۲۰- مسیحی عقل ونقل کے درمیان عموماً تطبیق کی ضرورت نہیں محسو س کرتے۔ ان کا عام خیال ہے کہ دین عقل سے ایک ماوراء شے ہے تاہم ان کے اندر بھی کچھ ایسے فلسفی موجود ہیں جو دین کو عقلی الزامات سے بری بات  کرنے کے بڑے دلدادہ ہیں یہ فلسفی مسیحی علماء عوام کے نزدیک زیادہ تر اپنی اس عقلیت کی وجہ سے بے دین سمجھے جاتے ہیں مشہور فلسفی اسپنوزا،جو عبرانی زبان کا بھی ماہر ہے ،ایسے ہی ملاحدہ میں شمار کیا جاتا ہے ۔ حضرت مسیح علیہ  السلام کے ان احکام کے باب میں ہم اپنی رائے  پیش کرنے سے پہلے اس فلسفی کی رائے بھی پیش کرنا چاہتے ہیں جس سے معلوم ہوگا کہ یہ فلسفی جہاں تک ان احکام کو ایک خاص امت اور ایک خاص حالت کے ساتھ مخصوص کرنے کا تعلق ہے ہماری رائے سے متفق ہے ساتھ ہی اس سے مسیحی اور مسلم اہل عقل کے نقطہ نظر کا فرق بھی واضح ہو گا اور یہ حقیقت سامنے آئے گی کہ ہماری تاویل دلیل کی وضاحت وقت کے ماسوا مسیحی شریعت اور صاحب شریعت کی تعظیم کی روح سے بھی معمور ہے۔

اسپنوزا کا خیال یہ ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام کے پیرو ظالم اور طاقت ور حکام کے محکوم تھے۔ اس لیے انہوں نے اپنے پیروئوں کو تذلل واطاعت کے احکام دیئے اور فرمایا کہ برائی کا مقابلہ نہ کرنا اور اگر کوئی ایک گال پر طمانچہ مارے تو دوسرا بھی  اس کے سامنے پیش کر دینا وغیرہ وغیرہ۔ اسنپنوزا کے نزدیک یہ احکام کسی نیکی یا دینداری  کے خیال پر مبنی نہیں تھے بلکہ اس کے خیال مسیحیوں کے اس وقت کے حالات ومصالح کے لحاظ سے یہی احکام ان کے لیے موزوں ہو سکتے تھے۔

 اسپنوز اتنا اعتراف کرتا ہے کہ یہ احکام ایک خاص امت کے ساتھ مخصوص ہیں لیکن علم کی وسعت اور انبیاء کے صحیفوں  اور ان کے حالات سے واقفیت کے باوجود اس تخصیص کی علت اس کی سمجھ میں نہیں آئی جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ اس نے عقل کے پہلو کو تو ملحوظ رکھا لیکن شریعت الٰہیہ کی تقدیس اور حضرت مسیح علیہ السلام اور ان کے حواریین کے احترام کو وہ ملحوظ نہ رکھ سکے۔

 ہمارا خیال اس سے بالکل الگ ہے جس شخص نے بھی انجیل کے نسخوں کو غوروتامل کے ساتھ پڑھا ہے اس سے یہ حقیقت مخفی نہ ہوگی کہ حضرت مسیح علیہ السلام ایک آسمانی بادشاہت کی آمد کی بشارت دینے آئے تھے یہ آسمانی بادشاہت کیا تھی ایک خالص دینی اقتدار جو پہلے یہود کو بخشا گیا تھا لیکن انہوں نے اس کو ضائع کردیا تھااوراللہ تعالیٰ کے وعدے کے مطابق ہزاروں گرد شوں کے بعد اب پھر اس کے دوبارہ ظہور کے لیے منتظر تھے حضرت مسیح علیہ السلام نے ان کو اس کے قرب کی بشارت سنائی اور متعدد ایسی تمثیلات سے اس کی حقیقت سمجھائی جو ٹھیک ٹھیک حضرت خاتم النبیین  ﷺ کی نبوت پر منطبق ہوئی تھیں لیکن ان کی قوم کے عوام اس پر ایمان نہیں لائے اور علماء بھی چونکہ سخت دل اور سرو سامان دنیا کی طمع میں گرفتار ہو چکے تھے۔ اس لیے انہوں نے بھی ان کی مخالفت کی ۔ بالآخر ان لوگوں سے مایوس ہو کر انہوں نے سادہ دل غریبوں کی ایک چھوٹی آسمانی بادشاہت کا ظہور ہو تو وہ اس میں داخل ہونے کے لیے تیار ہیں اس بادشاہت کے اندر ان کو مکمل شریعت کی نعمت بخشی جائے گی۔

