بیسواں باب 

اس کتاب کے دوسرے باب میں ہمیں یہ معلوم ہوا تھا کہ ترقی کرنے اور باوقار زندگی گزارنے کے لیے قومی سطح پر چار چیزیں لازم ہیں۔ وہ ہیں، تعلیم سب کے لیے، جمہوری کلچر، انصاف، اور صبروحکمت۔ اسی طرح اس کتاب کیسترہویں باب میں یہ تجزیہ کیا گیا تھا کہ امت مسلمہ کی نشاۃ ثانیہ کے لیے بھی یہی چار چیزیں ضروری ہیں۔ اس باب میں تعلیم کے ضمن میں خصوصی طور پر سائنس اور ٹیکنالوجی کی تعلیم پر زور دیا گیا تھا۔
اس کے بعداٹھارویں باب میں یہ بتایا گیا تھاکہ درج بالا چاروں چیزیں پاکستان کے لیے بھی انتہائی ضروری ہیں۔ اور اس کے ساتھ ساتھ پاکستان کے لیے خصوصی ایجنڈا یہ ہے کہ افغانستان اور مسئلہ کشمیر کا حقیقت پسندانہ حل تلاش کیا جائے اور اُس پر عمل درآمد بھی کیا جائے۔ خصوصی ایجنڈے کا دوسرا نکتہ یہ ہے کہ پاکستان کے سب صوبوں کو مکمل صوبائی خودمختاری دی جائے۔ 
پھرانیسویں باب میں یہ بتایا گیا تھا کہ یہ ہر فرد کی بھی ذمہ داری ہے کہ وہ یہ دیکھے کہ کیا وہ روزانہ کسی نہ کسی انسان کی کوئی مدد کررہا ہے یا نہیں۔ کیا اُس کے ہاتھ سے کسی کو نقصان تو نہیں پہنچ رہا؟اُسے اپنی زند گی میں تحمل، برداشت، بے تعصبی، قانون پسندی اور عدمِ تشدد سے کام لینا چاہیے۔اُسے غربت اور جہالت کے خلاف عملی جدوجہد کرنی چاہئے۔اور اﷲکے بندوں کے حقوق کا خیال رکھنا چاہئے۔
گویا ہمیں چاہیے کہ اپنے ہاں جمہوریت لائیں، سائنس اور ٹیکنالوجی کو حاصل کریں، انصاف ہماری قومی زندگی میں رچ بس جائے، ہم بین الاقوامی مسائل کو خالصتاً پُرامن طریقے سے حل کرنے کا تہیہ کرلیں، جذباتیت سے مکمل پرہیز کرکے اپنے وطن کی تعمیر کریں اور اجتماعی اخلاقیات کو اپنے اندر راسخ کریں، غربت اور جہالت کے خلاف عملی جدوجہد کریں اور اﷲ کے بندوں کے حقوق کا خیال کریں ۔
جب بھی مسلمانوں نے درج بالا لائحہ عمل اختیار کرلیا تو انشاء اللہ پچاس برس کے اندر اندر اُن کی حالت بدل جائے گی۔ پھر دنیا کے اندر ایک نئی مساوات جنم لے گی۔ مسلمان ممالک صفِ اول میں آجائیں گے اور دنیا مجبور ہوگی کہ ہم سے ہماری جائز اور منصفانہ شرائط پر معاملہ کرے۔