چھٹا باب 

سوائے ایک بہت مختصر عرصے کے، پاکستانی عوام کبھی بھی اپنی قسمت کے مالک نہیں بن سکے۔ پاکستان کو جو پارلیمنٹ ورثے میں ملی، اُس کا انتخاب درحقیقت دسمبر1945ء میں ہوا تھا۔ یہ انتخاب اس مقصد کے لیے کیا گیا تھا کہ کیا برصغیر کو دو حصوں میں تقسیم کیا جائے یا نہیں۔ ظاہر ہے کہ برصغیر کی تقسیم کے بعد ایک نئی صورت حال نے جنم لے لیا تھا، اس لیے یہ مناسب ہوتا کہ قیام پاکستان کے کچھ عرصے بعد نیا انتخاب کروادیا جاتا۔تاہم اس کے جواب میں کہا جاسکتا ہے کہ اُس وقت پاکستان ایک ایسی دگرگوں حالت سے گزر رہا تھا کہ نئے انتخابات کا انعقاد ممکن نہ تھا۔ اس پارلیمنٹ کو انگریزوں کا بنایا ہوا 1935ء کا عبوری آئین ورثے میں ملا تھا۔ کسی بھی نئی مملکت کی پارلیمنٹ کا پہلا قدم یہ ہوتا ہے کہ وہ ملک کے لیے جلد از جلد آئین کی تشکیل کرے۔ عموماً یوں بھی ہوتا ہے کہ چند مہینوں کے اندر اندر ایک عبوری آئین بنا دیا جاتا ہے اور اگلے سال ڈیڑھ سال کے اندر مستقل آئین کو تشکیل دے دیا جاتا ہے۔ مگر یہاں ایسا نہ ہوسکا۔ قیام پاکستان کے ابتدائی چند مہینوں میں بھی گورنر جنرل کو حاصل خصوصی اختیارات کو استعمال کرتے ہوئے1935ء کے عبوری آئین کے ڈھانچے کے اندر چار بڑی تبدیلیاں عمل میں لائی گئیں۔ ان تبدیلیوں کے ذریعے صوبوں کو حاصل سارے اختیارات مرکز کے حوالے کردیے گئے اور یوں ابتدا ہی سے جمہوری کلچر پر ایک کاری ضرب لگائی گئی۔ صرف یہی نہیں بلکہ چار صوبوں یعنی بنگال، پنجاب، سرحد اور بلوچستان میں انگریز گورنر مقرر کیے گئے اور صرف سندھ میں ایک پاکستانی کو یعنی سرغلام حسین ہدایت اللہ کو گورنر مقرر کیا گیا۔ اسی طرح بری، بحری اور فضائی افواج کے سربراہ انگریز ہی مقرر کیے گئے۔ یہ بڑی حیرت کی بات ہے کہ کیا ان عہدوں کے لیے کوئی بھی پاکستانی موجود نہیں تھا۔ 
بدقسمتی سے پاکستان کی ابتداسیاسی آویزشوں سے ہوئی۔ ہر جگہ انتہائی سخت نظریاتی اختلافات تھے۔ ساتھ ہی ساتھ جاگیرداروں اور بیوروکریٹس نے اقتدار میں اپنا حصہ یقینی بنانے کے لیے ہاتھ پاؤں مارنے شروع کیے۔ یہی وجہ ہے کہ آئین سازی کی طرف کسی نے زیادہ توجہ ہی نہیں دی۔ آئین سازی کے ضمن میں سب سے اہم پیش رفت1949ء میں ایک قرار داد کی شکل میں ہوئی جسے ’’قراردادِ مقاصد‘‘ کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ گویا قیام پاکستان کے ڈیڑھ برس بعد صرف چند اصولوں پر ہی اتفاق ہوسکا۔ اس کے مزید ڈیڑھ سال بعد یعنی ستمبر1950ء میں آئین سازی کے لیے کچھ تجاویز اسمبلی کے سامنے رکھی گئیں۔ یہ تجاویز انتہائی غیر اطمینان بخش تھیں۔ قائداعظم قیام پاکستان کے چند مہینے بعد ہی بہت بیمار ہوگئے تھے اور گیارہ ستمبر1948ء میں قوم کو داغِ مفارقت دے گئے۔