اس مقصد عزیز کا تقاضا یہ ہوا کہ وہ ان کو ایسی ہدایتیں دیں کہ وہ اپنے فقرو مسکنت کی زندگی پر قانع رہیں تاکہ دنیا کی رغبتیں اور لذتیں ان کے دل کی پاکی اور ان کے تقوے اور صبر کی اعلیٰ خصوصیات کو برباد نہ کرڈالیں اور اللہ تعالیٰ اپنے قانون اور وعدے کے مطابق ان کو اپنی قبولیت سے سرفراز فرمائے۔ یہاں ہم نے اس کو بالا جمال ذکر کیا ہے اس کی تفصیل اس کے محل میں موجود ہے۔

ہم نے یہ تاویل اس لیے اختیار کی ہے کہ اس سے حضرت مسیح علیہ السلام کا قول ایک طرف تو ایک عظیم الشان خوش خبری اور پیشن گوئی کی حیثیت اختیار کر لیتا ہے اور دوسری طرف عقل ونقل کے خلاف بھی نہیں پڑتا چنانچہ حضرت مسیح علیہ السلام نے جو کچھ فرمایا تھا وہ مسیحیوں کے حالات پر ٹھیک ٹھیک منطبق ہوکے رہا۔ ان کے اندر ایک جماعت تو اپنے فقروفاقے کی زندگی پر قانع رہی لیکن دوسری جماعت حضرت مسیح علیہ السلام کی نصیحتوں کو بھلا کر دنیاوی زندگی کی لذتوں میں مشغول ہو گئی اور پھر وہی ہوا جس کی حضرت مسیح علیہ السلام نے اس خطبے کے آغاز میں خبر دی تھی یعنی دنیا داروں نے غریبوں کو غربت و ناداری کے طعنے دیئے اور ان کے قرب سے نفرت کرنے لگے ان لوگوں کا گناہ صرف یہ تھا کہ انہوں نے اپنا تمام مال ومتاع خدا کی راہ میں لٹا کر اپنے اوپر فقروناداری کی زندگی طاری کرلی تھی۔ توریت پر قائم تھے،خنزیر کو حرام سمجھتے تھے،ختنے کو ضروری خیال کرتے تھے،مسیح علیہ السلام کو اللہ نہیں بندہ سمجھتے تھے۔ انجیل کے صرف عبرانی نسخے کو مانتے تھے جس کو اوروں نے ضائع کردیا تھا اور پال کے شدید مخالف تھے جس نے نصرانیت کو بالکل بدل ڈالا تھا جس کی تعلیمات حواریین کی تعلیمات کے بالکل خلاف تھیں۔ جس کا دعویٰ تھا کہ اس نے مسیح علیہ السلام سے براہ راست رویا میں کسب فیض کیا ہے اس لیے اس کو مسیح علیہ السلام کے شاگردوں کی پیروی کی ضرورت نہیں ہے۔

جب یہ آسمانی بادشاہت جس کی حضرت مسیح علیہ السلام نے بشارت دی تھی حضرت خاتم النبیین علیہ الصلوٰۃ والسلام کی بعثت سے ظہور میں آئی تو ان فقراء کا بڑا حصہ اس میں داخل ہو گیا لیکن دولت مندوں نے ان کی مخالفت کی اور وہ اس آسمانی بادشاہت میں داخل ہونے سے محروم رہے۔

یہ ہم نے جو کچھ لکھا ہے توریت، انجیل، قرآن مجید اور مسیحی تاریخ سے ہم اس پر دلائل رکھتے ہیں اس کی تفصیل ہماری تصنیفات ملکوت اللہ وغیرہ میں ملے  گی جو اس سلسلے کے مباحث کے لیے مخصوص ہیں یہاں تو محض سلسلہ بحث سے مجبور ہو کر ہم اس گفتگو تک پہنچ گئے نہ اس سے یک قلم اغماض کر سکتے تھے اور نہ اس سے زیادہ تفصیل کے لیے یہ جگہ موزوں تھی۔

