اٹھارہواں باب 

پچھلے باب میں ہم نے پوری امت مسلمہ کے لیے چار نکات پر مشتمل ایجنڈے کی تجویز دی تھی۔ یہ چاروں نکات پاکستان کے معاملے میں بھی اسی طرح ضروری ہیں جس طرح یہ باقی عالم اسلام کے لیے ہیں۔ یہ نکات سائنس اور ٹیکنالوجی کے علم، جمہوریت، انصاف اور حکمت وصبر پر مشتمل تھے۔ پاکستان کے تناظر میں ان چاروں نکات کے عملی انطباق کا مطلب یہ ہوگا کہ پاکستان کے اندر ہر بچے کے پہلے بارہ برس کی تعلیم مفت، لازمی اور یکساں کردی جائے۔ ملک کے اندر سیاست سے فوج کا عمل دخل مکمل طور پر ختم کردیا جائے، باقاعدگی سے انتخابات ہوں، ملک کے اندر اہل اقتدار کے احتساب کا ایک آئینی اور خودمختار ادارہ قائم ہو، پریس اور میڈیا آزاد ہو، نہ تو کوئی وزیراعظم ڈکٹیٹر بننے کی کوشش کرے اور نہ حزب اختلاف احتجاجی اور تحریکوں کی سیاست کے ذریعے ایک منتخب حکومت کو وقت سے پہلے گرانے کی کوشش کرے۔ اسی طرح عدالتیں لوگوں کو جلد اور سستا انصاف فراہم کریں۔ پاکستان کے تناظر میں حکمت وصبر کا یہ مطلب ہے کہ اہل سیاست، اوراہل علم ودانشور وقتی اور جذباتی نعرے لگانے کے بجائے ملک کے مسائل پر سنجیدہ غوروفکر کریں اور ملک کے اندر مکالمے کا عمل مسلسل جاری رہے۔ اس کا یہ بھی مطلب ہے کہ افغانستان اور کشمیر کے حل کے معاملے میں بھی ہمیں پوری دانائی اور ہوش مندی سے کام لینا چاہیے۔ پاکستان کے خصوصی حالات کے اعتبار سے ہمارے لیے درج بالا چارنکات کے علاوہ مزید دونکات بھی ضروری ہیں۔ گویا پاکستان کے لیے خصوصی ایجنڈا درج ذیل ہے۔ 
O۔ افغانستان اور مسئلہ کشمیر کا حقیقت پسندانہ حل اور اُس پر عمل درآمد 
O۔ مکمل صوبائی خودمختاری 
درج بالا دونوں نکات کے ضمن میں مسئلہ افغانستان اور مسئلہ کشمیر پر علیحدہ ابواب میں تفصیل کے ساتھ روشنی ڈالی گئی ہے۔ یہاں اتنا کہنا ضروری ہے کہ افغانستان کے معاملے میں ہمارا یہ فرض بنتا ہے کہ وفاق اور صوبہ سرحد(پختون خواہ) کے زیرِ انتظام قبائلی علاقوں کو فوراً صوبہ سرحد میں ضم کردیا جائے، وہاں سب لوگوں کو، باقی پاکستان کے مانند آنے جانے کی مکمل آزادی ہو، پارٹی بنیاد پر قومی وصوبائی انتخابات کرائے جائیں اور بلدیاتی انتخابات کا انعقاد کردیا جائے۔ افغانستان کے ضمن میں ہمارا اصل الاصول یہ ہونا چاہیے کہ افغانستان کو ہم ایک کامل جمہوری اور خودمختار ملک دیکھنا چاہتے ہیں جہاں سے تمام غیر ملکی افواج بشمول امریکہ اور القاعدہ کو نکل جانا چاہیے۔ ہمارا مقصد یہ ہونا چاہیے کہ افغانستان کے اندر خونریزی بند ہوجائے اور سب مکاتیبِ فکر، بشمول طالبان اپنے آپ کو سیاسی پارٹیوں کی شکل میں ڈھال کر انتخابی عمل میں شریک ہوجائیں۔ 
