باب سِوُم



جب کبھی انسانی قربانی درکارہوتی تو پسندیدہ بات یہ تھی کہ وہ ’پہلونٹے‘ کی ہو ۔اگر مطلوبہ قربانی انسانی جان کی نہ بھی ہوتی، بلکہ کسی جانور یا پھل کی ہوتی تو بھی ضروری تھا کہ یا تو یہ پہلونٹے جانور کی ہو اور یا پہلے پھل کی۔ ذیل میں اس نقطے کی وضاحت کے لیے کچھ مستند حوالے پیش کیے جا رہے ہیں۔ ’مقدس صحیفے کی ایک نئی تفسیر‘ میں درج ہے :

At the time of Abraham human sacrifice was customary and frequent among his canaanite neighbors, and the early legislation of Ex 22:29, which states without modification that first-born sons are to be given to God, seems clearly to imply a stage in Israel\'s thought which regarded such sacrifices as a religious duty.؂1

ابراہیم ؑ کے عہد میں ان کے کنعانی ہمسایوں میں انسانی قربانی رائج تھی اور اس پر کبھی کبھی عمل بھی کیا جاتا تھا۔ کتابِ خروج ۲۲: ۲۹ میں اس حکم سے کہ پہلونٹے بیٹے اللہ کی بارگاہ میں ۲؂ پیش کیے جائیں، یہ ظاہر ہوتاہے کہ ایک زمانے میں بنی اسرائیل کا خیال تھا کہ ایسی قربانیاں مذہبی فریضے کی حیثیت رکھتی ہیں۔

دی ریورنڈ، ٹی کے چینی اپنے مقالے ’اسحاق‘ میں حضرت اسحاق علیہ السلام کی قربانی کا ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

The course that he adopted shows the writer to have been a great teacher. He admits the religious feeling which prompted the sacrifice of a firstborn son.؂3

مصنف نے جو اسلوب اختیار کیا ہے اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ ایک عظیم مبلّغ اور معلّم ہے۔ وہ تسلیم کرتا ہے کہ ایسا دینی جذبہ بھی موجود تھا جس کے نتیجے میں ’اکلوتے بیٹے‘ کی قربانی پیش کی جاتی تھی۔

مارکس ڈوڈس بیان کرتا ہے کہ اس دور کی سب سے زیادہ عظیم مذہبی عبادت پہلونٹے بیٹے کی قربانی تھی۔ یہ بات نامناسب خیال کی جاتی تھی کہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں کسی ایسی چیز کی قربانی پیش کی جائے جو حقیقی طور پر قابل قدر نہ ہو۔ (حضرت ابراہیم علیہ السلام کے نزدیک ان دو بیٹوں میں سے کون سا حقیقت میں قابل قدر تھا۔ اس موضوع پر کتابِ ہٰذا میں کسی اور مقام پر تفصیلی گفتگو کی گئی ہے)۔ مارکس لکھتا ہے:

Abraham was familiar with the idea that the most exalted form of religious worship was the sacrifice of the first-born. He felt, in common with godly men in every age, that to offer to God cheap sacrifices while we retain for ourselves what is truly precious, is a kind of worship that betrays our low estimate of God rather than expresses true devotion.؂4

ابراہیم ؑ اس نظریے سے آگاہ تھے کہ دینی عبادت کا بلند ترین مقام یہ تھا کہ قربانی میں پہلونٹے بیٹے کو پیش کیا جائے۔ ہر دور کے دین دار لوگوں کی طرح ان کا بھی یہ خیال تھا کہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں ادنیٰ قربانیاں پیش کرنا اور حقیقی معنوں میں اعلیٰ اور بیش قیمت چیزیں اپنے لیے بچا کر رکھنا عبادت کی ایک ایسی قسم ہے جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ ہماری سچی لگن نہیں ہے، بلکہ ہم اس کو اس کے شایانِ شان مرتبہ نہیں دیتے۔

سٹینلے اے کُک (Stanley A. Cook)لکھتا ہے کہ ایک زمانے میں اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں پہلونٹے بیٹے کی قربانی پیش کرنا اسی طرح لازمی سمجھا جاتا تھا جس طرح پہلے پھل اور جانوروں کے پہلونٹے بچے کا نذرانہ پیش کرنا لازم تھا:

The firstborn male enjoyed the privileges of which he was not to be deprived (...). Not only were the first-fruits as acceptable an offering as the firstlings, but when (in exceptional cases) a human victim was required it was a firstborn that was preferred (2K.3:27). (...). No doubt, strictly, the offering of the firstborn to Yahweh was at one time considered to be as binding as the offering of firstlings and first-fruits, and, indeed, the evidence goes to show that in exceptional cases the offering was actually made. However, just as the first-fruits were offered as a part of the whole, it is conceivable that originally the rite of circumcision was instituted upon the same principle to typify the offering of the firstborn. ؂5

پہلونٹے نَر کو ایسا استحقاقِ فضیلت حاصل تھا جس سے اُسے محروم نہیں کیا جا سکتا تھا(...)۔ نہ صرف یہ کہ پہلے پہلے پھلوں کو اسی طرح قابل قبول نذرانے کی حیثیت حاصل تھی،جس طرح پہلونٹے جانوروں کو، بلکہ جب (استثنائی حالات میں) کوئی انسانی بھینٹ درکار ہوتی، تو اس سلسلے میں بھی پہلونٹے بچے کو ترجیح دی جاتی (۲۔ سلاطین ۳: ۲۷)۔ (...)۔ بلاشبہ ایک زمانے میں اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں پہلونٹے بیٹے کی قربانی پیش کرنا اسی طرح لازم خیال کیا جاتا تھا جس طرح جانوروں کے پہلے پہلے بچوں اور پہلے پہلے پھلوں کا نذرانہ پیش کرنا لازم تھا۔ اس بات کے عملی شواہد موجودہیں کہ استثنائی حالات میں اس طرح کی انسانی قربانی فی الواقع بھی پیش کی جاتی تھی ، تاہم جس طرح پہلے پہلے پھل پوری فصل کے ایک جز کے طور پر نذر کیے جاتے تھے، اسی طرح یہ بات بھی قابل فہم ہے کہ ختنہ کی رسم کی بنیاد بھی اسی اصول پر رکھی گئی تھی کہ یہ پہلونٹے بیٹے کی قربانی کی علامت سمجھی جائے۔

