بیس واں باب 
 
پچھلے چودہ سو برس سے اسلامی تعلیمات کی تعبیر کے حوالے سے امت مسلمہ کے اندر مختلف فکریں لہریں موجود رہی ہیں۔ خود صحابہ کرامؓ کے آخری ادوار میں یہ فکری اختلافات موجود تھے۔ ان اختلافات نے بنو امیہ کے زمانے میں ایک اورشکل اختیار کرلی۔ بنو عباس کے زمانے میں اس کی نئی شکلیں اور جہتیں بن گئیں۔ ہر زمانے کے سیاسی اور معاشرتی حالات ان مختلف تعبیراتِ اسلام کے بنانے میں اپنا کردار ادا کرتے ہیں۔ موجودہ زمانے میں انتہائی پیچیدہ اور متنوع عوامل کی موجودگی کی وجہ سے امتِ مسلمہ کے اندر بہت سے فکری گروہ بن گئے ہیں۔ ان کو ہم مختلف تعبیراتِ اسلام بھی کہہ سکتے ہیں۔ ان کے درمیان گہرے فکری، نظریاتی اور تجزیاتی وعملی اختلافات موجود ہیں۔ ان میں ہم چار کلاسیکل نقطہ ہائے نظر کا تذکرہ کریں گے۔ تاہم یہ بات واضح رہنی چاہیے کہ یہ تقسیم مکمل نہیں ہے۔ بہت سے افراد اور گروہ ایسے بھی موجود ہیں جو اِن مختلف نقطہ ہائے نظر کے درمیان میں پائے جاتے ہیں۔ تاہم اس تقسیم کافائدہ یہ ہے کہ اس کی وجہ سے ہم مختلف گروہوں کی پہچان کے لیے ان کو کوئی نام دے سکتے ہیں۔ 


قدامت پسند گروہ 


یہ وہ گروہ ہے جو اُن فقہی تعلیمات کو حرفِ آخر تصور کرتا ہے جو آج سے آٹھ سو یا ہزار برس پہلے فقہا نے بیان کئے تھے۔ ان تعلیمات سے پوری طرح جڑا رہنا اس گروہ کے نزدیک ضروری ہے۔ یہ گروہ تحقیق اور اجتہاد پر یقین نہیں رکھتا۔ اس کے نزدیک آج سے کئی سو برس بیشتر علماء اور فقہا نے جو کچھ کہہ دیا تھا، وہی ہمارے لیے کافی وشافی ہے۔ یہ گروہ عالمی سیاست اور معاملات سے بھی عموماً دور رہتا ہے۔ ان کا ظاہری حلیہ ان کے نقطہ نظر کا آئینہ دار ہوتا ہے۔ یہ گروہ قرآنِ مجیدکے براہ راست سیکھنے سکھانے سے زیادہ شغف نہیں رکھتا،البتہ اپنی مخصوص فقہی معاملات کے علم کو اپنے گروہ کے اندر عام کرنا چاہتا ہے۔ فی الوقت یہ فکری لہر مسلمانوں کے تمام مسالک میں موجود ہے۔ عالمِ اسلام کے اکثر دینی مدارس اسی گروہ سے تعلق رکھتے ہیں۔ 


