صحابہ کرام کے ایمان کی انفرادیت یہ ہے کہ انھوں نے اپنا موروثی دین ترک کر کے اسلام کا بطور دین انتخاب کیا۔ یہ انتخاب کوئی آسان کام نہ تھا۔ صحابہؓ نے یہ اقدام اس وقت کیا جب ایسا کرنے میں بظاہر نقصان ہی نقصان اور تکلیفیں ہی تکلیفیں تھیں، مگر جب انھوں نے محسوس کیا کہ حق نے ان کے ضمیر پر دستک دے ڈالی ہے تو انھوں نے قبولیت کا دروازہ کھولنے میں کوئی تاخیر نہیں کی۔ ان کے اسی فیصلے سے صبرو استقامت اور عزم واستقلال کی وہ داستانیں رقم ہوئیں جن پر انگریزی کا یہ محاورہ بالکل صادق آتا ہے کہ:

Facts are more interesting than fiction.

اس کتاب میں صحابہ کرام کی زندگیوں سے ایسی بیس سرگزشتوں کا انتخاب کیا گیا ہے جن کا مطالعہ یہ ثابت کرتا ہے کہ ایک سلیم الفطرت انسان کے لیے حق سب سے بیش قیمت شے ہے۔ شعوری طور پر اسے تسلیم کر لینے کے بعد ایسے انسان دوسروں کے لیے مینارۂ نور بن جاتے ہیں۔
مستند تاریخی کتب کے حوالے سے ان داستانوں کو لکھتے ہوئے ایسا اسلوب اختیار کیا گیا ہے جو ہر خاص وعام کے لیے دلچسپی کا باعث ہے اور قاری اسے کسی کہانی کی طرح ایک ہی نشست میں پڑھنے پر مجبور ہو جاتا ہے۔ اس طرح کے اسلوب میں لکھی جانے والی کتابوں میں عام ڈگر یہی اختیار کی جاتی ہے کہ قاری کی دلچسپی کی خاطر محیرالعقول اور ضعیف روایات کا زیادہ سہارا لیا جاتا ہے لیکن اس کتاب میں اس کا بطور خاص اہتمام کیا گیا ہے کہ کوئی گمراہ کن اور ضعیف روایت واقعات کی تاریخی ثقاہت کو مجروح نہ کرے۔ البتہ سیدنا سلمان فارسیؓ کی سرگزشت میں واقعات کی درمیانی کڑیوں کو ملانے کے لیے تخیل سے ضرور کام لیا گیا ہے۔ مگر اس میں بھی دو باتوں کا بطور خاص دھیان رکھا گیا ہے۔ پہلی یہ کہ بات کو امر واقعہ کے بجائے احتمال کی صورت میں پیش کیا جائے اور دوسری یہ کہ یہ احتمال مسلمہ اسلامی اصولوں یا تعلیمات کے خلاف نہ ہو۔
اس کتاب کا مقصد یہ ہے کہ عام فہم انداز میں تاریخ کے صحت مند مطالعے کو اس طرح فروغ دیا جائے کہ ایمان بھی تازہ ہو اور باطل نظریات وافکار کی بھی اصلاح ہو سکے۔ ہماری ان کاوش کو قارئین نے پسند کیا تو امید ہے کہ اللہ کی توفیق سے اس سلسلے کو آگے بڑھایا جائے گا۔
اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ ہمارے اس نیک ارادے کو کامیابی سے ہمکنار کرے۔


طالب دعائے خیر
نعیم احمد بلوچ

___________