مندرجہ بالا عبارت کے اولین جملے میں بیان کیا گیا ہے کہ ’پہلونٹے نر کو ایسا استحقاقِ فضیلت حاصل تھا جس سے اسے محروم نہیں کیا جاسکتا تھا‘ ۔خود بائبل میں بھی واضح طور پر بیان کیا گیا ہے:

اگر کسی مرد کی دو بیویاں ہوں اور ایک محبوبہ اور دوسری غیر محبوبہ ہو اور محبوبہ اور غیر محبوبہ دونوں سے لڑکے ہوں اور پہلوٹھا بیٹا غیر محبوبہ سے ہو، تو جب وہ اپنے بیٹوں کو اپنے مال کا وارث کرے، تو وہ محبوبہ کے بیٹے کو غیر محبوبہ کے بیٹے پر جو فی الحقیقت پہلوٹھا ہے، فوقیت دے کر پہلوٹھا نہ ٹھہرائے ۔ بلکہ وہ غیر محبوبہ کے بیٹے کو اپنے سب مال کا دُونا حصہ دے کر اُسے پہلوٹھا مانے، کیونکہ وہ اس کی قوت کی ابتدا ہے اور پہلوٹھے کا حق اسی کا ہے۔۶؂

اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ خود بائبل کے مطابق پہلونٹے بیٹے کا استحقاقِ فضیلت ناقابل تنسیخ ہے۔ حتیٰ کہ ا گر کوئی شخص اپنی بیویوں میں سے کسی ایک کی طرف زیادہ میلان کی وجہ سے کسی دوسری بیوی کے بیٹے کو اس کے پہلونٹے پن کے جائزاور واجب حق سے محروم کرنا چاہے، تو اس کو اس بات کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ یہ بات بھی ذہن نشین رہے کہ پہلونٹے بیٹے کے نذرانے کو قربانی کی اعلیٰ ترین شکل سمجھا جاتا تھا۔ اس طرح اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں قربانی کے لیے پیش کیے جانے کا استحقاقِ فضیلت حضرت اسماعیل علیہ السلام کا ناقابل تنسیخ اور ناقابل انتقال حق تھا۔ اسے کسی حالت میں بھی حضرت اسحاق علیہ السلام کی طرف منتقل نہیں کیا جا سکتا تھا۔
یہود کی ایک مشہور کتاب کا نام ہے:’دی بک آف جوبلیز‘(The Book of Jubilees)۔ اس میں تو کوئی شک نہیں کہ یہ بائبل کی مستند کتابوں میں شامل نہیں، لیکن یہ کلی طور پرمسترد بھی قرار نہیں دی جاتی۔ بائبل کے علما اپنے نقطۂ نظر کے حق میں بلا تردُّد اِس کے حوالے نقل کرتے ہیں۔ ’اِنٹر پریٹرز بائبل ڈکشنری‘ میں ایس۔ تدسخے(S. Tedesche) نے اپنے مقالے ’Jubilees, Book of‘میں اس کی تفصیل بیان کی ہے۔اس کے چند اقتباسات ذیل میں نقل کیے جاتے ہیں، تاکہ قاری کو اس کی حقیقی اہمیت سے آشنائی ہو:

One of the most important books of the Pseudepigrapha. It gives a graphic picture of judaism in the two pre-Christian centuries. Its purpose was to show that Judaism, as it then was, had been the same from the very beginning of known history. (...). emphasis is also placed on jewish tenets and customs, and the importance of preserving the difference between Jews and Gentiles is stressed. (...). The purpose of the author was to do for Genesis what the Chronicler did for Samuel and Kings----to rewrite the facts in such a way that it would appear that the law was rigorously observed by the patriarchs. (...). His desire was to save Judaism from the demoralizing effects of Hellenism by glorifying the law and picturing the patriarchs as irreproachable; by glorifying Israel and urging her to preserve the separateness from the Gentiles; and by denouncing the Gentiles and also Israel\'s national enemies. The \"Angel of the Presence\" reveals to Moses on Sinai the history and religious laws of Gen. 1-Exod. 3 in the form of sermonized translations, or Midrashic Targums, which show only favorable practices and omit anything derogatory. (...). The contrast between Jews and Gentiles is sharply drawn, and Israel is warned to keep separate. (...), and anything is omitted that would put the patriarchs in an unfavorable light.؂7

