نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ازدواجی زندگی اسلام کے ناقدین کی طرف سے بالعموم ہدف تنقید رہی ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ اس ضمن میں قرآن مجید کا نقطۂ نظر صحیح طور سے سمجھا نہیں گیا، یہاں تک کہ مسلمان علماء بھی اس بارے میں غلط استدلال کا شکاررہے ہیں۔اس سلسلے میں مندرجہ ذیل سوال اٹھائے جاتے ہیں:

ا ۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو چار سے زیادہ شادیاں کرنے کی اجازت کیوں دی گئی؟
ب۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے منہ بولے بیٹے کی بیوی سے کیوں شادی کی ؟
ج۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی لونڈی ماریہ قبطیہ سے شادی کیوں نہیں کی ؟
مندرجہ ذیل سطورمیں قرآن مجید کا نقطۂ نظر واضح کرنے کی کوشش کی جائے گی:

نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی پہلی دو شادیاں عام حالات میں اور رواج کے مطابق ہوئیں۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سب سے پہلی شادی حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے ہوئی، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی عمر۲۵سال تھی اور حضرت خدیجہ اس وقت چالیس سال کی تھیں۔ اگلے پچیس سال دونوں نے خوشگوارازدواجی زندگی گزاری۔اس پورے عرصے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک مثالی شوہر نظر آتے ہیں اور انھوں نے اس کردار کو ہمیشہ نبھایا۔ حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی وفات کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے چھوٹے چھوٹے بچوں کے ساتھ بالکل اکیلے رہ گئے تھے۔ لہٰذا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک بیوہ خاتون حضرت سودہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے شادی کرلی، جبکہ وہ ۵۳ سال کی تھیں۔نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ شادی بھی پہلی شادی کی طرح فطری ضروریات کے تحت کی۔
سن۶۲۲عیسوی میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم حکمران کی حیثیت سے مدینہ ہجرت کر گئے۔ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی رخصتی ہجرت کے دو سال بعد ہوئی۔۴۳؂ یہ شادی ہجرت سے چند سال پہلے نکاح کی صورت میں ہوچکی تھی۔ اسلام کے لیے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی خدمات دیکھ کر بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ حقیقت میں یہ شادی ایک خدائی انتخاب تھا۔ شاید وہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد اسلام کی سب سے بڑی عالمہ تھیں۔ تمام جلیل القدر صحابۂ کرام رضی اللہ عنہ علمی معاملات میں ان سے رجوع کرتے تھے۔ہجرت کے پہلے چند سالوں میں بہت ساری مسلمان خواتین جنگوں کی وجہ سے بیوہ ہوگئی تھیں۔خاص طور پربہت سی خواتین کے شوہر جنگ بدر اور جنگ احد میں شہید ہوگئے تھے۔ان خواتین اور ان کے بچوں کی ایک بڑی تعداد بے سہارا ہوگئی تھی۔ سورۂ نساء کی ابتدائی آیات نے ان کی اس مشکل کا ایک حل تجویز کیا اور ان میں وہ طریقہ بتایا جس سے اس مسئلے کو حل کیا جاسکتا تھا۔ عرب میں ایک سے زیادہ شادیوں کا رواج اس مسئلے کے حل کے لیے استعمال کیا گیا۔ قرآن مجید نے مسلمان مردوں کو ترغیب دی کہ وہ ان بیوہ خواتین سے شادی کریں ، لیکن شرط یہ ہے کہ سب کے ساتھ عدل اور یکساں سلوک کریں، اور شادیاں چار سے زیادہ نہ کریں ۔ اس موقع پرنبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سلسلے میں ایک مثال قائم کی اور آپ نے دو بیوہ خواتین زینب بنت خزیمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے اورحفصہ بنت عمررضی اللہ تعالیٰ عنہا سے اس موقع پر شادی کی۔
