چھتیس واں باب

آج دنیا میں دو قومیں سب سے بڑھ کر خطرات کا شکار ہیں۔ ایک فلسطینی قوم اور دوسری پختون قوم۔ پختون قوم اِس وقت ہر طرف سے مصیبتوں کا شکار ہے۔ پچھلے تیس برس سے یہ خطہ مسلسل سپر پاورز کی آویزش کا شکار ہے۔ اس کی ابتدا دسمبر 1979ء میں روسی افواج کی آمد سے ہوئی، جس کی وجہ سے امریکہ کے لیے بھی یہ خطہ اہم ترین پوزیشن کا حامل بن گیا۔ ان دونوں سپر پاورز اور پاکستانی ملٹری اسٹیبلشمنٹ کی اختیار کردہ حکمتِ عملی کے نتیجے میں اب ہم ایک خوف ناک صورت حال سے دوچار ہیں۔ اس خطے میں تشدد، انتہا پسندی، لاقانونیت اور اپنی بات کو دوسروں سے بزور منوانے کا رجحان زوروں پر ہے۔ اس لڑائی میں دونوں طرف سے پختون ہی مارے جارہے ہیں۔ 
اس راقم کا یہ نقطہ نظر ہے کہ اگر ہر معاملے میں انصاف سے کام لیا جائے، اور جہاں انصاف ممکن نہ ہو وہاں عدم تشدد پر مبنی مظلومانہ جدوجہد کی جائے، تو انسانیت، امتِ مسلمہ، پاکستان اور پختونوں کے مفادات میں کوئی ٹکراؤ اور تضاد پیدا نہیں ہوتا۔ چنانچہ اس پوری صورت حال کا پُرامن حل ممکن ہے۔ صرف پُرامن حل ہی پختونوں کے مفاد میں ہے۔ اور اگر ایسا نہیں کیا گیا تو ممکن ہے کہ ہم اپنے بچوں کے لیے بھی ایک جلتی ہوئی سرزمین چھوڑ جائیں۔ 
پختونوں کی سرزمین ہمیشہ سے بیرونی حملہ آوروں کا راستہ رہا ہے۔ لیکن یہاں کی مخصوص صورتِ حال کے باعث یہ بیرونی حملہ آور یہاں نہیں ٹھہرے، بلکہ آگے بڑھ کر انہوں نے لاہور اور دہلی کو اپنا مستقر بنایا ۔یہی وجہ ہے کہ یہاں کے پہاڑوں میں بسنے والے قبیلے عموماً خودمختار رہے ہیں اور انہوں نے جرگوں کے ایک نیم جمہوری نظام کے ذریعے اپنے آپ کو زندہ رکھا ہے۔ میدانی علاقوں میں رہنے والے پختون کبھی تو دوسروں کے زیرِ اثر رہے ہیں، کبھی وہ نیم خودمختار رہے ہیں، اور ایسا بھی ہوا ہے کہ افغانستان کے اندر بننے والی حکومتوں نے آگے بڑھ کر لاہور اور دہلی پر بھی اپنا اقتدار مستحکم کیا۔ مغلوں کے زمانے میں یہ سرحدی علاقے نیم خودمختار رہے۔ انگریزوں نے میدانی علاقوں، خصوصاً وادئ پشاور میں اپنا اقتدار بخوبی مستحکم کیا۔ جب کہ سوات جیسی ریاستوں نے انگریز حکومت کی بالادستی تسلیم کرتے ہوئے اپنی خودمختاری برقرار رکھی۔ قبائلی علاقوں اور انگریزوں کی لڑائی مستقلاً جاری رہی۔ انگریزوں نے قبائلی علاقوں میں اپنا فوجی وجود برقرار رکھا، تاہم اکثر قبائلی مشران کو پیسے کے ذریعے اپنے ساتھ کامیابی کے ساتھ ملائے رکھا۔ اس طرح قبائل نیم خودمختار بھی رہے اور دوسری طرف انہوں نے انگریزوں کے مفادات کا خیال بھی رکھا۔ 