غلط منسوب کتابوں (Pseudepigrapha) میں سے(یہ) ایک اہم ترین کتاب (ہے)۔ یہ قبل مسیح کی دو صدیوں میں یہودیت کی واضح تصویر کشی کرتی ہے۔ اس کی تحریر کا مقصد یہ واضح کرنا تھا کہ یہودیت، معلوم تاریخ کی ابتدا ہی سے اسی حالت میں موجود رہی ہے، جیسی کہ یہ اس وقت موجود تھی۔(...)۔ اس میں یہودی عقائداور رسم و رواج پر بڑا زور دیا گیا ہے۔ یہود اور غیر یہود کے درمیان امتیاز قائم رکھنے کی اہمیت پر بھی بڑا زور دیا گیا ہے۔(...)۔ مصنف کا مقصد یہ تھا کہ جو چیز Chronicler نے کتابِ سموئیل اور کتابِ ملوک کے سلسلے میں سرانجام دی ہے،یعنی حقائق کو دوبارہ ایسے انداز میں لکھا جائے جس سے ظاہر ہو کہ بزرگ آبا قانونِ شریعت کی سختی سے پیروی کرتے تھے، وہی چیز وہ خود کتابِ پیدایش کے بارے میں سرانجام دے۔ (...)۔ اس کی خواہش تھی کہ:
(۱) قانونِ شریعت کی عظمت ظاہر کر کے ،
(۲) بزرگ آبا کو تنقید سے بالاتر حیثیت میں پیش کر کے،
(۳)بنی اسرائیل کی عظمت بیان کر کے،
(۴) بنی اسرائیل کو غیر قوموں سے اپنی الگ حیثیت قائم رکھنے پر زور دے کر،
(۵) غیر قوموں اور بنی اسرائیل کے قومی دشمنوں کو باطل اور مسترد قرار دے کر،
یہودیت کو یونانیت کے تباہ کن اور حوصلہ شکن اثرات سے بچایا جائے۔
[چنانچہ وہ] ’فرشتۂ بارگاہِ خداوندی‘ کوہِ سینائی پر حضرت موسیٰ علیہ السلام پر کتابِ پیدایش باب اول سے لے کر کتاب خروج باب سوم تک میں شامل قوانینِ شریعت اور تاریخی واقعات واعظانہ تراجم کی صورت میں نازل کرتا ہے۔ ان میں صرف موافق اور پسندیدہ باتیں ہی ظاہر کی جاتی ہیں اور اہانت آمیز چیزیں حذف کر دی جاتی ہیں۔ (...)۔ یہودیوں اور غیر قوموں کے درمیان فرق کی بڑے واضح انداز میں تصویر کشی کی جاتی ہے اور بنی اسرائیل کو تاکید کی گئی ہے کہ وہ اپنا الگ تشخص برقرار رکھیں اور غیر قوموں میں خلط ملط نہ ہوں۔(...)، اور ہر ایسی چیز کو حذف کردیا گیا ہے جو بزرگ آبا کو ناپسندیدہ انداز میں پیش کرے۔

اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ:

(۱) ’The Book of Jubilees‘ غلط منسوب کتابوں (Pseudepigrapha) کی اہم ترین کتابوں میں سے ایک ہے۔
(۲) اس میں یہودیوں اور غیر قوموں کے درمیان فرقِ مراتب پر بہت زور دیا گیا ہے۔
(۳) یہود کی برتری اور غیرقوموں کی کم تری ثابت کرنے کی ہر ممکن کوشش کی گئی ہے۔ (...)، اور ہر ایسی چیز حذف کر دی گئی ہے جو بزرگ آبا کو ناپسندیدہ رنگ میں پیش کرے۔
(۴) ’مصنف کا مقصود یہ تھا کہ وہ کتابِ پیدایش کے ساتھ وہی معاملہ کرے جو مصنف کتابِ تواریخ نے کتابِ سموئیل اور کتابِ ملوک کے ساتھ کیا تھا‘۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جہاں تک کتابِ پیدایش کے موضوعات کا تعلق ہے،ان کے بارے میں ’کتابِ جوبلیز‘کا بیان کسی طرح بھی اس سے کم قابلِ اعتماد نہیں، جتنا کہ کتابِ تواریخ کا بیان کتابِ سموئیل اور کتابِ سلاطین کے بارے میں ہے۔
(۵) اس کتاب کے مصنف کی خواہش تھی کہ (۱) قانونِ شریعت کی عظمت ظاہر کر کے (ب) بزرگ آبا کو تنقید سے بالاتر حیثیت میں پیش کر کے (ج) بنی اسرائیل کی عظمت بیان کر کے(د) بنی اسرائیل کو غیر قوموں سے اپنی الگ حیثیت قائم رکھنے پر زور دے کر اور(ہ) غیر قوموں اور بنی اسرائیل کے قومی دشمنوں کو باطل اور مسترد قرار دے کر یہودیوں کو یونانیت کے حوصلہ شکن اثرات سے محفوظ رکھے۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ’کتابِ جوبلیز‘ کا مصنف اس میں کسی ایسے مواد کا وجود برداشت نہیں کر سکتا تھا، جو یہودیوں کے قومی احساسِ تفاخر اور مفاد کو نقصان پہنچا سکتا ہو۔
(۶) جہاں تک بزرگ آبا کا تعلق ہے، مصنف نے پوری کوشش کی ہے کہ وہ ان کے متعلق انتہائی محبت اوراحترام کا اظہار کرے۔
(۷) اس نے ہر ایسی چیز حذف کر دی ہے جو اِن آبا (Patriarchs )کو نامناسب انداز میں پیش کرے۔

اس سے اندازہ کیا جا سکتاہے کہ ’کتابِ جوبلیز‘ نہ تو کوئی غیر اہم کتاب ہے اور نہ اس میں کوئی ایسی بات جگہ پا سکتی تھی جو یہودیوں اور بزرگ آبا کے مفاد کے منافی ہو ۔ یہی وجہ ہے کہ بائبل کے علما اپنے موضوعات اور اپنی تحریروں کو وقیع بنانے کے لیے اس میں سے پوری آزادی سے حوالے نقل کرتے ہیں۔ اس کتاب میں درج ہے:

And he drew near to the place of the mount of God. (...) . And I called to him from heaven, and said unto him: \'Abraham, Abraham;' and he was terrified and said: 'Behold, (here) am I.' And I said unto him: 'Lay not thy hand upon the lad, neither do you anything to him; for now I have shown that thou fearest the Lord, and hast not withheld thy son, thy first-born son, from me.' ؂8

اور وہ خداوند کے پہاڑ کی جگہ سے قریب ہوا۔(...)۔ اور میں نے اسے آسمان سے پکارا اور اُس سے کہا’ابراہیم ابراہیم!‘ اور وہ خوف زدہ ہوا اور اس نے کہا ’دیکھیے میں یہ رہا‘۔ اور میں نے اسے کہا’اپنا ہاتھ لڑکے پر نہ ڈالو اور نہ اس کے ساتھ کچھ کرو۔ کیونکہ اب یہ بات واضح ہو گئی ہے کہ تم خدا سے ڈرتے ہواور تم نے اپنے بیٹے، اپنے پہلونٹے بیٹے، کو بھی مجھ سے بچا نہیں رکھا‘۔

