خواتین سے متعلق مختلف موضوعات کے بارے میں اسلام کا نقطۂ نظرگذشتہ چند صدیوں سے بطور خاص زیر بحث رہا ہے۔ اگرچہ تحریک آزادی نسواں جن اصولوں پر قائم ہے، وہ اسلام سے ہم آہنگ نہیں ہیں، تاہم یہ بات تسلیم کرنی پڑے گی کہ اس تحریک کے نتیجے میں پڑھی لکھی مسلمان خواتین کے اندر ان نظریات کے بارے میں شعور پیدا ہوا ہے جو اسلام کے نام پر خواتین کے بارے میں ان کے سامنے پیش کیے جاتے ہیں۔ ان مسائل کا اگر بغور جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ لوگوں میں اسلام کے حوالے سے خواتین کے متعلق بہت سی غلط فہمیاں پیدا ہوئی ہیں، کیونکہ اس سلسلے میں اسلام کے نقطۂ نظر کو صحیح طور پر سمجھا ہی نہیں گیا۔ دور حاضر میں حمید الدین صاحب فراہی ، امین احسن صاحب اصلاحی اور استاذ گرامی جاوید احمد صاحب غامدی* نے کوشش کی ہے کہ ان مختلف موضوعات کے بارے میں تحقیق کرکے اسلام کے نقطۂ نظر کو واضح کریں۔ اس کتاب میں پیش کی گئی زیادہ تر توضیحات ان حضرات کی تحقیقات پر مبنی ہیں۔میں نے کوشش کی ہے کہ جن موضوعات کے بارے میں ان کی راے موجود نہیں، ان میں ان کے اصولوں کوسامنے رکھ کر مسائل کو واضح کیا جائے۔

انسان ہونے کے ناتے کوئی کوشش بھی حتمی نہیں ہوتی؛ کوئی کاوش بھی غلطیوں سے پاک نہیں ہوسکتی، البتہ ہر تحقیق پر سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ ہم اپنے قارئین سے درخواست کریں گے کہ جو افکاروآرا اس کتاب میں پیش کی گئی ہیں، ان کا وہ تنقیدی نظر سے مطالعہ کریں اور پیش کردہ دلائل کا تجزیہ عقل و وحی کی روشنی میں کریں۔

زیادہ تر آیات کا ترجمہ استاذ گرامی جاوید احمد صاحب غامدی کی ’’میزان‘‘ سے لیا گیا ہے۔

المورد، لاہور

ڈاکٹرشہزاد سلیم

دسمبر۲۰۰۹ء

______
* ان علما حضرات کے افکار و حالات کو مختصراًجاننے کے لیے کتاب کے آخر میں ’’مختصر حالات زندگی‘‘ کے نام سے دیا گیا ضمیمہ دیکھیے۔

____________