قیام پاکستان کے وقت اس صورتِ حال کو تبدیل ہونا چاہیے تھا۔ کیونکہ اب ملک پر کوئی سامراجی حکومت مسلط نہیں تھی۔ اب تو ایک ایسا دور شروع ہونا چاہیے تھا جس میں جمہوری کلچر ،صوبائی خودمختاری، اورمقامی رسم ورواج کے احترام کے ذریعے حکومت کا نظام چلایا جاتا۔مگر ایسا نہیں کیا گیا۔ قیامِ پاکستان کے وقت سے ہی سیاست دانوں اور بیوروکریسی نے ملکی معاملات کو ’جیسا ہے ویسا ہی رہے‘ کے اصول پر چلانا شروع کیا۔ چنانچہ نہ آئین بن سکا اور نہ کوئی اور بنیادی قدم اٹھایا جاسکا۔ جب 1952ء سے فوج بھی ملکی معاملات میں دخیل ہونا شروع ہوئی، تو اُسے قبائلی علاقوں کا انگریزی نظام ہی اچھا لگا، کیونکہ اسی نظام کے ذریعے وہ مغرب، افغانستان اور روس سے معاملہ کرسکتی تھی۔ باقی رہے وہاں کے عوام، تو ان کی بھلائی تو کسی کی ترجیح ہی نہ تھی۔ چنانچہ سلسلہ یوں ہی چلتا رہا، اور حکومت اور قبائلی سرداروں کے گٹھ جوڑ کے ذریعے وقت گزرتا رہا۔ 
حالات میں بنیادی تبدیلی دسمبر 1979ء میں اُس وقت آئی، جب روسی افواج افغانستان میں داخل ہوگئیں اور جنرل ضیاء کی حکومت نے یہ فیصلہ کرلیا کہ روسی افواج کو افغانستان سے بزور نکالنا ہے اور آئندہ کے لیے افغانستان میں ایک ایسی حکومت کو قائم کرنا ہے جو پاکستان کی فرماں بردار رہے۔ یہ ایک غلط فیصلہ تھا، چنانچہ ابھی تک ہم اس کے نتائج بھگت رہے ہیں۔ روسی افواج کی افغانستان میں آمد کی مخالفت اور مزاحمت ضرور ہونی چاہیے تھی، مگر اس کے پُرامن طریقے ممکن تھے۔ مذاکرات اور بین الاقوامی ڈپلومیسی کے ذریعے روس کو اس بات پر آمادہ کیا جاسکتا تھا کہ وہ افغانستان سے اپنی افواج نکال لے۔ 
یہ دعویٰ کیا جاتا ہے کہ جنرل ضیاء کے اس فیصلے کا بہت بڑا فائدہ یہ ہوا کہ روس ٹوٹ گیا۔ اوّل تو یہ بات ہی صحیح نہیں۔ روس افغانستان کی وجہ سے نہیں، بلکہ سوشلزم کے اندرونی تضاد کی وجہ سے ٹوٹا۔ پھر روس کے ٹوٹنے کا سارا فائدہ امریکہ کو ہوا، کیونکہ وہاں سرمایہ دارانہ نظام جاری ہوگیا۔ مسلمانوں کو اس سے کوئی فائدہ نہ ہوا۔ جو پانچ نام نہاد مسلمان ریاستیں وجود میں آئیں، وہاں ابھی تک سابقہ کمیونسٹ ہی بدترین آمریت کے ساتھ برسراقتدار ہیں۔ مستقبل قریب میں بھی ان ریاستوں کے نظام میں بہتری کا کوئی امکان نظر نہیں آتا۔ چنانچہ اگر کوئی محض ان پانچ ناموں سے خوش ہونا چاہے تو ہو لے، مگر امتِ مسلمہ کو اس سے کوئی فائدہ نہیں ہوا۔ 