انتہا پسند گروہ 

یہ گروہ ایک مخصوص سیاسی زاویہ نظر رکھتا ہے۔ اس کے نزدیک اسلام کا اصل مقصد ساری دنیا پر غلبہ حاصل کرنا ہے۔ اس گروہ کے نزدیک قرآن مجید نے حضورؐ کے لیے بطورِ رسول غلبے کی جو بات کی ہے، وہ باقی سب مسلمانوں کے لیے بھی قابلِ عمل بلکہ لازم (Applicable)ہے۔ اس نقطہ نظر کے مطابق غیر مسلموں کو انفرادی طور پر اپنا مذہب اختیار کرنے کی اجازت ہے، مگر ان کو یہ اجازت نہیں کہ وہ اپنے نقطہ ہائے نظر کے مطابق ریاست کی تشکیل کریں۔ اس گروہ کے خیال میں ریاست کی تشکیل صرف مسلمانوں کا حق ہے۔گویا اس گروہ کے مطابق موجودہ سب غیر مسلم ریاستوں کو مٹانا اصولی اعتبار سے مسلمانوں کا مقصد ہونا چاہیے۔ اس مقصد کے حصول کی خاطر مختلف اوقات میں مختلف حکمت عملیاں اختیار کی جاسکتی ہیں۔ مثلاً اگر انتخاب کے ذریعے اقتدار پر قبضہ کیا جاسکتا ہو تو اس راستے کو بھی وقتی طور پر اختیار کیا جاسکتا ہے تاکہ اقتدار میں آنے کے بعد اپنے مقاصد کی تکمیل کی جاسکے اور اگر کہیں مسلح طریقے سے کامیابی حاصل ہوسکتی ہے تو یہ بھی بالکل جائز اور روا ہے۔ مسلح جدوجہد کے لیے یہ گروہ کسی شرط کا قائل نہیں ہے۔ اس کے نزدیک کوئی بھی فرد یا گروہ اچھے مقاصد کے خاطر طبلِ جنگ بجا سکتا ہے۔ یہ گروہ سائنس اور ٹیکنالوجی سے پورا فائدہ اٹھاتا ہے مگر اہم ترین ایشوز، مثلاً خواتین کے حقوق وغیرہ کے ضمن میں کلاسیکل قدیم نقطہ نظر کا حامل ہے جس سے خواتین عملاً دوسرے درے کی شہری بن جاتی ہیں۔اس مکتب فکر کے اندر بعض گروہ ایک دوسرے سے فکری اختلافات بھی رکھتے ہیں مگر اس کے باوجود یہ سب ایک دوسرے کو قدر اور دوستی کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ مثلاً ان میں سے ایک گروہ جمہوریت کو کفر سمجھتا ہے اور دوسرا گروہ اسے حکمت عملی کے طور پر جائز سمجھتا ہے۔ اس کے باوجود دونوں گروہ ایک دوسرے کے لیے محبت کے جذبات رکھتے ہیں، اس لیے کہ دونوں اپنے اصل مقصد یعنی سب غیر مسلموں پر دین کو غالب کرنے کے معاملے میں یہ متحدالخیال ہیں۔ اس انتہا پسند گروہ میں چار مزید Sub-Groupپائے جاتے ہیں۔ پہلا Sub-Groupبنیادی طور پر سیاسی جدوجہد کرتا ہے۔ دوسرا گروہ مذہبی تعلیمی اداروں کے ذریعے اپنی بات آگے بڑھاتا ہے۔ تیسرا گروہ شدومد سے عسکریت پسندی کی حمایت کرتا ہے۔ چوتھا گروہ درج بالا تینوں گروہوں کے اُن انتہائی مخلص اور جاں باز افراد پر مشتمل ہے جنہوں نے اپنے آپ کو عسکری جدوجہد کے لیے وقف کیا ہوتا ہے۔ یہ چاروں گروہ ایک دوسرے کے حمایتی اور ممد ومعاون ہیں۔ اس وقت امت کے دینی طبقے کے اندر اسی گروہ کا فکری غلبہ ہے۔ ہماری نظر میں یہ نقطۂ نظر صحیح نہیں ہے۔ اس سے اسلام ایک دعوتی دین کی حیثیت سے نہیں بلکہ ایک جارح دین کی حیثیت سے سامنے آتا ہے۔ اس گروہ کی عملی اور عسکری جدوجہد بلحاظ مجموعی اسلام اور مسلمانوں کو نقصان پہنچا رہی ہے۔ 