اسی کتاب کے ۱۸: ۱۵ میں دوبارہ بیان کیا گیا ہے:

And the Lord called Abraham by his name a second time from heaven, (...). And he said: 'By Myself have I sworn, saith the Lord, Because thou hast done this thing, And hast not withheld thy son, thy beloved son, from Me, That in blessing I will Bless thee,' ؂9

اور خداوند نے آسمان سے ابرہام کو دوسری دفعہ اس کا نام لے کر پکارا، (...)۔ اور اس نے کہا ، خداوند کہتا ہے’مجھے اپنی ذات کی قسم، کیونکہ تونے یہ چیز سرانجام دی ہے اور اپنے بیٹے، اپنے پیارے بیٹے، کو بھی مجھ سے نہیں روکا [بچا کے رکھا]، اس لیے میں تجھے پوری طرح برکت دوں گا‘۔

اس کتاب کے ایڈیٹر نے ’تیرے پیارے بیٹے‘ پر ایک ذیلی حاشیہ دیا ہے۔ وہ اس میں لکھتا ہے:

But here c d have 'thy first-born son'.

لیکن یہاں مسودہ’ c‘ اورمسودہ’ d‘ میں ’تیرا پہلونٹا بیٹا‘ لکھا ہے۔

’کتابِ جوبلیز‘ کے اس ورشن کے مقدمے میں صفحہ ۲ پر ’c‘ اور ’d‘ کی تشریح کر دی گئی ہے۔ اس کے مطابق ’c‘ سے مراد اس کتاب کا حبشی مسودہ ہے جو توبنگن (Tubingen)کی یونیورسٹی لائبریری کی ملکیت ہے۔ اور ’d‘سے مراد کتاب کا وہ حبشی مسودہ ہے جو پیرس کی نیشنل لائبریری کی ملکیت ہے۔ اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ ’کتاب جوبلیز‘ کے باب ۱۸ کی آیات ۱۱ اور ۱۵ کے مطابق ابرہام سے اپنے پہلونٹے بیٹے کو قربانی کے لیے پیش کرنے کا حکم دیا گیا تھا۔
اس طرح مستندعلما نے وضاحت کی ہے کہ اگر چند مخصوص حالات میں چاروناچار کسی کو جسمانی قربانی کے لیے پیش کرنا ہوتا، تو اس کے لیے ضروری تھا کہ وہ اپنے باپ کا پہلونٹا بیٹا یاپہلونٹا جانور ہو۔ دوسری صورت میں، ایک عمومی قانون کے طور پر، یہ ضروری تھا کہ کسی باپ کے پہلونٹے بیٹے یا پہلونٹے جانور کا فدیہ دے کر اُس کو چھڑا لیا جائے۔ مندرجہ بالا اقتباسات کے علاوہ بھی ایسے متعدد علما ہیں جو یہی راے رکھتے ہیں۔ اُن میں سے چند ایک کے نام ہیں: پیک (Peake )کی تفسیر بائبل۱۰؂، نیو جیروسیلم بائبل۱۱؂، کرسچین کمیونٹی بائبل۱۲؂۔
جہاں تک اس حقیقت کا تعلق ہے کہ حضرت اسماعیل علیہ السلام مسلمہ طور پر حضرت ابراہیم علیہ السلام کے پہلونٹے فرزند ہیں، اس سلسلے میں بائبل اور دیگر متعلقہ ریکارڈ میں اس قدر واضح اور غیر مبہم الفاظ موجود ہیں کہ اس کے حق میں استدلال کرتے وقت انسان خفت محسوس کرتا ہے، لیکن انتہائی افسوس کی بات ہے کہ بائبل کے کچھ فاضل علما ایسی واضح حقیقت سے انکار کرنے اور اسے مسخ کرنے میں بھی کوئی عار محسوس نہیں کرتے، اس لیے ذیل میں اس موضوع پر نہایت اختصار سے روشنی ڈالی جاتی ہے۔

 

حضرت اسحاق علیہ السلام بطور فرزندِ حضرت ابراہیم علیہ السلام

بائبل میں درج ہے:

تب خدا نے فرمایا: ’بیشک تیری بیوی سارہ کے تجھ سے بیٹا ہوگا۔ تو اس کا نام اضحاق رکھنا‘۔۱۳؂
اور جب اُس کا بیٹا اضحاؔ ق اس سے پیدا ہوا تو ابرہاؔ م سَو برس کا تھا۔۱۴؂

 

حضرت اسماعیل علیہ السلام بطور فرزندِ حضرت ابراہیم علیہ السلام

بائبل میں درج ہے:

اور ابراؔ م سے ہاجرہؔ کے ایک بیٹا ہوا اور ابراؔ م نے اپنے اس بیٹے کانام جو ہاجرہؔ سے پیدا ہوا، اسماعیلؔ رکھا(۱۵)۔ اور جب ابراؔ م سے ہاجرہؔ کے اسماعیل پیدا ہوا تب ابرامؔ چھیاسی برس کا تھا۔۱۵؂
تب ابرہاؔ م نے اپنے بیٹے اسماعیلؔ کو اور سب خانہ زادوں اور اپنے سب زرخریدوں کو یعنی اپنے گھر کے سب مردوں کو لیا اور اسی روز خدا کے حکم کے مطابق ان کاختنہ کیا۔۱۶؂
لیکن لونڈی کا بیٹابھی تمھارا بیٹا ہے اور میں اس کی نسل کو عظیم قوم بناؤں گا۔ ۱۷؂
میں لونڈی کے بیٹے کو بھی بہت سے بچے عطا کروں گا، تاکہ وہ ایک قوم بن جائیں۔ وہ بھی تمھارا بیٹا ہے۔۱۸؂