تاہم لیاقت علی خان بھی اپنے ساڑھے چار سالہ دور اقتدار میں مستقبل کے آئین کے لیے بنیادی ڈھانچہ بھی فراہم نہ کرسکے۔ دسمبر1952ء میں وزیراعظم خواجہ ناظم الدین نے آئین سازی کے حوالے سے کچھ اہم تجاویز پیش کی، تاہم یہ تجاویز بھی بہت غیر اطمینان بخش تھیں۔ اکتوبر1953ء میں وزیراعظم محمد علی بوگرا نے اسمبلی میں اپنا آئینی فارمولا پیش کیا۔ اس آئینی مسودے پر کام جاری تھا کہ اکتوبر1954ء میں گورنر جنرل غلام محمد نے اپنے وقتی سیاسی اغراض کی وجہ سے اسمبلی کو توڑ دیا۔ 
دوسری آئین ساز اسمبلی کو عام انتخاب کے ذریعے نہیں، بلکہ صوبائی اسمبلیوں کے اراکین کے ذریعے منتخب کیا گیا۔ ایسا اس لیے کیا گیا تاکہ اسٹیبلشمنٹ اپنی مرضی کے نتائج حاصل کرسکے۔ 
مارچ 1956ء میں وزیراعظم چودہری محمد علی کا پیش کردہ مسودہ آئین اسمبلی نے منظور کردیا اور گورنر جنرل نے اُس کی توثیق کردی۔ 
قائداعظم کی وفات سے لے کر اکتوبر1958ء میں ایوب خان کے مارشل لاء کے اعلان تک، یہ پورا دس سالہ دور محلاتی سازشوں کا دور تھا۔ ایوانِ اقتدار میں اصولی سیاست نام کی کوئی چیز موجود نہیں تھی۔ جوڑ توڑ اپنے پورے عروج پر تھی۔ راتوں رات ارکان اسمبلی اپنی سیاسی وفاداریاں تبدیل کرتے اور نئی نئی پارٹیاں وجود میں آجاتیں۔ خود غرض سیاست دان اخلاقی دیوالیہ پن کی علامت بن گئے تھے۔ اکتوبر1954ء میں، جب محمد علی بوگرا وزیراعظم تھے، جنرل ایوب خان کو بھی کابینہ میں بطورِ دفاع شامل کرلیا گیا۔پاکستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ کسی کمانڈر انچیف کو کابینہ میں شامل کیا گیا اور اسی طرح سیاست میں فوج کے لیے راستہ ہموار کردیا گیا ۔گویا قیام پاکستان کے پہلے سات برس میں یہ ملک سیاست دانوں، جاگیرداروں اور بیوروکریٹس کے رحم وکرم پر رہا اور اس کے بعد اقتدار کے اس کھیل میں فوج کی اعلیٰ قیادت بھی شامل ہوگئی۔ طاقت کے کھیل کا ایک اصول یہ ہے کہ اس میں وہی غالب آتا ہے جو سب سے زیادہ طاقتور ہو۔ یہی طاقت کی منطق ہے۔ چنانچہ اکتوبر 1958ء میں ایوب خان نے مارشل لاء لگاکر اقتدار پر قبضہ کرلیا۔ 
اگر قیام پاکستان کے چند مہینوں کے اندر اندر نئے صوبائی اور قومی انتخابات عمل میں لائے جاتے اور پھر چار یا پانچ برس بعد باقاعدگی سے انتخاب ہوتے تو قوم پہلے دن سے ہی ایک صحیح راستے پر گامزن ہوجاتی۔ قوم کو جمہوری کلچر سے محروم رکھنے میں درج بالا چاروں طبقات کا پورا پورا حصہ ہے۔ 