اس وقت تک آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی چار بیویاں تھیں: عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا، سودہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا ، حفصہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا اور زینب بنت خزیمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا۔ کچھ مہینوں کے بعد زینب بنت خزیمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا انتقال فرماگئیں اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے شادی کرلی جن کے شوہر جنگ احد میں شہید ہوگئے تھے۔ ان کے مرحوم شوہر نے اسلام کے لیے گراں قدر خدمات انجام دی تھیں۔
ہجرت کے پانچویں سال آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے آخری نبی کی ذمہ داری ادا کرتے ہوئے حضرت زینب بنت جحش رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے شادی کرلی۔اس شادی کی وجوہات کوسمجھنے کے لیے کچھ اہم تفصیلات کو جاننا بہت ضروری ہے۔ غلامی جیسا غیر انسانی ادارہ اسلام کو وراثت میں ملا تھا۔ ہر گھر میں کئی کئی لونڈیاں اور غلام موجود تھے۔ ایک دم انھیں آزاد کردینے کے نتیجے میں بہت سے معاشرتی اور معاشی مسائل پیدا ہوجاتے۔غلامی سے چھٹکارا حاصل کرنے کے لیے اسلام نے تدریجی طریقہ اختیار کیا۔اس سلسلے میں اسلام نے کئی اقدامات کیے، لیکن غلاموں کوصرف آزاد کر دینا مسئلے کا حل نہیں تھا۔ اگر ایک مرتبہ وہ آزاد ہوجاتے تو زیادہ اہم مسئلہ معاشرتی نظام میں ان کو بسانا اور اس کا اہم حصہ بنانا تھا۔ یہ چیز پیش نظر رہے کہ عرب سماج میں آزاد افراد غلاموں پر ایک احساس برتری رکھتے تھے۔ چنانچہ ان کوآزاد لوگوں کے برابر کا درجہ دینا انتہائی مشکل تھا۔ لہٰذا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں معاشرے میں باعزت مقام دلانے کے لیے ایک غیر معمولی قدم اٹھایا اور وہ یہ تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی پھوپھی زاد بہن زینب بنت جحش رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے شادی پر آمادہ کیا جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے آزاد کردہ غلام تھے اور ان کی پرورش آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے بیٹے کی طرح کی تھی۔ ان دونوں کی شادی ہوگئی، لیکن بدقسمتی سے کچھ وجوہات کی بنا پر یہ شادی کامیاب نہ ہوسکی اور زید بن حارثہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو اپنی بیوی کو طلاق دینا پڑی۔ اس شادی کے ٹوٹنے کے بعد وہ واحد چیز جس سے حضرت زینب رضی اللہ عنہا کی تالیف قلب ہوسکتی تھی، وہ یہ تھی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ان سے خود شادی کرلیتے۔ مزید یہ کہ اس شادی کی بہت ضرورت اس پہلو سے بھی تھی کہ عرب کی ایک بے جا رسم کی اصلاح کی جائے اور وہ رسم یہ تھی کہ عرب میں منہ بولے بیٹے کوہر لحاظ سے اصل بیٹے کا ہی مقام دیا جاتا تھا۔ چنانچہ اس کی بیوی منہ بولے باپ سے شادی نہیں کرسکتی تھی ۔
یہ چیز ظاہر ہے کہ قانون خداوندی اور انسانی فطرت کے خلاف ہے ، جسے ختم کرنا بہت ضروری تھا ،لیکن اس رسم کی بنیادیں بہت گہری تھیں۔ صرف نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہی کی ذات تھی جو اسے ختم کرسکتی تھی۔ لہٰذا اللہ تعالیٰ کے حکم سے ۴۴؂ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت زینب کے ساتھ ہمدردی کے لیے اور اس رسم کو ختم کرنے کے لیے شادی کرلی۔
اس شادی کے ساتھ مسلمانوں کے لیے چار شادیوں تک کا جو قانون تھا ، اللہ تعالیٰ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے اس میں استثنا پیدا کردیا اور شادیوں کا دائرہ بڑھا دیا تاکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نبی اور رسول کی حیثیت سے اپنے فرائض بخوبی انجام دے سکیں۔ قرآن مجید میں ہے:

یٰٓاَیُّھَا النَّبِیُّ اِنَّآ اَحْلَلْنَا لَکَ اَزْوَاجَکَ الّٰتِیْٓ اٰتَیْتَ اُجُوْرَھُنَّ وَمَا مَلَکَتْ یَمِیْنُکَ مِمَّآ اَفَآءَ اللّٰہُ عَلَیْکَ وَبَنٰتِ عَمِّکَ وَبَنٰتِ عَمّٰتِکَ وَبَنٰتِ خَالِکَ وَبَنٰتِ خٰلٰتِکَ الّٰتِیْ ھَاجَرْنَ مَعَکَ وَامْرَاَۃً مُّؤْمِنَۃً اِنْ وَّھَبَتْ نَفْسَھَا لِلنَّبِیِّ اِنْ اَرَادَ النَّبِیُّ اَنْ یَّسْتَنْکِحَھَا خَالِصَۃً لَّکَ مِنْ دُوْنِ الْمُؤْمِنِیْنَ قَدْ عَلِمْنَا مَا فَرَضْنَا عَلَیْھِمْ فِیْٓ اَزْوَاجِھِمْ وَمَا مَلَکَتْ اَیْمَانُھُمْ لِکَیْلَا یَکُوْنَ عَلَیْکَ حَرَجٌ وَکَانَ اللّٰہُ غَفُوْرًا رَّحِیْمًا. تُرْجِیْ مَنْ تَشَآءُ مِنْھُنَّ وَتُءْوِیْٓ اِلَیْکَ مَنْ تَشَآءُ وَمَنِ ابْتَغَیْتَ مِمَّنْ عَزَلْتَ فَلَا جُنَاحَ عَلَیْکَ ذٰلِکَ اَدْآٰی اَنْ تَقَرَّ اَعْیُنُھُنَّ وَلَا یَحْزَنَّ وَیَرْضَیْنَ بِمَآ اٰتَیْتَھُنَّ کُلُّھُنَّ وَاللّٰہُ یَعْلَمُ مَا فِیْ قُلُوْبِکُمْ وَکَانَ اللّٰہُ عَلِیْمًا حَلِیْمًا. لَا یَحِلُّ لَکَ النِّسَآءُ مِنْم بَعْدُ وَلَآاَنْ تَبَدَّلَ بِھِنَّ مِنْ اَزْوَاجٍ وَّلَوْ اَعْجَبَکَ حُسْنُھُنَّ اِلَّا مَا مَلَکَتْ یَمِیْنُکَ وَکَانَ اللّٰہُ عَلٰی کُلِّ شَیْءٍ رَّقِیْبًا. (الاحزاب۳۳: ۵۰۔۵۲)
’’اے پیغمبر( صلی اللہ علیہ وسلم)، ہم نے تمھاری وہ بیویاں تمھارے لیے جائز ٹھہرائی ہیں جن کے مہر تم ادا کرچکے ہو اور (اسی طرح)وہ (خاندانی) عورتیں جو (تمھارے کسی جنگی اقدام کے نتیجے میں) اللہ تمھارے قبضے میں لے آئے اور تمھاری وہ چچا زاد، پھوپھی زاد، ماموں زاد اور خالہ زاد بہنیں جنھوں نے تمھارے ساتھ ہجرت کی ہے اور وہ مسلمان عورت جواپنے آپ کو نبی کے لیے ہبہ کردے، اگر نبی اس سے نکاح کرنا چاہے۔ یہ حکم دوسرے مسلمانوں سے الگ صرف آپ( صلی اللہ علیہ وسلم) کے لیے خاص ہے۔ ہم کو معلوم ہے جو کچھ ہم نے ان کی بیویوں اور لونڈیوں کے معاملے میں ان پر فرض کیا ہے۔(اس لیے خاص ہے)کہ اپنی ذمہ داریوں کے ادا کرنے میں) تم پر کوئی تنگی نہ رہے۔ اور (اگر کوئی کوتاہی ہو تو)اللہ بخشنے والا ہے، اس کی شفقت ابدی ہے۔ تمھیں اختیار ہے کہ ان میں سے جسے چاہو، الگ رکھو اور جسے چاہو، ساتھ رکھو، اور جسے چاہو الگ رکھنے کے بعد اپنے پاس بلا لو۔ اس معاملے میں تم پر کوئی مضائقہ نہیں۔ یہ وضاحت اس کے زیادہ قرین ہے کہ ان کی آنکھیں ٹھنڈی رہیں گی اور وہ رنجیدہ نہ ہوں گی اور جو کچھ بھی تم ان سب کو دو گے، اس پر راضی رہیں گی۔ اور اللہ جانتا ہے جو تمھارے دلوں میں ہے اور اللہ علیم وحکیم ہے۔ ان کے علاوہ کوئی عورت تمھارے لیے جائز نہیں ہے اور نہ یہ جائز ہے کہ ان کی جگہ اور بیویاں لے آؤ ، اگرچہ وہ تمھیں کتنی ہی پسند ہوں۔ لونڈیاں،۴۵؂ البتہ (اس کے بعد بھی) جائز ہیں اور (یہ حقیقت ہے کہ)اللہ ہر چیز پر نگاہ رکھے ہوئے۔‘‘