اس آیت کا ترجمہ اردو کتاب مقدس نظر ثانی شدہ ایڈیشن ۲۰۰۲ء میں درج ذیل ہے:

اور اس لونڈی کے بیٹے سے بھی میں ایک قوم پیدا کروں گا، اس لیے کہ وہ تیری نسل ہے۔ (پیدایش ۲۱: ۱۳)

اس طرح یہ بات پوری طرح واضح ہو جاتی ہے کہ بائبل کے مطابق حضرت اسماعیل علیہ السلام اور حضرت اسحاق علیہ السلام ،دونوں حضرت ابراہیم علیہ السلام کے یکساں طور پر حقیقی، جائز اور قانونی فرزند تھے۔ اگر کوئی شخص یہ دعویٰ کرے کہ حضرت اسماعیل علیہ السلام حضرت ابراہیم علیہ السلام کے فرزند نہ تھے یا چونکہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے انھیں جدا کردیا تھا، اس لیے وہ ان کے فرزند نہ رہے تھے تو یہ بات حقائق کے بھی خلاف ہے اور اس کی کوئی وجہِ جواز بھی پیش نہیں کی جا سکتی۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو بتلا دیا تھا کہ اگر حضرت اسماعیل علیہ السلام کو کسی اور جگہ آباد کر بھی دیا جائے، تب بھی وہ ان کے فرزند رہیں گے۔ حضرت اسماعیل علیہ السلام اس وقت پیدا ہوئے جب حضرت ابراہیم علیہ السلام چھیاسی سال کے تھے اور حضرت اسحاق علیہ السلام اس وقت پیدا ہوئے جب حضرت ابراہیم علیہ السلام سو برس کے تھے۔ اس طرح صرف حضرت اسماعیل علیہ السلام ہی حضرت ابراہیم علیہ السلام کے ’پہلونٹے بیٹے‘ قرار پاتے ہیں۔ حضرت ابراہیمعلیہ السلام کے ’پہلونٹے بیٹے‘ ہونے کا استحقاقِ فضیلت حضرت اسماعیل علیہ السلام کا ناقابل تنسیخ اور ناقابل تبدیل حق تھا۔ اور کوئی شخص انھیں ان کے اس حق سے محروم نہیں کر سکتا تھا۔ حضرت اسحاق علیہ السلام حضرت ابراہیم علیہ السلام کے دوسرے بیٹے تھے۔ اُنھیں ان کی زندگی کے کسی مرحلے پر بھی اور الفاظ کے کسی مفہوم کے مطابق بھی اپنے والد حضرت ابراہیم علیہ السلام کا پہلونٹا بیٹا نہیں قرار دیا جاسکتا تھا۔ مزید یہ کہ یہ حضرت اسماعیل علیہ السلام ہی تھے جن کو قریباً چودہ سال تک حضرت ابراہیم علیہ السلام کے بلاشرکتِ غیرے’ اکلوتے بیٹے‘ کی حیثیت حاصل رہی، جبکہ حضرت اسحاق علیہ السلام کو اپنی پوری زندگی میں ایک لمحے کے لیے بھی یہ حیثیت حاصل نہیں رہی کہ انھیں حضرت ابراہیم علیہ السلام کا ’اکلوتا بیٹا‘ قرار دیا جاسکے۔وہ بیٹا جس کے متعلق قربانی کے طور پر پیش کیے جانے کا حکم دیا گیا تھا، اس کے لیے لازم تھا کہ وہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کا اکلوتا بیٹا ہو۔ نیز یہ کہ وہ ان کا پہلونٹا بیٹا بھی ہو۔ اگر اس حکم سے اللہ تعالیٰ کا منشا یہ ہوتا کہ قربانی کے لیے ’اکلوتا وارث‘ یا ’حضرتِ سارہ کا اکلوتا بیٹا‘ پیش کیا جائے، جیسا کہ بائبل کے بعض علما نے اللہ تعالیٰ کے الفاظ سے یہ مفہوم اخذ کرنے کی کوشش کی ہے، تو اللہ تعالیٰ اس کے لیے واضح اور دو ٹوک الفاظ استعمال کرتا۔ اسے حضرتِ ابراہیم کو ’تیرا بیٹا، تیرا اکلوتا بیٹا‘ قربانی کے لیے پیش کرنے کا حکم دے کر مخمصے میں ڈالنے کی کیا ضرورت تھی۔ کوئی شخص یہ نہیں کہہ سکتا کہ ان الفاظ سے کسی طرح بھی یہ متبادر ہوتا ہے کہ جس فرزند کو قربانی کے لیے پیش کرنے کا حکم دیا گیا تھا، وہ حضرت اسحاق علیہ السلام ہیں۔ حضرت اسحاق علیہ السلام اپنی پیدایش کے وقت یا اپنی زندگی کے کسی بھی مرحلے میں نہ تو حضرت ابراہیم علیہ السلام کے’ اکلوتے بیٹے‘ تھے اور نہ ان کے پہلونٹے بیٹے تھے۔ جب تک حضرت ابراہیم علیہ السلام زندہ رہے، حضرت اسحاق علیہ السلام ان کے ’اکلوتے بیٹے‘ نہ ہو سکتے تھے، کیونکہ ان کے آخری سانس تک حضرت اسماعیل علیہ السلام بھی زندہ موجود رہے۔ اب یہ قاری کا کام ہے کہ وہ حقیقتِ حال کا ادراک کرے۔
’پہلونٹے بیٹے‘ کے استحقاقِ خصوصی کے متعلق مندرجہ بالا تفصیلات کی روشنی میں جو نتائج برآمد ہوتے ہیں، وہ مندرجہ ذیل ہیں:

۱۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے زمانے میں ان کے پڑوسی کنعانیوں میں انسانی قربانی کا رواج عام تھا۔ کتابِ خروج ۲۲:۲۹ میں بھی درج ہے کہ پہلونٹا بیٹا خداوند کی نذر کیا جانا چاہیے۔
۲۔ نہ صرف پہلے پہلے پھل اور جانوروں کے پہلونٹے بچے نذرانے کے طور پر پیش کیے جاتے تھے، بلکہ (استثنائی حالات میں)جب کسی انسانی قربانی کی ضرورت ہوتی تو ’پہلونٹے بیٹے‘ ہی کو ترجیح دی جاتی (۲۔ سلاطین ۳: ۲۷)۔
۳۔ ’پہلونٹے نر بیٹے‘ کو کچھ ایسے خصوصی استحقاق حاصل تھے جن سے اسے کسی صورت میں محروم نہیں کیا جا سکتا تھا۔
۴۔ سیو ڈی پی گرافا کی ایک اہم کتاب ’کتابِ جوبلیز‘ میں خداوند کا یہ فرمان درج ہے: ’کیونکہ اب میں نے ظاہر کر دیا ہے کہ تو خداوند سے ڈرتا ہے اور تو نے اپنے بیٹے، ’پہلونٹے بیٹے‘ کو بھی مجھ سے بچا کر نہیں رکھا‘۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ بیٹا جو قربانی کے لیے پیش کیا گیا تھا، وہ نہ صرف بائبل کے مطابق، بلکہ تمام دستیاب ریکارڈ کے مطابق، حضرت ابراہیم علیہ السلام کا پہلونٹا بیٹا تھا۔
۵۔ یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ حضرت اسماعیل علیہ السلام اور حضرت اسحاق علیہ السلام دونوں حضرت ابراہیم علیہ السلام کے حقیقی اور جائز بیٹے ہیں،اگرچہ (حضرت قطورہ کے بطن سے) ان کے چند اور بیٹے بھی تھے۔
۶۔ کسی شخص کے صرف ایک ہی بیٹے کو اس کا ’پہلونٹا بیٹا‘ کہا جاسکتا ہے۔اس طرح حضرت اسماعیل علیہ السلام ہی حضرت ابراہیم علیہ السلام کے ’پہلونٹے بیٹے‘ تھے، جو حضرت اسحاق علیہ السلام کی پیدایش سے قریباً چودہ سال پہلے پیدا ہوئے تھے۔
۷۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے ’پہلونٹے بیٹے‘ ہونے کے ساتھ ساتھ حضرت اسماعیل علیہ السلام قریباً چودہ سال تک ان کے’ اکلوتے بیٹے‘ بھی رہے، جبکہ حضرت اسحاق علیہ السلام کو یہ فضیلت اپنی زندگی کے کسی دور میں بھی حاصل نہیں رہی۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ حضرت اسحاق علیہ السلام اپنی زندگی کے کسی مرحلے میں بھی حضرت ابراہیم علیہ السلام کے ’اکلوتے بیٹے‘ یا ’پہلونٹے بیٹے‘ نہیں کہلا سکتے تھے۔
۸۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو اپنا ’اکلوتا بیٹا‘ قربانی کے لیے پیش کرنے کا حکم دیا تھا۔ مزید برآں مُرَوَّجہ دستور کے مطابق اسے ’پہلونٹا بیٹا‘ بھی ہونا چاہیے تھا۔ اس لحاظ سے فطری طور پر حضرت اسماعیل علیہ السلام ہی کو قربانی کے لیے پیش کرنے کی خاطر نامزد کیا جا سکتا تھا۔ حضرت اسحاق علیہ السلام ان میں سے ایک شرط بھی پوری نہ کرتے تھے، اس لیے صرف یہ حضرت اسماعیل علیہ السلام ہی ہو سکتے تھے جن کو قربانی کے لیے پیش کرنا مقصود تھا۔ اور یہ کسی طرح بھی حضرت اسحاق علیہ السلام نہیں ہو سکتے تھے۔
۹۔ مندرجہ بالا گفتگو سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ قربانی کو زیادہ شان دار اور وقیع بنانے کے لیے اور حضرت ابراہیم علیہ السلام کی حقیقی معنوں میں وفاداری ثابت کرنے کے لیے ان کا ’پہلونٹا اور اکلوتا بیٹا‘ ہی وہ ہستی ہو سکتا تھا جس کے متعلق اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو یہ حکم دیا تھا کہ اسے قربانی کے طور پر پیش کیا جائے۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام بہت بوڑھے ہو چکے تھے۔ ان کی بیوی سارہ بھی بوڑھی ہو چکی تھیں۔ وہ سنِ یاس سے گزر چکی تھیں اور فطری طور پر کوئی اولاد پیدا کرنے کے قابل نہ رہی تھیں۔ اس طرح حضرت ابراہیم علیہ السلام اب کسی مزید اولاد کی توقع نہ کر سکتے تھے۔ ان کا صرف ایک ہی بیٹا تھا، جو اَب معقول عمر کو پہنچ چکا تھا، تاکہ ان کے کاموں میں ہاتھ بٹا سکے۔ زندگی کے اس مرحلے میں انھیں اس بیٹے کی ضرورت بھی بہت تھی جس بیٹے کی قربانی درکار تھی۔ اگر وہ دو بیٹوں میں سے ایک ہوتا اور وہ بھی ان کا چھوٹا بیٹا ’اسحاق ‘ جو کم مفید ، کم طاقت ور، کم صلاحیت اور ان کے لیے کم مددگار ہوتا تو یہ آزمایش اتنی شدید، معنی خیز اور کامل نہ ہوتی، جتنی کہ اس حال میں ہوتی، جبکہ قربانی کے لیے مطلوب بیٹا پہلونٹا اور اکلوتا ہوتا۔
۱۰۔ ایسی صورت حال میں جہاں اللہ تعالیٰ حضرت ابراہیم علیہ السلام کو ان کا ’پہلونٹا اور اکلوتا بیٹا‘ قربان کرنے کی آزمایش میں ڈال رہا ہے، اور وہ بھی ان کی زندگی کے اس دورِ ضعیفی میں، اسے بیٹے کا نام لینے کی کوئی ضرورت نہ تھی، کیونکہ ’تیرا بیٹا، تیرا اکلوتا بیٹا ‘کے الفاظ اتنے واضح ہیں کہ ان کے لیے مزید کسی توضیح یا اضافہ کی ضرورت نہیں۔ اگر یہاں ’اسحاق ہی‘ کے الفاظ داخل کیے جائیں تو فرمان کی تاثیر اور شان ختم ہو جاتی ہے۔ اکلوتے بیٹے کے نام کا ذکر ایک فضول اضافہ ہے اور ایک فصیح و بلیغ ذہین اور مسحور کن خطیب سے اس کی توقع نہیں کی جاسکتی۔ یہ تحریف کی ایک بھونڈی مثال ہے جو کسی پر جوش، مگر ناپختہ کار اور جانب دار مؤلّف نے کی ہے۔ جس سے اس کے مجرم ضمیر اورغیر پاکیزہ محرکات کی نشاندہی ہوتی ہے۔