ایوب خان نے ملک کو 1962ء کا ایک غیر جمہوری آئین دیا اور پھر دس برس بعد اس حال میں رخصت ہوا کہ اس نے اقتدار ایک اور مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر جنرل یحیےٰ خان کے حوالے کردیا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ایوب خان نے اقتدار سنبھالتے وقت اپنی پہلی تقریر میں ملکی صورت حال کی جو گھمبیر تصویر کھینچی، اقتدار سے رخصت ہوتے وقت اس نے اپنی آخری تقریر میں ملک کی صورت حال کی ویسی ہی گھمبیر تصویر پیش کی۔ 1965ء میں ایوب خان نے گوریلوں کی شکل میں پاکستانی فوج کو مقبوضہ کشمیر کے اندر کاروائیوں کے لیے بھیج دیا۔ ان گوریلوں کو بھارتی کشمیر کے عوام کی طرف سے کوئی مدد نہ مل سکی۔ الٹا بھارت نے پاکستان پر حملہ کردیا۔ یہ پاک بھارت جنگ سترہ دن تک جاری رہی۔ اگرچہ پاکستان کے اندر عام تاثر یہ ہے کہ پاکستان اس جنگ میں فاتح رہا، مگر حقیقت یہ ہے کہ پاکستان یہ جنگ ہار گیا تھا۔تیرہ دن کے بعد پاکستان کے پاس لڑنے کے لیے اسلحہ نہ رہا تھا اور پاکستان نے دوست ملکوں سے کہہ دیا تھا کہ وہ اقوام متحدہ کے ذریعے جنگ بندی کروائیں۔ جنگ ختم ہونے کے بعد اکتوبر میں وزیرخزانہ محمد شعیب نے نظرِ ثانی شدہ بجٹ پیش کیا۔ جب رکنِ اسمبلی مولوی فرید احمد نے سوال کیا کہ اس جنگ پر کتنا خرچ آیا ہے، تو شعیب نے جواب دیا کہ اس سترہ روزہ جنگ پر پاکستان کا آدھا بجٹ ختم ہوگیا ہے۔ گویا اگر یہ جنگ چند دن اور جاری رہتی تو پاکستان کا پورا سالانہ بجٹ اس کی نذر ہوجاتا۔ اُس وقت پاکستان کے پاس صرف تیرہ دن کی لڑائی کا سازوسامان موجود تھا، جب کہ بھارت کے پاس اس سے تین گنا وقت کے لیے لڑائی کا سامان موجود تھا۔ 
جنرل یحیےٰ خان نے دسمبر1970ء میں انتخاب تو کروالیا مگر عملاً انتخاب کے نتائج کو تسلیم کرنے سے انکار کردیا، جس کا نتیجہ ملک کے دولخت ہونے کی صورت میں سامنے آیا۔ 
موجودہ پاکستان میں بھٹو نے عملاً جنوری1972ء میں اقتدار سنبھالا، اپریل میں قومی اسمبلی نے ایک عبوری آئین منظور کرلیا اور 14اگست1973ء کو مستقل آئین نافذ کردیا گیا۔ اس آئین کا اتفاق رائے سے پاس ہونا بھٹو کا ایک بڑا کارنامہ تھا۔ تاہم بدقسمتی سے بھٹو کے اندر اختیارات کو اپنی ذات میں مرتکز کا رجحان موجود تھا اور اس کے ساتھ وہ منتقم مزاج بھی تھے۔ چنانچہ انہوں نے ملک میں ایمرجنسی نافذ کردی، آئین میں من مانی ترامیم کردیں اور صوبہ سرحد اور بلوچستان میں بغیر کسی جواز کے اپنی پارٹی کی حکومتیں قائم کردیں۔ بلوچستان کی بے چینی کو دبانے کے لیے بھٹو نے فوج بھی استعمال کی۔ ایمرجنسی کی آڑ میں بنیادی حقوق معطل کردیے گئے اور ایک ایسا دور بھی آیا جب حزبِ اختلاف کے اراکین کو پارلیمنٹ سے اٹھاکر باہر پھینک دیا گیا۔ اگر بھٹو یہ سب کچھ نہ کرتے تو پاکستان میں ایک عظیم جمہوری کلچر کا آغاز ہوسکتا تھا۔ 
