پہلی بحث


اہل پاکستان کی حیثیت


کتاب کے اس حصہ میں ہم پاکستانی قوم کے حالات اور تاریخ کا تفصیلی جائزہ لیں گے اور آخر میں عروج وزوال کے ضابطوں کا اس پر اطلاق کرتے ہوئے اصلاح احوال کا ایک لائحۂ عمل تجویز کریں گے۔ اس عمل میں ہمیں نہ صرف عام اقوام کے بارے میں بیان کیے گئے پہلے باب کے مباحث کو ذہن میں رکھنا ہوگا، بلکہ اس حقیقت کو بھی پیش نظر رکھنا ہوگا کہ پاکستانی قوم ایک معاہد قوم ہے جس نے خدا کے ساتھ باقاعدہ ایک عہد باندھ کر اپنا وجود حاصل کیا ہے۔وہ عہد یہ تھا کہ اگر اللہ تعالیٰ ہمیں ایک خود مختار خطۂ زمین دے تو ہم دنیا کے سامنے ایک حقیقی اسلامی معاشرے کا نقشہ پیش کرکے دکھائیں گے۔ہم پچھلے باب میں یہ واضح کرچکے ہیں کہ جب اللہ تعالیٰ کچھ لوگوں کو مسلمان پیدا کرتا ہے تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ خدا کے محبوب ہیں، بلکہ اس سے مقصود یہ ہے کہ ان کے ذریعے ایک خدا پرستانہ معاشرہ لوگوں کے سامنے قائم رہے۔اہل پاکستان دوسرے مسلمانوں کی طرح اس ذمہ داری کو پورا کرنے کے پابند ہیں ، مگر انھوں نے ایک عام اسلامی ذمہ داری کو عہد کی شکل دے کر اپنے معاملے کو خاص کرلیا ہے۔ کوئی فرد یا طبقہ ہمارے اس مقدمے کو اگر نہیں مانتا تب بھی وہ اپنے مسلمان ہونے کا منکر تو نہیں ہوسکتا۔ اسلام کے اس اقرار کے بعد خداپرستانہ معاشرہ قائم کرنابہرحال مسلمانوں کی اجتماعی ذمہ داری ہے۔البتہ ہمارے نزدیک یہ بات بالکل واضح ہے کہ ’’پاکستان کا مطلب کیا ، لا الٰہ الاّ اللہ ‘‘ کا نعرہ لگا کرجو ملک حاصل کیا گیا ، اس کے باسیوں کے لیے توحید و شریعت سے بے وفائی کا نتیجہ تباہی کے سوا کچھ نہیں نکلے گا۔

____________