________

 

 

حواشی باب سِوُم

1. Charles Gore, Goudge, Alfred Guillaume, A New Commentary, on Holy Scripture, London, 1928, p. 53.

۲؂ کتابِ مقدس میں درج ہے:

تواپنی کثیر پیدا وار اور اپنے کولھو کے رس میں سے مجھے نذر ونیاز دینے میں دیر نہ کرنا اور اپنے بیٹوں میں سے پہلوٹھے کو مجھے دینا ۔ اپنی گایوں اور بھیڑوں میں سے بھی ایسا ہی کرنا۔ سات دن تک تو بچہ اپنی ماں کے ساتھ رہے۔ آٹھویں دن تُو اُسے مجھ کو دینا ۔( خروج۲۲: ۲۹)

پیک کی(Peake\'s) تفسیرِ بائبل میں صفحہ ۲۲۱ پر وضاحت کی گئی ہے:

Every first-born is the property of Yahweh. (133). It [set apart] is the word used also for sacrificing children to Molech. Since the Canaanite practice, resorted to on occasion certainly, was abhorent to Israel, it is unlikely that the term was borrowed from them. (133). Though in Israel the first-born were to be set apart to Yahweh as his, they were not to be given to him by sacrifice, but they were to be \'ransomed\' from him, a term which could suggest that they were sacrificed in theory, though not in actual fact. (133). The price of the redemption of the first-born of human beings, which is not stated here, was later fixed at 5 shekels, Num. 18:15f.

ہر پہلونٹا اللہ تعالیٰ کی ملکیت ہے۔ (...)۔ یہ [الگ کرنا] ،وہ لفظ ہے جو بچوں کو مولیخ (ایک عمونی دیوتا، جس کے لیے بچے بھینٹ چڑھائے جاتے تھے اورجسے شریعتِ موسوی میں حرام کیا گیا تھا) پر قربان کرنے کے لیے بھی استعمال ہوتا تھا، کیونکہ یہ کعنانی رسم، جو یقینی طور پر بعض مواقع پر اختیار کی جاتی تھی، بنی اسرائیل کے لیے قابلِ نفرت تھی، یہ بات بعید از قیاس ہے کہ یہ اصطلاح اُن سے لی گئی ہو۔ (...)۔ اگر چہ بنی اسرائیل نے پہلونٹے بیٹے اللہ تعالیٰ کے لیے الگ کر دینے ہوتے تھے، تاہم اِنھیں قربانی کے ذریعے سے اِسے پیش نہیں کیا جانا ہوتا تھا، بلکہ انھیں اُسے(اللہ تعالیٰ کو) فدیہ دے کر چھڑا لیا جاتا تھا۔ لفظِ فدیہ اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ انھیں نظریاتی طور پر تو قربان کر دیا جاتا تھا، تاہم امر واقعہ میں نہیں۔(...)۔انسانوں کے پہلونٹے بیٹوں کے فدیے کی قیمت، جو یہاں تو بیان نہیں کی گئی ہے، بعد میں پانچ شیکل مقرر کی گئی تھی، جیسا کہ بائبل کی کتاب گنتی۱۸: ۱۵ وبعدمیں درج ہے:

اُن جانداروں میں سے جن کو وہ خدا وند کے حضور گذرانتے ہیں جتنے پہلوٹھی کے بچے ہیں Everything] that first opens the womb of all flesh [ خواہ وہ انسان کے ہوں خواہ حیوان کے وہ سب تیرے [لاویوں کے] ہوں گے پر انسان کے پہلوٹھوں کے فدیہ لے کر اُن کو ضرور چھوڑ دینا اور ناپاک جانوروں کے پہلوٹھے بھی فدیہ سے چھوڑ دیے جائیں۔ اور جن کا فدیہ دیا جائے وہ جب ایک مہینے کے ہوں تواُن کو اپنی ٹھہرائی ہوئی قیمت کے مطابق مَقدِس کی مثقال کے حساب سے جو چوبیس جیرے کی ہوتی ہے چاندی کی پانچ مثقال لے کر چھوڑ دینا۔

’جیوئش انسائیکلوپیڈیا‘ (۵:۳۹۶) میں اس کی وضاحت اس طرح کی گئی ہے:

According to Talmudic tradition, the first-born acted as officiating priests in the wilderness, until the erection of the Tabernacle, when the office was given to the tribe of Levi. In consequence of the deliverance from the tenth plague, when 'the Lord slew all the first-born in the land of Egypt\' but spared the first-born of the Israelites, the following commandment was given: 'Sanctify unto me all the first-born whatsoever openeth the womb among the children of Israel, both of man and of beast: it is mine'. The first-born of clean beasts were thus made holy and were unredeemable, while the first-born of unclean beasts and of man had to be redeemed from the priests. (133.).
Every Israelite is obliged to redeem his son thirty days after the latter\'s birth. The mother is exempt from this obligation. The son, if the father fails to redeem him, has to redeem himself when he grows up. The sum of redemption as given in the Bible (Num. 18:16) is five shekels, which should be given to the priest.