مارچ1977ء میں عام انتخابات منعقد ہوئے۔ حزبِ اختلاف کی سیاسی جماعتوں نے دھاندلی کا الزام لگاکر انتخابی نتائج کو تسلیم کرنے سے انکار کردیا۔ اس راقم کا تجزیہ یہ ہے کہ اگر منصفانہ انتخاب ہوتا تو تب بھی بھٹو سادہ اکثریت سے انتخاب جیت جاتے۔ لیکن چونکہ اُن کی یہ خواہش تھی کہ اُنہیں اسمبلی میں دوتہائی اکثریت حاصل ہوجائے اس لیے دھاندلی کا ارتکاب کیا گیا۔ 
ان انتخابی نتائج کے خلاف ایک بڑا عوامی احتجاج ہوا، جس پر بھٹو نے حزبِ اختلاف کو مذاکرات کی دعوت دی۔ یہ مذاکرات کئی ہفتوں تک چلتے رہے اور پھر جب کہ مذاکرات کامیابی کے بالکل قریب پہنچ چکے تھے، جولائی 1977ء میں جنرل ضیاء الحق نے مارشل لاء لگادیا۔ اُس نے قوم سے وعدہ کیا کہ فوج نوے (90) دن کے اندر اندر انتخاب کرواکر اقتدار سے رخصت ہوجائے گی۔ راقم کا تجزیہ یہ ہے کہ اگر یہ انتخاب ہوجاتا تو اس میں بھی پیپلز پارٹی کو کامیابی ملتی۔ حزب اختلاف کی ساری پارٹیوں نے مارشل لاء کا خیر مقدم کیا۔ چونکہ انہیں بھی یہ معلوم تھا کہ انتخاب کے نتیجے میں پیپلز پارٹی کی جیت کا واضح امکان ہے، اس لیے جب بھٹو پر نواب محمد احمد خان کے قتل کا مقدمہ دائر کیا گیا اور جنرل ضیاء نے اس کی آڑ میں انتخابات کو ملتوی کرنے کا اعلان کیا تو پیپلز پارٹی کی مخالف سیاسی جماعتوں کا اتحاد ’’پاکستان قومی اتحاد‘‘ حکومت میں شامل ہوگیا۔ اس مقدمہ قتل کا کوئی جواز نہیں بنتا تھا اس لیے کہ نواب محمد احمد خان کے سارے وارث بھٹو اور دوسرے ذمہ داروں کو معاف کرچکے تھے۔ بہر حال یہ مقدمہ چلا جو پاکستان کی تاریخ پر ایک بدنما داغ ہے۔ سپریم کورٹ کے سارے پنجابی ججوں نے بھٹو کے خلاف فیصلہ دیا اور غیر پنجابی ججوں نے بھٹو کے حق میں فیصلہ دیا۔ اُس وقت کی سپریم کورٹ کے جج سید نسیم حسن شاہ نے اب 2006ء میں برملا یہ اقرار کیا کہ یہ فیصلہ غلط تھا اور مبنی برانصاف نہیں تھا۔ اُس وقت بھٹو کی مخالف ساری پارٹیاں دل وجان سے مارشل لاء کے ساتھ تھیں۔ 
اس کے کچھ عرصہ بعد جب دسمبر1979ء میں روسی افواج افغانستان میں داخل ہوئیں تو امریکہ، جنرل ضیاء،جماعت اسلامی اور افغانستان کی حزب اختلاف پر مشتمل ایک غیر شعوری اتحاد وجود میں آگیا۔ اس غیر شعوری اور غیر محسوس اتحاد کو ہر ایک نے اپنے مفاد میں سمجھا اور اپنے مفاد کے لیے استعمال کرنے کی کوشش کی۔ امریکہ نے سوچا کہ یہ روس سے ویت نام کی شکست کا سکور برابر کرنے کا بہترین موقع ہے۔ جنرل ضیاء اس قضیے کے ذریعے اپنے اقتدار کو دوام بخشنا چاہتے تھے، افغانستان کے اندر ایک تابعدار حکومت کا قیام چاہتے تھے اور یہ بھی چاہتے تھے کہ اس معاملے کے بعد ان گوریلوں کو کشمیر میں استعمال کرسکیں۔ جماعت اسلامی کا خیال یہ تھا کہ اس کامیابی کے نتیجے میں افغانستان میں اس کے تصورات پر مبنی ایک اسلامی حکومت قائم ہوجائے گی۔ جب کہ افغانستان کی ہر مجاہد تنظیم اپنے دل میں یہ مقصد رکھتی تھی کہ روسی افواج کے نکلنے کے بعد وہ باقی تمام تنظیموں کو شکست دے کر اپنا اقتدار پر قائم کردے گی۔ 