الغرض مسیح علیہ السلام کا قسم سے مطلقاً منع کرنا صرف ان ہی لوگوں کے لیے تھا یہ حکم ان کے حالات کے لحاظ سے موزوں تھا۔ اگر ایک شخص نے تمام اسباب تمدن کو تیاگ دیا ہے اور اپنی تمام آرزوئیں اور سادی امیدیں اس نے ایک آنے والی آسمانی بادشاہت سے وابستہ کررکھی ہیں تو وہ گالیاں سنے گا طمانچے کھائے گا شدائد جھیلے گا لیکن نہ تو انتقام لے گا نہ کسی سے جھگڑے گا اور نہ زمین والوں سے کوئی معاملہ کرے گا پھر ایسے شخص کو قسم کھانے کی کیا ضرورت پیش آئے گی وہ یا تو ہاں کہے گا یا نہیں قسم اور شہادت ،دعویٰ اور ثبوت کا اس کی ولایت میں کیا ذکر ِ! لیکن ہم ایک قدم اور آگے بڑھ کر یہ واضح کر دینا چاہتے ہیں کہ یہ ممانعت درحقیقت مقسم علیہ کے پہلو سے تھی موقع کلام سے ایسا ہی اندازہ ہوتا ہے حضرت مسیح علیہ السلام دینی حقائق پر قسم کھانے سے کیسے روک سکتے تھے جب کہ انہوں نے خود حسب روایت یوحنا اپنی رسالت کی سچائی پر اللہ تعالیٰ کی شہادت پیش کی ہے اور معلوم ہے کہ قسم کی اصل حقیقت شہادت ہی ہے۔

اسی طرح قرآن مجید میں نصاریٰ کے رسولوں کا قول موجود ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ تبلیغ حق کے لیے انہوں نے بھی قسمیں کھائیں ۔ سورہ یٰس میں ہے۔

 قَالُوْا رَبُّنَا یَعْلَمُ اِنَّآ اِلَیْکُمْ لَمُرْسَلُوْنَ وَ مَاعَلَیْنَآ اِلَّا الْبَلٰغُ الْمُبِیْن (۱۶-۱۷)

کہا ہمارا پروردگار شاہد ہیکہ ہم تمہاری طرف بھیجے گئے ہیں اور انہیں ہے ہماری ذمہ داری مگر کھلے طور پر پہنچا دینا۔

اس میں ربنا یعلم جیسا کہ ہم اوپر بیان کر چکے ہیں قسم کے مفہوم میں ہے یہ باتیں بالکل واضح ہیں ان کے ثابت کرنے کے لیے مزید دلائل کی ضرورت نہیں ہے اوپر جو فصیں گزر چکی ہیں ان میںسارے شبہات کا جواب موجود ہے اور ہم نے ہر بحث میں عقل ونقل اور تورات وانجیل کی تطبیق کی بھی پوری کوشش کی ہے۔

بہر حال یہ جتنا کچھ بھی اختلاف ہے اصل حقیقت کے اعتبار سے نہیں ہے بلکہ تکمیل وتفصیل اور افراط تفریط کے درمیان نقطہ عدل کی تعیین اور نفع ونقصان کے لحاظ سے احکام کے درمیان فرق وتمیز کے پہلو سے ہے ۔ تم نے اوپر کی تفصیلات میں دیکھ لیا کہ اس فرق امتیاز کو قسم کے باب میں قرآن حکیم نے کس باریک بینی کے ساتھ ملحوظ رکھا ہے اور یہ کچھ قسم ہی کے ساتھ مخصوص نہیں ہے اس شریعت کاملہ کے لیے یہ موقع موزوں نہیں ہے۔ البتہ ایک بات یہاں ذکر کرنے کی ہے جو ہم نے اب تک بیان نہیں کی ہے وہ یہ کہ شریعت اسلام میں موقع کے اعتبار سے مختلف الفاظ قسم کے استعمال میں بھی ان کے مستحسن اور غیر مستحسن ہونے کے لحاط سے فرق کیا گیا ہے قسم کے مختلف مفاہیم پر ہم نے جو بحث کی ہے اس کی تکمیل کے لیے اس کے بیان کرنے کی ضرورت ہے نیز اس سے بلاغت  قرآن کا ایک اور گوشہ سامنے آئے گا اور عربی زبان سیکھنے کی بھی اس سے ترغیب ہوگی جس سے بے خبری بعض حالتوں میں آدمی کے دین کے لیے مضر ہوتی ہے۔