادی اقدار کو ملیا میٹ کردیتے ہیں جو مذہب کی زمین پر ہی جڑپکڑتی ہیں۔مثلاًیورپ میں آخر کار چرچ کو شکست ہوئی، مگر اس کے بعد حیا اور عفت وغیرہ جیسی بنیادی انسانی اقدار کا خاتمہ ہوگیا اور بعض خبائث عام زندگی کا حصہ بن گئے ۔ مثلاً سود اب مغربی معاشرے کا جزو لاینفک ہے۔

ج۔ سیاسی قیادت

اس میں شک نہیں کہ فکری اور مذہبی قیادت قومی زندگی میں بہت اہم کردار ادا کرتی ہے ، مگر وہ قوموں کی زندگی میں فیصلہ کن کردار ادا نہیں کرتی۔اس کا سبب یہ ہے کہ عملی زندگی کے تقاضے فکری اور مذہبی معاملات سے بہت مختلف ہوتے ہیں،اس لیے بالعموم فکری اور مذہبی رہنماؤں کے ہاتھ میں سیاسی اقتدار نہیں آتا ۔چنانچہ یہ سیاسی قائدین ہوتے ہیں جو قوموں کی زندگی کے نازک ترین فیصلے کرتے ہیں اور اس فضا کو استعمال کرتے ہیں جو مذہبی اور فکری قائدین بنا چکے ہوتے ہیں۔ مثلاً اقبال کے خواب کو تعبیر محمد علی جناح نے دی اور مارکس کے نظریات لینن کی قیادت میں عملی شکل اختیار کر سکے۔
دراصل حکومت و ریاست قومی زندگی کا سب سے اہم شعبہ ہے اور اس پر سب سے زیادہ اثر انداز ہوتا ہے۔ چنانچہ سیاسی قائدین جو اقتدار کی سطح پر قومی معاملات میں دخیل ہوتے ہیں ، ان کی اہمیت غیر معمولی ہوجاتی ہے اور بعض اوقات ان کے فیصلے تاریخ ساز ہوجاتے ہیں۔ جس روز جنرل ضیاء الحق نے یہ فیصلہ کیا تھا کہ وہ روس کو واپس دریاے آمو کے پار بھیج کر ہی دم لیں گے، اس وقت کسی کے سان گمان میں بھی نہیں تھا کہ ایک شخص کا یہ عزم انسانی تاریخ کے کیسے عظیم موڑ کا پیش خیمہ ثابت ہوگا،مگر اس فیصلے نے ایک سپر پاور کا خاتمہ کردیا۔ یہ الگ بات ہے کہ خود پاکستانی قوم کو اس فیصلے کی بہت بھاری قیمت دینی پڑی۔
فکری اور مذہبی قیادت کے بر خلاف سیاسی قائدین قوم کے اجتماعی مزاج کی تشکیل میں براہ راست حصہ نہیں لیتے ۔ ان کا کام یہ ہوتا ہے کہ جیسی کچھ قوم انھیں ملی ہے ، وہ اس کی امنگوں پر پورا اتریں۔ جو مواقع ہیں ، انھیں استعمال کریں اور جو مسائل ہیں ، ان سے قوم کو نجات دلائیں۔ سیاسی قائد کا اصل کردار قوم کو متحر ک کرنا ہے۔ وہ قوم میں ایک جذبہ اور ولولہ پیدا کرتا ہے، اس کا حوصلہ بلند کرتا ہے اور اسے نئی راہیں دکھاتا ہے۔ خود ایک سیاسی قائد کے لیے ضروری ہے کہ وہ حوصلہ مند اور مستقل مزاج ہو،اس میں اپنے مقصد کے حصول کی غیر معمولی لگن ہو، اور اس راہ میں وہ کسی مشکل کو بھی خاطر میں نہ لاتا ہو۔ ان خصوصیات کے ہونے پر قائد ایک منتشر قوم کو متحد کر لیتا ہے اور اپنے عزم سے ایک نئی تاریخ رقم کرتا ہے۔تاہم اگر یہ خصوصیا ت نہ ہوں تو پوری قوم کے اس کے پیچھے کھڑے ہونے سے بھی کوئی فرق نہیں پڑتا۔ قائد خود بھی ڈوبتا ہے اور پوری قوم کی نیا بھی ڈبودیتا ہے۔گویا سیاسی قیادت قوم کے عروج و زوال کے پیچھے کارفرما سب سے زیادہ موثر عامل کا کام کرتی ہے۔ہم تاریخ کی دو مثالوں سے اپنی بات کی وضاحت کریں گے۔