تاریخ نے ہمیں یہ سبق سکھایا ہے کہ جب بھی مختلف طاقتیں اپنے اپنے مفاد کے لیے ایک دوسرے سے گٹھ جوڑ کرتی ہیں تو ان میں اُسی طاقت کا مفاد پایہ تکمیل تک پہنچتا ہے جو مادی اعتبار سے سب سے زیادہ طاقتور ہو۔ چنانچہ اس پورے معاملے میں سب سے زیادہ فائدہ امریکہ کو ملا، دوسرے نمبر پر جنرل ضیاء کو فائدہ ملا کیونکہ اس طریقے سے وہ اپنا اقتدار 1988ء تک لے جانے میں کامیاب ہوگیا۔ آخری دو طاقتیں یعنی جماعت اسلامی اور افغان مجاہد تنظیمیں مکمل خسارے میں رہیں۔ 
جماعت اسلامی وہ واحد پارٹی تھی جس نے بحیثیتِ جماعت صدارتی ریفرنڈم میں جنرل ضیاء کی حمایت کی۔ 1985ء میں غیر جماعتی انتخابات کے بعد آنے والی پارلیمنٹ نے جنرل ضیاء کو وردی سمیت پاکستان کا صدر مان لیا۔ اس فیصلے میں مسلم لیگ اور جماعت اسلامی دونوں شامل تھیں۔ نواز شریف اور راجہ ظفر الحق سمیت سارے مسلم لیگی جنرل ضیاء کے کیمپ میں شامل تھے۔ تاہم جب وزیراعظم جونیجو نے بعض معاملات میں جنرل ضیاء کی خواہش سے کچھ سرتابی کرنے کی کوشش کی تو اُن کو 1988ء میں برخواست کرلیا گیا اور کچھ عرصے بعد18اگست1988ء کو جنرل ضیاء ایک فوجی C-130کے ایک پراسرار حادثے میں اپنے ساتھیوں سمیت جاں بحق ہوگئے۔ 
اس کے بعد جو عام انتخاب منعقد ہوا، اُس میں بے نظیر بھٹو کی پارٹی سب سے بڑی جماعت کی حیثیت سے سامنے آئی لیکن اُسے مطلق اکثریت حاصل نہیں تھی۔ اُس کے مقابلے میں اسلامی جمہوری اتحاد کے نام سے دائیں بازو کی جماعتوں کا ایک اتحاد بنا۔ اب یہ بات پایہ ثبوت کو پہنچ چکی ہے کہ یہ اتحاد آئی ایس آئی نے بنایا تھا۔ ذوالفقار علی بھٹو کے برعکس بے نظیر بھٹو نے اپنی سیاسی زندگی میں ہمیشہ اسٹیبلشمنٹ سے سمجھوتے کی کوشش کی۔ اس کی ابتداء1988ء سے ہوئی۔ اسٹیبلشمنٹ نے یہ شرط لگائی کہ کشمیراور افغانستان سمیت خارجہ پالیسی اور نیوکلئیر پروگرام سمیت سارے دفاعی فیصلے اُسی کے اختیار میں رہیں گے۔ نیز کوئی بھی اہم فیصلہ اُس کی منظوری کے بغیر نہیں کیا جائے گا۔ یہ ساری شرائط بے نظیر نے مان لیں۔ حتیٰ کہ جنرل ضیاء کے مسلسل وزیر خارجہ جنرل یعقوب خان کو بھی اپنی کابینہ میں شامل کرنے پر سمجھوتہ کرلیا۔ اور یو ں وہ ایک بے دست وپا وزیراعظم بن گئیں۔ 