معتدل گروہ 

اس گروہ کے خیال میں اسلام امن اور اعتدال کا دین ہے۔ مسلمانوں کاکام یہ ہے کہ وہ پرامن طور پر اپنے نقطہ نظر کی دعوت دیں اور اپنے ہاں بہترین فلاحی معاشرے قائم کریں۔ یہ گروہ اجتہاد وتحقیق پر یقین رکھتا ہے۔ اس گروہ کے خیال میں حضورؐ کے لیے سرزمین عرب پر غلبے کی قرآنی پیشن گوئی حضورؐ کے ساتھ بطورِ رسول خاص تھی اور جس طرح یہ ہر رسول کے معاملے میں پوری ہوئی، اسی طرح یہ حضورؐ کے معاملے میں بھی پوری ہوگئی۔ اب یہ رسالت محمدیؐ کی سب سے بڑی دلیل ہے۔ یہ گروہ جمہوریت پر یقین رکھتا ہے۔ اس کے خیال میں اعلانِ جنگ صرف ریاست کاکام ہے۔ یہ گروہ انسانی حقوق، امنِ عالم کے لیے کیے گئے معاہدوں اور قوانین کے تقدس پر بھی یقین رکھتا ہے۔ یہ گروہ مکالمے اور پرامن بقائے باہمی پر بھی یقین رکھتا ہے اور فنونِ لطیفہ کو کچھ حدود کے اندر جائز سمجھتا ہے۔۔ بعض اوقات اس کو لبرل گروہ بھی کہا جاتا ہے۔راقم الحروف کا تعلق اسی گروہ سے ہے اور یہ کتاب اسی معتدل فکر کو بیان کرتی ہے۔ 


تجدد پسند گروہ 

یہ گروہ اسلامی تعلیمات کو دو حصوں میں تقسیم کرتا ہے۔ ایک حصہ عالمی اخلاقی تعلیمات پر مشتمل ہے جس کی اطاعت ہمیشہ کے لیے ضروری ہے۔ جب کہ دوسرا حصہ عملی احکامات پر مشتمل ہے۔ اس دوسرے حصے میں وقت اورحالات کی مناسبت سے تبدیلی لائی جاسکتی ہے۔ گویا اس گروہ کے نزدیک قرآن مجید کے عملی احکام جو عبادات، معاملات اور جرائم وغیرہ سے متعلق ہیں، ابدی حیثیت نہیں رکھتیں۔ اگر حالات مناسب ہوں تو اُن کو اسی طرح قائم رکھا جاسکتا ہے اور اگر حالات کا تقاضا ہو کہ اُن کو تبدیل کیا جائے تو ایسا بھی ہوسکتا ہے۔ اگر چہ یہ نقطہ نظر عام مسلمانوں میں بہت کم پایا جاتا ہے، تاہم ایک خاص علمی حلقے میں اس کی قدروقیمت موجود ہے۔ مسلمانوں کے ہاں موجود بہت سے الٹرا سیکولر حلقے اِس نقطہ نظر کی فکری بنیادیں جانے بغیر اس کو ایک خاص حد تک مانتے ہیں۔ گویا اس Sub-Groupکے نزدیک اسلام نے فرد کو جتنے احکام دیے ہیں مثلاً نماز، روزہ وغیرہ، ان کی پابندی، بحیثیت فرد اچھی بات ہے، لیکن اسلام نے جتنے اجتماعی احکام دیے ہیں، ان کی پیروی ریاست کے لیے ضروری نہیں۔ ہمارے نزدیک یہ نقظۂ نظر بھی صحیح نہیں۔ اس امت کا اجتماعی ضمیر اس کو کبھی قبول نہیں کرسکتا۔ 
اس وقت عالم اسلام کے اندر یہ چاروں فکری روئیے پائے جاتے ہیں۔ لیکن یہ کوئی Water tight compartments نہیں ہیں۔ ایسے بھی لوگ اور گروہ موجود ہیں جو کچھ معاملات میں قدامت پسندانہ اور کچھ معاملات میں انتہاپسندانہ نقطہ نظر رکھتے ہیں۔ اسی طرح ایسے بھی گروہ موجود ہیں جو کچھ معاملات میں انتہا پسندانہ اور کچھ معاملات میں معتدل رویہ رکھتے ہیں۔