از: جناب جاوید احمد غامدی
پریذیڈنٹ، المورد
 

ام القریٰ سے سیدنا ابراہیم علیہ السلام کا تعلق قرآن مجید کی دعوت کا ایک مہتم بالشان مسئلہ ہے۔ نبی ﷺ کی بعثت ذریت ابراہیم کی ایک شاخ بنی اسماعیل میں ہوئی۔ یہ لوگ مکہ میں آباد تھے۔ بیت الحرام کی تعمیر نو کے بعد ابراہیم علیہ السلام نے اپنی اولاد کی اس شاخ کو خود یہاں آباد کیا تھا۔ یہی وہ مقام ہے، جہاں مروہ کے پاس انھوں نے اپنے اکلوتے بیٹے کو قربانی کے لیے پیش کیا۔ یہ بیٹے خدا کے آخری پیغمبر محمد ﷺ کے جد امجد اسماعیل علیہ السلام تھے۔ یہود نے جو تحریفات اپنے صحائف میں کی ہیں، وہ زیادہ ترانھی حقائق سے متعلق ہیں۔ اسماعیل علیہ السلام کی جگہ انھوں نے قربانی کے لیے پیش کیے جانے والے فرزند کی حیثیت سے سیدنا اسحاق علیہ السلام کا نام اپنے صحیفوں میں داخل کر دیا ہے۔ اُن کی قربان گاہ مروہ کے بارے میں بھی بہت کچھ خلط مبحث پیدا کیا ہے۔ بیت الحرام سے سیدنا ابراہیم علیہ السلام کے تعلق کو بھی ہر پہلو سے مشتبہ بنانے کی کوشش کی ہے۔
یہود ونصاریٰ پر اتمام حجت کے لیے ان تحریفات کا پردہ چاک کرنا ضروری تھا۔ دور حاضر کے ایک جلیل القدر عالم اور محقق امام حمید الدین فراہی نے یہ خدمت سرانجام دی اور ’الرأی الصحیح فی من ہو الذبیح ‘ کے نام سے ایک رسالہ اس موضوع پر لکھا جس میں نہایت قابل اطمینان دلائل سے یہ تمام حقائق مبرہن کر دیے۔
بزرگوارم عبد الستارصاحب غوری انھی علوم کے محقق ہیں۔ انھوں نے اپنی زندگی قدیم صحائف میں رسول اللہﷺ کی بعثت سے متعلق پیشین گوئیوں کی تحقیق کے لیے وقف کر رکھی ہے۔ اس موضوع کی اہمیت کے پیش نظر انھوں نے امام فراہی کی تحقیق کو آگے بڑھایا اور انگریزی زبان میں ایک ایسی کتاب لکھ دی ہے جو ہر صاحب علم کی طرف سے داد وتحسین کی مستحق ہے۔ اس میں انھوں نے اصل مسئلہ کی تنقیح مزید کے علاوہ مکہ ، زمزم اور حج کی عبادت کے بارے میں بھی بعض اہم حقائق کی طرف توجہ دلائی ہے اور اپنے مخصوص محققانہ اسلوب میں ایسے نظریات پیش کیے ہیں جو بائبل اور اس کے متعلق علوم کے محققین کے لیے بھی قابل توجہ ہیں اور دینی علوم کے ماہرین کے لیے بھی۔ ان سے اختلاف کیا جا سکتا ہے۔ ان علوم کے ایک طالب علم کی حیثیت سے میرا زاویۂ نظر بھی بعض معاملات میں ان سے مختلف ہے، لیکن ان کے خلوص، محنت اور عالمانہ اندازِ تحقیق سے کوئی اختلاف نہیں ہو سکتا۔ وہ اِس راہ کے پرانے مسافر ہیں اور راہ و رسمِ منزل سے خوب آشنا ہیں۔ اہلِ نظر اس آگہی کے شواہد ان کی اس کتاب میں جگہ جگہ دیکھ سکتے ہیں۔
’المورد‘ کے لیے باعث عزت ہے کہ ان جیسا عالم اور محقق اس ادارے کے ساتھ ’فیلو‘ کی حیثیت سے وابستہ ہے۔ ہماری دعا ہے کہ وہ تادیر یہ خدمات انجام دیتے رہیں اورپروردگار اس کے صلے میں انھیں اپنی عنایتوں سے بہرہ یاب کرے۔
المورد، لاہور

  جاوید  ----

۲۷ ؍ اپریل ۲۰۰۷ء