اس کے بعد اقتدار کا ایک میوزیکل چےئر کا سلسلہ شروع ہوا۔ 1991ء میں صدر غلام اسحاق خان نے بے نظیر حکومت کو برخواست کرلیا اور نئے انتخاب میں نواز شریف برسراقتدار آگئے۔ اُس حکومت کو بھی 1993ء کے آخر میں صدر نے برخواست کردیا اور بے نظیر ایک دفعہ پھر برسراقتدار آگئیں۔ اس حکومت کو1996ء کے آخر میں اپنی ہی پارٹی کے صدر فاروق احمد خان لغاری نے برخواست کیا اور نواز شریف ایک دفعہ پھر برسراقتدار آگئے۔1999ء میں کارگل کے مسئلے پر نواز شریف اور جنرل مشرف کے درمیان اختلافات بہت شدید ہوگئے۔ چنانچہ نوازشریف نے جنرل مشرف کو آرمی چیف کی عہدے سے برخواست کرنے کا اعلان کردیا اور دوسری طرف آرمی نے نوازشریف کو بے دخل کرکے اقتدار پر قبضہ کرلیا۔ 
یہ وہ وقت تھا جب پچھلے دو مہینوں سے حزب اختلاف کی پارٹیاں پیپلز پارٹی اور جماعت اسلامی سمیت، ایک بڑی مہم میں مصروف تھیں۔ اس مہم کا نام ’’نواز ہٹاؤ ملک بچاؤ‘‘ تھا۔ چنانچہ جب ستمبر1999ء میں آرمی نے نوازشریف کا تختہ اُلٹا تو بے نظیر بھٹو، قاضی حسین احمد اور مولانا فضل الرحمان سمیت تقریباً سبھی سیاسی پارٹیوں نے اس کا خیر مقدم کیا۔ اُس وقت محمود خان اچکزئی وہ واحد سیاست دان تھے جنہوں نے اس اقدام کی مذمت کی اور اسے ماورائے آئین قرار دیا۔ 
1988ء سے لے کر1999ء تک کے دوران میں ملٹری کی یہ پالیسی تھی کہ وہ پس پردہ رہ کر ملک کے اہم معاملات کو چلائے گی، البتہ ظاہری طور پر اقتدار سیاست دانوں کے سپرد کردیا جائے گا۔ اسٹیبلشمنٹ کا یہ کام نواز شریف اور بے نظیر دونوں نے بہت آسان کردیا۔ کیونکہ ان دونوں میں سے جو بھی اقتدار میں ہوتا، تو دوسرا فریق اس حکومت کو گرانے کے لیے فوراً اپنی خدمات اسٹیبلشمنٹ کو پیش کردیتا۔ یوں اپنے عہد اقتدار میں نواز یابے نظیر دونوں میں سے جس نے بھی اسٹیبلشمنٹ کے پنجوں سے آزاد ہونے کی کوئی کوشش کی، اُس کوشش کو دوسرے نے ناکام بنادیا۔ 
جنرل مشرف نے اقتدار میں آتے ہی یہ بات واضح کردی کہ آئندہ نواز اور بے نظیر کو کسی صورت میں بھی برسراقتدار نہیں آنے دیا جائے گا۔ شروع میں اس حکومت کے متعلق امریکہ کا رویہ مخالفانہ رہا، لیکن جب گیارہ ستمبر2001ء کو امریکہ کے اندر ورلڈ ٹریڈ سنٹر اور دوسرے اہم مقامات پر خودکش حملے ہوئے تو مشرف نے یو ٹرن لیتے ہوئے طالبان کی حمایت سے ہاتھ کھینچ لیا اور امریکہ کے ساتوں کے سات مطالبات مان لیے۔ اس طرح مشرف نے اپنے اقتدار کو طوالت بخشی۔ اپریل2002ء میں مشرف نے ضیاء کے نقشہ قدم پر چلتے ہوئے اپنی صدارت کے لیے ریفرنڈم کیا جس میں علامہ طاہرالقادری اور جناب عمران خان نے بھی مشرف کی حمایت کی۔ اس کے بعد اکتوبر2002ء میں پارلیمانی اتنخابات کروائے گئے جس میں اسٹیبلشمنٹ کی حمایت یافتہ مسلم لیگ نے اکثریت حاصل کی۔ تاہم چونکہ یہ مطلق اکثریت نہیں تھی اس لیے پیپلز پارٹی کے کئی ارکان پارلیمنٹ کو توڑلیا گیا۔ بلوچستان میں سرکاری مسلم لیگ نے ایم ایم اے کی حمایت سے اپنی حکومت بنائی۔ اس کے بعد بدنامِ زمانہ سترہوئیں آئینی ترمیم کے موقع پر بھی ایم ایم اے نے اسٹیبلشمنٹ کی حمایت کی۔ اس آئینی ترمیم میں صرف یہی بات نہیں تھی کہ پرویز مشرف کو دونوں عہدے ساتھ رکھنے کا اختیار دیا گیا، بلکہ اس آئینی ترمیم کے ذریعے یہ بندوبست بھی کرلیا گیا کہ بے نظیر اور نواز آئندہ وزیراعظم نہ بن سکیں اور اصل اختیارات صدر کے پاس رہیں۔ ایم ایم اے یہ دعویٰ کرتی ہے کہ مشرف کے ساتھ اُس کے سمجھوتے میں مشرف نے یہ وعدہ کیا تھا کہ وہ 2004ء کے آخر تک وردی اُتار دے گا۔ اگرچہ یہ دعویٰ صحیح ہے لیکن سترہویں آئینی ترمیم میں اس کا کوئی ذکر موجود نہیں ہے۔ ایم ایم اے کے قائدین شاید یہ بات بھی بھول گئے تھے کہ آئین کے الفاظ کے مطابق سادہ اکثریت سے مشرف کو دونوں عہدے ساتھ رکھنے کا اختیار دیا جاسکتا تھا۔
جنرل مشرف نے اپنے اقدامات کے ذریعے پاکستان کو پوری طرح امریکہ کی جھولی میں ڈال دیا۔ موجودہ پاکستان اپنی پوری تاریخ میں اس طرح کبھی تقسیم نہیں ہوا تھا۔ ضیاء الحق نے ہمیں کلاشنکوف اور ہیروئن کا تحفہ دیا، اور جنرل مشرف نے ہمیں اپنی فوج کو اپنے عوام کے خلاف لڑانے اور خودکش حملوں کا تحفہ دیا۔ 
پاکستان کی آئینی اور سیاسی تاریخ میں عدلیہ نے بھی عموماً ایک ناقابل رشک کردار اداکیا ہے۔ اعلیٰ عدلیہ نے تقریباً ہمیشہ اسٹیبلشمنٹ کا ساتھ دیا اور جمہوری حکومتوں کو نیچا دکھانے کی کوشش کی ہے۔ اس کی ابتدا1954ء میں چیف جسٹس مُنیر کے اُس فیصلے سے ہوئی جس میں اُس نے گورنر جنرل غلام محمد کی طرف سے پارلیمنٹ توڑنے کو حق بجانب قرار دیا تھا۔ اس کے بعد جسٹس منیر ہی کی سربراہی میں سپریم کورٹ نے ایوب خان کے حق میں یہ کہہ کر فیصلہ دیا کہ ایک کامیاب انقلاب بذات خود اپنے جواز کا ثبوت ہوتا ہے۔ اگرچہ سپریم کورٹ نے جنرل یحیےٰ خان کے مارشل لاء کے خلاف فیصلہ دیا تھا لیکن یہ اُس وقت ہوا جب یحیےٰ خان ایوانِ اقتدار سے رخصت ہوچکے تھے۔ 1977ء میں سپریم کورٹ نے نظریہ ضرورت کا سہارا لے کر جنرل ضیاء کو پاکستان کے سیاہ وسفید کا مالک بنا دیا۔ بے نظیر کے پہلے دور اقتدار سے بے دخل ہونے کے بعد سپریم کورٹ نے اس کو جائز قرار دیا۔ البتہ جب نواز شریف کو اقتدار سے ڈس مس کیاگیا تو سپریم کورٹ نے اس کو بلا جواز قرار دیا۔ لیکن اس کے دومہینوں کے اندر اندر ہی نواز کو استعفیٰ دینا پڑا اس لیے کہ اسٹیبلشمنٹ یہی چاہتی تھی۔ بے نظیر اور نواز شریف کے دوسرے عہد اقتدار نے جسٹس سجاد علی شاہ نے بھی ایک ناقابل رشک کردار کا اظہار کیا۔ بے نظیر کی دوسری بے دخلی کو انہوں نے یہ کہہ کر جائز قرار دیا کہ حکومت کے خلاف بطور ثبوت اخباری تراشے بھی پیش کیے جاسکتے ہیں۔ نواز شریف کے دوسرے دور میں بھی سجاد علی شاہ نے وزیراعظم کو اپنے سامنے جھکانے کی بہت کوشش کی جس کا نتیجہ سپریم کورٹ کے دوحصوں میں تقسیم اور سپریم کورٹ پر حملے کی صورت میں نکلا۔ تاہم یہاں یہ بات بھی واضح ہونی چاہیے کہ نواز شریف نے اپنے دوسرے دورِ اقتدار میں اپنے کچن کیبنٹ خصوصاً سیف الرحمان کے ذریعے اپنے مخالفین کے خلاف جو کچھ کیا، اخبارات پر جس طرح کی پابندیاں لگائیں اور سپریم کورٹ پر جو حملہ ہوا، یہ سب خلافِ جمہوریت اقدامات تھے۔ 