ان احکام پرمبنی آیات کا تجزیہ کرتے ہوئے استاذ گرامی جاوید احمد صاحب غامدی لکھتے ہیں:

’’اولاً ، سیدہ زینب سے نکاح کے بعد بھی آپ اگر چاہیں تو درج ذیل تین مقاصد کے لیے مزید نکاح کر سکتے ہیں :

۱۔ اُن خاندانی عورتوں کی عزت افزائی کے لیے جو آپ کے کسی جنگی اقدام کے نتیجے میں قیدی بن کر آپ کے قبضے میں آ جائیں ۔
۲۔ ان خواتین کی دل داری کے لیے جو محض حصول نسبت کی غرض سے آپ کے ساتھ نکاح کی خواہش مند ہوں اور آگے بڑھ کر اپنے آپ کو ہبہ کر دیں ۔
۳۔ اپنی اُن چچا زاد ، ماموں زاد ، پھوپھی زاد اور خالہ زاد بہنوں کی تالیف قلب کے لیے جنھوں نے آپ کے ساتھ ہجرت کی ہے اور اِس طرح اپنا گھر بار اور اپنے اعزہ و اقربا ،سب کوچھوڑ کر آپ کا ساتھ دیا ہے ۔
ثانیاً، یہ نکاح چونکہ ایک دینی ذمہ داری پوری کرنے کے لیے کیے جائیں گے ، اِس لیے اپنی ان بیویوں کے ساتھ بالکل یکساں تعلق رکھنے کی ذمہ داری آپ پر عائد نہیں ہوتی ۔
ثالثاً، اِن خواتین کے سوا دوسری تمام عورتیں اب آپ کے لیے حرام ہیں۴۶؂ اور اِن سے ایک مرتبہ نکاح کر لینے کے بعد اِنھیں الگ کر کے اِن کی جگہ کوئی دوسری بیوی بھی آپ نہیں لا سکتے ، اگرچہ وہ آپ کو کتنی ہی پسند ہو۔
چنانچہ سیدہ جویریہ اور سیدہ صفیہ کے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اوپر بیان کیے گئے پہلے مقصد کے لیے نکاح کیا۔ سیدہ میمونہ دوسرے مقصد سے آپ کی ازواج میں شامل ہوئیں اور سیدہ ام حبیبہ کے ساتھ آپ کا نکاح تیسرے مقصد کے پیش نظر ہوا۔
اِس کے ساتھ یہ بات بھی اِسی سورہ میں بیان کر دی گئی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج مطہرات مسلمانوں کی مائیں ہیں، لہٰذا اُن کے ساتھ نکاح ہمیشہ کے لیے ممنوع ہے ۔ کسی مسلمان کو اِس کا خیال بھی اپنے دل میں نہیں لانا چاہیے:

اَلنَّبِیُّ اَوْلٰی بِالْمُؤْمِنِیْنَ مِنْ اَنْفُسِھِمْ وَاَزْوَاجُہٗٓ اُمَّھٰتُھُمْ. (الاحزاب ۳۳: ۶)
’’نبی مسلمانوں کے لیے خود اُن کی ذات پر مقدم ہیں اور نبی کی بیویاں اُن کی مائیں ہیں۔‘‘

وَلَآ اَنْ تَنْکِحُوْٓا اَزْوَاجَہٗ مِنْ بَعْدِہٖٓ اَبَدًا، اِنَّ ذٰلِکُمْ کَانَ عِنْدَ اللّٰہِ عَظِیْمًا. (الاحزاب ۳۳: ۵۳)
’’اور نہ یہ جائز ہے کہ اُن کی بیویوں سے تم اُن کے بعد کبھی نکاح کرو۔ اللہ کے نزدیک یہ بڑی ہی سنگین بات ہے ۔‘‘ ‘‘

(میزان ۴۲۹۔۴۳۰)

اس تفصیل سے واضح ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی اکثر شادیاں نبوت ورسالت کے منصبی تقاضوں کو پورا کرنے کے تناظر میں ہوئی تھیں، بشری خواہشات سے اس کا کوئی تعلق نہ تھا۔ چنانچہ ضروری تھا کہ اس خاص معاملہ کو عام قانون سے مستثنیٰ رکھا جائے۔

_____
۴۳؂ یہ بات واضح رہے کہ موجودہ دور کے بعض محققین نے یہ بات ثابت کردی ہے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ شادی کے وقت عمر ۱۹ یا ۲۰ سال کے قریب تھی۔ مزید معلومات کے لیے دیکھیے:مولانا حبیب الرحمن کاندھلوی کی کتاب ’’تحقیق عمر عائشہ رضی اللہ عنہا‘‘۔
۴۴؂ قرآن مجید کے الفاظ یہ ہیں:
’’جب زید نے اپنی بیوی کو طلاق دی تو ہم نے اسے تم سے بیاہ دیا تاکہ مومنوں کے لیے اپنے منہ بولے بیٹے کی بیویوں سے شادی کرنا مشکل نہ رہے، جبکہ وہ انھیں طلاق دے دیں۔‘‘(الاحزاب ۳۳: ۳۷)
۴۵؂ ماریہ قبطیہ کے معاملے کو، جو کہ لونڈی تھیں اور جنھیں مصر کے بادشاہ مقوقس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں تحفۃ بھیجا تھا، اس کے صحیح تناظر میں دیکھا جانا چاہیے۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے ساتھ شادی نہیں کرسکتے تھے، کیونکہ قرآن مجید (الاحزاب ۳۳: ۴۹۔۵۲) کے مطابق نبی صلی اللہ علیہ وسلم صرف ان عورتوں کو آزاد کرکے ان سے شادی کرسکتے تھے جو جنگ میں قیدی بنا لی گئیں۔ تحفے میں دی گئی لونڈی خاتون کو آزادکرکے اس سے شادی کرنے کی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اجازت نہیں تھی اور تحفہ واپس کرنا مروت کے خلاف تھا۔دوسری اہم بات یہ کہ ایک مثال قائم کرنے کی بھی ضرورت تھی کہ مسلمانوں کو اپنی لونڈیوں کے ساتھ کیسے سلوک کرنا چاہیے، کیونکہ اس زمانے میں ان کے ساتھ بہت برا سلوک کیا جاتا تھا۔
۴۶؂ چنانچہ اِسی پابندی کے باعث سیّدہ ماریہ کے ساتھ آپ نکاح نہیں کرسکے اور وہ ملک یمین ہی کے طریقے پر آپ کے گھر میں رہیں۔

____________