تالمودی روایت کے مطابق جب منصبِ کہانت قبیلہ لاوی کو سونپا گیا تو خیمۂ اجتماع کی تعمیر سے قبل تک صحرا میں پہلونٹے بیٹے کاہن کی جگہ کام کرتے تھے۔ دسویں وبا سے رہائی کے وطیرے میں جب خداوند نے سرزمینِ مصر کے تمام پہلونٹوں کو مار دیا، اور بنی اسرائیل کے اکلوتے بیٹوں کو باقی رہنے دیا تو مندرجہ ذیل فرمان جاری کیا گیا: ’تمام پہلونٹے، جو بھی اولادِ اسرائیل میں پہلے پیدا ہوں، خواہ وہ انسان ہوں یا جانور،انھیں مقدس قرار دو، وہ میرے ہیں‘۔اس طرح حلال جانوروں کے پہلونٹے بچے مقدس قرار دیے گئے اور انھیں فدیہ دے کر نہیں چھڑا یاجا سکتا تھا، جبکہ حرام جانوروں اور انسانوں کے پہلونٹے بچوں کا فدیہ دے کر انھیں کاہنوں سے چھڑا لیا جانا ہوتا تھا۔(....)۔
ہر اسرائیلی اپنے بیٹے کی پیدایش کے تیس دن بعد فدیہ دے کر چھڑانے کا پابند ہے۔ ماں اس فریضے سے بری الذمہ ہے۔اگر باپ بیٹے کو فدیہ دے کر نہ چھڑا سکے تو بیٹے کو بڑا ہونے پر اپنا فدیہ خود ادا کرکے اپنے آپ کو چھڑانا ہو گا۔ فدیے کی رقم، جیسا کہ بائبل میں درج ہے(گنتی ۱۸: ۱۶)، پانچ شیکل ہے، جو کاہن کو دی جانی چاہیے۔

یہاں یہ بات پیشِ نظر رہنی چاہیے کہ پہلونٹے بیٹے کے فدیے سے متعلق یہ قانون خروج سے بعد کے زمانے کے اسرائیلیوں سے تعلق رکھتا ہے۔اس کا اطلاق حضرتِ ابراہیم علیہ السلام اوراُن کے پہلونٹے بیٹے پر نہیں ہو سکتا۔

3. Enc. Biblica, 3:2177.
4. Marcus Dods, The Expositor\'s B., NY, 1903, 1:199-200.
5. Enc. Biblica, 3:1525-26.

۶؂ کتابِ مقدس، استثنا ۲۱: ۱۵ ۔۱۷۔

7. The Interpreter 's Dic. of the Bible, 2:1002-03.
8. The Book of the Jubilees, 18:11, in The Apocrypha and Pseudepigrapha of the OT in Eng, Ed. R. H. Charles, (Oxford: The Clarendon Press, 1968), 2:40.
9. The Book of the Jubilees, 18:15, p. 40.

۱۰؂ پیک کی تفسیرِ بائبل میں بیان ہے:

The story may also have been intended to explain the early Hebrew custom of ransoming the firstborn of male children (cf. Exod. 34:20).)Peake\'s Com. of Bible, ed. H. H. Rowley, (London: Thomas Nelson & Sons Ltd, 1967), p. 193(

اس کہانی کا یہ مطلب بھی ہو سکتا ہے کہ نر بچوں میں سے پہلونٹے بچے کا فدیہ دینے کی قدیم عبرانی رسم کی توضیح کی جائے۔

۱۱؂ نیو جیرو سلم بائبل میں درج ہے:

The story as it stands justifies the ritual prescription for the redemption of the first-born of Israel: like all \'first-fruits\' these belong to God. (The New Jerusalim Bible, ed Alexander Jones, Darton, (London: Longman & Todd Ltd., 1993), p, 41)

اپنی موجودہ صورت میں یہ کہانی اس رسم کی وجہ جواز پیش کرتی ہے کہ اسرائیل کے پہلونٹے بچوں کو فدیہ دے کر رہا کرایا جائے،جس طرح تمام ’پہلے پھل‘ خداوند کی خدمت میں پیش کیے جاتے تھے۔

۱۲؂ کرسچین کمیونٹی بائبل میں وضاحت ہے:

In a first reading the text also justifies the ransom of the firstborn children. As for all first-fruits they belong to God; but unlike the firstborn of animals which are immolated, children are redeemed (Ex 13:13). (Christian Community Bible, ed. Patricia Grogan, Catholic Bishops' Conference of the Philippines, 1995, p. 73)

اولین قراء ت میں متن پہلونٹے بچوں کے فدیے کی توجیہ بیان کرتا ہے۔ جہاں تک تمام پہلے پہلے پھلوں کا تعلق ہے، وہ خداوند کی ملکیت ہیں، لیکن جانوروں کے پہلونٹے بچوں کے برعکس جنھیں قربان کرکے جلا دیا جاتا ہے، انسانی بچوں کو فدیہ دے کر چھڑا لیاجاتا ہے۔(خروج۱۳: ۱۳)

۱۳؂ کتابِ مقدس، پیدایش۱۷: ۱۹۔
۱۴؂ کتابِ مقدس، پیدایش۲۱: ۵۔
۱۵؂ کتابِ مقدس، پیدایش۱۶: ۱۵ ۔۱۶۔
۱۶؂ کتابِ مقدس، پیدایش۱۷: ۲۳۔
۱۷؂ کتابِ مقدس، پیدایش۲۱: ۱۳۔
۱۸؂ کتابِ مقدس، پیدایش۲۱: ۱۳۔

____________