دوسری بحث


ہمارے قومی امراض
ہمارے نزدیک پاکستانی قوم کی تعمیر نو ایک عظیم کام ہے جسے بہ یک وقت کئی سطحوں پرکرنے کی ضرورت ہے،تاہم اس کا نقطۂ آغاز ان مسائل کی ٹھیک ٹھیک نشان دہی ہے جو قوم کے عروج و زوال کا باعث ہوسکتے ہیں۔اس معاملے میں اگر غلطی ہوجائے تو بڑے سے بڑا عمل کوئی مثبت نتیجہ نہیں پیدا کرسکتا۔ہمارے نزدیک ہم بحیثیت قوم زندگی کے جس مرحلے پر ہیں، اس میں تعمیری عناصر اتنے زیادہ ہوتے ہیں کہ کرنے کا اصل کام صرف قومی مزاج کی اصلاح ہوتا ہے۔ جب قومی مزاج بیماریوں کا شکار ہوجاتا ہے تو ان عناصر کی توانائیاں مضمحل ہوجاتی ہیں یا منفی کاموں میں خرچ ہوتی ہیں۔اگر ان امراض کو دور کردیا جائے تو قومی تعمیر و ترقی کا کام کرنے والے لوگ خود بخود پیدا ہوتے چلے جاتے ہیں۔
ہم نے اب تک اس کتاب میں جو کچھ لکھا ہے ، اس کی بنیاد پر ہم قوم کے اجتماعی مزاج کو لگ جانے والے امراض کا ایک تجزیاتی جائزہ پیش کررہے ہیں،جن سے نجات حاصل کیے بغیر دنیا میں ہمارے عروج کا کوئی امکان نہیں۔ چاہے ان کا تعلق عام اقوام کو لگ جانے والے امراض سے ہو یا امت مسلمہ کو لاحق ہونے والے امراض سے ۔ہمارے نزدیک چار بنیادی بیماریاں ہیں جن کے خلاف ہمیں جنگ کرنی ہوگی۔ ان کی تفصیل کچھ اس طرح ہے۔

____________