مسئلہ کشمیر کے ضمن میں اس راقم کی یہ دیرینہ رائے ہے کہ اس ضمن میں حقیقتاً صرف ایک ہی حل ممکن ہے۔ وہ یہ کہ آزاد اور مقبوضہ کشمیر کے درمیان سرحد کو کچھ ردوبدل کے ساتھ بین الاقوامی مگر کھلی سرحد مان لیا جائے اور بھارت کی طرف سے وادئ کشمیر کو آخری حد تک ہر ممکن صوبائی خودمختاری دے دی جائے۔ اس راقم نے اس ضمن میں 68صفحات پر مشتمل ایک مقالے ’’مسئلہ کشمیر ،پس منظر، موجودہ صورت حال اور حل‘‘ میں تفصیل کے ساتھ اس پر لکھا ہے۔ اس مقالے کا خلاصہ ایک علیحدہ باب کی شکل میں اس کتاب میں شامل کیا گیا ہے۔ راقم کے خیال میں یہی دونوں ملکوں کے لیے آبرومندانہ اور حقیقت پسندانہ حل ہے اور اسی میں بھارتی کشمیر میں موجودہ چھ ملین مسلمانوں کا مفاد ہے۔ اسی کے ساتھ ہمارے لیے یہ بھی ضروری ہے کہ ہم پاکستانی کشمیر بشمولِ شمالی علاقہ جات کو ایک علیحدہ صوبے کی حیثیت سے پاکستان کے اندر ضم کرلیں۔ 
پاکستان کا دوسرااہم ترین مسئلہ صوبائی خودمختاری ہے۔ پاکستان واضح طور پر چار بڑے ثقافتی اور معاشرتی خطوں پر مشتمل ہے۔ پختونوں، بلوچوں، پنجابیوں اور سندھیوں کے درمیان فرق وامتیاز سے سبھی واقف ہیں۔ صوبوں کی موجودہ حد بندی واضح طو رپر اس تقسیم کو پورا نہیں کرتی۔ یہ بہت مناسب ہوتا کہ ایک ایسا صوبہ وجود میں آتا جس میں پشتو بولنے والے سبھی علاقے شامل ہوتے، اسی طرح سرائیکی لوگوں کے لیے بھی ایک علیحدہ صوبہ ہونا چاہیے تھا۔ تاہم چونکہ 1973ء کے متفقہ آئین میں صوبوں کی موجودہ حد بندی کو تسلیم کیا گیا ہے اس لیے جب تک صوبوں کی حدودمیں ردوبدل کے متعلق کسی خاص حل پر اتفاق رائے نہ ہو جائے، تب تک موجودہ سرحدوں ہی کی بنیاد پر صوبائی خودمختاری دے دینی چاہیے۔ اب یہ جمہوری کلچر کا مسلمہ اصول بن گیا ہے کہ کسی فیڈریشن کے اندر موجود سب صوبوں کو ہر ممکن حدتک خودمختاری دے دی جائے۔ درحقیقت یہی خودمختاری ایک ملک کی بقا اور اتحاد کی ضامن ہوتی ہے کیونکہ اس سے لوگوں کے اندر ایک دوسرے کے خلاف نفرت اور احساس محرومی کے جذبات پروان نہیں چڑھتے۔ صوبائی خودمختاری کے نتیجے میں سب اکائیوں کو یہ اعتماد ہوتا ہے کہ ہمارے ساتھ بے انصافی نہیں کی جارہی۔ دنیا کے بہت سے ترقی یافتہ ممالک میں تو صوبائی اکائیوں کو اس بات کی بھی اجازت ہے کہ وہ جب چاہیں فیڈریشن کو چھوڑ کر اپنے آپ کو ایک آزاد ملک قرار دے سکتے ہیں۔ برطانیہ، کینیڈا اور امریکہ کے آئینوں میں سب صوبوں کا یہ حق تسلیم کیا گیا ہے۔ اسی لیے کینیڈا کے فرنچ بولنے والے اکثریتی صوبے کیوبک میں کینیڈا سے علیحدگی کے لیے کئی مرتبہ ووٹنگ ہوچکی ہے۔ اسی طرح برطانیہ میں سکاٹ لینڈ کے صوبے میں بھی اس غرض کے لیے ریفرنڈم منعقد ہوچکے ہیں، تاہم سکاٹش باشندوں نے ایک حد تک ہی کامل خودمختاری کے حق میں حق رائے دی ہے۔ مثلاً سکاٹ لینڈ کا ایک الگ جھنڈا ہے اور وہاں کی کرکٹ ٹیم بھی برطانیہ سے علیحدہ ہے۔ جو بھی ملک اپنے آئین میں صوبوں کو علیحدگی کا حق دیتا ہے، وہ درحقیقت اپنے فیڈرل سسٹم پر بہت بڑا اعتماد رکھتا ہے، کیونکہ اُسے یقین ہوتا ہے کہ کسی بھی صوبے کے عوام علیحدگی کے حق میں اکثریتی رائے نہیں دیں گے۔ پاکستان کے حالات میں ہم جانتے ہیں کہ چاروں صوبوں کے درمیان ایک دوسرے کے متعلق گہری جڑیں رکھنے والی غلط فہمیاں اور شکایتیں موجود ہیں۔ خصوصاً تینوں چھوٹے صوبے پنجاب سے بہت سی شکایتیں رکھتے ہیں۔ ممکن ہے کہ ان میں سے بعض شکایتوں میں کچھ مبالغہ بھی ہو، لیکن ان میں بہت سی شکایتیں حقیقت پر مبنی ہیں۔ بدقسمتی سے پاکستان کے اندر اس کے قائم ہونے کے پہلے دن سے ہی صوبائی خودمختاری پر کاری ضرب لگائی گئی۔ پاکستان کے بنتے وقت ہمیں انگریزوں کے زمانے کا 1935ء کا عبوری آئین ورثے میں ملا تھا۔ پاکستان بننے کے دوتین مہینے کے اندر اندر اس آئینی دستاویز میں چار بنیادی تبدیلیاں کی گئیں۔ یہ چاروں تبدیلیاں صوبائی خودمختاری سے متعلق تھیں۔ انگریزوں کے زمانے کے عبوری آئین میں صوبوں کو جتنی خودمختاری دی گئی تھی ، اُس کو بیک جنبش قلم ختم کردیا گیا اور یوں صوبائی خودمختاری کا راستہ بند کردیا گیا۔ اس کے بعد کی پاکستان کی تاریخ صوبائی خودمختاری کے خلاف مسلسل غیر جمہوری اقدامات پر مشتمل ہے۔ پاکستان بنتے ساتھ ہی جاگیر داروں اور بیوروکریٹس کا جو ٹولہ اس ملک پر مسلط ہوگیا، یہ اُس کے مفاد میں تھا کہ پاکستان کے سارے وسائل پر اُس کا قبضہ رہے۔اکتوبر 1954ء میں جب اُس وقت کے کمانڈر انچیف جنرل ایوب خان کو کابینہ میں وزیر دفاع بنایا گیا تو یہ تیسرا طبقہ بھی بالادست طبقات کی فہرست میں شامل ہوگیا۔ ان تینوں طبقات کا مشترکہ وقتی مفاد اس بات پر پوشیدہ تھا کہ پاکستان ہر اعتبار سے غیر جمہوری رہے اور یہاں انہی طبقات کی حکومت رہے۔ چنانچہ ان تینوں طبقات نے بلحاظ مجموعی صوبائی خودمختاری کے خلاف ایکا کرلیا۔ چونکہ پنجاب کی آبادی پاکستان کی آبادی کا 62%ہے، اس لیے قدرتی طور پر ان تینوں بالادست طبقات میں بھی اس کا حصہ سب سے زیادہ تھا۔ اسی طرح قیام پاکستان کے وقت اردو بولنے والے مہاجروں میں تعلیم کی شرح سب سے بلند تھی، اس لیے بیوروکریسی میں اُس کا غلبہ تھا۔ چنانچہ ان تینوں طبقات کے ساتھ ساتھ نفرت کی یہ لہر پنجاب اور اُردو بولنے والے مہاجروں کے خلاف بھی مُڑ گئی۔ یہی سلسلہ 1970تک جاری رہا۔ دسمبر1970ء کے انتخابات میں مشرقی پاکستان میں عوامی لیگ کو اس کے صوبائی خودمختاری پر مشتمل چھ نکاتی پیکج کے ذریعے ایک عظیم کامیابی ملی اور 94%ووٹروں نے عوامی لیگ کے حق میں اپنا ووٹ ڈالا۔ اس کا واضح مطلب یہ تھا کہ مشرقی پاکستان کے عوام نے بالادست طبقات کو یہ پیغام دیا کہ یا تو ہمیں مکمل صوبائی خودمختاری دے دی جائے ورنہ ہم پاکستان سے علیحدہ ہوجائیں گے۔ چونکہ بالادست طبقات کو یہ منظور نہیں تھا، اس لیے اگلے ایک برس کے اندر اندر مشرقی پاکستان نے بنگلہ دیش کی شکل اختیار کرلی، پاکستانی فوج کو ایک شرم ناک شکست کا سامنا کرنا پڑا اور پاکستان دولخت ہوگیا۔ اگر اُس وقت عوامی لیگ کے چھ نکات کو مان لیا جاتا اور انہی نکات کو کو مغربی پاکستان کے چاروں صوبوں پر بھی لاگو کیا جاتا تو پاکستان بھی ایک رہتا، مغربی پاکستان کے صوبوں کو بھی خودمختاری مل جاتی اور پاکستان کے اندر جمہوری کلچر کو فروغ ملتا۔ جن چھ نکات کو اُس وقت مغربی پاکستان میں غداری کی بات سمجھا جاتا تھا، اب اُس سے ملتی جلتی باتیں موجودہ پاکستان کے اندر تقریباً سبھی سیاسی رہنما کرتے ہیں اور کوئی بھی انہیں غدار قرار نہیں دیتا۔ مشرقی پاکستان کے اندر مذہبی طبقے سے تعلق رکھنے والے کچھ لوگوں نے عوامی لیگ کے خلاف فوج کا ساتھ دیا، لیکن تیس برس کے بعد جب یہی لوگ صوبہ سرحد میں برسراقتدار آئے تو یہ لوگ وہی بولی بولنے لگے جو 1970ء میں شیخ مجیب الرحمٰن بولتے۔ 
ستر کی دہائی میں بھٹو کو یہ موقع ملا کہ وہ جمہوری بنیادوں پر پاکستان کی تعمیر کریں۔ اسی جذبے کے تحت اُنہوں نے 1973ء کے آئین پر اتفاق رائے پیدا کیا۔ یہ اُن کا عظیم کارنامہ تھا۔ بدقسمتی سے بھٹو کے اندر اختیارات کو اپنی ذات میں مرتکز کرنے کا رجحان تھا اور وہ منتقم مزاج بھی تھے۔ چنانچہ متفقہ آئین کی منظوری کے دوسرے ہی دن اُنہوں نے ملک میں ایمرجنسی نافذ کر کے سارے اختیارات اپنے ہاتھ میں لے لیے اور اس کے بعد یک طرفہ طور پر، حزب اختلاف کے بہت سے اراکین کو خریدتے ہوئے، اپنی عددی اکثریت کے بل بوتے پر آئین میں خالصتاً آمرانہ ترامیم کردیں۔ اُنہوں نے سرحد اور بلوچستان میں بھی اپنی پارٹی کی صوبائی حکومتیں قائم کردیں حالانکہ ان دونوں صوبوں میں اُن کی پارٹی بہت کمزور تھی۔ گویا بھٹو کا چھ سالہ دور بھی صوبائی خودمختاری کی نفی پر مرکوز رہا۔ اس کے بعد جب ایک دفعہ پھر مارشل لاء نے پاکستان کو اپنی لپیٹ میں لے لیا تو ظاہر ہے کہ صوبائی خودمختاری دینے کا تو کوئی سوال نہ رہا۔ 1985ء کے انتخاب کے بعد جونیجو کو وزیراعظم بنایا گیا۔ جونیجو کا دور جمہوری اعتبار سے بہت حوصلہ افزاء تھا۔ اُنہوں نے اپنے تین سالہ اقتدار کے دوران میں کوئی غیر جمہوری اقدام نہیں کیا۔ اگر اُن کو اپنے اقتدار کے پانچ برس پورے کرنے کا موقع ملتا اور پھر معمول کے طریقے پر انتخابات منعقد ہوتے تو پاکستان کی مستقبل کی تاریخ بہت مختلف ہوتی۔ یہی وہ وقت تھا جب نواز شریف کی قیادت میں مسلم لیگیوں نے جونیجو کے خلاف بغاوت کرکے جنرل ضیاء الحق کا ساتھ دیا۔ 1988ء کے بعد بے نظیر بھٹو اور نوازشریف کی دودو حکومتوں میں بھی صوبائی خودمختاری کے لئے کوئی قدم نہیں اٹھایا گیا۔ بلکہ اپنی اپنی باری پر ان دونوں مقبول لیڈروں نے اسٹبلشمنٹ کے ساتھ ہاتھ ملا کر اپنے اقتدار کا راستہ ہموار کیا۔ اس دوران میں اس ملک پر ایسا وقت بھی آیا کہ پنجاب میں غلے کی وافر مقدار موجود تھی اور دوسری طرف سرحد اور بلوچستان میں قحط جیسی صورت حال تھی۔ ایسا بھی ہوا کہ پنجاب سے اپنی ضرورت کے لیے ایک یا دو من گندم لانے کے جرم میں ڈرائیور اور مسافر پولیس کی گولیوں کا نشانہ بن کر لقمہ اجل بنے۔ ظاہر ہے کہ ایسی صورت حال میں محبتوں کے چشمے کہاں سے پھوٹ سکتے ہیں، جب تمباکو اور معدنیات کی ساری آمدنی تو مرکز کے پاس جائے اور پنجاب سے دوسرے صوبوں کو غلہ لے جانے پر بھی پابندی ہو۔ 
جنرل مشرف نے برسراقتدار آنے کے بعد اپنا ایک سات نکاتی ایجنڈا مرتب کیا۔ اُس ایجنڈے میں صوبائی خودمختاری کا وعدہ بھی شامل تھا، جو سات برس گزرنے کے بعد بھی ابھی تک وفا نہیں ہوسکا۔ اس مقصد کو حاصل کرنے کے لیے دوبرس قبل دوپارلیمانی کمیٹیاں بھی بنی تھی، جن کا ایک عرصے تک بڑا غلغلہ رہا۔ لیکن ابھی تک اس ضمن میں ایک قدم بھی نہیں اٹھا یا گیا۔ 
اس راقم کی نظر میں صوبائی خودمختاری کا اصل مطلب مالیاتی خودمختاری ہے۔ اس سے مراد یہ ہے کہ اصلاً ہر صوبہ اپنے وسائل کا خود مالک ہو اور مرکز ہر صوبے کی آبادی کے تناسب سے اُس سے اپنے حصے کی رقم لے۔ مرکز کے پاس دفاع، اُمور خارجہ اور بین الصوبائی رابطے کی وزارت ہونی چاہیے۔ باقی سب کچھ صوبوں کے حوالے کردیا جائے۔ جن چیزوں میں صوبوں کے درمیان آپس میں مشترک مفادات ہوں، مثلاً مواصلات، تعلیم، صحت اور اسی طرح کے دوسرے مسائل، اُن کو صوبائی رابطے کی وزارت کے ذریعے اتفاق رائے سے حل کردیا جائے۔ اس طرح صوبے آپس میں خود ہی اپنے اپنے مفادات کا خیال رکھتے ہوئے دوسرے صوبوں کو رعایتیں دیں گے۔ چنانچہ کسی کا کسی سے کوئی گلہ نہ رہے گا۔مثلاً یہ کتنی مضحکہ خیز صورت حال ہے کہ ایک طرف تو حکومت فیملی پلاننگ پر زور دے رہی ہے اور دوسری مرکزی حکومت سارے وسائل خود جمع کرکے صوبوں کو اُن کی آبادی کی تناسب سے رقم دے رہی ہیں۔ اس طرح مرکزی حکومت اُن کو یہ پیغام دے رہی ہے کہ جو صوبہ بھی اپنی آبادی بڑھائے گا، اُسے زیادہ حصہ ملے گا۔ گویا صوبوں کو متضاد (Contradictry)پیغام دیا جارہا ہے۔ یہی حال زندگی کے باقی تمام شعبوں کا ہے۔ اس کے بالکل برعکس اگر صوبے خود اپنے وسائل کے مالک ہوں اور وہ اپنی آبادی کے حصے کے طور پر مرکز کو رقم دیں تو ہر صوبے کے اندر اپنی آبادی بڑھانے کی نہیں بلکہ کنڑول کرنے کی دوڑ شروع ہوجائے گی۔ 
پاکستان کے بے شمار حساس لوگوں کی طرح اس راقم کا بھی یہ خیال ہے کہ اگر اس ملک میں جلد از جلد صوبائی خودمختاری نہیں دی گئی، تو اس ملک کا مرکز خود اپنے بوجھ تلے بیٹھ جائے گا۔ پھر باہر سے کسی ملک کو ہمارے خلاف کسی اقدام کی ضرورت نہ رہے گی، بلکہ ہم خود ہی اپنے آپ کو ایک ناکام ریاست بنادیں گے۔