۱۳۴ھ میں خلافت بنو امیہ کے خاتمہ کے وقت عباسیوں نے بنو امیہ پر ظلم و ستم کے ایسے پہاڑ توڑے کہ جن کی مثال تاریخ میں مشکل سے ملے گی۔ زندوں کے ساتھ تو جو ہوا سو ہوا، انھوں نے اموی خلفا کی قبریں بھی کھودڈالیں۔ ہشام بن عبد الملک کی قبر سے اس کی لاش صحیح سالم نکل آئی تو اسے کوڑے لگائے گئے، پھر صلیب پر چڑھایا گیا اور آخر میں لاش کو جلاکر راکھ بنادیا گیا۔اموی خاندان سے تعلق رکھنے والوں اور ان کے ہمدردوں کوچن چن کر بے رحمی سے ہلاک کیا گیا۔ ان حالات میں عبدالرحمن بن معاویہ نامی ایک اموی شہزادہ شام سے اپنی جان بچاکر بھاگا اور بچتا بچاتا افریقہ جا پہنچا ۔کئی سال تک اپنی جان بچانے کے لیے چھپتا پھرا ۔آخر کار اس نے اندلس کا رخ کیا جہاں عباسیوں کے اثرات ابھی تک قائم نہیں ہوئے تھے۔ اس وقت اندلس میں خانہ جنگی کی کیفیت تھی۔ اس غریب الوطن نوجوان شہزادہ نے ، جس کے خاندان کا اقتدار تباہ ہوچکا تھا اور دنیا کی طاقت ور ترین حکومت اس کی جان کے درپے تھی، اپنی ہمت وحوصلہ اور جرأت واستقامت کے بل بوتے پر اندلس میں اپنی حکومت قائم کی۔ اس کے بعد اگلی تین دہائیوں تک وہ مسلسل ان مسائل سے نمٹتا رہا جو عباسیوں، یورپ کے عیسائیوں اور سب سے بڑھ کر اندرونی بغاوتوں نے اس کے لیے پیدا کیے۔ اس نے اپنی غیر معمولی خوبیوں کی بنا پر ان تمام مشکلات پرقابو پاکر اندلس میں اعلیٰ درجے کا نظم ونسق قائم کیا اورعباسیوں کے تسلط سے آزادامویوں کی حکومت قائم کی، جس نے اگلی تین صدیوں تک انتہائی شان و شوکت سے اندلس پر حکمرانی کی ۔اس طرح اس عظیم لیڈر کے عزم و حوصلہ سے مسلم اسپین کے عروج کی وہ شان دار تاریخ وجود میں آئی جس پر مسلمان آج تک فخر کرتے ہیں۔
اس کے برخلاف ۱۸۵۷ء میں ہندستان کے باشندوں نے انگریزی اقتدار کے خلاف ایک زبردست بغاوت کردی۔ اپنے وطن سے دور اور تعداد میں بہت کم انگریزی فوج کو شکست دینا بہت مشکل نہ تھا، مگر بدقسمتی سے جو مغل حکمران فطری طور پر اس جنگ کا قائد بن سکتا تھا ، وہ ایک بوڑھا اورکمزور شاعر تھا۔ مغلیہ شہزادوں میں کوئی ایسا جواں مرد نہ تھا جو قیادت کے اس خلا کو پورا کرسکے۔چنانچہ سیاسی قیادت کی اس کمزوری کی بنا پر اس عظیم موقع کو جو حالات نے پیدا کردیاتھا ، استعمال نہ کیا جاسکا۔ مزید یہ کہ اس کی بنا پر برصغیر میں مغلیہ حکومت کا خاتمہ ہوا اور مسلمانان ہند کا زوال اپنی انتہا کو پہنچ گیا۔

____________