افغانستان کی ساری تحریکِ مزاحمت مذہب کے نام پر لڑی جارہی تھی، چنانچہ 1980ء سے قبائلی علاقے اور بلوچستان کے سرحدی اضلاع کو اس کے لیے بیس کیمپ بنادیا گیا۔ سرداروں کے بجائے مذہبی رہنماؤوں کو نوازنا شروع ہوا، چنانچہ انہوں نے بتدریج سرداروں کی جگہ لینی شروع کردی۔ جب اسلحہ، ڈالر اور مذہب ایک جگہ اکٹھے ہوگئے تو یہ لازم تھا کہ عوام کی وفاداری کا مرکز بھی یہی جگہ بنے۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا۔ 
حالات میں دوسری بنیادی تبدیلی گیارہ ستمبر 2001ء کو آئی جب امریکہ پر خودکش بمباروں نے حملہ کیا، امریکہ نے اس کا الزام بن لادن پر عائد کیا، اور طالبان حکومت سے مطالبہ کیا کہ بن لادن کو اُس کے حوالے کیا جائے ورنہ نتائج بھگتنے کے لیے تیار ہوجائے۔ اس موقع پر امریکہ نے پاکستان سے بھی یہ مطالبہ کیا کہ وہ نہ صرف طالبان کی حمایت سے دست بردار ہوجائے بلکہ اس جنگ میں امریکہ کی عملی حمایت کرے۔ چنانچہ اس موقع پر جنرل مشرف کی حکومت نے اباؤٹ ٹرن لیتے ہوئے امریکہ کے سارے مطالبات مان لیے۔ یہ مشرف حکومت کا ایک غلط فیصلہ تھا۔ اُس وقت یہ چاہیے تھا کہ پاکستان طالبان کی حمایت سے دست بردار ہوجاتا، مگر طالبان کے خلاف امریکہ کی عملی مدد نہ کرتا۔ پاکستانی حکومت یہ کہہ سکتی تھی کہ امریکہ کی عملی مدد سے اُسے داخلی طور پر بہت مشکلات پیش آئیں گی۔ اُس وقت پاکستان کے لیے بہترین پالیسی یہ تھی کہ پاک افغان بارڈر کو سیل کردیا جاتا، قبائلی علاقوں کو یا تو صوبہ سرحد (پختون خواہ) میں ضم کردیا جاتا اور یا اس کو ایک علیحدہ صوبہ بنا دیا جاتا۔ مگر فوجی حکومت نے ایسا نہیں کیا اور اس کے برعکس مکمل طور پر امریکی ڈکٹیشن پر چلنے کا فیصلہ کیا۔ 
اہم ترین بین الاقوامی حلقوں کی طرف سے یہ الزام عائد کیا جاتا ہے کہ پاکستانی فوجی حکومت ایک لمبے عرصے تک دوغلی پالیسی پر عمل پیرا رہی۔ ایک طرف وہ امریکہ کی حمایت کرتی رہی اور دوسری طرف کچھ اہم ایجنسیاں عسکریت پسندوں کے ساتھ بھی رابطہ رکھتی رہیں۔ آنے والا وقت ہی بتاسکے گا کہ اس میں کتنی حقیقت ہے۔ 
جو لوگ مذہب کے نام پر روسی افواج کے خلاف لڑے تھے، ظاہر ہے کہ وہ اپنے نقطہ نظر کے حوالے سے انتہائی مخلص لوگ تھے۔ چنانچہ ان کے لیے یہ ممکن نہیں تھا کہ پاکستانی فوجی حکومت کے اباؤٹ ٹرن کے ساتھ وہ بھی اپنے نظریات چھوڑ دیں۔ فوجی حکومت تو اپنے مفادات کی اسیر تھی، جب کہ یہ لوگ اپنے نظریات پر یقین رکھتے تھے۔ چنانچہ حالات میں تیسرا اہم موڑ 2004ء میں اُس وقت آیا جب پاکستانی حکومت نے قبائلی علاقوں میں مسلح اپریشن شروع کردیا۔ ہماری فوجی حکومتوں کا یہ بھی طریقہ رہا ہے کہ جب کوئی مزاحمت سراٹھانا شروع کرتی ہے، تو کئی برس تک اُسے نظر انداز کیا جاتا ہے۔ اور جب وہ ایک تناور درخت بن جاتی ہے تو تب فوجی ایکشن لے لیا جاتا ہے۔ حالانکہ دنیا بھر کا طریقہ اس کے بالکل برعکس ہے۔ جب ایک مزاحمت حد سے بڑھ جائے، وہ ایک بڑے علاقے پر کنٹرول حاصل کرلے، اور ہزاروں لاکھوں لوگ اُس کے ساتھی بن جائیں، تو ایسے وقت میں فوجی ایکشن کوئی فائدہ نہیں دیتا، بلکہ الٹا نقصان پہنچاتا ہے۔شاید ہماری مرکزی فوجی حکومت ان دو صوبوں کو محض ایک تجربہ گاہ خیال کرتی رہی ہے، جہاں کے لوگوں کو تجربہ گاہ کے چوہوں (Ginaea pigs) کی طرح استعمال کیا جاسکتا ہے اور اس سے سفاکانہ بین الاقوامی فوائد حاصل کیے جاسکتے ہیں۔ 
اس وقت وادئ پشاور کے سوا پختونوں کے سارے علاقوں میں طالبانائزیشن، عسکریت پسندی اور لاقانونیت اپنے پورے عروج پر ہے۔ پختونوں کی ساری سیاسی اور مذہبی قیادت کسی نہ کسی درجے میں اس کے لیے ذمہ دار ہے۔ مرکزی سیاسی دھارے سے تعلق رکھنے والی پارٹیوں، مثلاً 1988ء کے بعد پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ نے اے این پی کے ساتھ مل کر کئی مرتبہ حکومتیں بنائیں، مگر ان حکومتوں پر کرپشن کے الزامات لگتے رہے۔ عام تاثر یہ ہے کہ ان الزامات میں حقیقت موجود ہے۔ 1992ء کے انتخاب میں پشتو بولنے والے سترفیصد (70%)لوگوں نے ایم ایم اے کو ووٹ دیا۔ مگر ایم ایم اے بھی عوامی توقعات پر پورا نہ اتر سکی۔یہ سابقہ حکومتیں اتنا بھی نہ کرسکیں کہ پاٹا یعنی صوبے کے زیرِ اہتمام قبائلی علاقوں کو صوبے میں ضم کرکے صوبے کا باقاعدہ حصہ بنادیتیں۔ کئی جگہ یہ علاقے مجرموں کی پناہ گاہ بن چکے ہیں، اور کئی جگہ مذہبی انتہا پسندوں نے اپنی جڑیں مضبوط بنالی ہیں۔ 
اس صوبے کے ایک عام انسان کو اسلام اور پختون ولی دونوں سے والہانہ محبت ہے۔ 
وہ ایسے لیڈر کو پسند کرتا ہے جو عاجزانہ طبیعت رکھتا ہو، جس سے کسی بھی وقت ملاقات کی جاسکتی ہو، اور جو دیانت دار ہو۔ چنانچہ پختونوں کی بھلائی کے لیے کام کرنے والی ہر تنظیم کو ان باتوں کا خیال رکھنا ہوگا۔ 
آج پختونوں کی سب سے بڑی ضرورت امن، تعلیم اور ترقی ہے۔ عدم تشدد کا اصول ہمیشہ کے لیے ہماری ضرورت ہے۔ شریعت اور انصاف کا جلدی حصول تو نہ صرف پختونوں بلکہ سب اہلِ وطن کی ضرورت ہے، لیکن اس کے لیے بھی جدوجہد کا واحد طریقہ پُرامن راستے سے ذہنوں کی تسخیر ہے۔ عسکریت پسندی، خواہ حکومت کی طرف سے ہو یا کسی گروہ کی طرف سے، وقتی طور پر تو کسی کو فائدہ پہنچاسکتی ہے، مگر انجامِ کار یہ خسارے کا سودا ہے۔