جنرل مشرف کے برسراقتدار آنے کے بعد سپریم کورٹ نے نہ صرف یہ کہ اُس کے اقتدار کو جائز قرار دیا بلکہ اُس کے بغیر مانگے اُسے آئین میں ترمیم کے اختیارات بھی دیے گئے۔ یہ بات بھی واضح رہنی چاہیے کہ اس ملک میں جب بھی ملٹری نے اقتدار سنبھالا اور ججوں سے کہا کہ وہ آئین کے بجائے اس اقتدار سے وفاداری کا حلف اٹھائیں تو نوے فیصد ججوں نے بلا تکلف یہ حلف اٹھالیا۔ ظاہر ہے کہ اس کے بعد وہ اپنے آقاوؤں کے خلاف کیسے کوئی فیصلہ دے سکتے تھے۔البتہ جب مارچ 2007ء میں مشرف نے چیف جسٹس افتحار چوہدری کو معطل کردیا تو ساری وکلاء برادری نے ا س کے خلاف ایک فقید المثال متحدہ تحریک چلائی۔ بالآخر بیس جولائی 2007ء کو سپریم کورٹ کے تیرہ رکنی بنچ نے مشرف کے حکم کو غیر آئینی قرار دے دیا۔ یقیناًیہ فیصلہ عدلیہ کی طرف سے ایک بڑی جرأت کا ثبوت ہے۔ لیکن کیا اس جرأت کا تسلسل جاری رہے گا، اس کا جواب مستقبل ہی ہمیں دے سکتا ہے۔
درج بالا سارے تجزئے سے یہ معلوم ہوجاتا ہے کہ پاکستان میں حقیقی جمہوری کلچر کے راستے میں ملٹری اسٹیبلشمنٹ، سیاست دان اور عدلیہ برابر کے شریک ہیں۔ اگرچہ سیاست دانوں کے حق میں کم ازکم اتنی بات ضرور جاتی ہے کہ انہوں نے اپنے وقت میں پاکستان کو ٹوٹنے اور شکست سے بچائے رکھا، جب کہ اس کے برعکس ایوب خان نے 1965ء کی جنگ اور اُس کی شکست اس ملک پر مسلط کی، یحیےٰ خان کے وقت میں مشرقی پاکستان ہاتھ سے گیا اور جنرل ضیاء کے وقت میں نہ صرف سیا چین گلیشےئر پر بھارت نے قبضہ جمایا بلکہ اپنی افغان پالیسی اور آٹھ مسلح افغان تنظیموں اور اُن کی حامی کئی پاکستانی مسلکی مسلح تنظیموں کی تخلیق کرکے اُس نے کلاشنکوف کلچر اور لاقانونیت کو یوں فروغ دیا کہ پاکستان اُس کے چنگل سے آج بھی نکلنے کا راستہ نہیں پارہا۔یہی حال جنرل پرویز مشرف کی حکومت کا ہے۔ اُس کے دورِ اقتدار میں سارے ادارے تہہ وبالا ہوگئے۔ نائن الیون کے موقع پر اُس نے امریکہ کی ساری باتیں مان کر پاکستان کے مستقبل کو ایک بڑے خطرے سے دوچار کردیا۔ 

کیا جرنیلوں، سیاست دانوں اور عدلیہ نے ماضی سے سبق سیکھ لیا ہے؟ کیا پاکستانی عوام کے اندر جمہوری کلچر سے وابستگی کا شعور پختہ ہوگیا ہے؟ یہ ایسے سوالات ہیں جن کا جواب مستقبل ہی ہمیں دے سکے گا۔تاہم ہماری دعا یہی ہے کہ یہ طبقے ماضی کی غلطیوں کا اعادہ نہ کریں۔